New Age Islam
Tue Aug 09 2022, 04:25 AM

Urdu Section ( 25 May 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Who Is Responsible For The Moral Degradation In Muslim Society? مسلم معاشرے میں اخلاقی پستی کا ذمہ دار کون ؟

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

26 مئی،2022

لاؤڈاسپیکر پر اذان کا معاملہ پورے ملک میں زیر بحث ہے اور اس کی حمایت اور مخالفت میں بہت کچھ کہا اور لکھا جارہا ہے۔ مسجدوں سے صرف اذان کے لئے ہی لاؤڈاسپیکر کا استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ اب یہ ایک کثیرالمقاصد آلہ بن چکا ہے۔ ہر مذہب کے لوگوں کی اجتماعی اور انفرادی ضرورتوں کے تحت اس کا استعمال ہونے لگا ہے۔ مذہبی مقاصد کے ساتھ ساتھ سماجی اور تفریحی مقاصد کے لئے بھی اس کا استعمال ہونے لگا ہے۔ اس کے استعمال کی وسعت نے لوگوں کے لئے مسائل بھی پیدا کئے اور عدالتوں تک بھی یہ معاملہ گیا ۔ نتیجۃ عدالتوں کو اس کے استعمال کی حد متعین کرنی پڑی۔

مسلمانوں میں مائیک کا استعمال دوسرے مذہبی طبقوں سے کم نہیں ہے بلکہ کچھ زیادہ ہی ہےکیونکہ مسلمانوں کےمعاشرے میں مذہبی سرگرمیاں دوسری قوموں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔مذہبی تقریبات، جلسے اور کانفرنس مسلم معاشرے کا لازمی جز ہیں  اور مسلمانوں کا کوئی بھی مذہبی یا سماجی کام بغیر لاؤڈاسپیکر کے ادھورا سمجھا جاتا ہے۔ شادی کی تقریب میں تولاؤڈاسپیکر پر فلمی گانے اب شادی کی تقریب کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ شادی کی تقریب کی ویڈیوگرافی بھی لازمی سمجھی جاتی ہے۔جب سے ڈی جے کا چلن عام ہوا ہے تب سے لرزہ خیز موسیقی سے عوام کا جینا حرام ہو گیا ہے۔ شادی کے موقع پر اب ڈی جے کا بجنا لازمی ہوگیا ہے۔ اس قسم کی لرزہ خیز موسیقی سے آس پاس کے بیماروں اور ضعیفوں کو بڑی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شکایت کرنے پر مارپیٹ کی نوبت آجاتی ہے۔ حال ہی میں مغربی بنگال کے ضلع بردھمان کے برمن ڈیہہ گاؤں میں شادی کے موقع پر بلند آواز میں مائک پر فلمی گانے بجانے پر دو کنبوں میں مارپیٹ، سنگ بازی اور کپڑے پھاڑنے کے شرمناک واقعات ہوئے۔ اس میں ایک اسی برس کی ضعیفہ اور اس کی بہو زخمی ہوئیں اور معاملہ پولیس میں گیا۔

 خبروں کے مطابق، رضاول ملک کی بیٹی کی شادی منگل کو تھی جس میں شرکت کے لئے اس کے رشتہ دار کئی دن قبل سے ہی آئے ہوئے تھے۔ مائک بھی چھت پر لگا دیا گیا تھا جس پر فلمی گانے بلند آواز میں بجائے جارہے تھے۔ اتوار کو ہلدی کی رسم تھی ۔ اس دن مائیک کو رضاول ملک کے گھر والوں نے چھت سے اتار کر اپنے پڑوسی اختر ملک کے گھر کی طرف رخ کر کے لگا دیا اور بلند آواز میں فلمی گانے بجنے لگے۔ اختر ملک کوئی اور نہیں ہے رضاول ملک کا بھائی ہے۔ غالبا دونوں بھائیوں میں ان بن ہے اس لئے اس کی فیملی شادی کی تقریب میں شامل نہیں تھی۔

اختلافات صرف یہیں تک محدود نہ رہے کہ بھائ کی بیٹی کی شادی میں بھائی شریک نہ ہوتا بلکہ بھائی کو چڑانے کے لئے مائیک کو چھت سے اتار کر اس کے گھر کی طرف مائیک کا رخ کردیا گیا۔ بلند آواز میں مائیک بجنے سے اختر ملک کی اسی برس کی والدہ کی طبیعت بگڑنے لگی تواختر نے ایک پڑوسی کو بھیج کر مائیک کی آواز کام کرنے کو کہا۔اس پر مائیک کی آواز کم کرنے کی بجائے رضاول کے گھر والے مار پیٹ پر اتر آئے اور شادی میں آئے ہوئے رشتہ داروں نے چھت پر سے اختر ملک کے اہل خانہ پر پتھربرسائے ۔ جب اختر ملک کی بیوی سلیمہ ملک رضاول کے گھر جا کر احتجاج کرنے لگی تو مبینہ طور پر اس کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور اس کے کپڑے کھولنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے بعد دونوں کنبوں میں مارپیٹ ہوئی جس میں اسی برس کی ضعیفہ اور اس کی بہو سلیمہ زخمی ہوگئیں۔ دونوں فریقوں نے مقامی تھانے میں شکایت درج کرائی ہے ۔

لاؤڈاسپیکر کی وجہ سے سماجی انتشار اور فتنہ فساد کا یہ واحد واقعہ نہیں ہے۔ مسلم معاشرے میں لاؤڈاسپیکر اخلاقی برائیوں کی ایک وجہ بن چکا ہے ۔ بنگال کے کچھ علاقوں میں شادی کے موقع پر بارات کے ساتھ ڈی جے پر فلمی گانوں پر رقص کرتے ہوئے نوجوان چلتے ہیں اور اس کی وجہ سے بارات دیر سے پہنچتی ہئے کیونکہ نوجوانوں کا ارمان بھی پورا ہونا چاہئے۔ آخر شادیاں روز روز تو ہوتی نہیں ہیں۔ کچھ علاقوں کے مسلم معاشروں میں تو نوجون لڑکوں کے ساتھ ہجڑوں کو بھی ڈانس کے لئے بلایا جاتا ہے ۔ ان کے فحش ڈانس کو محلے کی لڑکیاں اور عورتیں سبھی دیکھتی ہیں۔ اس موقع پر مسلم لڑکے بھانگ گانجہ اور شراب کے نشے میں دھت ہوتے ہیں۔ وہاں موجود پڑھے لکھے اور بزرگ اور دیندار حضرات خاموش تماشائی بنے ہوتے ہیں ۔ اس برائی کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھاتا کیونکہ یہ برائی اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ اس کی اصلاح ایک شخص اور ایک دن کا کام نہیں۔

مسلم معاشروں میں جوا, شراب نوشی, بھانگ گانجہ حتی کہ چرس اور افیون کا کاروبار بھی زیادہ ہوتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں نوجوان نشے کے عادی بنتے ہیں۔ فحاشی , بداخلاقی عام ہے, سماج میں بڑے چھوٹے کی تمیز نہیں ہے اس لئے کوئی کسی کی سرزنش نہیں کرسکتا۔

معاشرے کی اصلاح کا کام دانشوروں اور دین کے علمبرداروں کا تھا مگر وہ اپنی ذمہ داری سے غافل ییں یا پھر مصلحتا خاموش رہتے ہیں۔ ملی تنظیمیں اور افراد جس جوش و خروش اور شدت سے مسلکی معاملوں میں شعلہ بہانی کرتے ہیں اتنی شدت سے سماجی اصلاح کے لئے مہم نہیں چلاتے۔

لیکن کبھی کبھی کچھ قوم کا درد رکھنے والے فراد اہنی بساط بھر سماجی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں مگر ان کی کوششوں کو پورے معاشرے کا جو تعاون ملنا چاہئے وہ نہیں ملتا۔ اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ان کی کوشش ایک باقاعدہ تحریک کی شکل نہیں لے پاتی۔گذشتہ دسمبر میں مغربی بنگال کے ایک شہر کمر ہٹی کی ایک مسجد کے امام مولانا سیف اللہ علیمی نے علاقے کے مسلم معاشرے میں شادی کی تقریبات کے دوران ہونے والے اسرافات و خرافات کے خلاف جمعہ کے خطبے میں آواز اٹھائی اور بارات میں فلمی گانوں پر ہیجڑوں کے فحش رقص, اخلاق سے گری ہوئی حرکتوں اور بلند آواز میں گانا بجانے کے چلن کو ختم کرنے کی اپیل کی اور علاقے کے ذمہ دار افراد کو اس برائی کو ختم کرنے کے مقصد سے ٹھوس اقدام کرنے کی اپیل کی۔ ان کی اس اپیل پر لبیک کہتے ہوئے علاقے کے مشہور میرج ہال جنتا میرج ہال کے ذمہ داروں نے یہ نوٹس دروازے پر چسپاں کردیا کہ ڈی جے, ہیجڑوں کا ڈانس اور دوسرے خرافات کی اجازت اس میرج ہال میں نہیں دی جائیگی اور اس طرح بارات لانے والوں کی تقریب میں قاضی نکاح نہیں پڑھائیں گے۔ اس اقدام کا کچھ تو اثر ہوا لیکن اس طرح کے اصلاحی کاموں کے لئے اجتماعی اقدامات اور دیرپا اور پائیدار ہم کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیز یہ ذمہ داری صرف ائمہ کرام کی نہیں ہے بللکہ سماج کے ہر طبقے کے افراد کی ہےجو لوگ قانون کے شعبے سے وابستہ ہیں وہ قانونی طور پر, جو لوگ بلدیاتی اداروں سے جڑے ہیں وہ انتظامی سطح پر, جو سماجی کارکن ہیں اور سماجی تنظیموں سے جڑے ہیں وہ اپنے دائرہء کار میں رہتے ہوئے سماجی اصلاح کا کام کریں۔مسجدوں کو سماج کی اصلاح و تعمیر کا مرکز بنایا جائے۔ بلدیاتی اداروں سے جڑے افراد علاقے سے شراب جوے اور منشیات کے اڈوں کو ختم کرنےکے لئے بھی اقدامات کریں ۔ان کا کام صرف نالی کی صفائی اور جھگڑوں کا تصفیہ نہیں ہونا چاہئے۔ اس مسئلے کو لا اینڈآرڈر کا مسئلہ بتا کر اس سے چشم پوشی کرنا اہنی سماجی ذمہ داریوں سے بھاگنے کے مترادف ہے۔ یہ صرف لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ نہیں ھے قوم کے نوجوانوں کے مستقبل اور ملت کی فلاح سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ غرض قوم میں در آنے والی خرابیوں کے لئے مسلمانوں کے ملی, سماجی اور سیاسی قائدین ذمہ دار ہیں اور انہیں ہی قوم کی اصلاح کے لئے آگے آکر عام مسلمانوں کو فلاح اور ترقی کی راہ دکھانی ہوگی۔

URL: https://newageislam.com/urdu-section/responsible-moral-degradation-muslim-society/d/127090

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..