New Age Islam
Thu Mar 12 2026, 03:38 PM

Urdu Section ( 15 Nov 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Mas‘udi’s Reservations about Comparative Religion and Indology-Part-3 تقابل ادیان اور ہند شناسی پر مسعودی کے تحفظات

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی، نیو ایج اسلام

( قسط سوم)

15 نومبر،2025

ہندوستان کا سیاسی نظام

مسعودی  کی تحقیق کے مطابق ہندوستان کا پہلا بادشاہ  برہمن نسل سے تھا اس کے متعلق اہل ہند کی آ راء متضاد ملتی ہیں۔  بعض کا خیال ہے کہ وہ ابو البشر آ دم علیہ السلام تھے اور بعض کا خیال یہ ہیکہ وہ بادشاہ ہی تھا۔ پہلے بادشاہ کے ہلاک ہوجانے کے بعد اہل ہند نے حد درجہ گریہ وزاری کی اور اس کا جا نشیں اس کے سب سے بڑے بیٹے باہور کو بنایا جس کے لیے اس کا باپ پہلے ہی کہ گیا تھا سیرت کے لحاظ سے اپنے باپ کی طرح تھا۔ اس نے  حکماء کی بڑی توقیر کی بلکہ ان کے جاہ و حشم میں اور اضافہ کیا اور انہیں اہل ہند کو حکمت کی تعلیم دینے پر مامور کیا  اور خود انہیں بھی علم و حکمت میں مزید تحقیق کا حکم دیا،  اس نے اپنے مذہبی عقائد کے مطابق بہت سی نئی عبادت گاہیں تعمیر کرائیں۔ جب وہ ہلاک ہوا تو اس وقت اس کی عمر سو سال تھی۔ اسی کے زمانے میں پانسہ پھینکنے کا رواج ہوا۔ باہور کے بعد زامان تخت نشیں ہوا اس کی حکومت تقریبا 150 پر محیط تھی۔ فارس اور چین کا بادشاہوں سے اس کی متعدد جنگوں کا ذکر علماء نے کیا ہے۔ اس کے  بعد فور ( پورس) مسند سلطنت پر متمکن ہوا اسی سے سکند رکی جنگ بھی ہوئی تھی۔ سکندر نے اسے شکست دے کر قتل کر دیا تھا اس وقت اس کی حکومت کے 140 سال گزر گئے تھے۔ اس کے بعد و بشلیم بادشاہ ہوا جس نے کتاب کلیلہ و دمنہ لکھی ہے۔ جسے ابن مقفع سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہی وہ کتاب جس کے بہت سے افسانے وغیرہ عباسی خلیفہ المامون کے کاتب سہل بن ہارون نے اپنی کتاب " ثعلہ و عضرہ" میں ترجمہ کرکے پیش کئے ہیں نیز ان پر کچھ اضافے کرکے کتاب کی منظومات میں مزید حسن پیدا کردیا ہے۔ اس کی حکومت کی مدت تقریباً 120 سال ہے۔ پھر اس کے بعد بلہت ہندوستان کا راجا  بنا۔ اس نے شطرنج کے کھیل کو ایجاد کیا۔ اس کا دور حکومت صرف 30 سال ہے۔ بلہت کے بعد کورش ہندوستان کا بادشاہ ہوا ۔ اس نے معاشرتی اصلاحات کے علاوہ مذہبی روایات میں بہت ساری اصلاحات کیں اور اپنی رعایا کی بہت سی سماجی و معاشی تکالیف رفع کرنے کا باعث بنا۔ کورش ہی کے زمانے میں سند باد بھی تھا۔ جو اس کا مشیر تھا۔ اسی نے کورش کے لیے سات وزاراء ، معلمین، غلام اور بیویوں کی تعداد کے سلسلے میں ایک کتاب مرتب کی تھی  جس کا نام بھی اس کے نام پر سند باد ہی تھا۔ اس نے کورش کے لیے جو سب سے بڑی کتاب لکھی تھی وہ مختلف امراض کے اسباب و علل اور ان کے علاج کے لئے دواؤں کی تجاویز وغیرہ پر مشتمل تھی۔ اس میں جسم انسانی کے مختلف اعضاء اور ان کی کار کردگی کے سلسلے میں اشکال و تصاویر دی گئی تھیں۔  اس بادشاہ کی عمر اس کے انتقال کے وقت 120 سال تھی۔  آ گے مسعودی نے لکھا ہے کہ اس کے بعد اہل ہند اختلاف کے شکار ہوگئے اور لوگوں نے مرکز سے الگ الگ اپنی حکومتیں قائم کرلیں۔ سندھ کی الگ ، قنوج کی الگ حکومت قائم ہوئی، کشمیر کی الگ حکومت قائم ہوئی،  سب سے بڑی حکومت کا پایہ تخت شہر " مانکیر" تھا " (دیکھئے تفصیل ایضاً صفحہ 94-97)

پتہ یہ چلا کہ ہندوستان کا قدیم زمانے سے ایک منظم سیاسی نظام تھا۔ اور تمام اہل ہند اس کی تابع داری کرتے تھے۔ اسی کے ساتھ ان بادشاہوں کی ایک اچھی عادت یہ تھی کہ وہ علم پروری کے بھی دلدادہ تھے۔ اہل علم کی قدر و وقعت کرتے تھے۔ نیز اہل علم کو جدید تحقیق کی راہ بھی ہموار کرتے تھے۔ البتہ مسعودی نے اس بات کو قطعی نظر انداز کرڈالا ہے کہ ان بادشاہوں کا اپنی رعایا کے ساتھ رویہ کیسا تھا۔؟

ہندوستان کے قدیم حکماء کا فلسفہ

مسعودی نے لکھا ہے کہ ہندوستان کے پہلے بادشاہ کی نسل کے لوگ براہمہ کہلاتے ہیں۔ ان کے سات پسندیدہ دانشور گزرے ہیں۔ جن کا قول ہے کہ ہمارا وجود خالق کی حکمت پر مبنی ہے۔ لہذا ہمارا عدم اس کی حکمت کے زوال یا نقص کا باعث ہوگا۔ ان میں سے ایک دانشور کہتا ہے کہ ایسا کون ہے جو وجود عالم اور حقائق اشیاء کا کلی طور پر ادراک کرسکے۔ ؟ دوسرا کہتا ہے کہ عقل و حکمت کسی ایک شخص تک محدود نہیں ہوسکتی ۔ تیسرا کہتا ہے کہ ہمارے لیے انہی اشیاء کا ادراک کافی ہے جو ہمارے اجسام و اذہان سے قریب تر ہیں ۔ چوتھا کہتا ہے کہ اشیاء کی معرفت ہمارے لیے اسی حد تک ضروری ہے۔ جہاں تک ہمیں ان کی احتیاج ہو۔ پانچواں کہتا کہ ہمیں ان حکماء کی صحبت اختیار کرنی چاہیے جو حقیقت اشیاء کے ادراک ہر قادر ہیں۔ چھٹا کہتا ہے کہ اس دنیا میں ہمارا وجود حصول سعادت نفس کے لیے وقف ہونا چاہئے کیونکہ یہاں سے ایک دن جانا ضروری ہے۔  ساتویں کا کہنا ہے کہ ہم نہ اپنی خوشی سے آ ئے ہیں نہ یہاں سے جانے پر ہمیں اختیار ہے۔ رہی زندگی تو اس میں پریشانیوں اور تکالیف کے سوا رکھا کیا ہے ۔ ( ایضاً صفحہ 93-94)

خصائل و رسوم

 مسعودی نے لکھا ہے کہ " ہندوستان میں شراب کی ممانعت ہے اور پینے والے کو سزا دی جاتی ہے لیکن یہ مذہبی نقطہ نظر سے نہیں کیا جاتا بلکہ ان کے نزدیک شراب پی کر نشے کی حالت  میں انسان عقل و خرد سے عاری ہوجاتا ہے۔ اور اسے ملکی قوانین اور روایات کا پاس ولحاظ نہیں رہتا ۔ البتہ حکمران کے لیے ضرور سیاسی سوجھ بوجھ اور تدابیر ملکی پر غور و خوض کے لیے اس کا تھوڑا بہت استعمال صحیح سمجھا جاتاہے۔ ہندوستان میں گانے بجانے کا رواج بہت ہے جس کے لیے انہوں نے بہت سے آ لات بنا رکھے ہیں۔ گانا بجانا خوشی اور غمی دونوں میں ہوتا ہے نیز پڑوسیوں کے یہاں تقریبات کے موقعوں پر گانا بجانا ضروری ہوتا ہے۔" ( ایضاً صفحہ 99) مسعودی نے ایک رسم کے متعلق اور لکھا ہے۔ " میں نے ارض ہند کے خطہ سراندیپ میں دیکھا اور وہ ایک سمندری جزیرہ ہے۔ کہ جب وہاں حکمران فوت ہوجاتا تو اسے ایک خاص مقام پر لے جاتے ہیں جو اسی کام کے لیے مقرر ہے اور اس کی لاش وہاں رکھ دیتے ہیں ۔ اس کی بیوی کے ہاتھ میں ایک پوٹلی ہوتی ہے جس میں سے مٹی نکال نکال کر وہ اپنے مردہ خاوند کے سر پر ڈالتی جاتی ہے اور کہتی جاتی ہے۔ "اے لوگو! دیکھو یہ آ ج تک تمہارا حاکم تھا"  اس کا ہر حکم تمہارے لیے واجب العمل تھا اب اس نے دنیا چھوڑ دی اس لیے اس کے احکام بھی آ ج سے ختم ہوگئے کیونکہ ملک الموت نے اس کی روح قبض کرلی ہے۔" اگرچہ وہ زندہ ہوکر دوبارہ نہیں مرے گا لیکن اس کے مرنے سے تم نہ بدل جانا "  اس قسم کے الفاظ وہ لوگوں سے نیک چلنی پر پابند رہنے کے لئے کہتی ہے۔  اس کے بعد تمام مذہبی رسوم ادا کرکے اس کی لاش کو آ گ لگا دی جاتی ہے۔ "

 بہر حال یہ ان کے رسم ورواج ہیں جن پر ہم کو کوئی تعرض نہیں۔ سچ بات تو یہ ہیکہ وطن عزیز تہذیبوں، ادیان اور ثقافتوں کا سنگم ہے۔ یہی ہمارے ملک کی اصل شناخت اور امتیاز ہے۔ یہ ہماری جمہوری اور آ ئینی قدروں کو یقنی بناتی ہیں۔

مسعودی کے افکار کی افادیت

آ خر میں یہ عرض کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ موازنہ ادیان اور تہذیبی دریافت کے حوالے سے مسلم مفکرین وعلماء نے ہر دور اور ہر زمانے میں گرانقدر خدمات انجام دی ہیں۔ مذکورہ مباحث کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہیکہ دوسرے ادیان اور ان کی تہذیبوں کا مطالعہ مسلمانوں نے نہایت اعتدال اور غیر جانبدار ہوکر کیا ہے۔ آ ج ہمارے درمیان جو لوگ افتراق و خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کو یہ بتانا کافی ہوگا کہ مسلمانوں نے غیر مسلم اقوام کے ادیان و تہذیب اور ان کے سیاسی و سما جی نظام کو سمجھ کر مثبت پیغام دیا ہے۔ وہیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مسالک و ادیان کی خوشگوار روایت کو ایک درست سمت دینے میں مسلم علماء کی خدمات کو سراہنا اور انہیں بروئے کار لانا نہایت ضروری ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اب  نفرت اور تشدد کی آ ندھی چل رہی ہے۔ لوگ باہم ادیان و تہذیب کے مابین غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں۔ ان کا سد باب اسی وقت ہوسکتا ہے جب ہم مکالمہ جیسی خوشگوار روایت کو فروغ دیں۔ سماجی طور پر نکتہ اتحاد پر عمل کریں۔

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی مصنف اور نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ہیں ۔

---------------

Urdu Part-1: Mas‘udi’s Reservations about Comparative Religion and Indology تقابل ادیان اور ہند شناسی پر مسعودی کے تحفظات

Urdu Part-2: Mas‘udi’s Reservations about Comparative Religion and Indology-Part-2 تقابل ادیان اور ہند شناسی پر مسعودی کے تحفظات

URL: https://newageislam.com/urdu-section/reservations-comparative-religion-indology-part-3/d/137646

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..