New Age Islam
Wed Mar 18 2026, 04:39 PM

Urdu Section ( 6 Jul 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Psychological Life of Muslims in India-Part-2 ہندوستان میں مسلمانوں کی نفسیاتی زندگی

شروع کی گئی مشہور سماجی ادارہ ’’بے باک کلیکٹیو‘‘ کی طویل رپورٹ کا دوسرا حصہ

2 جولائی 2023

فرقہ پرستی کا ہدف

فرقہ پرستی نے حالیہ برسو ں میں مسلمانوں کے ساتھ مذہبی بنیاد پر تعصب کا مظاہرہ کیا ہے تاکہ اُن کی تعلیم اور روزگار متاثر ہو۔ اب تک جو مباحثے ہوئے  اُن میں یہی موضوع زیر بحث رہا، مثال کے طور پر حجاب پہننے والی خواتین کو ہدف بنانا جس سے اُن کی تعلیم اور روزگار متاثر ہو، مسلم دُکانداروں کا بائیکاٹ تاکہ اُنہیں منظم طریقے سے معاشی طور پر حاشئے پر لایا جائے۔ ان مباحث میں بھی ذہنی صحت کا احاطہ کیا گیا۔  جو دانشورانہ مضامین منظر عام پر آئے اُن میں کسی سانحے کے بعد کی ذہنی کا صحت کا جائزہ لیتے ہوئے اُن علامات کا تجزیہ کیا گیا جو بے خوابی، مایوسی اور توجہ بٹنے کی کیفیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ دیگر مضامین میں ۲۰۰۲ء کی گجرات فسادات کی متاثرہ خواتین کے سماجی، نفسیاتی اور جسمانی مسائل کو سمجھنے کی کوشش ہوئی۔ اس کیلئے جو طریقہ اختیار کیا گیا اُسے اصطلاحاً پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی) کہا جاتا ہے یعنی کوئی سانحہ ہونے کے بعد ذہنی دباؤ کی جو کیفیت پیدا ہوتی ہے وہ کس نوعیت کی ہے۔

بعض قابل قدر کوششیں دستاویزی فلموں کے ذریعہ بھی ہوئی ہیں جن سے ناظرین یہ سمجھ پاتے ہیں کہ متاثرین کیا کہہ رہے ہیں اور جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں اُس کے پس پشت کس طرح کا کرب اُن میں پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک دستاویزی فلم تھی ’’دی فائٹل سالیوشن‘‘ جو ۲۰۰۴ء میں بنائی گئی تھی۔ ایسی فلموں کے ذریعہ گجرات فساد متاثرین کے مسائل کی نوعیت کی شناخت کرنے کی کوشش کی گئی مثلاً جو نقصان ہوا اُس کا احساس کتنا شدید ہے اور آپسی رشتوں میں کس قسم کی دراڑیں پڑیں۔ ان فلموں سے مسلمانوں کے مصائب منظر عام پر آئے اور اُن لوگوں کو، جنہوں نے گجرات فسادات کو ٹھیک طریقے سے نہیں سمجھا تھا، بہت سی باتیں سمجھائی جاسکیں۔

بے باک کلیکٹیو کی یہ رپورٹ مذکورہ تمام جائزوں اور مطالعات یا دستاویزی فلموں سے آگے بڑھتے ہوئے ’’مسائل پر مبنی گفتگو‘‘ کو دماغی صحت پر مرکوز کرنے کی کوشش ہے، اس لئے بھی کہ بہت سے مسائل انسان کی ذہنی صحت پر الگ الگ طریقے سے اثرانداز ہوتے ہیں۔ بنگلور کی مینٹل ہیلتھ پریکٹیشنر (ذہنی صحت کے اُمور کو سمجھنے والی ماہر) شمیمہ اصغر نے بے باک کلیکٹیو سےبات چیت کرتے ہوئے   کہا کہ طبی نقطۂ نظر سے ذہنی صحت کا جائزہ لیتے وقت کافی انفرادی پن پیدا ہوجاتا ہے چنانچہ اس میں تشدد کے بنیادی محرکات کا جائزہ نہیں لیا جاتا بلکہ متاثرین پر جو اثرات مرتب ہوئے اُن کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بہ الفاظ دیگر، متاثرین کو یہ سمجھایا جاتا ہے کہ جو تشدد ہوا وہ ہوچکا ، اب اُس کے ساتھ نباہ کیسے کیا جائے۔ بے باک کلیکٹیو کی یہ رپورٹ سماجی اذیت ناکی کے نقطۂ نظر پر مبنی ہے جس میں فرقہ پرستی کے پیش نظر ذہنی صحت کو آنکنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سماجی اذیت ناکی انسانی مسائل کے اُس مجموعے سے عبارت ہے جن کی اپنی بنیادیں ہوتی ہیں۔ یہ رپورٹ فرقہ پرستی کے اُن اثرات کا جائزہ لیتی ہے جو بے چینی، پریشانی اور انتشار ِ زندگی کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اس نقطۂ نظر سے یہ جائزہ لینا مقصود تھا کہ متاثرین کو جو پریشانی لاحق ہوئی وہ کس حد تک اثر انداز ہوئی اور متاثرین نے اُس سے نباہ کرنا کیسے سیکھا۔ اسے، اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ متاثرین کی ذہنی صحت بھی ایک اہم کسوٹی ہوتی ہے جس کے ذریعہ مسلمانوں کے ساتھ سماجی منافرت اور سرکاری بے عملی کو سمجھا جاسکتا ہے۔ کئی متاثرین سے بات چیت اور اُن کے انٹرویو کے ذریعہ ہم یہ سمجھ پائے کہ متاثرین کے جذبات، احساسات اور تاثرات سے ذہنی صحت کی جو تصویر بنتی ہے اس سے بھی یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ کس طرح فرقہ پرستی نے ہندوستانی مسلمانوں کی روزمرہ کی زندگی کو بدل دیا ہے۔ اس سلسلے میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ذہنی صحت وہ تصویر پیش کرتی ہے جو عموماً لوگوں کے سامنے نہیں آتی، یہ وہ کہانی ہے جو الفاظ میں بیان نہیں ہوپاتی، کہی نہیں جاتی اور پھر وہ وقت آتا ہے جب فراموش کردی جاتی ہے۔ اس رپورٹ کے ذریعہ کوشش یہ کی گئی ہے کہ فرقہ پرستی کے سبب برپا ہونے والا تشدد متاثرین کےمستقبل، صحت اور مالی استحکام سے متعلق زندگی کے تجربات کو کس حد تک بدل دیتا ہے۔

اس رپورٹ کیلئے اپنایا گیا طریق کار

بے باک کلیکٹیو نے اس رپورٹ کی تیاری کیلئے دہلی، اُترپردیش، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، آسام اور گجرات کے متاثرین سے انٹرویوز کئے جس کیلئے چھ ماہ درکار ہوئے (فروری تا جولائی ۲۰۲۲ء)۔ جن مسلمانوں سے بات چیت کی گئی وہ تعلیمی اور معاشی اعتبار سے سماج کے الگ الگ طبقات کے لوگ ہیں۔مختلف ریاستو ں کے اِن مسلمانوں میں جو چیز قدر مشترک کے طور پر موجود ہے وہ اُن کی مذہبی شناخت اور فرقہ وارانہ تشدد سے اُن کی قربت (یعنی وہ کتنی آسانی سے ہدف بن سکتے ہیں) ہے۔ موضوع پر بہتر تحقیق کے مقصد سے ہم نے اپنا دائرۂ کار وسیع رکھا چنانچہ سماجی کارکنان سے بھی بات چیت کی گئی جنہیں سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا تھا، ہم نے سماجی رضاکاروں کے دوستوں سے بھی گفتگو کی، ہجومی تشدد کا شکار بننے والے افراد کے اہل خانہ سے بھی رابطہ کیا، فرقہ وارانہ فساد کے متاثرین اور اُن کے اہل خانہ سے بھی سوال جواب کئے اور جو لوگ گرفتار کئے گئے اُن کے اہل خانہ کے درد کو بھی سمجھنے کی کوشش کی۔ اس پوری مشق کے دوران ہماری کوشش یہ تھی کہ فرقہ پرستی سے متعلق لوگوں کے تجربات اور اس کے سبب مرتب ہونے والے احساسات کو سنا اور سمجھا جائے۔ لوگوں سے رابطہ کرتے وقت ہمیں کئی لوگ عجب حالت میں ملے، مثلاً ایک شخص اپنے دوست کے والد کی گرفتاری کی خبر سے جوجھ رہا تھا، ایک شخص پولیس سے بچنے کی کوشش میں تھا اور ایک شخص علاقہ کے فساد کے بعد ہونے والی گرفتاریوں سے نمٹ رہا تھا۔ انٹرویوز کے دوران ہم نے لوگوں کو الگ الگ ذہنی کیفیات میں بھی دیکھا مثلاً ایک لمحہ میں اُن کی گفتگو حالات کے تجزیئے یا عملی تجربہ پر مبنی تھی تو دوسرے لمحے اُن کی بات چیت پر مایوسی کا عنصر غالب تھا۔ کبھی اُنہو ں نے ذاتی کیفیات کا اظہار کیا۔ انٹرویوز کے دوران لوگوں نے فسادات کے تعلق سے اپنے تجربات اور مشاہدات بیان کئے، انہدامی کارروائیوں کی بابت بتایا، اپنے ساتھ ہونے والی بے وفائی اور اپنی ناکامی کا ذکر کیا اور اپنے شب و روز میں آنے والے سخت ترین حالات کو بیان کیا۔

اب تک کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ بے باک کلیکٹیو کی رپورٹ موجودہ ہندوستان میں مسلمانوں کی جذباتی زندگی کی عکاسی کے طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔(جاری)

2 جولائی 2023،بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

-----------------

Part: 1- The Psychological Life of Muslims in India-Part-2 ہندوستان میں مسلمانوں کی نفسیاتی زندگی

URL:  https://www.newageislam.com/urdu-section/psychological-life-muslims-india-part-2/d/130147

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..