New Age Islam
Mon Feb 09 2026, 05:20 AM

Urdu Section ( 28 Jun 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Political and Social Conditions of the Country and the Mental Health of Muslims-Part-1 ملک کے سیاسی و سماجی حالات اور مسلمانوں کی ذہنی صحت

رپورٹ کا پیش لفظ

( حصہ 1)

25 جون 2023

کیتکی راناڈے (فیکلٹی سینٹر فار ہیلتھ اینڈ مینٹل ہیلتھ، ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسیز، ممبئی) نے رپورٹ کے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ دماغی صحت اور اسے سماجی و سیاسی تناظر میں سمجھنے کی کوشش طویل اور گہری خاموشی کے بعد اب شروع ہوئی ہے جس کے بہت سے اسباب میں سے ایک اور شاید سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ وبائی دور میں سماج کے کمزور طبقات کو کافی کچھ سہنا پڑا مگر وبائی دور سے پہلے بھی سماجی طور پر حاشئے میں رہنے اور عوام کی دماغی صحت کے متاثر ہونے کا جائزہ آبادی کے مختلف طبقات میں لیا گیا مثلاً خواتین کی دماغی صحت، بے گھر ہوجانے والے افراد کی دماغی صحت، دلتوں، بہوجن سماج کے لوگوں اور ادیباسیوں کی دماغی صحت وغیرہ، لیکن مختلف مسائل کے پیش نظر ہندوستانی مسلمانوں کی ذہنی صحت کے بارے میں کوئی خاطرخواہ مطالعہ نہیں ہوسکا چنانچہ دماغی صحت کے باب میں یا ملک کی ترقیاتی ادبیات میں اس موضوع پر نہ تو کوئی خاص تحقیق ہوئی نہ ہی ضروری مواد ملتا ہے۔ گپتا او کوفی رپوٹ مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر آبادی کے طبقات کی ذہنی صحت کو سمجھنے کی اچھی کوشش تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ شیڈول کاسٹ سے تعلق رکھنے والے افراد اور خاندانوں نیز مسلمان افراد اور خاندانوں میں اپنی بے چینی، اضطراب اور غم و اندوہ کی کیفیت کے اظہار سے گریز اتنا نہیں ہے جتنا کہ اَپر کاسٹ ہندوؤں میں ہے۔ ایسی ہی ایک اور تحقیق میں، جس کا مقصد ذہنی صحت پر فرقہ وارانہ فسادات کے اثرات کو سمجھنے کی کوشش تھا، فساد سے متاثرہ مسلم خاندانوں میں ذہنی صدمے کی کیفیت پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ چند مطالعات کے ذریعہ وادیٔ کشمیر میں ذہنی صحت کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔ ایسے مطالعات، تحقیق یا جائزے مسلمانوں کی ذہنی صحت پر توجہ مبذول کرواتے ہیں مگر ان جائزوں کے دوران تحقیق تکنیکی طریقۂ کار پر ہوئی ہے۔ ہمارا مقصد اس طریقہ کار کی تحقیر کرنا نہیں بلکہ یہ بتانا ہے کہ ایسی تحقیق یا جائزے ’’سماجی نقصانات (اذیت ناکی)‘‘ پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں لہٰذا ان میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ زخم، درد، سماجی، سیاسی اور محکمہ جاتی جبر کا انسانی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے مگر اس رپورٹ میں روزمرہ کی سرگرمیوں کے دوران عوامی مقامات پر پیش آنے والی دشواریوں، تعلیمی سہولتوں تک رسائی اور مالی استحکام وغیرہ کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ زیر نظر رپورٹ نفسیاتی ماہرین نے نہیں بنائی ہے بلکہ یہ اُن سماجی کارکنان کی کاوشوں کا نتیجہ ہے جو خواتین کے حقوق اور سماجی بہتری کیلئے زمینی سطح پر کام کرتے ہیں۔ اس رپورٹ کی طاقت وہ اٹوٹ رشتہ اور گہرا تعلق  ہے جو متذکرہ سماجی کارکنان اور اُن لوگوں کے درمیان پایا جاتا ہے جن کیلئے یہ کارکنان سرگرم عمل رہتے ہیں۔

جائزہ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

اس لئے کہ حالات بدلے ہیں، بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے قانون کی غلط تشریح اور غلط نفاذ کی وجہ سے ہندوستانی مسلمان خود کو الگ تھلگ محسوس کرنے لگے، اُن میں سراسیمگی پائی جانے لگی۔ اگر ایک طرف یہ ہوا تو دوسری طرف ہندو اکثریت نوازی سماج پر حاوی ہوگئی، جو قانون تمام شہریوں کو یکساں حقوق اور مواقع، پُروقار زندگی جینے کی آزادی اور انصاف کی نظر میں سب برابر ہیں کے کلیہ پر مبنی ہے، اس کے اطلاق میں جانبداری آگئی۔ کئی نہایت خوفناک قوانین جن کا اطلاق عوامی زندگی کوسنگین خطرہ لاحق کرنے کے سلسلے میں ہوتا ہے، وہ بے دریغ ہونے لگا۔ ایسے قوانین بھی وضع ہوگئے اور نافذ ہونے لگے جن سے یہ تاثر ملتا ہے جیسے ملک میں مسلمانوں کا وجود اکثریتی ہندو آبادی یا قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہو۔ ایسا ہی ایک قانون یو اے پی اے ہے جس کے تحت ہونے والی گرفتاریوں کی تعداد ۲۰۱۶ء میں اتنی نہیں تھی جتنی کہ ۲۰۱۹ء میں ہوگئی۔ اس قانون کا اطلاع غیر قانونی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے خلاف ہونا چاہئے تھامگر اس کے تحت اُن لوگوں کو ماخوذ کیا گیا جو مسائل کے خلاف آواز اُٹھا رہے تھے۔بہت سے ملزمین کو بغیر مقدمہ چلائے طویل عرصے تک حراست میں رکھا گیا۔ اس قانون کا اطلاق کس طرح ہوا اس کی ایک مثال یہ ہے کہ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج کرنے والے سماجی رضاکاروں پر یواے پی اے کا لگایا جانا ۔ اس سلسلے کے تحت جن اٹھارہ سماجی کارکنان کو گرفتار کیا گیا اُن میں سے تیرہ اب بھی جیل میں ہیں جنہیں ضمانت ملنے کی اُمید ہے نہ ہی مقدمہ کی سماعت جلد شروع ہونے کا کوئی امکان دکھائی دیتا ہے۔حکومت کی نظر میں وہ مسلم صحافی بھی ہیں جنہوں نے مسلم آبادیوں کے خلاف ہونے والے تشدد پر سوال اُٹھا رہے تھے ۔ متعدد مسلم مخالف قوانین کی وجہ سے مسلم فرقہ کے آئینی حقوق پر کتنی زد پڑرہی ہے او راس کی وجہ سے اس فرقے کے لوگوں کی ذہنی صحت پر کیا اثر پڑا ہے یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔ ان قوانین میں آپ دیکھیں گے کہ گئو کشی سے متعلق قانون جس کے تحت مسلمان ہی ہدف بنتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بڑے کے گوشت کے بیشتر برآمد کار ہندو ہیں۔ ان قوانین میں استغاثہ کسی کو مجرم ثابت کرے ایسا نہیں ہوتا بلکہ ملزم پر ذمہ داری ہوتی ہے کہ خود کو بے گناہ ثابت کرے۔ ۲۰۱۹ء کا سی اے اے اور این آر سی کے قانون کو بھی بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے جس کا ہدف بڑی تعداد میں مسلمان ہی بننے والے تھے۔ اس کا مقصد بھی مسلمانوں کو ملک کی شہریت کے اپنے جائز اور قانونی حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔ ایسے کئی قوانین کی مثال دی جاسکتی ہے۔ اِس طرح اکثریت پرستی کی آئیڈیالوجی قانون کے ذریعہ مستحکم ہورہی ہے ۔ محسن عالم بھٹ نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ اکثریت پرستی کے رجحان کو فروغ دینے کیلئے موجودہ قوانین کی خلاف ورزی کی گئی جیسا کہ جہانگیر پوری (دہلی) میں ہونے والی انہدامی کارروائی کیلئے دہلی میونسپل حکام نے میونسپل ایکٹس کی خلاف ورزی کی۔ اس قسم کی کارروائیوں کا نتیجہ ہے کہ اقلیتی فرقے کے لوگوں میں دوسرے درجے کے شہری کا احساس پیدا ہورہا ہے کیونکہ وہ ایک طرف قانون کی زد میں لائے جاتے ہیں اور دوسری طرف ہندوتوا وادیوں کی فوج اُن کے خلاف سرگرم رہتی ہے۔ حقوق کی پامالی کے اس عمل میں مسلمانوں کو نہ تو کوئی بامعنی راحت ملتی ہے نہ ہی قانون کی پناہ ملتی ہے۔

روزمرہ کی زندگی میں تضحیک و تحقیر

نسلی تطہیر کے مقصد سے ہونے والے تشدد کے ایک ماہر گریگری اسٹینٹن نے جنوری ۲۰۲۲ء میں ہندوستانی مسلمانوں کی نسلی تطہیر (جینوسائڈ) کے خلاف متنبہ کیا تھا۔ یہ انتباہ فرقہ وارانہ تشدد کے آئے دن کے واقعات کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ ’’جہاد‘‘ (لوَ جہاد، زمین جہاد، کورونا جہاد، یوپی ایس سی جہاد وغیرہ) کا بار بار ہو ّا کھڑا کرنے کا حربہ مسلمانوں کے حاوی ہونے کے مفروضے کے پیش نظر ہے۔ مسلمانوں کے ذریعہ گوشت کی فروخت کا معاملہ ہو یا یوپی ایس سی میں کامیابی کا، کھلی جگہوں پر نماز ادا کرنے کا ہو یا اسٹیٹس رکھنے کا، یہ ہوا ّنہایت آسانی سے کھڑا کردیا جاتا ہے۔ ہریانہ میں گئورکشکوں کے ذریعہ مسلمانوں پر تشدد کی بابت کرسٹوف جیفرلوٹ نے یہ تصویر واضح کی ہے کہ مبینہ تشدد مقامی پولیس، سیاستدانوں اور گئورکشکوں کی ساز باز کا نتیجہ تھا۔ گئو رکشکوں کی تنظیموں مثلاً گئو رکشا دَل، ہندو یووا واہنی اور ہندو سینا کی سرگرمیاں حکومت کی پشت پناہی کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کا دائرۂ اثر کافی بڑھ گیا ہے۔ افراد کے خلاف اُن کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر ہونے والے تشدد کے پس پشت یہی تنظیمیں ہیں ۔ بہت سے معاملات میں اگر تشدد نہیں ہوا تو مخصوص مذہبی شناخت رکھنے والے شہری کو ایک خاص نعرہ لگانے پر مجبور کرکے اُس کی انفرادی آزادی کو یرغمال بنالیا گیا۔ یہ تحقیر اور تضحیک ایک قسم کی روزمرہ کی ڈھانچہ جاتی فرقہ پرستی (انسٹی ٹیوشنلائزڈ ایوری ڈے کمیونلزم) ہے جس کے تحت بعض علاقوں میں ہونے والا تشدد فساد نہیں کہلاتا بلکہ گئو رکشا کے مقصد سے ہونے والی روک ٹوک میں بدل جاتا ہے۔

مسلمانوں کے خلاف ہونے والے تشدد کی ایک قسم وہ بھی ہے جو سوشل میڈیا پر جاری رہتی ہے اور جس کے تحت اسلحہ اُٹھانے کی دعوت دی جاتی ہے تاکہ مسلمانوں کی نسلی تطہیر (جینوسائڈ) ممکن ہوسکے یا پھر ایسے ویڈیو اور پیغامات جاری کئے جاتے ہیں جن میں مسلمانوں کو تشدد پسند باور کرایا جاتا ہے کہ اُن کے مردوں میں اشتعال پایا جاتا ہے اور اُن کی عورتیں مزاحمت سے عاری مخلوق ہیں، ایسے ایپ بنائے جاتے ہیں جن کے ذریعہ مسلم خواتین کی نیلامی کا گویا اشتہار دیا جاتا ہے او رمسلم صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو لعن طعن کی جاتی ہے۔ ۲۰۲۰ء میں دہلی فسادات کے دنوں میں اس طرح کی نفرتی مہم منظر عام پر آئی تھی۔ وہاٹس ایپ اور فیس بُک گروپس  مسلم مخالف جذبات پیدا کرنے میں سرگرم تھے۔ (جاری)

25 جون 2023،بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

-------------------

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/political-social-country-mental-muslims-part-1/d/130095

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..