New Age Islam
Fri Jul 23 2021, 09:59 PM

Urdu Section ( 4 May 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Removing Doubts Concerning Verses of Jihad in Quran: Is Jizya in Islam an act of oppression? Part 2 ازالہ شبہات در آیاتِ جہاد: کیا اسلام کا جِزیہ لینا ذمیوں پر ظلم و ستم ہے ؟

کمال مصطفیٰ ازہری، نیو ایج اسلام

(مضمون برائے نیو ایج اسلام )

5 مئی 2021

بسم الله الرحمن الرحيم

شبہ نمبر 2:  کیا اسلام کا جِزیہ لینا ذمیوں پر ظلم و ستم ہے ؟

بعض مغالطین یہ مغالطہ کرتے ہیں کہ اسلام اہل الذمہ (وہ کفار جو جِزیہ دیکر دار الاسلام میں پناہ اختیار کریں) پر ظلم و تشدد کا معاملہ کرتا ہے، انکی آزادی چھین لیتا ہے اور ان پر زیادہ ٹیکس ڈال کر پریشانی میں مبتلا کرتا ہے جسے مسلمان جِزیہ کا نام دیتے ہیں اور ادا نہ کرنے پر جہاد کا حکم دیتا ہے۔

شبہ سابقہ چند وجوہات سے مسترد کیا جاتا ہے :

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ شبہ پیدا کرنے والے ان ساری باتوں سے نا واقف ہیں جو اسلام ذمیوں کے حقوق کی کفالت میں بے مثال کردار ادا کرتا ہے۔ ہم ان تمام چیزوں کو درج ذیل سطور میں بیان کرتے ہیں تاکہ اذہان و قلوب شکوک و شبہات سے محفوظ رہیں۔

اولاً جزیہ کا معنی بیان کر دیتے ہیں:

جزیہ لغت میں ( ج ز ی) سے مشتق ہے اور فِعْلَة کے وزن پر ہے جس کا معنی ہے " أعطوها جزا ما منحوا من الأمن "  جو امان کے بدلے میں دیا جائے۔ [  مختار الصحاح : 44/1 ]

جزيہ وہ محدود اور متعین مال ہے جو سلطنت اسلامیہ کے تحت رہنے اور حفاظت کے بدلے میں صرف ان صاحب استطاعت کام کاج پر قدرت رکھنے والے غیر مسلموں سے لیا جاتا ہے جو دار الاسلام میں سکونت اختیار کریں۔

بوڑھے،  بچے اور عورتیں اس سے بری ہیں۔ اسی طرح فقیر و مریض اور کام کاج پر قدرت نہ رکھنے والے افراد سے بھی جزیہ  نہیں لیا جاتا ہے بلکہ ان میں سے اکثر تو وہ افراد ہیں جو مسلمانوں کے بیت المال سے بقدر حاجت حصہ بھی پاتے ہیں۔

اہل الذمہ جو مسلمانوں کے درمیان رہتے ہیں دولت اسلامیہ کی قضاء و ضمانت و فوج (Judiciary, Army, Police) کی خدمات سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اسی طرح عوامی سہولیات( Public Facilities) سے بھی مستفید ہوتے ہیں، اور یہ بات اہل نظر سے پوشیدہ  نہیں کہ ان  تمام امور و معاملات کو چلانے کے لیے ایک بڑی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے جس کی ادائیگی مسلمان کرتے ہیں اور ذمی لوگ بھی اس خرچے کی ادائیگی میں حصہ دار بنتے ہیں۔

جزیہ کے بدلے میں دولت اسلامیہ ان کی حفاظت و دفاع کی ذمہ داری اٹھاتی ہے اور ان کے لئے  دیار اسلام میں امان فراہم کرتی ہے جس پر انہیں اپنے جان و مال اور عزت کے دفاع یا دولت اسلامیہ کے دفاع کا مکلف نہیں کرتی بلکہ  ان تمام امور کی حفاظت اور انکی نگہداشت کے لئے فوجی دستہ مامور ہوتا ہے۔

تو یہ جِزیہ اسلام قبول نہ کرنے کی سزا یا ظلم نہیں ہے بلکہ یہ انکی حفاظت و حمایت اور کفالت وسرپرستی کے عوض ہے۔ اسلئے کہ جزیہ کا قبول کرنا ہی انکی جان و مال کی عصمت کو ثابت کرتا ہے۔ جیساکہ امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے صراحتاً  فرمایا تھا : " فإذا أخذت منهم الجزية فلا شيء لك عليهم و لا سبيل." یعنی  جب تم نے ان سے جزیہ لے لیا تو اب تمہارے لئے ان پر کوئی چیز یا راستہ باقی نہ رہا’’۔[ الخراج : 154]

اسلام نے ذمیوں کی ضمانت میں ایک ایسی الگ پہل کی جس کی مثال تاریخ انسانیت میں نہیں ملتی کہ ذمیوں میں سے قدرت رکھنے والے لوگ معدود ومتعین درہم عطا کریں اور پھر مسلمانوں کی نگرانی میں امن و سلامتی کے ساتھ محفوظ و مامون ہو کر اپنی خوشگوار زندگی گزاریں، حالانکہ قدرت و طاقت ہونے کے باوجود ظلم و ستم نہ کر کے حقوق میں عدل و انصاف عطا کیا۔

ذمیوں کے لئے عام حقوق

۱۔ جرم کے متعلق قانون ( Criminal Law )

یہ قانون مسلمان و ذمی پر برابر جاری ہوتا ہے یعنی جرم کی سزا دونوں کے لئے برابر ہے، مثلا اگر کوئی مسلمان ذمی کا مال چوری کر لے یا ذمی مسلمان کا مال چوری کر لے تو دونوں حالتوں میں چور کے ہاتھ کاٹے جائیں گے۔

۲۔ شہری قانون (Civil Law)

یہ قانون بھی دونوں کے لئے برابر ہے۔ ذمی کا مال مسلمان کے مال کی طرح ہے اور ذمی کے لئے شراب بنانا، پینا یا بیچنا خاص ہے اور خنزیر پالنے، کھانے یا بیچنے کی اجازت ہے۔ تو اگر کسی مسلمان نے ذمی کی شراب ضائع کردی یا خنزیر کو ہلاک کردیا تو اس پر اس کا جرمانہ ادا کرنا لازم ہوگا۔ جیسا کہ در مختار میں ہے : يضمن المسلم قيمة خمرہ و خنزيره إذا أتلفه "

۳۔ حفظِ عفت و عزت

ذمی کو ہاتھ یا زبان سے ایذا رسانی جائز نہیں ہے اور   اس کو گالی دینا،  مارنا یا اسکی غیبت کرنا بھی جائز نہیں  ہے ۔ در مختار میں ہے : " يجب كف الأذى عنه و تحريم غيبته كمسلم "  ذمی کو اذیت دینے سے باز رہنا ضروری ہے اور اس کی غیبت مسلمان کی طرح حرام ہے۔

۴۔ شعائر دینیہ ۵۔  جزیہ و خراج لینے میں نرمی

اسلام حاجتمند  ذمیوں کو مسلمانوں کے بیت المال سے حصہ بھی فراہم کرتا ہے جیسا کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ نے بصرہ  میں اپنے مقرر کردہ گورنر عدی بن ارطأۃ کو یہ کہہ کر روانہ کیا : "انظر من قبلك من أهل الذمة، قد كبرت سنه وضعفت قوته وولت عنه المكاسب، فأجرِ عليه من بيت مال المسلمين ما يصلحه " [ الأموال : 170/1]

ترجمہ : اپنا خیال رکھنے سے پہلے اہل ذمہ کا خیال رکھنا کہ ان میں کچھ عمر دراز ہوگئے ہیں، کچھ ضعیف و کمزور ہیں اور انکی آمدنی دور ہوگئی ہے تو مسلمانوں کے بیت المال سے ان کو عطا کرنا جس سے ان کی حالت میں سدھار آئے۔

 اسلام کی معیشت میں غیر مسلموں نے اس طرح آزادی و عدل و انصاف کے ساتھ زندگی گزاری ہے تو آج مسلمانوں کے ساتھ اتنا ظلم و ستم کیوں؟

 اسلام رحمت و سلامتی کا دین ہے جو نفرت و دشمنی کی طرف نہیں اکساتا بلکہ وہ مسلم و غیر مسلم کے درمیان قضاء و دیگر معاملات میں مساوات کا درس دیتا ہے جس کی تاریخ میں بے شمار مثالیں موجود ہیں۔

یہاں وہ واقعہ بہترین مثال ہے جو حضرت علی کرم الله وجهه الکریم اور ایک یہودی شخص کے درمیان پیش آیا۔ حضرت علی کرم الله وجهه الکریم کی زرہ گم ہو گئی جو آپ نے ایک یہودی شخص کے پاس پائی تو آپ اس شخص کے ساتھ قاضی شریح رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا یہ میری زرہ ہے جو نہ میں نے بیچی ہے اور نہ ہبہ کی ہے،  تو حضرت قاضی شریح نے اس شخص سے پوچھا جو امیر المؤمنین فرما رہے ہیں اس پر تم کیا کہتے ہو ؟  تو اس شخص نے کہا یہ تو میری ہی زرہ ہے اور نہ ہی امیر المومنین میرے نزدیک جھوٹے ہیں۔ تو قاضی شریح رضی اللہ عنہ  حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا : اے امیر المؤمنین آپ کے پاس کوئی دلیل ہے ؟ تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم مسکراتے ہوئے فرماتے ہیں  کہ قاضی صاحب  میرے پاس کوئی واضح حجت نہیں ہے۔ تو قاضی شریح نے  فیصلہ اس یہودی شخص کے حق میں فرمادیا کہ زرہ اس یہودی شخص کی ہے۔ اس نے زرہ لی اور چلا گیا۔ کچھ ہی قدم چلا تھا کہ یہ کہتا ہوا واپس آیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ انبیاء کرام کے فیصلوں کے مطابق فیصلے ہیں۔ اے امیر المؤمنین مجھے قاضی کے قریب کردیں کہ وہ فیصلہ فرمائیں اور اس نے کلمئہ طیبہ پڑھا : لا إله إلا الله و أشهد أن محمدا عبده و رسوله, اور کہنے لگا : اے امیر المومنین!  اللہ کی قسم یہ آپ ہی کی زرہ ہے جو میں نے آپ کے اونٹ سے نکالی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : " أما إذا أسلمتَ فهي لك "  جب تو ایمان لے آیا تو اب یہ تیری ہے۔ [ سنن کبری : 20252 ]

اسلام میں اس طرح کا انصاف ہے کہ خود امیر المؤمنین قاضی اسلام کے سامنے اس یہودی شخص کے ساتھ فیصلہ کے لئے حاضر ہیں باوجود اس کے کہ آپ حق پر تھے اور پاور فل تھے اور قاضی بھی بینہ طلب کر رہے ہیں، اسی بات پر امیر المؤمنین  مسکرائے  بھی کہ  وہ حق پر ہیں مگر ان کے پاس کوئی بینہ نہیں ہے۔ کیونکہ وہ مدعی تھے اور حدیث پاک ہے : أن الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ. [ سنن ترمزی : 1342 ] یعنی دلیل مدعی پر اور قسم مدعیٰ علیہ پر ہے۔

يہ نرمی کا ہی معاملہ ہے کہ امیر اور رعایہ میں سے ایک یہودی کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ اور اس فیصلہ نے اس شخص کو متحیر کر دیا یہاں تک کہ ایمان لے آیا۔

جزیہ کی مشروعیت

اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے :

قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ  [ سورہ التوبة : 29 ]

ترجمہ: ‘‘لڑو ان سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور قیامت پر اور حرام نہیں مانتے اس چیز کو جس کو حرام کیا اللہ اور اس کے رسول نے اور سچے دین کے تابع نہیں ہوتے یعنی وہ جو کتاب دیے گئے جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں ذلیل ہوکر ’’۔

اس آیت کے تحت امام قرطبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :

قَالَ عُلَمَاؤُنَا رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ: وَالَّذِي دَلَّ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ أَنَّ الْجِزْيَةَ تُؤْخَذُ مِنَ الرِّجَالِ الْمُقَاتِلِينَ، لِأَنَّهُ تَعَالَى قَالَ: "قاتِلُوا الَّذِينَ" إِلَى قَوْلِهِ: "حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ" فيقتضي ذلك وجو بها عَلَى مَنْ يُقَاتِلُ. [ تفسیر قرطبی ]

یعنی ہمارے علماء کرام نے بیان فرمایا ہے : قرآن کی دلالت یہ ہے کہ جزیہ جنگ کرنے والوں سے لیا جائے گا ، کیونکہ آیت اُس پر جزیہ کے وجوب کا تقاضہ کرتی ہے جو جنگ کرے۔

تو کیا یہ ان پر سختی اور پریشانی میں ڈالنا اور  ان کی  حریت کو سلب کرنا اور طاقت سے زیادہ ٹیکس لینا ہے ؟

یا یہ اسلام کی وسیع رحمت ہے جو تمام عالمین کو شامل ہے کہ رب فرماتا ہے : { وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ } [ سوره الأنبياء : 107 ]

ترجمہ : ‘‘ہم نے نہ بھیجا مگر سارے جہان کے لئے رحمت بناکر’’۔

اسلام نے ذمیوں کی امن و سلامتی کے لئے کیا تنبیہات جاری فرمائی ہیں؟

ذمیوں سے ظلم و تکلیف کو دور کرنے کی قرآن پاک و احادیث مبارکہ اور سیرت صحابہ کرام میں کثیر مثالیں موجود ہیں۔

 اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :

لَّا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (سورہ ممتحنہ آیت ۸)

یعنی ‘‘اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین میں نہ لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہ نکالا کہ ان کے ساتھ احسان کرو اور ان سے انصاف کا برتاؤ برتو بیشک انصاف والے اللہ کو محبوب ہیں’’۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : " مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا " [صحيح البخاري : 3166 ]

یعنی ‘‘جس نے کسی ذمی کو ناحق قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائےگا اور بے شک جنت کی خوشبو چالیس سال کی راہ سے سونگھی جا سکتی ہے’’۔

رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " ألا من ظلم معاهدا، أو انتقصه، كلفه فوق طاقته، أخذ منه شيئاً بغير طيب نفس منه ، فأنا حجيجه يوم القيامة. " [ سنن أبو داؤد : 3052 , سنن كبرى : 18511 ]

خبردار ! جس کسی نے کسی عہد والے ( ذمی ) پر ظلم کیا یا اس کی تنقیص کی ( یعنی اس کے حق میں کمی کی ) یا اس کی ہمیت سے بڑھ کے اسے کسی بات کا مکلف کیا یا اس کی دلی رضا مندی کے بغیر کوئی چیز لی تو قیامت کے روز میں اس ذمی کو انصاف دلاؤں گا ۔ “

تشریع جزیہ میں حکمت

اسلام نے جزیہ مقرر کر کے غیر مسلموں کے ساتھ بھلائی کی ہے نہ یہ کہ ان کو یک بارگی اسلام میں داخل ہونے پر مجبور کیا ہے۔

صدر الافاضل حضرت علامہ نعیم الدین مرادآبادی تحریر فرماتے ہیں : حکمت جزیہ مقرر کرنے کی یہ ہے کہ کفار کو مہلت دی جائے تاکہ وہ اسلام کے محاسن اور دلائل کی قوت دیکھیں اور کتب قدیمہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر اور حضور کی نعت و صفت دیکھ کر مشرف بہ اسلام ہونے کا موقع پائیں۔ [ تفسیر خزائن العرفان , سورہ توبہ : 29]

اگر ذمی اسلام قبول کر لے تو وہ جزیہ بھی اس سے ساقط ہو جاتا ہے جیساکہ حضرت سفیان ثوری سے اس کی وضاحت معلوم کی گئی تو انہوں نے فرمایا:  "إِذَا أَسْلَمَ فَلَا جِزْيَةَ عَلَيْهِ " یعنی  جب کوئی شخص اسلام قبول کر لے تو اس پر جزیہ نہیں۔ [ سنن أبو داؤد : 3054 ]

قارئین حضرات !

مذکورہ حقائق سے یہ امر بدر منیر سے زیادہ روشن ہو گیا کہ اسلام نے اہل ذمہ کو جو حقوق فراہم کئے ہیں اس سے پہلے وہ متصور نہیں ہوتے اور اس کی مثال اسلام کے علاوہ کسی  طرف سے کسی بھی زمانہ میں نہیں ملتی۔

خلاصہ : اسلام ہی دینِ حق و عدل و رحمت ہے جس کے لطف وکرم  کے بادلوں سے ساری انسانیت سیراب ہو رہی ہے ۔ وہ مفتری جو تشریعِ جزیہ اور اسکے علاوہ دیگر تشریعات پر افتراء کرتے ہیں اسلام کے نصوص عادلہ و دلائل ساطعہ ان کذابوں کے ہر شک و شبہ کا مسکت جواب ہیں۔

 

Other Parts of the Articles:

Rebuttal of Wasim Rizvi on Doubts Concerning Verses of Jihad in Quran: Does Islam force Non-Muslims to Accept Islam? Part 1 ردِ وسیم نام نہاد در شبہاتِ آیاتِ جہاد: مذہب اسلام غیر مسلموں پر داخل اسلام ہونے کے لئے بلا وجہ جبر و اکراہ کرتا ہے ؟

URL:  https://www.newageislam.com/urdu-section/kamaal-mustafa-azhari/removing-doubts-concerning-verses-jihad-quran-jizya-islam-act-oppression-part-2-ازالہ-شبہات-در-آیاتِ-جہاد-کیا-اسلام-کا-جِزیہ-لینا-ذمیوں-پر-ظلم-و-ستم-ہے-؟/d/124782

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..