New Age Islam
Sat Apr 10 2021, 07:19 AM

Urdu Section ( 16 Nov 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

International Council for Islam بین الاقوامی کونسل برائے اسلام


راشد شاز۔دہلی

جنوری،2011

ہم جس دنیا میں سانس لے رہے ہیں اور وہ رات وجود میں آئی۔ ساتویں صدی عیسوی کے مدینتہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عالمی دارلحکومت کی دمشق منتقلی کے بعد، استنبول ،ایمسٹرڈم او رلندن کے بعد اب واشنگٹن ڈی سی کو دنیا کے دارالحکومت کی حیثیت حاصل ہے۔یہ ایک ایسی بدیہی حقیقت ہے جس سے آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں۔ گوکہ اس وقت عالمی سطح پر دوسرے اقوام و ملل بھی قوت کے میزانئے میں اپنا کچھ نہ کچھ وزن رکھتے ہیں مثلاً روس اور چین کو نظر انداز کیا جاناممکن نہیں او رنہ ہی فرانس ،برطانیہ اورجرمنی کی اقتصادی قوت سے یکسر صرف نظری ممکن ہے۔ دوسری طرف ہندوستان جیسی ابھرتی معیشت بھی اپنی سبقت کے لئے جدوجہد میں مصروف ہے۔ ایک طرف یورولینڈ کے ارتقاء نے جہاں ڈالر کے مقابلے میں ایک متبادل معیشت کا بگل بجا دیا ہے تو دوسری طرف دنیا میں اس حقیقت کا بھی اعتراف ہوتا رہا ہے کہ اکیسویں صدی کی دنیا کو متحرک رکھنے کے لئے ایندھن کے جو ذخائر شہہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں ان کا ایک خاصہ بڑا حصہ عالم اسلام میں پایا جاتاہے ۔کہا جاتاہے کہ ایندھن کے پچاس فیصد ذخائر صرف پانچ ممالک میں موجود ہیں گویا آنے والے دنوں میں دنیا عالم اسلام سے بے نیاز ہوکر مستقبل کا منصوبہ تشکیل نہیں دے سکتی ۔ بظاہر تو ایسا محسوس ہوتاہے کہ قوت کے جزیرے دنیاکے خطوں میں واقع ہیں لیکن عملاً واشنگٹن ڈی سی کو قوت کے ان تمام بکھرے جزیروں پر کنٹرول قائم ہوگیا ہے۔ گیارہ ستمبر کے بعد عالمی سطح پر جو اتھل پتھل ہوئی ہے اس نے اس حقیقت کو مزید منکشف کردیا ہے کہ سکورٹی کونسل کے دوسرے ممبران کی اہمیت کے باوجود دنیا میں عملاً فیصلہ کن حیثیت واشنگٹن ڈی سی کو حاصل ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس کے اعتراف کے بغیر صورت حال کی تبدیلی کے لئے اگر کوئی منصوبہ تشکیل دیا گیا تو اسے حقیقت پسندی سے اجتناب پر محمول کیا جائے گا۔

صورت حال کے اعتراف کے بعد اس حقیقت کا اعادہ بھی ضروری ہے کہ دنیا میں کوئی بھی صورت حال ایسی نہیں جس کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ہو،اورنہ ہی انسانی تاریخ میںکوئی قوت ناقابل تسخیررہی ہے۔ ہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خو ش فہمیوں سے بلندہوکر جذباتی طرزفکر سے کنارہ کشی کرتے ہوئے ایک حقیقت پسند اسٹریٹجی تشکیل دیں۔ افسوس کہ گیارہ ستمبر کے واقعے کو کوئی ساڑھے چار سال کا عرصہ گزرا ، امت مسلمہ جوان تمام ایام میں امریکی نشانے کی زد پر رہی ہے اب تک حقیقت حال کا اعتراف کرنے او رکسی عملی جدوجہد کامنصوبہ تشکیل دینے میں سہل پسندی سے کام لیتی رہی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ عراق میں امریکی مشن کا طول او رافغانستان میں کرزئی حکومت کی حدود کابل میںمحصور ی، فلسطین میں حماس کی کامیابی ،پاکستان میں دینی جماعتوں کا سیاسی عروج اورخود امریکہ میں بش انتظامیہ کے مسلسل گرتے گراف نے امریکی استعمار کے لئے خاصی دشواریاں پیدا کردی ہیں،لیکن اس کے باوجود اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ امریکی استعمار کی اس جزوی ہزیمت سے عنقریب امریکہ کے زوال کا راستہ ہموار ہوگیا ہے ۔ یا یہ کہ واشنگٹن ڈی سی کا سقوط چند دنوں کی بات ہے تو ایسا سوچنا خوش فہمیوں میں جینا ہوگا۔اس میں شبہ نہیں کہ ظلم جب حد سے بڑھ جائے تو کوئی بھی نظام زیادہ دنوں تک نہیں چل سکتا ۔لیکن امریکہ میں جس طرح بش حکومت کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں عراق کے مسئلے پر حکمران طائفے پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام لگ رہا ہے اور جس طرح خود امریکہ کے اندر اہل فکر سیاسی اور سماجی کارکن اور انسانی حقوق کے چھوٹے بڑے ادارے حریت فکر و عمل کو برقرار رکھنے کیلئے میدان میں آرہے ہیں اس نے امریکی نظام کے اندر اصلاح کے امکانات کو برقرار رکھا ہے ۔امریکی جمہوریت کی یہی وہ قوت ہے جو ظلم و استحصال کے پالیسیوں کے باوجود اسے زندگی جینے کا مزید موقع فراہم کرتی رہی ہے۔ او راگر اس سلسلے پر بش کا طائفہ یکسر روک لگانے میں ناکام  رہا تو فکر ونظر کی یہی آزادی ۔واشنگٹن ڈی سی کو مزید عالمی دارالحکومت کی حیثیت سے بر قرار رکھ سکے گی۔ سویت یونین کے زوال کے بعد ریاست سے وابستہ بعض امریکی دانشوروں اور پالیسی سازوں نے اسلام کو ایک نئے خطرے کی حیثیت سے پیش کیا ۔ ان کی اس ژولیدہ فکری کو مواد فراہم کرنے میں ان پرُجوش دینی تنظیموں ،انجمنوں نے اہم رول ادا کیا جو کبھی امریکی عزائم کے حلیف بن کر روس کے خلاف افغانستان میںسرگرم عمل تھے۔ اس میں شبہ نہیں کہ افغانستان کو سویت یونین کے قبضے سے بچانا اور سرخ انقلاب کی توسیع پسندی کو لگام دنیا اس وقت بیشتر مسلم ممالک بشمول پاکستان کی اپنی ضرورت تھی،تب امریکی امداد ان کے وقتی مقاصد سے ہم آہنگ تھی،البتہ سویت یونین کے انخلاء کے بعد جہادی تنظیمیں اس حقیقت کو فراموش کرگئیں کہ سویت یونین کی پسپائی میں ان کے زور بازو کے علاوہ دوسرے محرکات بھی کلیدی اہمیت کے حامل رہے ہیں ۔جہاد افغانستان کے دوران مافوق الفطری واقعات کا ہونا ،شہداء کی لاشوں سے متعلق کشف وکرامات کے واقعات او ران جیسی عوامی داستانوں نے ہمارے نوجوانو ں کو ذہنی طور پر ایک ایسی دنیا میں پناہ لینے پر مجبور کیا جہاں حقیقت پسندی کے بجائے رومانس کا جذبہ ہوتاہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جو لوگ ایک مشترکہ حکومت کی تشکیل پر متفق نہ ہوسکے او رجن کی قبائلی عصبیت یا گروہی وابستگی اسلام کے اجتماعی نفاذ پر غالب رہی وہ یہ خواب دیکھنے لگے کہ سویت یونین کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے بعد اب وہ دنیا کی واحد سپرپاور امریکہ کا بھی وہی حشر کرسکتے ہیں۔ مسلم نوجوانوں کی اس رومان پسندی نے ، جس میں حالات کے حقیقت پسندانہ تجزئیے کے بجائے جوش و جذبہ کو کہیں زیادہ دخل تھا۔ پوری امت کو ایک ایسے راستہ پر ڈال دیا جس کے سبب ہم بغیر کسی تیاری کے مغرب سے دو دو ہاتھ کرنے پر مجبور ہوگئے۔ جدید دنیا کی طرف اسلام پسندوں کے اس رومانی روئیے کے پیچھے بعض ایسی اساطیری داستانیں بھی سرگرم رہیں جن کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ لیکن جس نے ہمارے زوال کے عہد میں مسلم فکر میں اپنی جگہ بنا لی تھی۔

پندرھویں صدی کی ابتداء میں صدی کے پہلے دن جھیمان العتیبہ نے جب حرم مکہ کا محاصرہ کیا تو وہ اس خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ اس نئی صدی کا نیا سورج جس شخص کے ہاتھوں طلوع ہوگا اس کا تعلق اسی مہدی برحق کے طائفے سے ہے۔ یہ روایت کہ ہر صدی کے سرے پر اللہ کوئی مجدد پیدا کر ے گا فنی اعتبار سے بے اصل ہونے کے باوجود صدیوں سے ہمارے راسخ العقیدہ فکر کا حصہ بنی رہی ہے۔ایران میں خمینی کی قیادت میں صدیوں سے خوابیدہ شیعہ فکر ے احیاء نے بھی سنی مسلمانوں کے ذہن پرگہرے اثرات مرتب کئے ۔دنیا بھر سے اسلام پسند تنظیمیں جو جہاد افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے سرحدی شہروں میں جمع ہوگئیں تھیں اب نفسیاتی طور پر اپنے کو فاتح تصورکرتی او رنئی صدی میں اسلامی احیاء کے لئے کوئی ٹھوس اور حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کے بجائے اساطیری ماحول سے غذا حاصل کرتیں۔ طالبان کی حکمرانی کے بعد امیر المومنین جیسی اصطلاحوں کے استعمال سے اس رومانی لب و لہجہ کی تشکیل میں مزید مدد ملی۔ ایسا محسوس ہوا گویا بیسوی صدی کے آخری عشرے میں انصار و مہاجرین کا گروہ ایک بار پھر باطل سے نبرد آزما ہونے کے لئے نئی صدی کے ’’مدینہ‘‘ قندھار او راس کے اطراف میں جمع ہوگیاہے۔ نہ تو مسلم اہل فکر نے صحیح صورت حال کے ادراک کی ضرورت محسوس کی او رنہ ہی مہاجرین و انصار کو اس حقیقت سے آگاہی ہوسکی کہ وہ جس نظام کو شکست دینا چاہتے ہیں ان کے پاس مطلوبہ تیاری سرے سے ہے ہی نہیں ۔ طالبان رسوم دین داری کو اسلام سمجھ بیٹھے تھے۔ وہ حلقہ دیوبند کی جامد رسوم دین داری سے آگے سوچنے کی صلاحیت سے بے بہرہ تھے۔ خود اہل قبلہ کے دوسرے گروہوں کا ایمان ان کے لئے قابل اعتبار نہ تھا۔ Cultic Thinking کے حامل لوگ اگر اساطیری تو ہمات کا شکار ہوجائیں تو وہ اپنے غیر عقلی رویئے سے کسی بڑے حادثے کو تو جنم دے سکتے ہیں البتہ کسی نئی دنیا کی داغ بیل نہیں ڈال سکتے۔

گیارہ ستمبر کے واقعہ کو کوئی پانچ سال ہونے کو آرہے ہیں اب تک امت مسلمہ عوامی سطح پر ’’ بارکو خبار سنڈروم‘‘ سے باہر نہیں آسکی ہے۔کہا جاتا ہے کہ جب رومی گورنر کے ظلم و جبر سے تنگ آکر بار کوخبار نے مسلح بغاوت کا اعلان کیا تو اسے خاص وعام یہود کی ہمدردی حاصل ہوگئی۔ حالات سخت تھے او رعوام اس سے نجات کے طالب بھی۔ بارکوخبا کو عسکری لیاقت او راس کی سلیم الفکری پر تو شاید ہی کسی کو اعتبار تھا البتہ عوام تو عوام خواص بھی یہ سمجھتے تھے کہ رومیوں کو چیلنج دینے کا حوصلہ تو بہر حال اس میں ہے(ربانی اکیوا)جسے اہل یہود کے مذہبی فکر میں بڑی اہمیت حاصل ہے انہوں نے بھی بار کو خبا کو حمایت کا اعلان کردیا ۔ جوش وخروش کا یہ عالم تھاکہ بارکوخبا کی عسکری تیاری اور اس کی فکری لیاقت کو نظرانداز کرتے ہوئے اسے اس کا مسیحا تسلیم کرلیا گیا اور پوری یہودی قوم  اس کے پیچھے آگئی۔ ایک لمحے کو ایسا محسوس ہواکہ گویا یہود اپنا کھویا ہوا جاہ و حشم حاصل کرنے کی پوزیشن میں آگئے ہوں۔ لیکن کہا ں رومی حکومت کی منظم طاقت او رکہاں اہل یہود کے بے ہنگم گروہ او ران کی خالی خولی نعرہ بازیاں ۔بارکوخبا کو بغاوت اس طرح کچلی گئی کہ ایک طویل مدت تک کے لئے اہل یہود سخت مایوسی طاری ہوگئی۔ ابھی زیادہ دنوں کی بات نہیں جب فلسطین سے پشاور تک اور انڈونیشیا سے مراکش تک اسامہ بن لادن کی حمایت میں عوامی جو ش و جذبہ کا یہ عالم تھا گویا پوری مسلم قوم ان کی قیادت میں متحد ہوگئی ہو۔اساطیر ی ماحول حقیقت پسندی سے اجتناب کی راہ دکھاتے ہیں۔ یہ سب وقتی طور پرکسی بارکوخبا، کسی، سباطائی زی وی ،کسی جھیمان العتیبہ اور کسی بن لادن کو تو پیدا کرسکتے ہیں البتہ اس سے اساطیر ی جوش و جذبات پر ابھرنے والی تحریکوں سے انسانی تاریخ میں کبھی بھی کوئی نئی دنیا پیدا نہیں کی جاسکتی ہے۔

ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ بن لادن یا دوسرے جہادی گروہ موجود ہ عالمی نظام کی جن نا انصافیوں کو نشانہ تنقید بناتے ہیں یا صورت حال کی اصلاح کا جو داعیہ انہیں سرگرم رکھتاہے انہیں عقلی یا مذہبی بنیادوں پر مسترد کیا جاسکتاہے ۔البتہ وہ جس طرح دنیا کو تبدیل کرناچاہتے ہیں اس سے صاف لگتا ہے کہ انہیں جدید دنیا کی واقعی تفہیم حاصل نہیں ہے ۔ نظری اعتبارسے بھی وہ اسلام کی ان جامد تعبیرات کے اسیر بن کر رہ گئے ہیں، جسے استعماری عہد کی پیداوار کہا جاسکتاہے ۔ جہاں ہمارے اہل فکر نے اسلام کو صرف مدافعت کی زبان میں سمجھنے او رسمجھانے کی کوشش کی ہے۔

صبح کل آئے گی

مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے واشنگٹن ڈی سی کے سفر تک کوئی چودہ صدیوں کا عرصہ گزرا ہے البتہ ضروری نہیں کہ اس پورے تاریخی سفر کی بساط لپیٹنے کے لئے بھی اتنی ہی مدت درکار ہو۔ اگر ہم ان عوامل کی نشاندہی میںکامیاب ہوگئے جس نے کُل ساتویں صدی عیسوی کے مدینہ کو عالمی دارالحکومت میں تبدیل کردیا تھا، تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک بار پھر دنیا کے سیاہ وسفید کے فیصلے ان کے ہاتھوں میں آجائیںجو نظری طور پر خود کو آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سمجھتے ہیں۔ البتہ ان عوامل کی نشاندہی میں صرف مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانی ومکانی مطالعہ کافی نہ ہوگا کہ ایسا کرنا ہوسکتا ہے کہ ہمیں تاریخ پر غیر معمولی انحصار پر مجبور کرے بلکہ اس سے بھی کہیں آگے بڑھ کر وحی ربانی کی روشنی میں ہمیں ان عوامل کی نشاندہی کرنی ہوگی جسے قرآن نے سیادت پر مامور قوموں کا وصف بتایا ہے۔ پھر تکملہ کے طور پر اس بات کا جائزہ لینا مناسب ہوگا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آج اکیسویں صدی کی ابتداء میں بوجوہ واشنگٹن ڈی سی کو عالمی منظر نامے میں کلیدی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ گویا نئی دنیا کی تفہیم کے بغیر وحی ربانی کی حامل امت سیادت عالم کے فریضہ منصبی کا کما حقہ حق ادا نہیں کرسکتی ۔نئے منصوبے پر کام کی ابتداء کے لئے ایک نئے مسلم ذہن کی تشکیل پہلا مرحلہ ہوگا۔ وحی ربانی کے از سر نو مطالعے سے ہمیں بعض ان معتقدات کو جو کثرت تکرار سے کلیشے بن گئے ہیں نئے فکری ڈھانچے میں نئی معنویت عطا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مختصراً میں چند نکات کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفاء کرتا ہوں۔

1۔قرآن مجید وحی ربانی کا آخری غیر محرف وثیقہ ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی کوئی نظیر اس دنیا میں موجود نہیں ۔اس کا مطالبہ ہے کہ انسانی ذہن غور وفکر ،تدبر وتفکر کے سلسلے کو جاری رکھے ۔گویا قرآن مجید کی مرکزی اور کلیدی اہمیت کو کسی تاریخی ، تفسیری ،تعبیری ادب کے تابع نہ کیا جائے۔

2۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین ایک ایسی عالمگیر دعوت کے امین ہیں جس میں ابراہیم و اسمٰعیل ،اسحٰق و یعقوب ،موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام اور تمام سچے انبیاء کی جدوجہد کا ارتکازپایا جاتا ہے۔ اس عالمگیر دعوت و دین محمد ی صلی اللہ علیہ وسلم پر محمول کرنا رسول اللہ کی عظمت کی سچی تعبیر نہیں ہوسکتی ۔رحمۃ اللعالمین اور بشیر اُونذیر ا کے متبعین کو چاہئے کہ وہ محض اپنی قوم کی فلاح وبہبود کے بجائے پوری انسانیت کی دادرسی کا عملی مظاہرہ کریں۔ اس کے برعکس اگر متبعین محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف اپنے قومی افتخار کی بلندی یا امت محمد یہ کی فلاح وبہبود میں مصروف ہوگئے تو ایسا کرنا اس عظیم تر انسانی مشن سے انحراف ہوگا۔

3۔قرآن مجید میں عربی مبین میں نازل ہوا ہے۔ ایک ایسے صاف ستھرے شفاف اسلوب کو اختیار کرنے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ترسیل کی سطح پریہاں کسی ابہام کی گنجائش نہیں رکھی گئی ہے۔ اس لئے محض زبان اور ثقافت کی وجہ سے ایک عالمی کتاب پر اہل عرب کی اجارہ داری کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا۔ مختصراً یہ کہ اسلام کی صحرائی اٹھان کے باوجود عرب ثقافت اس کا جزولانیفک نہیں ہے جسے آسمانی پیغام کی طرح تقدس حاصل ہو۔ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم کی صدائے عام اس بات سے عبارت ہے کہ مستقبل کا اسلامی معاشرہ عرب و عجم ،سیاہ و سفید ،نسب ورنگ کے امتیازات سے بالاتر ہوگا۔ نہ کسی عربی کو عجمی پرفضیلت ہوگی او رنہ ہی کسی خاص ثقافت کو اسلام کا اصل الاصل قالب گردانا جائے گا۔

4۔آخری وحی کے حاملین کی حیثیت سے مستقبل کی انسانی تاریخ میں متبعین محمد کی کلیدی اہمیت مسلم ہے البتہ نوع انسانی کی قیادت کا یہ کام مسلمان تن تنہا انجام دے سکتے اور نہ ہی وہ اس کے لئے مکلف ہیں۔ ایک عالمی نظام کی تشکیل میں کلمتہ سواء کی بنیاد پر دوسری اہل ایمان قوموں کی شرکت کی دعوت ہمارے مقصد کے حصول کو آسان کردے گی۔ ماضی میں اسی وسعت قلبی نے ہمیں نا قابل تسخیر Phenomenon میں تبدیل کردیا تھا۔

5۔دین اسلام کی یہ تعبیر کہ اہل حق کے دوسرے طائفوں پر نجات کے دروازے بند ہیں او ریہ کہ اس قسم کی بشارت پر مشتمل قرآنی آیات منسوخ یا مول ہیں ایسی تعبیر یں ہیں جنہیں حتمی صداقت کے طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا ۔کلمۃ سواء کی بنیاد پر اہل حق کے طائفوں کو مجتمع کرنے میں یہ تعبیر یں،جو اپنا خاص ثقافتی اور سماجی پس منظر رکھتی ہیں، مسلسل مزاحم ہوتی رہی ہیں ۔عالمی نظام انصاف کی قیادت کے لئے مسلمانوں کو از سر نو اسی وسیع القلبی کامظاہرہ کرناہوگا جس کا قرآن داعی ہے۔

6۔بعض ثقافتی، تاریخی او رسیاسی عوامل کے سبب مسلم معاشرے میں عورت کے سماجی رول کی نفی کی جاتی رہی ہے ۔احکام حجاب ثقافت کا تابع کردینے کی وجہ سے مسلم معاشرے کی آدھی قوت صدیوں سے کالعدم ہے۔ مختلف زمانوں میں فقہائے اسلام نے عورت کو دائرہ کار کے تعین اور حجاب سے متعلق جو رہنما خطوط تشکیل دیئے ہیں اسے وحی کی لازوال تعبیر کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا، کہ بسا اوقات یہ تعبیر یں عہد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی سے متصادم نظر آتی ہیں۔ عالمی سطح پر ایک پاکیزہ اسلامی معاشرے کا قیام عورتوں کو ان کے قرآنی حقوق کو لوٹا ئے بغیر ممکن نہ ہوگا۔

7۔قرآن مجید رہتی دنیا تک کے لئے ہدایت ہے۔قرآن مجید کا یہ دعو یٰ کہ وہ کتاب مفصل ہے،کسی لمبی چوڑی تشریح و تعبیر کے امکان کی نفی کرتاہے۔ اللہ و قادرمطلق ہے وہ یقینا بندوں کے مقابلے میں اظہار پرکہیں زیادہ قادر ہے پھر کوئی وجہ نہیں کہ فہم قرآن میں تفسیر ی اور تعبیری ادب کو کلیدی اہمیت کا حامل سمجھا جائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ شان نزول کی غیر معتبر روایات میں وحی کے معانی کی مقید کرنے کے بجائے قرآن مجید کو عصر حاضر کی وحی کے طور پر پڑھا جائے۔ بیان للناس کا قرآنی دعویٰ ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اسے کتاب ہدایت کی حیثیت سے پڑھنے او ربرتنے کا حوصلہ پیدا کرے ۔ ایسا کرنا قرآن کی بنیاد پر ایک ہمہ گیر عوامی تحریک کو جنم دینے کا موجب ہوگا۔

8۔ اسلام جس نظام عدل ،اخوت او رمساوات کا علم بردار ہے اس کی عملی تعبیر ایک فضا میں ہی ہوسکتی ہے جہاں انسان اور اللہ کے مابین کوئی انسانی ادارہ یا کسی مذہبی پیشوا ئی کو کوئی دخل نہ ہو۔ علم او راہل علم کی اہمیت اپنی جگہ مسلم۔ اہل علم سے اکتساب تو کیا جاسکتا ہے البتہ نہیں Religious Authority کی حیثیت نہیں دی جاسکتی ۔قرآن جس حریت فکر کا داعی ہے اور رسول  ویضع عنھم اصر ھم و الا غلل التی کانث علیھم کے جس فریضہ منصبی پرمامور بتایا گیا ہے، اس کا تقاضہ ہے کہ مسلم ذہن مشائخ پرستی سے آزاد ہوکر لوجہ اللہ ایک نئی ابتداء کا اہتمام کرے۔ عین ممکن ہے کہ نئی ابتداء کے اہتمام میں متبعین محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض فکر ی او رعملی لغزشوں کا صدور بھی ہو۔ انسانوں سے ایسی توقع غیر فطری نہیں ۔ لیکن قرآن مجید کا بار بار تدبروتفکر او رتعقل پر اصرار ہم سے اس بات کا طالب ہے کہ ہم سلف صالحین کی فہم کو حرف آخر سمجھنے اور ان کی  تعبیری غلطیوں کو اپنے کندھوں پر ڈھونے کے بجائے اپنی غلطیوں کی طرح ڈالیں ۔سلف صالحین جن کی لغزشوں کو بوجوہ تقدس کا مقام حاصل ہوگیا اس کے مقابلے میں عصر حاضر کے انسانوں کی لغزشوں کا محاکمہ او ران کی اصلاح کا کام نسبتاً آسان ہوگا۔

یہ وہ چند بنیادی نکات ہیں جن کے سرسری تذکرے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ دنیا کی صورت حال میں ایک انقلابی تبدیلی کے لئے نئے مسلم ذہن کی تشکیل کوکلیدی اہمیت حاصل ہونی چاہئے۔ ہمیں اس حقیقت کا اعتراف بھی ہونا چاہئے کہ نئے ذہن کی تشکیل کے لئے تیرہ صدیوں پر مشتمل تعبیری ادب میں بنابنا یا فکری سرمایہ خاصہ کم ہے۔ روایتی طرز جو قرآن کے بجائے اساطیری ماحول سے غذا حاصل کرتی ہے نسلاً بعد نسل ایک مصنف سے دوسرے مصنف کی کتابوں میں نقل ہوتے رہنے کے سبب راسخ العقیدہ فکر کی ترجمان بن گئی ہے۔ ایسی صورت میں قرآن مجید کواصل الاصل تناظر میں پڑھنے کی دعوت ایک ہمہ گیر علمی تحریک برپا کئے بغیر موثر نہ ہوسکے گی۔ ماضی میں بعض اصحاب نے روایتی ذہن پر ضرب لگانے کے لئے جو فکری کوششیں کی ہیں امت میں قبول عام نہ مل سکا ۔ ایسی تحریریں تفردات قرار دے کر لائبریریوں کی زینت بنادی گئیں۔ عصر حاضر کے شارحین کے لئے لازم ہوگا کہ وہ علمی تفردات میں اضافے کے بجائے قرآن مجید کوعلمی رہنمائی کا مرکز بنائیں۔خاص علمی مباحثے اور تفردات کی نکتہ آفرینی کے بجائے قرآن مجید کو ایک ایسی عام فہم کتاب کے طور پر پڑھنے کی کوشش کی جائے جو متبعین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں تمام انسانیت کو مژدہ جانفزاسناتی ہو۔

ایک نئے قرآنی تصور حیات کی تشکیل ،جس کی بنیاد پرکوئی غلغلہ انگیز عالمگیر تحریک اٹھائی جاسکتی ہو، گہرے اور سنجیدہ غور و فکر کے ساتھ ہی ہمہ جہت منصوبہ بندی کی بھی طالب ہے۔ لازم ہے کہ ہمارے بہترین دماغ، جنہیں بیک وقت جدید دنیا کی تفہیم بھی حاصل ہو او رجو قرآن مجید او راسو ہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کلیدی اہمیت سے آشنا ہوں، اپنی بہترین صلاحیتیں اس مقصد کے لئے صرف کردیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس سلسلے میں اب تک جو کچھ لکھا گیا ہے اس نے عرب و عجم او رمشرق و مغرب میں خاصے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ مختلف زبانوں کے کوئی تین چار سو اعلیٰ دماغ اہل قلم بھی ہمارے رابطے میں آئے ہیں جو ایک نئی ابتداء کی ضرورت کا شدید احساس رکھتے ہیں۔ گزشتہ سات آٹھ برسوں کی قلمی اور فکری کاو شوں کے بعد شاید اب وقت آگیا ہے کہ ایک عالمگیر منصو بے او رغلغلہ انگیز علمی تحریک کے لئے مشترکہ جدوجہد کا ڈول ڈالا جائے۔ماضی میں بعض احباب کی طرف سے گاہے بہ گاہے اس خیال کا اظہار بھی ہوتا رہا ہے کہ نئے مسلم ذہن کی تشکیل کے لئے ایک ایسی دانش گاہ کا قیام بنیادی اہمیت کا حامل ہے جہاں قرآنی دائرہ فکر میں جدید دنیا کے لئے اصحاب فن پیداکئے جاسکیں ۔ یہ فی نفسہ اتنا بڑا کام ہے کہ اس کے بطن سے عالم اسلام کے لئے ایک نئی صبح طلوع ہوسکتی ہے ۔البتہ کسی ایسی دانش گاہ کے قیام سے پہلے ہمیں ماضی کی ان تجربات کو بھی اپنی نگاہوں میں مستحضر رکھنا ہوگا کہ آخر کیا وجہ تھی کہ علی گڑھ او ردیوبند کے امتزاج کی جو کوشش ندوۃ العلماء کے قیام کا سبب بنی، وہ کسی نئی ابتداء کے بجائے پرانے طرز فکر کا تو سیعہ بن کر رہ گئی اورشبلی نعمانی کو بالآخر پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

گزشتہ دنوں طالبان کے افغانستان پر امریکی فضائی حملوں کے درمیان باربار یہ خیال کچو کے لگاتار ہا کہ جب تک ہمارے اعلیٰ اصحاب علم و فن کو اسلام کی دانش گاہیں B52 بمبار طیارے کا جواب فراہم نہیں کرتیں ،مغرب کے مقابلے میں ہزیمت او رپسپائی ہمارا مقدررہے گی۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں علوم وفنون پر مغرب کو واضح برتری حاصل ہے ، ایک امکانی رویہ تو یہ ہوسکتا ہے کہ ہم علوم وفنون او رسائنسی ایجادات و اختراعات میں مغرب سے آگے نکلنے کی کوشش کریں۔ اس کے علاوہ ایک دوسرا عملی رویہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ علوم وفنون کی حامل قوموں کو اسلام کے عالمگیر مشن کیلئے مسخر کیا جائے۔ اسلام کی آفاقی دعوت کا اصل جو ہر تو آخر یہی ہے کہ وہ اپنے سخت ترین دشمنوں کے لئے مزدۂ جانفزا بن جاتاہے۔ عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آفاقی اسلام کی اس دعوت نے مختلف قوموں کو ایک امت پر مامور کردیا تھا۔ پھرکوئی وجہ نہیں کہ آج مغرب کے پالیسی ساز اداروں او رمفکرین کو اسلام کی آفاقی دعوت اپنے اصل الاصل قالب میں متوجہ نہ کرسکے۔ سقوط بغداد کے بعد ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا اسلام او رمسلمانوں پر اب کبھی صبح نہ آئے گی۔ لیکن وہی لوگ جو عباسی حکومت کی تاراجی کا سبب بنے تھے آنے والی صدیوں میں اسلام کے محافظ و نقیب بن گئے عجب نہیں کہ آج ایک آفاقی اور پیمبر انہ لب و لہجہ کی تشکیل مغرب کے ایوانوں کو بھی اس صورت حال سے دوچار کردے۔ اتنے بڑے چیلنج کے مقابلے کیلئے عالمی معیار کی ایک یونیورسٹی کا قیام اس منصو بے کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہوسکتاہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سنجیدہ غور وفکر کے بعد خود اعتماد بھی اور خدا اعتمادی کے ساتھ آگے قدم بڑھائیں ۔

جنوری ،2011،بشکریہ : صوت الحق، کراچی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/rashid-shaz/international-council-for-islam-بین-الاقوامی-کونسل-برائے-اسلام/d/123486


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..