New Age Islam
Mon Sep 27 2021, 10:06 PM

Urdu Section ( 24 Oct 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Requirement of Muslim Unity اتحاد بین المسلمین کی ضرورت

 

راشد سمناکے، نیو ایج اسلام

26 نومبر، 2011

(انگریزی سے ترجمہ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)

یہ مسلمانوں کے مذہبی "جوش و جذبہ" کا موسم ہے۔

مسلمانوں کا ایک طبقہ  فرقہ وارارنہ تقسیم کی دوسرے کنارے پر  اپنے شہروں کی گلیوں میں اور عبادت خانوں  میں اگلے چند دنوں کے دوران اپنے  زبردست غم  کا اظہار کرے گا؛   عراق کے شہر کربلا میں اس واقعہ کی یاد میں جو چودہ صدیوں قبل  ہوا تھا اور جس کا  خاتمہ آخری نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے  ناتی  اور پرناتی  کی  مسلمان فوج کے ہاتھوں ہی  شہادت   کے طور پر ہوا تھا اور جو  ریاست کی طاقت اور عظمت کے لئے  مقابلہ کر رہے تھے۔

اس جزبہ کے متوازی  ہی عیسائی مذہب میں بھی  دو ہزار سال پہلے ہوئے واقعہ  کو  اسی طرح ایسٹر کے طور پر  یہودیوں   کی عید کے دن   منایا جاتا ہے۔

 تاہم  یہ مماثلت دو اہم پہلوؤں پر ختم ہوجاتی  ہے۔ اوّل جس سنجیدگی کے ساتھ چرچ کے لوگ ایسٹر کے دوران خود کو دوسرے لوگوں کے مقابلے  منظم کرتے ہیں،  اور دوسرے  خاص طور سے گاسپل آف مارک  میں اس واقعہ  کی درستگی اور  بائبل میں  یہودی  عقائد کے علما کرام کے ذریعہ  مذہبی اور  تاریخی اعتبار سے اس پر    سوال کھڑے کئے جاتے ہیں، اس کے  بجائے کہ یہ ایک ممنوع موضوع کے طور پر تصور کیا جائے دوسروں کی طرف سے اس کی معقولیت پر سوال کئے جاتے ہیں۔

اس تناظر میں یہ یاد رکھنا ضروری  ہے  کہ  بائبل چند منتخب گاسپل  کا مجموعہ ہے، جو عیسیٰ  علیہ السلام  کے انتقال کے طویل عرصے کے بعد مرتب کیا گیا تھا۔یہاں تک کہ  بائبل میں  آپ کے بہت سے  شاگرد آپ سے  اس  وقت اور مقام  پر  الگ ہو گئے تھے۔

اس کے علاوہ، یہ بھی قابل غور ہے  کہ کیتھولک چرچ نے بعد میں  عیسیٰ مسیح کے صلیب پر چڑھانے  سے منسلک احساس جرم سے یہودیوں کو  بری کیا۔  اس طرح یہ  آج کے تنا ظر میں  کئی سوالات کو پیدا کرتا ہے؛ جیسے کہ  کیا حضرت عیسی علیہ السلام یہ جانتے ہوئے  بھی یروشلم گئے کہ ان کے ساتھ  ان کے دشمن کیا سلوک کرنے والے ہیں۔؟

 کیا آپ کے دشمن  یہودی یا رومی یا دونوں تھے؟

کیا  آپ کو دی گئی اذیت کو    مذہبی اور  سیاسی  اعتبار سے ترغیب حاصل تھی؟ وغیرہ وغیرہ

مسلمانوں، محرم کی کہانی اور حضرت امام حسین  رضی اللہ  عنہ  کو لے کر جذبہ کے  تناظر میں کیا کوئی اس پر غیر جانبداری، عقل کے مطابق اور  تاریخی طور پر مسلمانوں کے دو اہم فرقوں میں  قرآن کے تناظر میں  بات چیت یا سوال کر سکتا ہے؟ غلطی سے جنہیں 'اسلام' کا شیعہ اور سنی فرقہ  کہہ  کر  بلایا جاتا ہے!

غلطی سے کیونکہ اسلام اپنا ضابطہ  قرآن سے حاصل کرتا ہے اور قرآن کی آیت   6:160 کہتی ہے: وہ لوگ جو اپنے (دین) مذہب کو  تقسیم کریں گے اور فرقہ بن گئے ہیں ، تو آپ  (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں: ان کے معاملات صرف  اللہ کے ساتھ ہیں۔ آخرت میں وہ ان کو بتا دیگا کہ  انہوں نے کیا کیا تھا۔ (دیکھیں، دی قرآن،  انگرزی میں ترجمہ  جے ایم راڈ ول  کے ذریعہ  ISBN 10 1-8421-2609-1 ، دی اورینٹل انسٹی ٹیوٹ، آکسفورڈ)۔

لہذا اوپر دی گئی  آیت کے حوالے سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تقسیم کے دونوں اطراف کے  مسلمان دانشوروں اور علماء کرام کے درمیان بھی صلاحیت ہے کہ کھلے ذہن کے ساتھ با معنی بات چیت کر سکیں؟ اور کیا اس  آیت کے ساتھ ساتھ دوسری ملتی جلتی آیات  ایک متحدہ طبقہ پر زور دیتی ہیں، جو دشمنوں  کے ہاتھوں گھرے  ہونے کے  خطرات کا سامنا کر سکے؟ اور کیا صدیوں  سے موجود  سخت مذہبی  تقسیم ، جو ہمارے درمیان ہے  وہ  اس طبقہ  کو تباہی کی جانب لے جاتا ہے یا نہیں؟

آئیے   مندرجہ ذیل پر اس ایک کتاب کی روشنی میں  غور کریں جو ہمیں آپس میں متحد کرتی ہے۔

یہاں پر اس کتاب کے حوالہ جات کو دینا  غیر ضروری سمجھا جا رہا  ہے، کیونکہ  اس فورم کے  لوگوں کو اچھی طرح سے علم ہے کہ کتاب کیا کہتی  ہے۔

1 -  کسی معاملے کو ایک حقیقت  کے طور پر قبول کرنے سے  قبل اس کی  اچھی طرح تحقیقات کر لیں۔

2 – کسی نتیجہ پر پہنچنے سے قبل  "غور کریں" اور " عقل " کا استعمال کریں۔

3 - ایک شخص کے نیک اعمال ہی صرف اس کی  خوبی ہے، اور اس کا فیصلہ خدا کرنے والا ہے۔

4 – کسی کا سلسلہ نسب  اس کی خوبی نہیں،  اور  خواص کا محدود طبقہ حق حکمرانی رکھتا ہے ، یہ نظریہ  درست نہیں ہے۔

5 -  مسلمانوں کا ابتدائی اور پہلا بیچ ایک دوسرے کا دشمن تھا، لیکن حصول  ایمان کے بعد   یہ محبت سے بھر گئے اور  ان کے دل اتحاد میں آپس میں مل گئے۔

6 - ایک بے گناہ کی جان لینا نسل کشی کے مترادف  ہے اور ایک شخص کی جان بچانا  پوری قوم  کی جان بچانے  کے برابر ہے۔

 مندرجہ بالا کی روشنی میں،  کیا کوئی یہ نہیں پوچھ سکتا ہے کہ:

• مسلمانوں کے  لئے یہ  کس طرح ممکن تھا کہ انہوں نے  اپنے بہت سے  ساتھی مسلمانوں کا قتل کیا؟

• کیا مسلمانوں کی ابتدائی تاریخ میں   اتنے مسلمان تھے کہ انہیں قتل کیا جا سکے؟

• وہ اگر  جنگ کرنے  اور ایک دوسروں کو قتل کرنے میں  مصروف  تھے تو ان کے لئے  یہ کس طرح ممکن تھا کہ   پہلی صدی کے اندر اندر معلوم دنیا کے  مشرق سے مغرب تک  پھیل گئے؟

اس حقیقت کے باوجود  کہ خدا کے رسولوں میں  حضرت عیسی علیہ السلام عرب کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پانچ صدیوں قبل  اس دنیا میں آئے تھے۔  کیا ہمیں  ان واقعات پر غور کرنے کے لئے  مزید  پانچ صدیوں تک  اور انتظار کرنا ہو گا؟

لہذا ہمیں اپنے  ذہنوں کو  دانشورانہ  تحقیق  کے لئے کھولنے کی ضرورت ہے : -

"جوش، جذبہ"، جیسا کہ ایک لغت میں دیا گیا ہے، اس کے  معنی اس  اس طرح ہیں -  شدید  احساس یا دماغی ہل چل خاص طور سے اکثر غیظ و غضب،  دکھ اور  بے پناہ  محبت کی کیفیت میں ۔

اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں  محرم الحرام کے ماہ میں  شیعہ مسلمانوں کے اس  جزبہ کو  تسلیم کرنا چاہئے۔  کربلا کے جزبہ سے عاری ہونا اور   جذبات  سے ماورا ہوجانا ایسا ہے جیسا  کہ ایک عام آدمی سے ناممکن  کام کو کرنے کے لئے کہنا ہے لیکن  اس شخص کے لئے مشکل نہیں جو تحقیق  پر امادہ ہو ، وہ چاہے  شیعہ ہو یا سنیّ ہو۔

"عاقل"، شعور والا:  عقل کے لئے  وقف: سمجھدار: ذہین، منصفانہ وغیرہ۔   غور و فکر کی یہ وصف انسانیت پر خدا نے ظاہر کی ہے  اور  انسانوں  کے ذریعہ  اس کا استعمال قرآن کی ضرورت ہے، اس کا ذکر قرآن کی کئی آیات میں آیا ہے جیسے کہ  آیت 34: 45 جس میں ہمارے درمیان غور و فکر کی تعریف کی گئی ہے۔

ارسطو نے بھی  کہا ہے کہ --- میں  یقین نہیں کر سکتا ہوں کہ جس نے مجھے عقل  دی ہے، وہ یہ نہیں چاہے گا کہ میں اس کا استعمال  نہ کروں۔

تاریخ: اس کے معنی کی دیگر طویل فہرست کے ساتھ ساتھ کچھ اہم اس طرح ہیں: واقعات کی ایک منظم تحریر: ماضی کے واقعات کا علم: واردات سے پر  زندگی:  وغیرہ

ماضی  میں  محرم کی10ویں تاریخ کے واقعات میں ہم لوگوں کی نمایاں طور پر دلچسپی ہے اور  پورا مسلمان طبقہ  ظاہرہ طور پر  ضابطے کی ایک کتاب  قرآن  پر عمل کر رہا ہے، اس کے باوجود   عملی طور پر مختلف ہے اور جو  سخت  تقسیم   پیدا کر رہا ہے اور جو تقریباً  چودہ صدیوں  کے بعد بھی آپس میں ملائے نہیں  جا سکے ہیں، آیت 30:31 : وہ لوگ جو اپنے (دین) مذہب کو  تقسیم کریں گے اور فرقہ بن گئے ہیں، جہاں ہر جماعت جو ان کا اپنا ہے ،  اس بات پر  خوش ہوتی ہے۔  (یہ انگریزی زبان کی حد کہ   وہ  مذہب کو اسلامی ضابطے کے برابر رکھتی ہے اور  ہم سب اس کے مجرم ہیں!)

ایک قوم  کے طور پر ہم "جذبہ " کے اس موسم میں خوشی نہیں منا رہے ہوں گے، اس کے باوجود وہ کتاب جو ہمیں  تقسیم نہ ہونے  کی ہدایت دیتی ہے ساتھ ہی یہ بھی توقع  کرتی ہے کہ ہم تاریخ کے واقعات  پر غور و فکر کریں اور  حضرت امام  حسین کی  واقعات سے پر زندگی کا  منظم طریقے سے   تجزیہ  کریں اور  جو ہمیں یقین ہے کہ اس مسئلے کے بنیادی موضوع ہیں، اور ہمارے  مذاہب، ان کے  خیالات، ان کے گرجا گھروں اور ان کے پادریوں نے  دوسری طرف کے لوگوں تک پہنچنے کے لئے پل کی تعمیر نو میں  رکاوٹ پیدا  کیا ہے!

منطقی طور پر اس وجہ سے، یہ یقین کرنا  مشکل ہےکہ اپنے بڑے بھائی  کےساتھ  حضرت  امام حسین رضی اللہ عنہ، جن کا بچپن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں کھیلتے ہوئے گزرا  اور جن کی پرورش  حضرت علی کرم اللہ وجہہ  نے کی  اور انہوں نے شاید ہی  اس داغ  کی کبھی خواہش کی ہوگی جو  اپنے ہی لوگوں کے درمیان  تباہ کن تقسیم کی وجہ  ہوگا۔  کیا یہ پوچھنا مناسب  نہیں ہے:

کئی سال پہلے بڑے بھائی نے  اسی طرح کی صورت حال میں اپنے  چھوٹے بھائی کے مقابلے اتنے مختلف رد عمل کا  اظہار کیوں کیا؟ لہذا،   حضرت امام حسن کے کردار  پر سوال کیا جانا چاہئے جو  وقت میں اپنے نانا کے قریب تھے۔

ہمیں  مذہبی تاریخ پر  بھی سوال کرنا  ضروری ہے جسے ہمیشہ  ذاتی مفادات کے زیر اثر لکھا جاتا  ہے اور اکثر اس جذبہ کے  مفادات کی حفاظت کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔

اگر اسلام میں مذہبی خیالات کی تعمیر نو میں  شعور کے  لئے  کوئی بھی جگہ ہے ، تو ہمیں بصیرت والے  شاعر اقبال پر توجہ دینی چاہئے، جنہوں نے مسلمانوں کے 'مذہب' کے لئے  بھائی چارے کا اسلام اور  قرآن کا مومن  طبقہ  دو الگ الگ الفاظ کا استعمال کیا اور اس کی تعمیر نو کی تجویز پیش کی، شاید بہت ہی سخت انداز میں  اور  اس وجہ سے اس پر عمل کرنا  بھی بہت مشکل ہے۔

انہوں نے اسے  اپنی نظم  جمعيت اقوام مشرق میں ایک خواہش کا اظہار کرتے ہوئے اس طرح مختصراً بیان کیا ہے:

طہران ہو گر عالم مشرق کا جنيوا

 شايد کرہ ارض کی تقدير بدل جائے!

ان کے لئے کتنی خوشی کی بات ہے کہ  کسی بھی جغرافیائی طور پر  مسلمانوں کے مذہبی مرکز کا نام اس نظم میں شامل  نہیں  ہے۔ یا یہ جان بوجھ کر فکر انگیز اور ان کی طرف سے  اکسانے والی لائن  ہے تاکہ ہم  اس پر غور و فکر کریں؟

راشد سمناکے ہندوستانی نژاد انجینئر (ریٹائرڈ) ہیں اور چالیس سالوں سے آسٹریلیا میں مقیم ہیں اور نیو ایج اسلام کے لئے باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-society/requirement-of-muslim-unity--reflections-of-a-concerned-muslim-on-the-eve-of-moharram/d/6006

URL for this article:

 http://www.newageislam.com/urdu-section/rashid-samnakay,-newageislam.com/requirement-of-muslim-unity-اتحاد-بین-المسلمین-کی-ضرورت/d/9102

 

Loading..

Loading..