New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 06:54 PM

Urdu Section ( 15 Oct 2012, NewAgeIslam.Com)

Religious Posts in the Quranic Islam: Are They Right? قرآنی اسلام میں مذہبی عہدے: کیا یہ جائز ہے؟

 

راشد سمناکے، نیو ایج اسلام

3فروری، 2012

(انگریزی سے ترجمہ‑ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)

بہت سیےغیر سنجیدہ فلسفیانہ بیانات ہیں جو  کنفیوشیس کے نام پر بنائے گئے ہیں اور جن کی  شروعات اس طرح ہوتی ہے "کنفیوشیس نے کہا ہے کہ ..." اس موضوع سے متعلق بیان یہ  ہے کہ  کنفیوشیس نے کہا ہے کہ "جو دوسروںکے لئے گڈھا  بناتا ہے خود اس میں گرتا ہے! (ٹوریٹس سنڈروم/ Tic)

کیا مسلمانوں کی آنکھوں میں  دھول ڈالی  جا رہی ہے؟ جی ہاں، قرآن کے حوالے سے ایسا ہو رہا ہے۔ آئیے  مباحثہ کریں!

دیگر عالمی مذاہب کی ہی طرح ، مسلمانوں کی بھی آنکھوں میں دھول ڈالی جا رہی ہے اوراشراف اور قابل احترام  طبقہ کے   لوگوں کے ذریعہ مسلمانوں کو   روحانی سیر پر لے جایا جا رہا ہے۔  یہ اس حقیقت کی  وجہ سے  خاص طور پر عجیب ہے کہ دیگر مذاہب کے برعکس، اس طبقہ  کے وجود کو قرآن  نے  مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔  اور اس کے باوجود  یہ مذہبی پیشہ مسلمانوں میں  قرآن کے پیروکاروں کے رہنما کے طور پر داخل  ہے، جہاں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم  کو  اپنے سامعین سے خطاب کرنے کے لئے کہا جاتا ہے:‑

 10-37  "کہو (ان لوگوں سے) کیا تمہارے شراکت داروں میں کوئی ہے جو حق  کی طرف  تمہاری رہنمائی کر سکتا ہو؟ کہو، کہ  یہ صرف اللہ ہی ہے جو  حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ "

کچھ قدیم مسلم معاشروں میں حلالہ مولوی / ملا  کے شرمناک اور بدنام خطاب کو اگرچہ  شرمناک نہیں سمجھا جاتا ہے،   اور جو جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں یہ  عام طور پر  استعمال میں ہیں۔ جیسا کہ اس فورم و دیگر کئی اور فورموں  میں اس پر   بحث کی گئی  ہے۔

یہ دونوں مولانا  اور مفتی ہیں  جسے  روزمرہ کی بولی میں ملا کہا جاتا ہے اور ان میں سے اعلیٰ  مفتی ہوتا ہے۔  جس کا ذکر بعد میں کیا گیا گیا وہ  مسلم دنیا میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے اور بعض اوقات حکومتوں کی طرف سے یہ خطاب  عطا کیا جاتا ہے۔

قرآن میں  دونوں لقب  صرف اللہ کے لئے مخصوص ہے اور وہ بھی خالق کی  وحدانیت کو بتانے کے لئے ہے۔  منطقی طور پر کیونکہ جب ان خطابوں کو  انسانوں کے لئے استعمال کیا جاتا  ہے تو یہ   تقویٰ میں انسان کو  بلندی عطا کرتا ہے۔  اس بنا پر مندرجہ بالا آیت پھر دلیل پیش کرتی ہے:

10-37، “تو کیا وہ (خدا) جو حق کی ہدایت دیتا ہے، پیروکاری کا زیادہ مستحق ہے یا وہ (انسانی) جو خود ہدایت نہیں پاتا جب تک کہ اسے ہدايت سے نوازا نہ جائے؟ تو پھر تمہاری  مشکل کیا ہے،  تم  کس طرح فیصلہ کرتے ہو"۔  یہ آخری جملہ بہت اہم ہے۔

مدلل طریقے اور  تقریباً مایوسی میں  ہماری عقل کو اپیل کرنے میں قرآن اشاروں میں  اس طبقہ کے وجود کو  خدا کے ساتھ شریک  کرنے کی غیر معقولیت کو کہتی ہے۔ خدا کے ساتھ کسی کو شریک کرنا سب سے بڑا گناہ مانا جاتا ہے 31-13"، جسے ناقابل معافی گناہ کہا جاتا ہے!

سب سے  پہلےمولانا، ایک لفظ ہے جس  کا مطلب ہمارے مالک / محافظ کے ہیں  جو قرآن میں  متعدد آیات میں آیا ہے اور یہاں ان  تمام آیات کو پیش نہیں کیا جائے گا۔  

اس فہرست کی اہم اور پہلی آیت یہ ہے:‑

 2 286 ،  یہ  طویل آیت پروردگار سے   التجا کے ساتھ اس طرح ختم ہوتی ہے ... اﷲ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا. ...... تو ہی ہمارا کارساز ہے پس ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما  یہاں پرواضح طور پر  ہمارا  محافظ خدا ہے، اور نہ کہ وہ شخص جو آگے  بیٹھ کر ہماری روحانی قیادت  کر رہا ہے۔

آیت  3-150   میں اسی انداز میں لیکن  مختصر میں اس طرح بیان ہے۔  یہ کہتا ہے " بلکہ اللہ تمہارا مولیٰ ہے اور وہ سب سے بہتر مدد فرمانے والا ہے۔"

صرف'خدا' سے متعلق  اہم الفاظ کو  اگلی چند آیات میں پیش کیا جا رہا ہے؛

 6-62، "مالک  حقیقی، 8-40" بہتر حمایتی اور بہتر مددگار "، 9-51" ہمارا کارساز "، 10-30" سچے مالک "، 22-78" اﷲ (کے دامن) کو مضبوطی سے تھامے رکھو، وہی تمہارا مددگار (و کارساز) ہے"۔

اور پھر ایسی ہی دیگر آیات 44-41 ، 47-11، اور 66-2 اور 66-4 ہیں۔

آیت 66-4 کے عربی متن کے قواعد  کو  خدا کے علاوہ کسی اور مخلوق کے لئے 'مولانا' کے استعمال کا جواز پیش کرنے کے لئے بگاڑ اگیا ہے۔ تاہم کسی کو عربی زبان کا اسکالر ہونے کی ضرورت نہیں ہے، جیسا کہ یہ  مصنف قبول کرتا ہے کہ وہ اسکالر نہیں ہے، دھوکہ دہی کو سمجھنے کے لئے اور یہ احساس کرنےکے لئے کہ  بہت سی آیات میں سے صرف ایک آیت  ان کی اصل بات کی  نفی نہیں کر سکتی ہے۔  یہ ایک مسلمہ  حقیقت ہے کہ دو مالکوں  کی خدمت ایک ساتھ نہیں کی جا سکتی ہے۔

اگلا بلند و بالا خطاب جو مسلمانوں کے مذہبی حلقے میں مقبول ہے وہ  مفتی کا  ہے، یعنی وہ جو  فتوی‑ ایک مذہبی رائے،  جاری کرنےکی قابلیت رکھتا  ہو۔ یہ  یاد کرنے کے قابل ہے کہ  ایک مفتی کا فتوی صرف ایک رائے ہے اور اس کی کوئی قانونی اتھارٹی  نہیں ہوتی ہے۔

تاریخی اعتبار سے  یہ مقام  حکمرانوں نے تشکیل دیا  تاکہ  وہ  علماء کرام جو حکمرانوں کی مخالفت کرنے کی ہمت کرتے ہیں ان کے  درمیان ایک بفر کے  طور پران کو  تشکیل دیا جا سکے۔  اور جہاں ضرورت ہوگی  مفتی،  عالم کے خلاف فتوی جاری کریں گےاور اگر عوام نے اسے قبول کر لیا اور حکمران جیت گئے تو  مفتی کو نوازا جاتا تھا، لیکن اگر ایسا  نہیں ہوتا تھا تو  اس  غریب کا سر دھڑ سے الگ کر دیا جاتا تھا!

لفظ کے ساتھ ربط  قرآن کی دو آیات میں پایا جاتا ہے، جہاں  اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ قرآنی معنی میں فتوی جاری کرنے کا اختیار  خصوصی طور پر اللہ کے  ڈومین میں  ہے۔  یہاں تک کہ   جب اللہ کے رسول  سے ایسا کرنے کے لئے عوام درخواست کریں تب بھی  وہ  اسے جاری نہیں کر  سکتے ہیں۔  مثال کے طور پر :

آیت  4:127 کہتی ہے،  "اور (اے پیغمبر!) لوگ آپ سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں۔ آپ فرما دیں کہ اللہ تمہیں ان کے بارے میں حکم دیتا ہے اور جو حکم تم کو (پہلے سے) کتابِ مجید میں سنایا جا رہا ہے (وہ بھی) ان یتیم عورتوں ہی کے بارے میں ہے جنہیں تم وہ (حقوق) نہیں دیتے جو ان کے لئے مقرر کئے گئے ہیں..."۔

اور آیت 4:176  کہتی ہے، " لوگ آپ سے فتویٰ (یعنی شرعی حکم) دریافت کرتے ہیں۔ فرما دیجئے کہ اﷲ تمہیں (بغیر اولاد اور بغیر والدین کے فوت ہونے والے) کلالہ (کی وراثت) کے بارے میں یہ حکم دیتا ہے کہ...."۔

اردو میں مفت کے معنی بغیر قیمت کے ہیں۔ غالب نے کہا ہے:

مفت کی پیتے تھے مئے، پر جانتے تھے کہ ہاں '

رنگ لائے گی ہماری  یہ بادہ مستی ایک دن !           

لیکن کیا  ہمارے روحانی رہنماؤں  ان نتائج سے آگاہ ہیں؟

کسی توہین کے بغیر تمام سنجیدگی کے ساتھ  یہ  پوچھا جانا چاہئے کہ  کس طرح بظاہر  طور پر ان  اہل علم افراد نے اپنے  لئے  درجات  کی ایجاد کہ ہے  اور جس قرآن   پر  یہ عمل کرنے و جس کی  اطاعت کرنے کا دعوی کرتے ہیں یہ  اس سے مکمل طور پر تضاد رکھتا ہے؟ کیا انہوں نے اسے معصومیت سے  قبول کر لیا یا قرآنی شعور کے علاوہ  کسی لسانی لحاظ سے مختلف تشریح کی ہے یا یہ  عہدہ اور رتبہ  حاصل کرنے کی غالب  انسانی خواہش ہے جس نے انہیں  ، " میں حق ہوں" کہنے  کے لئے مجبور کیا؟

پرانے زمانے میں اس جرم کی سزا پھانسی تھی، اگر ہمیں اس طرح کا دعوی کرنے والے  کا حشر یاد ہو ، لیکن اب ہم ایک مہذب دنیا میں رہتے ہیں۔ مذہبی 'علماء کرام' جنہیں عالم الدین کہا جاتا ہے۔ اگر یہ قرآن  کا  وہی دین ہے، تو جان بوجھ کر اور پیشہ ورانہ طور پر  عوام کو دھوکہ  دینے  کے سبب وہ دانشورانہ بد دیانتی  کے مجرم ہیں۔  اس  فراڈ نے  مسلمانوں  کے بیان نہ کئے جا سکنے والے نقصانات کو انجام دیا ہے اور  دے رہا ہے،  49-10 اس نے کئی ناقابل مصالحت  تقسیم کو جنم دیا ہے جیسا کہ آیت  30-32 میں ہے۔ اور بہنوں کو بھی پردہ میں رکھ کر الگ کر دیا ہے!

اس کے برعکس، تعلیم یافتہ لیکن بے خبر عوام کو گمراہ  کر رہے ہیں،  جو کہ  ان لوگوں  کا احترام کرتے ہیں۔ اطاعت کی خواہش اور کسی واضح علامت کو معبود بنا کر پوجنا  انسانی کمزوری ہے۔ بالغ عمر میں اپنی  ذمہ داریوں  کو ترک کرنے ، خود کو ایسے معاملات سے آگاہ  رکھنے میں ، ہم کو اور ہمارے بچوں کو بھی  اندھیرے میں رکھا  گیا۔ لہذا ایسے مذہبی لوگ انسانیت پر کرم کریں کہ افسوس  کہ ہم  جنگل کے اس قانون سے ابھی باہر نہیں نکل سکے ہیں!

شاعر اقبال نے کہا تھا:

یہی شیخِ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھاتا ہے

گلیمِ بو ذر و دلقِ اویس و چادرِ زہرا؟

چرچ پر مبنی  مذاہب انسانیت کی اس تقسیم  کو حاصل کرنے کے  سب سے زیادہ مؤثر اور عام   ہتھیار ہیں۔   جیسا کہ آیت 10-19 میں کہا گیا ہے کہ سبھی  ایک قوم ہیں اور  کیونکہ چرچ میں دلیل کے لئے  کوئی اجازت نہیں ہے۔قرآن ہم لوگوں کو مشورہ دیتا ہے کہ  " اور ایسے لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے انحراف کرتے ہیں" 7 -180۔

 اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں

مجھے ہے حکم آذان لا الٰہ الااللہ

مجموعی طور پر انسانیت  نے صدیوں تک جہالت یا آنکھوں میں دھول جھونکے جانے کی خواہش   کے نتیجے کے طور پر  اس بوجھ کو اٹھایا ہے۔  اس لیے یہ پوچھا جانا چاہیئے  کہ قرآن  کے مطابق   اس  ہدایت کی بنیاد ناجئز ہے،  تو ان کی تعلیم کے تمام پہلوؤں کو ناجائز اور فراڈ  نہیں قرار دیا جانا چاہیئے؟ کیا مسلمان کی حیثیت سے ہمیں  کم از کم اس پر  دانشورانہ طور پر بات چیت کرنی چاہئے، کیونکہ  جس  قرآنی دین پر ہم عمل کرنے یا جس کی  اطاعت کرنےکا دعوی کرتے ہیں ، یہ ثابت ہو گیا ہے یہ اس کے خلاف ہے؟

آئیے  اس کارخانے کو ہم  مشترکہ طور پر بند کر دیں جو روحانیت کے نام پر کام کر رہی ہے اور ان کو دوبارہ تشکیل کریں،  اور جو کوئی نیک اعمال کرے گا (خواہ) مرد ہو یا عورت درآنحالیکہ وہ مومن ہے  اور ( 4-124) اور کثرتیت والے معاشرہ کو پیدا کریں  2-62۔  اور پوری انسانیت کے لئے بغیر  کسی درجہ بندی کی رکاوٹ کے  صرف نیکی کے لئے اچھے کام کریں۔

لیکن جب اتنی بڑا کارخانہ  بند ہو جائے گا تو  متبادل روزگار کی ضرورت ہوگی۔  تو کیا  ہمارے عالم لوگ انسانیت کے لئے دوسرے مفید کاموں کو کرنے کے لئے صلاحیت حاصل کرنے یا  دوبارہ تربیت حاصل  کرنے کے لئے تیار ہیں، اور ہم عوام اور ریاستیں کیا  ان کی مدد کرنے کے لئے تیار ہیں؟

راشد سمناکے ہندوستانی نژاد انجینئر (ریٹائرڈ) ہیں اور چالیس سالوں سے آسٹریلیا میں مقیم ہیں اور نیو ایج اسلام کے لئے باقاعدگی سے لکھتے ہیں

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-sharia-laws/religious-hierarchy-in-quranic-islam--is-it-legitimate?-/d/6541

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/religious-posts-in-the-quranic-islam--are-they-right?--قرآنی-اسلام-میں-مذہبی-عہدے--کیا-یہ-جائز-ہے؟/d/9010

 

Loading..

Loading..