New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 05:04 PM

Urdu Section ( 25 Jun 2012, NewAgeIslam.Com)

In Search of a World Centre for Humanity انسانیت کے لئے ایک عالمگیر مرکز کی تلاش میں


راشد سمناکے، نیو ایج اسلام

20 جون، 2012

(انگریزی سے ترجمہ‑ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)

اپنی تخلیق کے زمانے سے ہی انسانیت اگر ذہنی طور پر نہیں تو کم سے کم جسمانی طور پر دنیا کے تجاذبی کھینچائو سے حال فی لحال تک بندھا رہا تھا۔ فلکی طبیعیاتی سائنس کا شکریہ جس کی وجہ سے اب انسانیت آسمانوں کی بلند پرواز کر رہی ہے اور  بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے ذریعہ زمین کے محور میں چکر لگا رہی ہے اور انسان چاند پر چل رہا ہے اور ایک لمبی چھلانگ لگاتے ہوئے مریخ کے لئے منصوبی بندی کر رہا ہے۔  اس طرح مرد اور عورتیں اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ زمین کسی بھی طرح سپاٹ نہیں ہے اور اس لئے لوگ یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ  زمین کی سطح پراسکا کوئی 'مرکز' نہیں ہے۔

 مذہبی مراکز کے علاوہ بھی دوسری اقسام کے مرکز ہیں۔ مثال کے طور پر بہت سے لوگ سیاسی طور پر یقین کر سکتے ہیں کہ واشنگٹن ڈی سی آج زمین کا مرکز ہے جیسا کہ گزرے زمانے میں مشرق اور مغرب دونوں میں لندن یا برسلز، بیجنگ، روم، بغداد، استنبول اور  بڑی تعداد میں دیگر دارالحکومتیں تھیں۔  تاہم، ایک اور بندھن انسانیت کے لئے ہے جو اس دنیا سے آزاد ہونے کے لئے ہے۔ اور یہ مذہبی مراکز کا بندھن ہے جو  قدیم زمانے  سے لے کر موجودہ زمانے تک ہے۔  حالیہ زمانے میں جو اب بھی استعمال ہو رہے ہیں ان میں لہاسا، ویٹیکن، اجودھیا، قم، یروشلم، مکہ اور دیگر  مراکز ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر خالصتاً روحانی اور مذہبی نوعیت کے اعتبار سےہیں لیکن مادّی طور پر زمین کے مرکز ہیں۔

 آخر میں ذکر کئے گئے شہر کو انسانیت کے بڑے حصہ کی طرف سے اسلام کی بنیادی جگہ اور اس کے آخری مبلغ پیغمبر محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی جگہ تصور کیا جاتا ہے۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں کا خیال ہے کہ مکہ نہ صرف مذہبی مرکز ہے بلکہ قبلہ اور اس زمین کی توجہ کا مرکز اور  زمین پر خدا کا دارالحکومت ہے۔ یہ غور کرنے کے لئے کچھ مناسب سوالات اٹھاتا ہے۔ یہ ابتدائی مسلمانوں کے طبقے کے ذریعہ  ایک کامیاب اور دنیاوی ریاست قائم کرنے کے لئے جدو جہد  کی تاریخ پر مبنی ہے اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں اور  یہ سوال کرتا ہے:

  اگر مکہ شہر امن اور سلامتی کا شہر ہے، جیسا کہ قرآن میں دیا گیا ہے " البلد الا مین " 95-3 تو پھر خدا کے رسول کو  خدا کے اپنے احکام کو قائم کرنے کے جدو جہد میں امن اور سلامتی کیوں نہیں ملی؟ آپ کو وہاں سے ہجرت کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟

 خدا کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کی حفاظت میں تجارتی اور  مورتی کی عبادت  کرنے والے شہر  مکہ سے  ہجرت کی اور  دور دراز شہر  مدینہ منورہ میں پناہ لی۔(www.newageislam.com/ The Most significant Event 16th May, 2012)    اس کے بعد آپ نے اس طرف مڑ کر نہیں دیکھا سوائے زندگی کے آخری سال میں اس دشمن شہر کو محکوم بنانے کے جہاں آپ پیدا ہوئے تھے۔  لیکن آپ دنیاوی حکومت کے دارالحکومت  شہر مدینہ میں اپنی مہم کے مکمل ہونے کے بعد ہی واپس آئے، کیوں؟

اس کے نائبین، چار 'صالح خلفاء ' اپنی توسیع ہو رہی سلطنت کے دارالحکومت کے طور پر مدینہ کو  قائم کرنے کے تین دہائیوں کے بعد بھی، واپس کبھی مکہ نہیں گئے، جو ان کی بھی پیدائش کی جگہ تھی،  کیوں؟

بلا آخر جب چوتھے خلیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ مدینہ سے باہر منتقل ہوئے تو انہوں نے خود کو کوفہ، عراق میں مستحکم کیا  نہ کہ مکہ مکرمہ میں، کیوں؟

تب سے کسی نے بھی مکہ کو  اپنی مسلم سلطنت کی دارالحکومت نہیں بنایا، یہاں تک کہ سلطنت عثمانیہ   نے بھی جنہوں نے یہاں اور مسلم دنیا کے بڑے حصے پر حکومت کی اور  مسلم دنیا انہیں خلفاء  پکارتی تھی، کیوں؟

تعجب ہے کہ کیوں اسلام کے بنیادی مقامات یا دونوں مقدس شہروں میں سے کسی کو   مکہ اور مدینہ کے موجودہ خادم الحرمین شریفین نے بھی اپنی سلطنت کا دارالحکومت نہیں بنایا، کیوں؟

کیا یہ اس لئے تھا کیونکہ  مکہ ہمیشہ'مندر' کا شہر تھا اور قرآن "دین میں جبر سے منع کرتا ہے 2-256 ، اور  اسلام نے اپنے مذہب پر عمل کرنے کے انتخاب کی آزادی دی ہے 39-15 اور دوسرے لوگوں کے دیوتائوں / مذہب کو برا بھلا کہنے سے منع کرتا ہے 6-108 "، اور اس وجہ سے تباہ نہیں کیا جا سکتا تھا؟

 'یہ روایتی' عقیدہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے 'بتوں کو تباہ کر دیا تھا۔ یہ عقیدہ بھی قابل اعتراض ہے (اور جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ماضی میں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی کیا تھا!)۔  یہ قرآنی تعلیمات سے  واضح طور پر متضاد ہو جائے گا۔ اس لئے یہ قابل بحث ہے کہ کیا  مکہ نے کبھی بھی اپنے "مندر کے شہر" کی حیثیت کھویا تھا!

 دوسرا نقطہ جس کا مشورہ ایک عالم نے دیا کہ ہو سکتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے انصار لوگوں کی مدد اور آپ کو تحفظ فراہم کرنے سے ممنون محسوس کرتے رہے ہوں، لہذا وہ وہاں ٹھہرے رہے تاکہ ان کے دلوں کو جیت سکیں۔  جواب منطقی ہے، لیکن دوسری طرف کیا رسول اللہ کی سنت پر عمل دوسروں کے لئے واجب تھا۔  اگر ہاں تو  چوتھے خلیفہ  نے شہر کو  کیوں چھوڑ دیا؟ پھر باقی کے سوالات ہیں جو جواب طلب کرتے ہیں۔

 ایسا لگتا ہے کہ اس زمین پر  مذہبی اور دنیاوی مراکز  ایک نہیں ہے اور مو خر ذکر  زمین کی سطح پر جغرافیائی طور پر  ایک مقام سے دوسرے مقام اور ایک وقت سے دوسرے وقت میں تبدیل ہوتا رہتا ہے جبکہ متذکرہ بالا  ایک بار قائم ہو جانے پر  انسانیت کے ذہن میں ابدی طور پر  جگہ بنا لیتا ہے اور اس طرح "ان میں اور ہم میں سے" کا سنڈروم انسانیت کے مختلف مراکز  پیدا کرتا ہے  اور جو  قرآن کی آیت 10-19 کو صحیح ثابت کرتا ہے۔

لہٰذا، کیا یہ انسانیت کے لئے بہتر نہیں ہوگا کہ، کائنات کے مرکز کے لئے اس مسلمہ حقیقت کو لاگو کیا جائے کہ یہ دنیا کے مرکز میں ہی واقع ہے، جو انسانیت کی عظمت اور لا محدودیت کا احاطہ کرتا ہے اور جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے ہیں 3-191؟

راشد سمناکے ہندوستانی نژاد انجینئر (ریٹائرڈ) ہیں اور چالیس سالوں سے آسٹریلیا میں مقیم ہیں اور نیو ایج اسلام کے لئے باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔

 URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-ideology/in-search-of-an-universal-focus-for-humanity/d/7680

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/in-search-of-a-world-centre-for-humanity--انسانیت-کے-لئے-ایک-عالمگیر-مرکز-کی-تلاش-میں/d/7749

 

Loading..

Loading..