New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 08:40 PM

Urdu Section ( 3 Oct 2012, NewAgeIslam.Com)

Does Quran Differentiae between a Momin and a Muslim? کیا قرآن مومن اور مسلم کے درمیان فرق کرتا ہے؟


راشد سمناکے ، نیو ایج اسلام

4 ستمبر، 2012

(انگریزی سے ترجمہ‑ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)

 جیسا کہ مرد اور عورتوں کے درمیان  جسمانی طور پر فرق  تسلیم شدہ  ہیں اسی طرح یہ محسوس ہوتا ہے کہ قرآن مومن اور مسلمان کے درمیان فرق کو تسلیم کرتا ہے۔ اس دنیا میں ان کے "ایمان پر مبنی اعمال، کی بنیاد پر قرآن انہیں الگ الگ  لوگوں کے طور پر  خطاب کرتا ہے۔ اس وجہ سے ان میں  فرق ہے:-

(33:35) بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، اور مومن مَرد اور مومن عورتیں، اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، اور صدق والے مرد اور صدق والی عورتیں، اور صبر والے مرد اور صبر والی عورتیں، اور عاجزی والے مرد اور عاجزی والی عورتیں، اور صدقہ و خیرات کرنے والے مرد اور صدقہ و خیرات کرنے والی عورتیں………….. ، اللہ نے اِن سب کے لئے بخشِش اور عظیم اجر تیار فرما رکھا ہے۔

لہذا کوئی بھی اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ تمام مومن مسلمان ہیں لیکن تمام مسلمان مومن  نہیں ہیں۔ دلائل کے لئے صرف کچھ اور آیات  کا  حوالہ  قرآن کریم سے  دیا گیا ہے تاکہ مسئلہ سمجھ میں آ سکے۔

مومن کی تعریف قرآن  کے اہم حصہ کے شروعات میں ہی دی گئی  ہے، یعنی ، باب دو، جس کا نام  سورۃ  بقرۃ  ہے۔ یہ ان لوگوں  کی خواہشات کے جواب میں دی گئی جو  صحیح راستے  کی رہنمائی چاہتے ہیں۔ یہ  کافی حد تک خدا کی   حمد   ہے، جو پہلے باب میں ہے اور  جس کا نام سورۃ فاتحہ ہے۔

(2:4) اور وہ لوگ جو آپ کی طرف نازل کیا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا (سب) پر ایمان لاتے ہیں، اور وہ آخرت پر بھی (کامل) یقین رکھتے ہیں ۔

(کوئی بھی شخص  جو عربی کے چند الفاظ جانتا ہے  وہ  ھٰذا جس کے معنی  'یہ' ہیں  اور  ذالک جس کے معنی  جو کہ جگہ  یا وقت کے فاصلے پر ہو یا نظر سے دور ہو۔ قرآن اپنی ابتدا میں  موخر الذکر  کا استعمال کرتا ہے، حالانکہ  جب یہ  خود  اپنے ہدایت کے پیغام  کے بارے میں بیان  کر رہا ہے۔

جیسا کہ بہت سے دوسرے مسائل کے ساتھ مشورہ دیا جاتا ہے، کہ کسی بھی خاص مسئلہ کے حوالے سے  قرآن  میں مزید تحقیق کر  حقیقی معانی کو تلاش کریں، یہاں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہدایت تمام پچھلے دور کے خدا کے پیغمبروں پر نازل وحی کی بنیاد پر  ہے، اس لئے لفظ  ذالک  کا استعمال کیا گیا):

اور  یہ  کتاب پہلے نازل ہو چکی تمام سابقہ ​​کتابوں کی تصدیق ہے، جیسا کہ آیت  10:37  میں حوالہ دیا گیا ہے۔ جو اس دلیل کے تناظر میں  مزید گہرائی میں جاتی ہے۔

کتاب، انسانی ذہن  کی قابلیت کے استعمال کی بنیاد پر، اپنے  پڑھنے والوں سے خصوصی 'تقلید ' کا  مطالبہ کرتی ہے،  مثال کے طور پر:

(25: 73) اور (یہ) وہ لوگ ہیں کہ جب انہیں ان کے رب کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گر پڑتے (بلکہ غور و فکر بھی کرتے ہیں

(17:36) اور (اے انسان!) تو اس بات کی پیروی نہ کر جس کا تجھے (صحیح) علم نہیں، بیشک کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے باز پرس ہوگی"

اور ہدایت حاصل   کرنے کے لئے، قرآن سے باہر کسی بھی  ہدایت کے ذرائع کا سہارا یا  انحصار مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے اور بہت حد تک  اس کی اس طرح دلیل دی گئی ہے:-

(10:35) آپ (ان سے دریافت) فرمائیے: کیا تمہارے (بنائے ہوئے) شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرسکے؟

 آپ فرما دیجئے کہ اللہ ہی (دینِ) حق کی ہدایت فرماتا ہے….. یہ  پھر  ذہین لوگوں  کے ساتھ بحث کرتا ہے اور  سوال کرتا ہے،    تو کیا جو کوئی حق کی طرف ہدایت کرے وہ زیادہ حق دار ہے کہ اس کی فرمانبرداری کی جائے یا وہ جو خود ہی راستہ نہیں پاتا مگر یہ کہ اسے راستہ دکھایا جائے…..  ذہن کے عطا کردہ تحفے کو استعمال نہ کرنے پر قرآن کی انسانوں پر ناراضگی واضح طور پر ظاہر ہوتی ہے، جیسا کہ یہ سوال کرتا ہے….. ، سو تمہیں کیا ہو گیا ہے، تم کیسے فیصلے کرتے ہو

اس  مطالبہ پر  مزید بحث مثال کے طور پر آیت  (39: 3) میں ہے:

(39: 3) لوگوں سے کہہ دیں:) سُن لو! اطاعت و بندگی خالصۃً اﷲ ہی کے لئے ہے…..؟

دوسرے ذرائع کے حوالے کو  اگلی ہی آیت میں دیا گیا ہے  جس کا ذکر   پہلےکیا جا چکا ہے:

(10: 36) ان میں سے اکثر لوگ صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں، بیشک گمان حق سے معمولی سا بھی بے نیاز نہیں کرسکتا، یقیناً اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں!

(10: 37)  یہ قرآن ایسا نہیں ہے کہ اسے اللہ (کی وحی) کے بغیر گھڑ لیا گیا ہو لیکن (یہ) ان (کتابوں) کی تصدیق (کرنے والا) ہے جو اس سے پہلے (نازل ہوچکی) ہیں اور جو کچھ (اللہ نے لوح میں یا احکامِ شریعت میں) لکھا ہے اس کی تفصیل ہے، اس (کی حقانیت) میں ذرا بھی شک نہیں (یہ) تمام جہانوں کے رب کی طرف سے ہے۔

اس تناظر میں اس نے  اس بات پر زور دیا ہے: -

(2: 62) بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور (جو) نصاریٰ اور صابی (تھے ان میں سے) جو (بھی) اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اس نے اچھے عمل کئے، تو ان کے لئے ان کے رب کے ہاں ان کا اجر ہے، ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔

اسی طرح باب  72 اور آیت  13 میں اس کا  حوالہ اس طرح دیا گیا ہے:-

(72: 13) اور ہمارے درمیان کچھ مسلمان‑ مسلمین ہیں اور وہ لوگ جو مفاہمت چاہتے ہیں....

لہذا مسلمان کی تعریف میں  مطلب وہ ہے جو مکمل طور پر خدا کے احکام پر عمل کرے؛   قرآن کے  احکام کے تردید کی تو بات ہی چھوڑ دیجئے، یہاں تک کہ ذرا بھی سمجھوتہ چاہتے ہیں یعنی  جو دین الاسلام  کا قانون توڑتا ہے وہ مومنوں کی برادری سے  باہر نکل جاتا ہے؛

(31:22) جو شخص اپنا رخِ اطاعت اﷲ کی طرف جھکا دے اور وہ (اپنے عَمل اور حال میں) صاحبِ احسان بھی ہو تو اس نے مضبوط حلقہ کو پختگی سے تھام لیا، اور سب کاموں کا انجام اﷲ ہی کی طرف ہے۔.

یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ انسانیت  کو خطاب  کرتے وقت  ذہانت  رکھنے والوں کے  لئے   کتاب استدلال والی ہو سکتی ہے، عام معاملوں میں یہ حکم دینے والی  نہیں  ہو سکتی ہے سوائے  بعض دنیاوی معاملوں میں یہ حکم دینے والی  لگ سکتی ہے لیکن مومنوں سے توقع کرتی ہے کہ  وہ خدا کے عطا کردہ ذہن  کا استعمال کریں گے اور  افادیت حاصل کریں گے‑ آمنو  و آملو صلحٰت‑ ایمان رکھو اور  دیانت داری سے عمل  کرو۔

(2: 12) آگاہ ہو جاؤ! یہی لوگ (حقیقت میں) فساد کرنے والے ہیں مگر انہیں (اس کا) احساس تک نہیں۔

یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ   جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کی طرح پیش کرتے ہیں  لیکن عمل خدا کے احکامات کے بر عکس کرتے ہیں اور فساد  بے آہنگی پیدا کرتے ہیں، وہ مومن نہیں ہیں، در اصل وہ منافق ہیں!:

(9:64)  منافقین اس بات سے ڈرتے ہیں کہ مسلمانوں پر کوئی ایسی سورت نازل کر دی جائے جو انہیں ان باتوں سے خبردار کر دے جو ان (منافقوں) کے دلوں میں (مخفی) ہیں۔ فرما دیجئے: تم مذاق کرتے رہو، بیشک اللہ وہ (بات) ظاہر فرمانے والا ہے جس سے تم ڈر رہے ہو۔ برائے مہر بانی اس کے بعد کی آیات کا بھی مطالعہ کریں۔

یہ دلیل اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی ہے جب تک کہ  کم از کم منافقوں کی  ایک تازہ اور  عام  طور پر جس کے وہ   مرتکب ہوتے ہیں اس  مثال کو پیش  نہ کر  دیا جائے۔ معصوم اور غیر جنگجو لوگوں، یہاں تک کہ اپنے رشتہ داروں کو  اپنے  ذاتی مفادات کے لئے بے رحمی سے قتل کرتے ہیں لیکن اسے قرآنی حکم کا نام دیتے ہیں  اور کہتے ہیں کہ وہ اسلام پر عمل کر رہے ہیں:

(17: 33) اور تم کسی جان کو قتل مت کرنا جسے (قتل کرنا) اﷲ نے حرام قرار دیا ہے سوائے اس کے کہ (اس کا قتل کرنا شریعت کی رُو سے) حق ہو……۔اور بہت سی ایسی آیات ہیں جو زندگی کو  مقدس بتاتی ہیں(5: 35)، اور جس کا حکم روزانہ اور کھلے طور پر  ٹوٹتا ہے!

آیت  (49: 14)سے، جو اس طرح کے لوگوں  سے کہتی ہے۔  تم لوگ کہتے ہو کہ ، ہم ایمان لے آئے ہیں لیکن  ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے یعنی کتاب کی زبان میں یہ لوگ  منافق اور  دغاباز ہیں، کیونکہ یہ لوگ  حکم عدولی کرتے ہیں۔

  (16: 90)  بیشک اللہ (ہر ایک کے ساتھ) عدل اور احسان کا حکم فرماتا ہے اور قرابت داروں کو دیتے رہنے کا …..!!

راشد سمناکے ہندوستانی نژاد انجینئر (ریٹائرڈ) ہیں اور چالیس سالوں سے آسٹریلیا میں مقیم ہیں اور نیو ایج اسلام کے لئے باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-ideology/ad-deen-of-quran-is-not-a-religion--the-one-is-an-antitheses-of-the-other/d/8685

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/does-quran-differentiae-between-a-momin-and-a-muslim?--کیا-قرآن-مومن-اور-مسلم-کے-درمیان-فرق-کرتا-ہے؟/d/8878

 

Loading..

Loading..