New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 10:16 PM

Urdu Section ( 29 Jan 2013, NewAgeIslam.Com)

Secular, Religious and Quranic Codes of Justice سیکولر، مذہبی اور قرآنی اصول انصاف

 

فعالیت – انصاف کے ساتھ کمزور کی کمزوری کی تلافی کے لئے

 راشد سمناکے  ،  نیو ایج اسلام

17 جنوری  2013

( انگریزی سے ترجمہ  ۔  مصباح الہدیٰ  ، نیو ایج اسلام )

یہ جدید انصاف کے پیچیدہ نظام کے مسئلہ پر ایک مقالہ  نہیں ہے، جسے عام طور پر انگریزی میں ایک ایسا قانونی نظام کے طور پر سمجھا جاتا ہے جس کا  تعلق  ‘ملک کے قانون کے اطلاق سے ہے ، لیکن ایک  عام آدمی کی  اس بات  کو اجاگر کرنے کی کوشش ہے کہ  مسلم کمیونٹی میں گو نا گو ں مذاہب کے تحت کس بات پر  عمل کیا جاتا ہے ۔ ایسا کرنے میں ان کے رسومات قرآنی اصول کے ان مصادر سے مختلف دیکھتے ہیں جن سے   مطلق اطاعت  ثابت  ہو تی  ہے ۔

 جدید مغربی قانونی نظام میں جو ہے، ایک عام شخص بھی سمجھتا ہے کہ جب اس کے نظام میں کو ئی پھنستا  ہے تو  عدالتیں اس پر ملک کے قانون کا اطلاق ہو بہ ہو کرتی ہیں ، یہ ہے - "بہت زیادہ اور مزید نہیں"۔ لہذا اکثر انصاف کا علامتی خاکہ  وہ  خاتون ہے  جس کے ایک ہاتھ میں میزان  ہے  اور  اس کے ساتھ الزام عائد کرنے والے  اور لزام لگانے والے  کے درمیان توازن کی نمائندگی کرنے کے لئے  دو پیالے ہیں ، اور اگر ملزم قصوروار پایا گیا تو اسے'سزا' دینے  کے لئے دوسرے ہاتھ میں تلوار ہے۔ تاہم الزام لگانے والے کو  مظلوم  کے طور پرتاوان  نہیں دیا جاتا ہے ۔

اکثر "انصاف اندھا ہے" کی اصطلاح  کا اطلاق ، سزا دینے میں قانون کے اطلاق کی  غیر جانبداری کی نشاندہی پر ہوتا ہے۔ لیکن اس نظام میں مجرم قانون میں  تکنیکی خا می  پر بری  کئے جا سکتے ہیں۔ انصاف کے ترازو کے دوسرے پیالے  میں فریق تن تنہا رہ گیا  ۔

 اس مجرم سے جو  کسی فرد  یا ریاست کے خلاف یا کسی دوسرے فریق  کے خلاف جرم کرنے والا  ہے  اس سے نمٹنے میں عام طور پر یہ سمجھ میں  آتا ہےکہ  اسے صرف اطمینان ملتا ہے کہ مجرم کو  'سزا' مل چکی ہے  لہذا  انصاف کا نفاذہو چکا ۔

جب تک مظلوم خود معاوضے کے لئے  درخواست نہ دے معاوضے کا  پہلو شاید ہی کبھی سامنے آتا ہے،اس کے بعداس  درخواست کو مکمل طور پر ایک الگ کیس سمجھا جاتا ہے۔

 تاہم مغرب میں یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ مظلوم کے ذریعہ ‘صحیح کام ’ کرنے ، اور انصاف کا ایسے طریقے سے نفاذ کرنے کے لئے جو   کمزور کے لئے معاوضہ میں اخلاقی طور پر صحیح  ہے  کے لئے  ‘بہادر عدالت عدالتی  اختیار کے دائرہ سے باہر جا سکتی  ہے  ’ ۔ ایسی  عدالتیں اکثر ‘ فعالیت ’ یا 'سماجی انجینئرنگ' میں ملوث  ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

 تاہم، مغرب میں یہ  غیر معمولی بات ہے، لیکن دوسری جگہوں پر معمولی ، انصاف کے کلیسائی  اطلاق اس وقت ظہور پذیر ہوتے ہیں  جب چرچ خود یک طرفہ طور پر انصاف کے اطلاق کی اتھارٹی لے لیتا ہے ، جو کہ غیر معتبر  اور روایتی معمولات  پر مبنی ہوتے ہیں۔ منصف ہونے کی فعالیت میں ملوث ہونے کی بات جھوڑئے  یہاں کسی کے ضمیر کی تعمیل کی بھی گنجائش نہیں ہے  ، پادریوں کا فرمان  زیادہ مقدس ہے   اور شاید خدا کے حکم سے  بھی زیادہ مہلک۔

 قرآنی اصول کے مطابق  ، مظلوم کے معاوضہ میں ‘ فعالیت ’ضروری ہے ، اس لئے کہ یہ انصاف کا  ایک بنیادی مسئلہ ہے  ، شفافیت اور مجرم کی متناسب سزا کے ساتھ ۔ یہ فرض منصبی  ریاست کو اس کی ذمہ داری کے طور پر دیا گیا  ہے اور مومن پر اس کی  اطاعت کا حکم ہے :

‘‘اوراپنے میں سے (اہلِ حق) صاحبانِ اَمر کی’’ (59-4 )

 اس موضوع پر حوالہ جاتی آیات کی  فہرست متعدد ہیں۔ تاہم کچھ نمایاں پہلوؤں کا ذکر کیا گیا ہے ۔

عربی لفظ 'انصاف' کا معنیٰ عام طور پر 'انصاف' کیا جاتا  ہے، جس کا ذکر  قرآن مجید میں نہیں آیاہے۔ تاہم اس کا مصدر  ‘ نصف ’ کا  مطلب برابر نصف ہوتا ہے۔ ایک مرکب  لفظ کے طور پر  جسٹس انصاف، جو کل معنی پر دلالت کرتا ہے  قرآن مجید میں اس کا کو ئی مترادف نہیں ہے  ۔ بصورت دیگر اگر  مصنف کو  بتایا جائے  تو وہ شکرگزار ہو گا۔

قرآن میں انصاف کا مکمل تصور  مختلف اہم پہلوؤں سے مل کر  بنا ہے۔ جو واضح طور پر یہ ہیں: -

مکمل علم اور جو معاملات  زیر نظر ہیں ان کےدعووں اور شکایات کی تحقیقات پر مبنی  شناخت ۔

• گواہوں کی صداقت  اور ان کے کردار پر نظرثانی۔

• جھگڑے کے  دونوں فریقوں  کے ساتھ مساوی سلوک۔ یہی وجہ ہے کہ، رتبہ اور شہرت کو  نتائج پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں  ہے۔

•انصاف کے اس  عمل میں تیسرے فریق کی کو ئی مداخلت نہیں  اور نہ ہی کو ئی رشوت یا  کرپشن اور رقم کی ادائیگی قابل قبول ہے  ۔

• اپنے رشتے داروں کی کو ئی جانب داری نہیں یہاں تک کہ اس شخص کے  رشتہ داروں کو بھی  برداشت نہیں کیا جائے گا۔

• ‘ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے ’ طاقت یا پوزیشن کی بنیاد پر کوئی آزاد  نہیں ہے۔ پارلیمانی استثناء کا اس کے نظام میں کوئی دخل نہیں  ہے۔

• اگر غیر مجرمانہ قسم کے اقدامات کے معاملات میں مجرم پارٹی پچھتاوا ظاہر کرتا ہے اور اصلاح کا وعدہ کرتا ہے  تو  مہربانی بخشش کی حدبندی کرتا ہے ، جو خطائیں  نادانستہ طور پر ہو تی ہیں  ۔ مثال کے طور پر غیر عمدی  اور حادثاتی موت ۔

 تمام معاملات میں اعتدال اور ایمانداری ، (عدل)  کو برقرار رکھا جائے گا، دشمن سے نمٹنے کے وقت بھی۔

• معاوضہ (احسان)  کے معاملے میں ہمدردی، سخاوت، اور ضروریات کے مطابق برابری کا سلوک کیا جائے گا  یا معاوضہ اور اثاثوں کو متعین کرنے  کے معاملات میں فیصلہ ۔

یہ تمام انسانیت کے لئے  ایک اضافہ کے ساتھ ، صاف اور آسان آفاقی اقدار ہیں، انصاف کے پورے تصور میں ایک کے ساتھ  ایک مخصوص "ذاتی" اخلاقی ا صول  منسلک ہیں ۔

 اس تناظر میں صرف کچھ  اہم عربی اصطلاحات  ظاہر ہوتے ہیں  جنہیں یہاں بیان کیا جا رہا  ہے: -

عدل  میزان ، توازن، مساوات ، اور ایمانداری  میں تناسب کا تصور ( 48-2اور 123) ۔۔۔ اور نہ اس کی طرف سے( ملزم کی طرف سے ) کوئی معاوضہ قبول کیا جائے گا ۔۔۔ (  115-6،  95 -5  وغیرہ میں بھی )

2۔ بالمعروف  اس معاملے میں ملوث فریقین کی شناخت  ، ان کے ساتھ ایمانداری اور بھلائی کی خاطر ، (110 ، 104-3) اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت (ایک ریاست )ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں،۔( 263۔2 ،  236۔2 ، 241 ۔2 وغیرہ میں بھی )

بالاحسان  معاوضہ میں  بہترین خوبصورت، مہربانی ، سخاوت، جانبداری، کے ساتھ۔ (69۔4) ۔۔۔ جن پر اللہ نے (خاص) انعام فرمایا ہے جو کہ انبیاء، صدیقین، شہداءاور صالحین ہیں، اور یہ بہت اچھے ساتھی ہیں،! ۔۔۔ (77-28) اور تو (لوگوں سے ویسا ہی) احسان کر جیسا احسان اللہ نے تجھ سے فرمایا ہے ۔۔۔

بالقسط  عدل و انصاف کے ساتھ معاملہ کرنا ، (9-5) اﷲ نے ایسے لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وعدہ فرمایا ہے (کہ) ان کے لئے بخشش اور بڑا اجر ہے، ۔۔۔ (127-4) ۔۔۔ بے بس بچوں کے بارے میں (بھی حکم) ہے کہ یتیموں کے معاملے میں انصاف پر قائم رہا کرو،۔۔۔ اور بھی بہت ۔ اسی طرح دوسرے کے مقابلے میں کسی کی  کمزوری کے لئے معاوضے میں انصاف  پر زور دیا ہے۔

مندرجہ بالا کے باوجود ، صنفی مسائل کے معاملات میں  ، مسلمانوں کی  عیاں   ، حد درجہ جواز پذیرائی تک ،غیر منصفانہ معمولات ،  جیسا کہ  ،صنف نازک کے تعلق سے ان کے مذاہب کے  فتوں کے ذریعہ نافذ کیا  گیا ہے ،پارسائی  بیان کی جا رہی ہے  ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خلاف قیاس  ایسے  مذہبی  نظام پر عمل کرنے کا دعوی کرتے ہیں جو با  وقار ہے ، انتہائی محترم  اور عورتوں کے لئے  تحفظ کی جا  ہے ۔

جو چیز'شریعت' کے نفاذ میں  میں غیر منصفانہ، غیر عادلانہ  اور غیر مساوی ہے  ، اس کی  سب سے عام مثال والدین کی طرف سے اپنے اپنے بیٹے اور بیٹی کوترکہ دینے میں ہے  جیسا کہ آیت  176۔4  اور وہ یہ ہے ایک کو دو حصہ  بیٹے کے حق میں  بیٹی کے مقابلے ۔ موجودہ حالات میں صنفی امتیاز تصویر کشی ہے ۔

مٹھی بھر علماء کے علاوہ ، یہ عجیب بات ہے کہ اکثریت علمائے دین ظاہر بے ضابطگیوں اور اسلام کی صحیح تشریح کی وضاحت اور اس کے  اصلاح کےمنصوبے میں بری طرح ناکام ہیں! 

قرآنی حکم ہر وقت عام معاشرتی اور مروجہ  حالات کی طرف متوجہ کرتا ہے ، جہاں یہ ضروری ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے بیٹی کی شادی کر دی جائے (سات برس کی عمر میں بھی جیسا کہ ان  کی مشکوک کتابوں میں ہے)

آج بھی بہت سے معاشروں میں یہ  ایک " اقتصادی ضرورت کی اہمیت " کا معاملہ ہے، کہ بیٹیوں کی شادی دیر کرنے کے  بجائے جلد کر دی جائے ۔

تاہم، قرآن میں ہے :

1۔ شادی پر ، بیٹی اس بات کی  اہل ہے کہ  وہ اپنے  شوہر اور  والدین کے اثاثوں کی وارث بنے ۔

2۔ اس  کے علاوہ، اس کا  اپنا مال اور  اس کی کمائی مکمل طور پر اس کی  ہے  اور جب تک وہ  خوشی سے یا اپنی  مہربانی سے نہ دے اس میں کسی کا  اشتراک واجب نہیں ہے۔

3۔ اسے  اپنے خاوند کی جانب سے ایک مخلصانہ 'تحفہ' حاصل ہو تا ہے، اس کی حفاظت کے لئے خاص ملکیت کے طور پر ۔ قرآن مجید میں 'مجازی' تحفہ کے وعدوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔

بیٹوں  کے لئے دوہرے حقوق دستیاب نہیں ہے۔

سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بہت سے معاشروں کی مروجہ  روایت اور ثقافت یہ ہے کہ بیٹی کے مقابلے میں  ، بیٹوں سے  وسیع خاندان کا عظیم   تر بوجھ اٹھانے  کی توقع کی جا تی  ہے ۔ لہذا بیٹے کے لئے دوگنا  اثاثہ مقرر کرنے میں قرآنی حکمت یہ ہے کہ ان حالات میں انہیں مدد پہونچائی جائے  ۔

ان سب سے بڑھ کر، اس سلسلے میں، سب سے اہم آئین شرع ایسی ہے کہ  جس سے مطلع کرتے رہنالو گوں کو  مسلسل  بدلتے حالات کے موزوں کرتا  رہے گا ، جس کا  ذکر منبر سے کبھی نہیں کیا گیا -

180 ۔2تم پر فرض کیا جاتاہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت قریب آپہنچے اگر اس نے کچھ مال چھوڑا ہو، تو (اپنے) والدین اور قریبی رشتہ داروں کے حق میں بھلے طریقے سے وصیت کرے، یہ پرہیزگاروں پر لازم ہے ۔

در اصل اس میں علماءکی طرف سے پوری مداخلت کی گئی  ہے۔ پابندیاں  ، قرآن کے خلاف ، وصیت میں اثاثوں کی صرف ایک تہائی پر  نافذ ہیں ۔ 11- 4 ۔۔۔ (یہ تقسیم) اس وصیت (کے پورا کرنے) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد (ہو گی)، ۔۔۔ اور 12 (یہ تقسیم بھی) اس وصیت کے بعد (ہو گی) جو (وارثوں کو) نقصان پہنچائے بغیر کی گئی ہو ۔

وصیت میں  کوئی پابندی یا حد نہیں ہے۔ تاہم انفرادی جانبداری کے اخلاقی شعور  پر تمام معاملات میں عدل  اور انصاف پر مبنی رویہ اختیار کر نے کی  ضرورت ہے۔

لہذا اگر وہ کسی اضافی رقم کے ساتھ معاوضہ کے مستحق ہیں تو  اپنی خوشی سے والدین کی زندگی میں  یا موت کے بعد کسی کے بیٹے یا بیٹی کو معاوضہ دینے میں کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے ، جیسا کہ دو ایماندار لوگوں ، لڑکا یا لڑکی کے معاملے میں دیکھا  گیا ہو گا!

ریاست کے ذریعہ اثاثوں کی تقسیم مرضی  کے ‘بعد ’ ہے - قانونی دستاویز - عدل اور انصاف کے ساتھ مکمل کئے جا رہے ہیں ۔ چرچ کے  پاس اس طرح کے قانونی معاملات میں دخل اندازی  کر نے کی کوئی  وجہ نہیں ہے۔

آج تبدیل کے حالات ان مذہبی اور غیر مذہبی  روایات پر نظر ثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں ،اور صورتحال کو موزوں کرنے کے لئے مقدس کتابوں میں  فراہم کردہ انسانیت کے لئے عالمی ہدایات کے مطابق  عدل  و انصاف ' کو اختیار نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے  ۔

اگرچہ آج صورتحال مکمل طور پر تبدیل نہیں ہوئی ہے  ، لیکن پسماندہ طبقات میں حالات  تیزی کے ساتھ  تبدیل ہو رہے ہیں  ۔۔۔ کتاب اسے مختلف بیانات میں واضح کر دیتی ہے، مثال کے طور پر  185-2 میں ہے  کہ ‘‘اﷲ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے دشواری نہیں چاہتا’’۔

 یہ مسئلہ صنفی امتیاز اور انصاف کا  دل ہے جسےعملی طور پر دیکھا جاتا ہے ، صرف قوم مسلم میں ہی نہیں  بلکہ پوری دنیا میں جہاں مرد کو اس کے ہم منصب ، نام نہاد کمزور اور پسماندہ عورت پر عام طور پر ‘‘ طاقت اور بالا دستی ’’ حاصل  ہے۔

 مغرب میں بھی ‘glass ceiling’ اور ‘صنفی جانبداری ’ ایک دائمی  مسئلہ ہے! تاہم، اسے ایک سند  کے طور پر لینا، مسلسل ظلم اور نا انصافی اور ماضی میں ہی منجمد رہنے اور پیچھے کھڑے ہو کر پس پردہ سے آپریٹ کرنے کے لئے ، گرجا گھروں کی  یہ  ایک ناقص  عذر ہے ۔ ان عملی مسائل کو درست کرنے  اور اپنے  پیروکاروں کو وقت کی تبدیلی کے ساتھ قطار میں لانے کی ذمہ داری ان  کی ہے اور یہ انہی کا فریضہ ہےاور اس طرح سے وہ  برابری کے ساتھ ترقی کی راہ پر  ان کی قیادت کر سکتے ہیں ۔

 اسی لئے شاعر اس قسم کی ناکامی پر افسوس ظاہر کرتا ہے  اور کہتا ہے کہ: -

کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت

وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو (اقبال)!

"کمزور کی کمزوری" کو پوری کرنے کے لئے  انقلابی قانون کا ابھی تک مردوں کے ذریعہ  اجراء کیا جانا باقی ہے : -

کتاب کا حکم ہے :-  90 – 16 بیشک اللہ (ہر ایک کے ساتھ) عدل اور احسان کا حکم فرماتا ہے اور قرابت داروں کو دیتے رہنے کا اور بے حیائی اور برے کاموں اور سرکشی و نافرمانی سے منع فرماتا ہے، وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم خوب یاد رکھو۔

نیو ایج اسلام کے ایک باقاعدہ مضمون نگار  ،  راشد سمناکے  چالیس سال سے زیادہ سے آسٹریلیا میں ایک ہند نزاد (رٹائرڈ )  انجینئر ہیں ۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/ijtihad,-rethinking-islam/rashid-samnakay,-new-age-islam/secular,-religiousand-quranic-codes-of-justice/d/10052

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/rashid-samnakay-,new-age-islam--راشد-سمناکے/secular,-religious-and-quranic-codes-of-justice----سیکولر،-مذہبی-اور-قرآنی-اصول-انصاف/d/10194

 

Loading..

Loading..