New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 07:57 PM

Urdu Section ( 13 Sept 2016, NewAgeIslam.Com)

A New Aligarh Movement is Needed ایک نئی علی گڑھ تحریک کی ضرورت ہے

 

 

 

راشد شاز

سر سید نبی یا پیغمبر نہیں تھے لیکن وہ ساری عمر کا رِ نبوت سے اشتعال کرتے رہے خاص طور پر زندگی کے آخری برسوں میں انہوں نے اپنی تمام تر صلاحتیں وحی ربانی سے انسانی التباسات کے حجابات چاک کرنے میں صرف کردیں ۔ اپنے ہم عصر مرزا غلام احمد قادیانی کے برعکس ۔۔۔ جنہیں گاہے وحی والہام کا دھوکہ ہوتا رہا اور جن کے بارے میں سرسید کا خیال تھا کہ وہ ‘‘ایک بزرگ ، زاہد، نیک بخت آدمی ہیں ۔بہت سے نیک آدمی ہیں جن کو اس قسم کے خیالات پیدا ہو چکے ہیں ’’۔۔۔سرسید نے کبھی بھی اپنے آپ کو تنقید و تجزیہ سے ماوراء ملہم یا محدّث کی حیثیت سے پیش نہیں کیا۔ حالانکہ اسلامی تاریخ میں بہت سی نیک خصال بر گزیدہ ہستیوں نے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے یا اپنے گرد لوگوں کو جمع کرنے کے لیے بات بات پر الھمنی ربی کی صدا لگائی ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی اس سلسلے کی بہترین مثال ہیں ۔سر سید حکمائے اسلام کی اس ریت سے واقف تھے ۔ انہیں مرزا غلام احمد کے دعاوی پر کچھ تعجب نہ ہوا ۔ البتہ خود اپنے لیے انہوں نے کسی ایسے الہامی رابطے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ وہ جس نئے علم کلام کی بنیاد ڈالنا چاہتے تھے اس کا محور و مرکز وحی ربانی کے مُنزّل او رمتعین صفحات تھے جن تک رسائی کے لیے انسانی عقل اور فہم رسا کی ضرورت تھی، تدبر ، تعقل اور تفکر کی ایک ایسی دنیا جو وحی اور عقل کے آمیز ے سے تشکیل پاتی ہو، جہاں وحی اور عقل ایک دوسرے کی معاونت کرتے ہوں، نفی نہیں ۔

ایک ایسے عہد میں جب مجاہد ے ، مکاشفے او رمشاہدۂ حق کے غلغلے عام ہوں اور اہل تقویٰ کے لیے یہ آسانی طرز تکلم کچھ معیوب بھی نہ سمجھا جاتا ہو، سرسید کا یہ بڑا عظیم کار نامہ ہے کہ ٹھیٹ اسلام کی تلاش میں انہوں نے اپنے آپ کو ایک ٹھیٹ طالب علم کی حیثیت سے پیش کیا۔ ان کی یہی منکر المزاجی ان کے لیے مصیبت بن گئی ۔ جو لوگ حکمائے اسلام کو اب تک مکاشفے کا پروردہ سمجھتے آئے تھے او رجو گ ابن عربی سے لے کر مجد د الف ثانی اور شاہ ولی اللہ کی شطحیات و انحرافات پر محض اس لیے لب کشائی کی جرأت نہیں پاتے تھے مبادا ان کے تار آسمانوں سے ملے ہوں، ان کےلیے سرسید جیسے ٹھیٹ طالب علم کو جو بقول خو د کبھی توانابت الیٰ اللہ سے سرفراز ہوتا او رکبھی اپنی نمازوں میں بھی سستی کر جاتا ، تنقید و تنقیص بلکہ کفر و الحاد سے متہم کرنا آسان ہوگیا۔

سرسید ایک عقلی رویہ کی بنا ڈالنا چاہتے تھے اگر وہ اپنی مذہبی تعبیرات یا فہم دین کو الھمنی ربی کے جلو میں پیش کرتے تو ایک خالص عقلی اور طالب علمانہ رویئے کی ابتداء ممکن نہ ہوتی ۔ اس اعتبار سے انیسویں صدی کے زوال زدہ مسلم معاشرے میں جب سطوت اسلامی کا چراغ گل ہوچکا تھا، قرآن مجید کو عام انسانوں کےلئے بطور منشور پیش کرنے اور وحی ربانی کی تجلیوں سے اپنی گم کردہ راہوں کو منور کرنے کی یہ دعوت فی نفسہ ایک تجدیدی کار نامے سے کم نہ تھی ۔ گوکہ سرسید کی اس تجدیدی حثییت کا ادراک او راعتراف کم ہی کیا گیا ہے۔

اپنی تمام تر عظمت و رفعت اور جلالت علمی کے باوجود سر سید بنیادی طور پر ایک انسان تھے لہٰذا ان کی تحریک میں بشری لغز شوں اور اسٹرٹیجک تسامحات کا در آنا فطری تھا ۔سر سید علوم جدیدہ کی تلاش میں مغرب کی جن دانشگاہوں تک گئے یہ فی الواقع وہی دانشگاہیں تھیں جو عہد وسطیٰ کے مسلمانوں کی اقتداء میں قائم ہوئی تھیں ۔سرسید ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے تھے جب مسلمانوں کی سائنسی اور تہذیبی تاریخ انیسویں صدی کے غلغلۂ دانش فرنگ میں کچھ اس طرح نظروں سےاوجھل ہوگئی تھی کہ بڑے بڑے اہل نظر اور مفکرین کو بھی اپنی تاریخی جاہ و حشمت سے ناواقفیت کے سبب انگریزوں کے بھنگی اور خاکروب اعلیٰ پائے کے مہذب انسان معلوم ہوتے تھے ۔ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے جب عام مسلمان اس احساس سے خالی تھے کہ فکر و فن اور سائنس و اکتشاف کی یہ نئی دنیا جس کی قیادت پر بوجوہ آج مغرب قابض نظر آتا ہے ، دراصل نزول قرآن کے نتیجہ میں مسلمان علماء و حکماء کے ہاتھوں تشکیل پائی ہے۔ ایک ایسے انسان کےلئے جس کی ملّی تاریخ چوری ہوچکی ہو، جس کا سیاسی نظام خود اس کی نگاہوں کے سامنے تاراج ہوا ہو، جس کے پیغمبر اور دین پر انگریز پادریوں کے حملے جاری ہوں اور جس کے نتیجہ میں وہ اپنی نئی نسل کو دین سے بر گشتہ ، دشمنوں سے مرعوب ، کفر و الحاد کی طرف گامزن دیکھتا ہو ، ایک نئی ابتدا ء کا ڈول ڈالنا کچھ آسان نہ تھا ۔

علی گڑھ تحریک کا پہلا دور ہماری زوال زدہ ملی تاریخ میں ایک غلغلہ انگیز کیفیت سے عبارت رہا ۔ پہلی بار ملی قیادت ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں آئی جو کشف و الہام کا دعو یدار نہیں بلکہ عقلل و وحی کا پرستار تھا ۔ جس کا یہ دعویٰ تھا کہ جو چیز عقل کے خلاف ہوگی وحی بھی اس کی حمایت نہیں کرسکتی ۔ فارق العقل تاویلات اور لاطائل قصے کہانیوں نے وحی ربانی کے چشمۂ صافی پر جو پہرہ بٹھا رکھا تھا اور جسے فکر اسلاف یا تفسیر بالماثور کے حوالے سے حرف آخر کا درجہ حاصل ہوگیا تھا، سرسید نے ان تعبیرات کو قرآن مجید کے ایک عام طالب علم کی حیثیت سے چیلنج کیا۔ اپنے دوست مہدی علی خاں کے اس اعتراض پر کہ وہ اپنی تفسیر میں تفسیر بالرائے کے مرتکب ہوئے ہیں انہوں نے سخت احتجاج کیا، ان کا کہنا تھا کہ میری تاویل اگر تفسیر بالرائے ہے تو اس بات کا کیا ثبوت کہ تم جو مطلب سمجھے بیٹھے ہو وہ مُنزّل من السماء ہے۔ سرسید اس نکتہ سے بخوبی آگاہ تھے جیسا کہ عبدہ نے لکھا ہے، کہ وحی ربانی تمام دنیائے انسانیت کے لئے ایک ایسا لا زوال تحفہ ہے جس نے آنے والی ہرنسل اپنے حصے کی روشنی حاصل کرتی رہے گی۔ سرسید کی تفسیری کاوشوں نے قرآن مجید کو انسانی مطالعہ کی میز پر کچھ اس شان سےرکھا کہ آنے والے دنو ں میں بر صغیر کا کوئی بھی قابل ذکر مفسر اور شارح دین متین اس منہج تفسیر سے بے نیاز نہ رہ سکا ۔ گوکہ اس بات کا اعتراف کھلے دل سے کم لوگوں نے ہی کیا ہے۔ مولانا آزاد نےاپنی کہانی میں فکر سر سید سے اثر پذیر ی کا بڑے والہانہ انداز میں تذکرہ کیاہے۔ ڈپٹی نذیر احمد جن کی قرآن فہمی کی ایک دنیا معترف ہے سر سید کے خوشہ چینوں میں ہیں اور ابو الاعلیٰ مودودی اپنے مکاتیب میں ڈپٹی نذیر احمد اور سر سید کی تفسیروں کے متلاشی دکھائی دیتے ہیں ۔ رفیع اللہ شہاب نے ایک جگہ لکھا ہے کہ جن دنوں اصول تفسیر پر مولانا امین احسن کی کتاب تفسیر قرآن نئی نئی چھپ کر آئی تھی ، مولانا امین احسن میانوالی آئے ہوئے تھے ۔ اس کتاب کی بڑی تعریف کی جارہی تھی ۔ انہوں نے مولانا امین احسن سےعرض کیا،سرسید نے یہی اصول اپنے رسالہ اصول تفسیر میں بیان کیے ہیں ۔ اس پر مولانا کا رنگ فق ہوگیا اور فرمایا کہ کیا کسی کے پاس یہ رسالہ موجود ہے۔ کہتے ہیں کہ راقم نے اثبات میں جو اب دیا تو مزید کچھ کہنے کی بجائے خاموش ہوگئے ۔ بقول رفیع اللہ شہاب: جبر و قدر پر مولانا مودودی کا رسالہ بھی فکر سر سید سے راست اثر انگیزی کا نتیجہ ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ جس تفسیر نے بر صغیر میں تفسیر نگاری پر اس قدر گہرے اثرات مرتب کیے وہ تفسیر عام انسانوں کی دسترس سے دور رہی ۔ اس کی عمومی نشر و اشاعت کا جب بھی خیال آیا راسخ العقیدہ علماء اس کا راستہ روک کر بیٹھ گئے ۔

وحی ربانی کی بازیافت کے بغیر محض تعلیم و تعلم کی ادھوری تحریک وہ نتائج پیدا نہیں کرسکتی تھی جس کا خواب سر سید نے جاگتی آنکھوں سےان ایام میں دیکھا تھا جب ان کے پاس تفسیر کی تکمیل کے لئے وقت تھوڑا تھا ، قوت جو اب دے رہی تھی اور وہ بمشکل سورۂ کہف کی آخری آیتوں تک پہنچے تھے کہ پیام اجل آپہنچا ۔ ( دوسری قسط اپریل کے شمارے میں)

سر سید بڑے حوصلہ کے آدمی تھے ۔ انہیں اپنی صلاحیت فکری پر اصرار تھا ۔ آخری برسوں میں ان پر صرف ایک ہی دھن سوار تھی کہ قرآن مجید کو نئی نسل کے لیے کچھ اس طرح پیش کریں کہ وہ کتاب تلاوت یا کتاب برکت کے بجائے جیتے جاگتے عملی منشور کے طور پر پڑھا اور برتا جاسکے ۔ لیکن افسوس کہ کالج کے قیام کی عملی دشواریوں ، مخالفین کے غیص و غضب اور قدامت پسند علماء کے زبردست منفی پروپیگنڈے اور ان کی فتویٰ بازیوں کے سبب سر سید نےاپنی تفسیر کے پروجکٹ کو جاری تو رکھا البتہ کالج میں دینیات کا شعبہ روایتی مولویوں کے حوالے کردیا ۔ بقول علامہ اقبال :

‘‘غالباوہ (سرسید) پہلے جدید مسلمان ہیں جنہو ں نے آنے والے ایام کی مثبت جھلک

پہلے ہی دیکھ لی تھی ..... ان کی اصل عظمت اس امر میں پنہا ں ہے کہ وہ پہلے ہندوستانی

مسلمان تھے جس نے اسلام کی تجدید فکری کی ضرورت محسوس کی اور اس کے لیے

باقاعدہ اقدامات کیے۔ ہمیں ان کے مذہبی افکار سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن اس ’

بات سے انکار ممکن نہیں کہ مضطرب نفسوں میں وہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے عہد جدید

کے تقاضوں کا پاس کیا ۔ ( لیکن افسوس کہ) ہندوستانی مسلمانوں کی دقیانوسی ذہنیت

جس کا زمینی حقائق سے رابطہ منقطع ہوچکا تھا، سر سید کی مذہبی فکر کی عظمت و معنویت کا

ادارک کرنے میں ناکام رہی ’’۔ ( اسلام اینڈ احمدی ازم)

آنے والے دنوں میں فکر اسلامی کی تشکیل جدید کا یہ پروجکٹ اقبال کے ہاں قدرے بلند آہنگی سے جاری رہا ۔ اپنے خطبات اور مکاتیب میں اقبال نے ایسے و قیع سوالوں کی ایک فہرست تیار کردی جن پر مجہتد انہ غور و فکر کے ذریعہ نئے خلاقانہ مسلم ذہن کی تشکیل ہوسکتی تھی ۔ اقبال شاعر اسلام تھے، انہیں محرم راز دورن خانہ ہونے پراصرار تھا ، وہ اپنے وقت کے سکہ بند عالم حسین احمد مدنی سے ٹکر لے چکے تھے ۔گویا جمہور مسلمانوں میں اقبال کی اسلامیت شکوک و شبہات سےبالاتر تھی لیکن اس کے باوجود راسخ العقیدہ علماء کو گوارا نہ تھا، کہ ان کے مجہتدانہ خطبات کی اشاعت عام ہو جیسا کہ علی میاں ندوی کا خیال تھا ۔ سر سید کے مذہبی افکار کو وقتی طور پر مؤخر کیے دینے کے سبب ابتداء سے ہی علی گڑھ تحریک آسودگی کا سایہ گہرا رہا ۔ گو کہ اقبال کی طرح تخصیص کے ساتھ کم لوگ اس حقیقت کی نشاندہی کرسکے کہ ایک نبوی منہج پر اٹھنے والی تحریک سے ایک نئی زمین اور نیا آسمان کیوں نہ بن سکا ۔ مولانا مودودی نے سر سید کو ایک ایسے انجینئر سے تعبیر کیا ہے جن کی ایجاد کردہ موٹر آگے چلنے کے بجائے پیچھے کی طرف بھاگتی ہو۔ جب کہ اقبال کے نزدیک قصور سرسید کا نہیں بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کی دقیانوسی ذہنیت کا تھا جو سر سید کی تجدید ی مساعی کی صحیح اہمیت کا اندازہ لگانے میں سخت ناکام رہے۔

سرسید کی تعبیری کاوشوں کو مؤخر کیے دینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آنے والے دنوں میں ایک نئی اور ہمہ گیر تحریک برپا کرنے کا خیال ہمیں مستقل ستا رہا ۔ 1981ء میں پارلیامنٹ سے نئے ایکٹ کی منظوری کےبعد تہذیب الاخلاق کی اشاعت کے پیچھے دراصل یہی محرک کار فرما تھا ۔یہ اور بات ہے کہ یہ انقلابی رسالہ، جس کے لوح پر آج بھی محمڈن سوشل ریفار مرکندہ ہے،نے رفتہ رفتہ ایک ایسے ادبی رسالہ کی حیثیت اختیار کرلی ہے جو قاری کو تلخ زمینی حقائق سے دور طلسم ہو شربا نہ سہی حیرت سرائے کی سیر ضرور کراتا رہتا ہے۔سید حامد علی گڑھ تحریک کے دوسرے دور کی قیادت کے لیے لائق ترین شخص تھے جن کے عہد میں قدرت نے یونیورسٹی ایکٹ کی جزوی بحالی کا سامان بھی فراہم کردیا تھا، انہوں نے اپنے تئیں حتیٰ المقدر کوشش کی کہ علی گڑھ والوں کا یہ مست خرام قافلہ پھر سے منزل کی طرف چل نکلے ۔ لیکن سیا نے کہتے ہیں کہ ان کے سامنے جب بھی تفسیر کی اشاعت نو پر گفتگو ہوئی انہوں نے خاموشی اختیار کرلی حالانکہ خود انہیں ذاتی طور پر اس بات کا شدید احساس تھا، جیسا کہ بعد کے دنوں میں انہوں نے اعترافاً لکھا ہے کہ :

‘‘سرسید کی تفسیر کو طاق نسیاں پر رکھ کر ہم نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا، نہ اپنے

ساتھ اور نہ آنے والے نسلوں کےساتھ ۔’’ ( فکر و نظر، ش 1 ، 1990ء)

سید حامد کو اپنے عہد میں جن مسائل کا سامنا تھا اس کے پیش نظر شاید ایک نیا فکر ی محاذ کھولنا ان کے لئے ممکن نہ تھا او رکچھ اپنی مصالحانہ طبیعت کے سبب بھی وہ علماء کی مخالفانہ فتویٰ بازیوں کا خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے۔

بر صغیر ہندو پاک میں علی گڑھ پیمبرانہ مشن کا ہر اول دستہ ہے۔ اس کی تابناکی کی نئے علم کلام کی تدوین اور وحی ربانی سے راست اکتساب فیص پر منحصر ہے۔ سر سید کی مذہبی فکر کو کالعدم قرار دے کر ہم علی گڑھ تحریک کے مکمل ثمرات سےبہرہ آور نہیں ہوسکتے ۔ آنے والے دنوں میں جب یونیورسٹی برادری سرسید کا دو سو سالہ جشن منا رہی ہوگی، ہم اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ اس درسگاہ کے بانی اور اپنے محسن کی تمام تحریروں پر مشتمل خوبصورت مجلدات کی شکل میں ایک مخزن شائع کردیں ۔ ان کے فکری سرمائیے ، بالخصوص تفسیر کی مجددانہ مساعی کو، مطالعے او رمحا کمے کا موضوع بنائیں۔ جب تک سر سید جیسے طالب علمانہ ذہن او رمومنانہ قلب کے ساتھ قرآن مجید کے صفحات الٹنے کی ریت دوبارہ قائم نہیں ہوتی ، ایک بےسمت خوابیدگی علی گڑھ کا مقدر رہے گی۔

( راشد شاز : ڈائریکٹر مرکز برائے فروغ تعلیم و ثقافت مسلمانان ہند علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

مارچ، 2016 بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/rashid-saaz/a-new-aligarh-movement-is-needed--ایک-نئی-علی-گڑھ-تحریک-کی-ضرورت-ہے/d/108548

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..