New Age Islam
Sun Sep 27 2020, 07:27 PM

Urdu Section ( 29 Apr 2020, NewAgeIslam.Com)

What Does the Zero Presence of Muslims In the Country's Top Institutions Say? کیا کچھ بیاں کرتی ہے ملک کے اعلیٰ اداروں میں مسلمانوں کی صفر موجودگی؟


رشید قدوائی

29 اپریل 2020

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ہندوستان میں مسلم آبادی۱۷۲؍ملین یعنی ۱۷؍کروڑ۲۰ ؍لاکھ’ ۲۰۱۱ءمیں ہوئی مردم شماری کے مطابق‘ سے زیادہ ہے۔ یہ آبادی اب شاید۲۰ ؍کروڑ کے آس پاس پہنچ گئی ہوگی۔اس طرح بھارت میں مسلم آبادی کا تناسب ۱۵ ؍فیصد سے زیادہ ہوتا ہے۔ گویا ملک عزیز میں دوسرا بڑا مذہب اسلام ہوا۔ جبکہ مسلمانوں کی اتنی آبادی کے ساتھ بھارت دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک ہے۔ پہلے نمبر پر انڈونیشیا آتا ہے، جہاں دنیا کی سب سے زیادہ مسلم آبادی پائی جاتی ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں نے سچر کمیٹی رپورٹ اور اس کی سفارشات کے بارے میں پڑھا یا سنا ہوگا۔ اس میں بہت محنت سے مسلمانوں کے بارے میں مصدقہ اعداد  وشمار جمع کیے گئے اور ان کی بنیاد پر مختلف نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ اب 'رجت دتہ صاحب نے مسلمانوں کو لے کر ٹویٹر پر کچھ حقائق پیش کیے ہیں۔ رجت دتہ آرٹس، لاء یعنی قانون اور مینجمنٹ کے ماہر تسلیم کیے جاتے ہیں اور دانشور طبقے میں ان کی باتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔رجت دتہ نے آج کے مسلمانوں کی جو تصویر پیش کی ہے، وہ آنکھیں کھولنے والی اور مودی سرکار کا دھیان کھینچنے والی ہو سکتی ہیں۔ خاص طور سے مودی سرکار میں شامل ان وزراء کے لیے یہ حقائق ایک دھچکا بھی ہو سکتے ہیں، جو گاہے بگاہے مودی سرکار کے ذریعے مسلمانوں کے لیے کئی کام کیے جانے کا دعویٰ کرتے رہتے ہیں۔دتہ نے اصل میں ملک کے نامی گرامی اداروں یا اہم شعبوں میں مسلمانوں کی موجودگی، ان کی نمائندگی سے متعلق اعداد وشمار پیش کر دیے ہیں۔ ان سے ملک کے اہم شعبوں میں مسلمانوں کی قابل رحم نمائندگی کی تصویر عیاں ہو رہی ہے۔ جو یقیناً سرکار کے سب کا ساتھ سب کا وکاس والے دعوے کو منھ چِڑھا رہی ہے۔ دتہ بتا رہے ہیں کہ:

۱۔ ملک کے نامور معاشی اداروں کی بورڈ آف ڈائریکٹرس میں مسلمانوں کی نمائندگی: اسٹیٹ بنک آف انڈیا ۱۲ میں صفر۔ ایچ ڈی ایف سی۱۰ میں صفر۔ ایل آئی سی ۱۲ میں صفر، سیبی ۹؍میں صفر۔ ریزرو بنک آف انڈیا ۱۴ میں صفر، این ایس ای۹ ؍میں صفر۔ بی ایس ای۸ میں صفر، پنجاب نیشنل بنک ۹ میں صفر۔ آئی سی آئی سی آئی بنک۱۲ میں صفر۔

۲۔ تکنیکی تعلیم گاہیں: آئی آئی ٹی ممبئی کے بورڈ آف گورنرس کی تعداد ۱۰؍ ہے۔ اس میں مسلمان صفر۔ یہی حال آئی آئی ٹی دہلی کا ہے۔ وہاں بھی۱۰ ؍گورنرمیں ایک بھی مسلم نہیں۔ مدراس آئی آئی ٹی کے تو۱۵؍ گورنرس ہیں، لیکن وہاں بھی مسلم نمائندگی صفر ہی ہے۔

۳۔ قومی سطح کے لاء اسکولس: این ایل ایس آئی یو کی ایکزیکیوٹیو کونسل کے ممبران کی تعداد ۲۲؍ہے۔ ان میں ایک مسلم ہے۔’یہ ایک بھی سپریم کورٹ جج کی دین ہیں۔‘ این اے ایل ایس اے آر کی ایکزیکیوٹیو کونسل کے ۱۱ ممبران میں۲ ؍مسلمان ہیں۔ ’ایک وائس چانسلر، ایک سپریم کورٹ کے سابق جج‘۔ این یو جے ایس میں ۱۸کے مقابلے صفر مسلمان۔

۴۔ دیگر موقر تعلیمی ادارہ جات: ایس آر سی سی میں ۱۵؍کے مقابلے صفر۔ سینٹ اسٹیفینس میں ۱۶ بمقابلہ صفر۔ مِرِنڈا ہاوس میں ۱۳؍کے مقابلے صفر۔

۵۔ کامرس و اکاونٹینسی سے متعلقہ ادارہ جات: آئی سی اے آئی کونسل میں کل۴۰ ؍ممبران ہیں۔ ان میں ہر مذہب سے۱۰؍ ممبران لیے گئے ہیں، مگر حیرت انگیز طور پر یہاں بھی مسلمانوں کی نمائندگی صفر ہی پائی جا رہی ہے۔ اسی طرح کی حالت آئی سی اے آئی کے بورڈ آف اسٹڈیز کی ہے۔ اس بورڈ میں ۳۲؍ ممبران ہیں اور مسلمان وہی صفر۔

۶۔ اعلیٰ تعلیمی ادارہ جات: ملک کی موقر و آجکل خاصی متنازع جواہر لعل یونیورسٹی کی ایکزیکیوٹیو کونسل کے کل ۲۳؍ممبران ہیں۔ ان میں دو مسلم شامل ہیں۔ آئی آئی ایس سی بنگلور میں ۱۹ میں زیرو مسلمان۔ آئی ایس آئی کولکاتہ کے ۳۴؍میں ایک مسلم ’آئی اے ایس کوٹے سے نامزد‘۔

۷۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں سے ہٹ کر ذرا دیگر بھارتیہ تعلیمی اداروں کی بات کریں کہ اس ضمن میں ان کا کیا رویہ ہے؟ ان میں سے کچھ امریکن ملٹی نیشنلس اداروں کے بھارتیہ معاون ادارے ہیں: ایچ یو ایل میں ۱۰؍ کے مقابلے صفر۔ پی اینڈ جی ۱۲ بمقابلہ صفر۔ آئی ٹی سی۱۴ ؍کے مقابلے میں صفر۔ نیسلے۸ ؍بمقابلہ زیرو۔ پیپسی انڈیا ’ورون بیوریجیز۱۰؍ میں سے زیرو۔ کولگیٹ پامالیو ۸؍کے مقابلے زیرو اور میریکو   ۱۰؍مقابلہ صفر۔

۸۔ صنعت کار گھرانوں کے ذریعے چلائے جا رہے بزنس گروپس کی حالت: ٹاٹا گھرانہ ۸ ؍میں سے صفر مسلمان۔ آدتیہ برلا گروپ۹ ؍میں سے زیرو’ان میں بزنس ڈائریکٹرس و بی او جیز علاحدہ ہیں‘۔ مہِندرا ۱۴؍ میں سے صفر۔ رلائنس ۱۴ ؍میں ایک۔ آر پی جی ۷میں صفر مسلمس ’یہ اے بی جی کی مانند لیڈرشپ ٹیم ہے۔ بی او جی نہیں ہے‘۔ سی کے برلا۸؍ کے مقابلے صفر مسلمان ’لیڈرشپ ٹیم‘۔ اڈانی پاور ۶؍کے مقابلے صفر مسلم اور اڈانی پورٹ ۹؍کے مقابلے صفر مسلمان۔

لگے ہاتھ بھارت میں مسلمانوں کے ذریعے چلائی جا رہی صنعتوں کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں: وپرو میں۹ ؍کے مقابلے ۳؍مسلمان۔ ۱۰؍ کے مقابلے ۴؍مسلمان اور ووکہارٹ میں ۱۱کے مقابلے ۴؍مسلمان۔

اس قابل رحم فہرست پر غور کرنے کے ساتھ اگر ہم اسے جنس یا ذات کی مناسبت سے دیکھیں تو ان بورڈس کی حالت اور غیر نظر آتی ہے۔ حالانکہ مذہب کے مقابلے ذات کا اندازہ لگا پانا اور مشکل امر ہے، البتہ جنس کی تفریق واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مودی سرکار کی مسلم خواتین سے ہمدردی کے لاکھ دعوئوں کے باوجود ان بورڈ ممبران میں مسلم خواتین کا کہیں اتہ پتہ نہیں ملتا۔ویسے اس فہرست میں سیاسی تعلیم گاہوں، عدلیہ، سیاسی اور سول سروسز ادارہ جات کے ایکزیکیوٹیوز تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ یقیناً وہاں بھی مسلمانوں کی یہی قابل رحم تصویر سامنے آنے والی ہے۔

ہمارے ان چوٹی کے اداروں میں ملک کی تقریباً۱۵؍ فیصدی مسلم اقلیت کی موجودگی صفر ہونا کیا کوئی پیغام دیتا ہے؟

29 اپریل 2020    بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://newageislam.com/urdu-section/rasheed-qidawai/what-does-the-zero-presence-of-muslims-in-the-country-s-top-institutions-say?--کیا-کچھ-بیاں-کرتی-ہے-ملک-کے-اعلیٰ-اداروں-میں-مسلمانوں-کی-صفر-موجودگی؟/d/121709

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..