New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 02:03 AM

Urdu Section ( 30 Jan 2014, NewAgeIslam.Com)

Tipu Sultan: The Flag Bearer of Hindu-Muslim Unity ہندو مسلم اتحاد کاعلمبردار : ٹیپو سلطان

 

 

رفیع الدین حنیف قاسمی، وادی  

29 جنوری ، 2014

جنگ آزادی  کے عظیم سور ما، برطانوی سامراج کے خلاف سینہ سپر ہونے والےاولین مجاہد آزادی سلطان کے حوالہ سے وقتاً فوقتاً یہ آواز اٹھائی گئی اور ان کے ہندو مسلم یکسانیت اور مذہبی  رواداری عمل کو نشانہ بنایا گیا او ر اس ہندوستان کے عظیم سپوت کے حوالہ  سے یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ اس نے مذہبی  تعصب برتا تھا، چنانچہ اتوار کو جب یوم جمہوریہ کے موقع پر پریڈ میں کرناٹک کی جھانکی میں 18 صدی کے حکمراں ٹیپو سلطان کی شاندار روایات کو پیش کرنے کی کوشش کئی گئی اور ہاتھوں  میں تلوار لئے ٹیپو سلطان کے مجسمے کا جوں ہی راج پتھ  کے گذر ہوا تو اس کے بعد سو شل میڈیا پر یہ بحث چھڑ گئی ، کسی نے ٹیپو سلطان کو برطانوی سامراج کے خلاف سینہ سپر ہونے والا عظیم حکمراں قرار دیا تو کسی نے اس عظیم سپوت کے تعلق سے اپنی مذہبی منافرت اور  دریدہ ذہنی کا ثبوت پیش کیا، اور اس کو ظالم و جابر حکمراں  قرار دیا اور اسے ہزاروں لوگوں کی موت کاذمہ دار بتلایا ، اور ٹیو ٹر پر بعض لوگوں نے ٹیپو سلطان کے ذریعہ  قتل، ٹارچر، ہندؤں کامذہب کروانے ، مندروں کو تباہ کرنے والے واقعات  پیش کئے ۔  ٹیپو سلطان کے ہندو مسلم عدم رواداری  اور عدم یکسانیت کی بات دراصل  یہ تاریخ  سے عدم واقفیت  اور تاریخ  کے مطالعہ  کی کمی یا  خود اس عظیم جنگ آزادی کے سورما کے خلاف  اس کے مسلمان حکمراں  ہونے کی وجہ سے بے جا الزام ہے۔ ٹیپو سلطان ایک انتہا  باصلاحیت  ، قابل، بے پناہ بہار  اور دور بین نگاہ حکمراں تھا ، اس ملک کو انگریزوں  کی غلامی  سے بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی ، انہیں شکست بھی، لیکن انگریزوں کے دیگر  علاقوں  کے مسلمان حکمرانوں کے ساتھ اتحاد  اور خود اس کے وفاداری  کی غداری  کےنتیجے  میں میدان کا ر زار میں دیوانہ وار لڑتا ہوا جام شہادت نوش کیا، انگریزوں تادمِ اخیر ٹیپو کو ہتھیار ڈالنے کو کہا تو انہوں نے  اس وقت جو تاریخی جملہ کہا تھا وہ آج بھی  بطور مثال اور بطور محاورہ مستعمل ہے ‘‘ شیر کی ایک دن کی زندگی  گیڈر کی سو سال کی زندگی سے بہتر ہے ’’، اور ٹیپو  کی موت پر انگریزوں  نے جو جملہ کہا تھا وہ ان کے لئے سچ بھی ثابت ہوا ‘‘ اب ہندوستان ہمارا ہے ، اب ہندوستان ہمارا ہے، اب ہندوستان ہمارا ہے، ’’ اگر ٹیپو کے پشت پر غداری کا تلوار نہ اتار ا جاتا تو یقیناً بر صغیر کے پچھلے ڈیڑھ سو سال کی تاریخ  جو ہے وہ اس سے مختلف ہوتی، انگریز مؤرخوں نے ٹیپو سلطان کو بدنام کرنے کا کوئی دقیقہ فرد گذاشت نہیں کیا، ان کے خلاف طرح طرح سے ہندؤں کو بھڑکا یا، ان کی شہادت کے بعد بھی  ان کی کردار کشی سے باز نہیں آئے ، چنانچہ  انہوں نے ہندو  مسلم مذہبی منافرت کو ہوا دینے اور اپنے اقتدار کے ہوس کی تکمیل  کے لئے ٹیپو سلطان و جابر ، فرقہ پرست او رمندر شکن  بادشاہ قرار دیا ، جب کہ تاریخی  حقائق  اس کی مخالفت کرتے  ہیں، ہم یہاں ٹیپوسلطان کی مذہبی رواداری  کی چند ایک مثالیں  تاریخ  کے حوالے سے ذکر کرتے ہیں، تا کہ تمام برادران وطن کو پتہ چل سکے ٹیپو سلطان  ایک عادل اور رعایا حکمراں تھے ۔

ٹیپو کی شبیہ خراب کرنے میں انگریزوں  کارول:

اولا جس شخص ہندو مسلم اتحاد کو خراب کرنے کے لئے ٹیپو سلطان کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش کی وہ مشہور انگریز مؤرخ لیون بی رنگ تھا، اسی  طرح کرک پیٹرک نے بھی اس کو عدم  روادار قرا دیا ہے ، دلکش تاریخ میسور میں اس کو کٹر  قرار دیتا ہے (سیرت سلطان ٹیپو، الیاس ندوی :432) انگریزوں نے ٹیپو سلطان کے متعلق علمی خیانت سے کام لیا ہے،  ایک انگریز مؤرخ  لکھتا ہے کہ صرف کورگ شہر میں سلطان  نے 70 ہزار لوگوں کو قتل کیا ، حالانکہ میسور تاریخ  کا ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کورگ کی جملہ آبادی 30 یا 35 سے زیادہ نہ تھی، اس میں بھی کئی ہزار مسلمان اور عیسائی  شامل تھے (حوالہ سابق) مہاتما گاندھی  نے بھی سلطان پر لگائے جانے والے  اس الزام کو جھوٹ قرار دیا ہے او رکہا ہے کہ : ٹیپو سلطان کے اپنی رعایا کے ساتھ تعلقات نہایت دوستانہ تھے اور وہ ہندو مسلم اتحاد  کا محرک تھا، یہ بات اگر چہ صحیح  ہے کہ سلطان نے بعض ہندوؤں  کے ساتھ سختی  کی مثلاً  کرشنا راؤ اور ان کے بھائیوں کو پھانسی کی  سزادی اور بعض دوسرے لوگوں کو بھی موت کے گھاٹ اتارا، لیکن یہ سزا ئیں ان کو ہندو ہونے کی وجہ سے نہیں دی گئیں ، بلکہ اس کا سبب  ان کی نمک حرامی و غداری تھی، اس طرح  کاانتقام اس نے خود بعض مسلمانوں سے لیا ، مثلاً انگریز سپاہیوں کے ساتھ زنا کرنے کی وجہ سے بعض  مسلم خواتین  کو قتل کردیا، محمد  قاسم کو غداری  کی وجہ سے  موت کےگھاٹ اتار دیا  ، عثمان خان کشمیری  کو پھانسی  کی سزادی تو کیا کوئی ان مسلمانوں سے سلطان  کی سختی  کی وجہ سے کوئی یہ کہنے کی جرأت کر سکتا ہے کہ وہ خدا نخواستہ  اسلام دشمن بھی تھا ، جہاں ایک طرف ہندو، مرہٹوں اور راجہ ٹرانکور سے اس کی جنگیں  ہوئیں تو دوسری طرف مسلم حکمرانوں  سےبھی اس کی کئی معرکہ آرائیاں  ہوئیں، مذہبی تعصب و تشدد کا الزام اس پر اس وقت درست ہوتا جب وہ غداری و بغاوت کی سزا میں مسلمانوں کو تو معاف کردیتا اور ہندوؤں و عیسائیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ، یہاں چند مثالیں ایسی پیش  کی جاتی ہیں جس  کے سلسلہ میں اسلامی نقطہ نظر سے بحیثیت  ایک مسلم حکمران کے ٹیپو سلطان کے لئے اس کے جواز پر بحث بھی کی جاسکتی ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ مذہبی  رواداری  میں بعض مواقع پر اسلامی  حدود سے بھی آگے بڑھ گیا تھا ۔

1۔ علی مناصب پر ہندو افسران :

ہندو برہمن ‘‘پورنیا’’ سلطان  کی شہادت تک پوری سلطنت خداداد کا وزیر خزانہ اور اختیار  کے اعتبار سےوزیر اعظم میر صادق کے بعدسلطان کانائب تھا ، ‘‘ لالہ مہتا برائے سبقت ’’ جو ہندو برہمن تھا، سلطان کا ذاتی منشی اور خاص معتمد تھا، یہ اردو اور فارسی کاقادر الکلام  شاعر تھا، سلطان کے ہندو متعمدین  سے جو چند لوگ آخر تک اس کے وفادار رہے اس میں ‘‘ ہری سنگھ راؤ ’’ بھی حکومت کا ایک اعلیٰ عہدیدار تھا، کورگ کا فوجدار ایک برہمن  شخص تھا، ‘‘سری نواس راؤ’’ اور ‘‘ اپا جی رام ’’ کو عام طور پر ٹیپو اپنا نمائندہ بنا کر سفارتی مشن پر بھیجتا ‘‘ راما راؤ’’ ایک سوار دستہ کمانڈر تھا، ملیبار میں نائروں کی بغاوت کو کچلنے کے لئے سلطان نے ‘‘ سری پت راؤ ’’ ہی کو بھیجا تھا، ایک دوسرے مرہٹہ سردار ‘‘ سیواجی ’’ کی کمان میں تین ہزار سپاہیوں کی ایک مستقل فوج بھی رہتی تھی، سلطان کے دربار میں سرکاری خطوط لکھنے والے کئی منشیوں میں ایک منشی  ‘‘ نرسیا’’ بھی تھا، دیہاتوں  کی پنچایتوں  میں اکثر سرکار  کی نمائندگی ہندو ہی کرتے تھے، کیرلا میں ساگوان کی لکڑی کی کٹائی کا ٹھیکہ پہلے ایک مسلمان کو دیا گیا پھر بعد میں یہ ٹھیکہ ہندو کو دیا گیا، ہندوؤں  کے مذہبی تہوار  دسہرہ میں سلطان  اپنے تمام اعلی افسران کےساتھ نہ صرف شریک ہوتا بلکہ حکومت کے خزانہ سے اس کے اخراجات  کے لئے ایک بڑی رقم بھی فراہم کرتا تھا، ان تمام مثالوں سے ٹیپو کی رواداری  کا خوب علم ہوتا ہے۔

2۔ مندروں اور اس کے سوامیوں کااحترام :

سلطان کے دل میں ہندؤں کے مندروں اور اس کے سوامیوں کا بڑا احترام تھا، 1791 میں مرہہ دراندازوں نے رگھو ناتھ راؤ کی قیادت میں سلطنت خداداد پر حملہ کے دوران سری نیگری کے مندر کی بے حرمتی کی، اس کی قیمتی املاک کو لوٹ لیا ، سونے سے بنی قیمتی پالکی اور جانوروں  وغیرہ کو بھی لے گئے، سارہ دیوی  نام کی مورتی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر باہر پھینک دیا، کئی برہمنوں کو بھی اس حملہ میں پکڑ کر قتل کیا گیا، یہاں تک کہ مندر کے سوامی اور متولی  شنکر گرو اچاریہ وہاں سے بھاگ کر شہر کارکل میں پناہ  لینے پر مجبور  ہوگئے، وہاں  انہوں نے ٹیپو کو ایک شکایتی  خط لکھا  او رمندر کی بے حرمتی  کی تفصیلات  سے آگاہ کرکے مالی امداد کی درخواست کی، اس وقت  اس واقعہ  پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ٹیپونے جو جواب شنکر گرو اچاریہ کو موصول ہوا  اور وہ خط میسور کے محکمہ آثاریہ قدیمہ  کے ڈائرکٹر راؤ بہادر نرسمہا  اچاریہ کو 1916 میں سرینگری کے مندر میں ملا تھا، خط کامضمون کچھ یوں ہے :

‘‘ جو لوگ مقدس و متبرک مقامات  کی توہین  و بے حرمتی کرتے ہیں وہ اس دنیا ہی  میں بد اعمالیوں کا بدلہ پائیں  گے جیسا کہ شاعر نے کہاکہ لوگ گناہ تو ہنس ہنس کر کرتے ہیں، لیکن اس کابدلہ رو رو کر بھگتے ہیں  مندر کے سوامیوں  کے ساتھ بد سلوکی کرنا خود  اپنی نسل  کی تباہی کو دعوت دینا ہے، جو لوگ ہماری سلطنت میں داخل ہو کر ہماری رعایا کو ستا رہے ہیں   ان سے ہم خود نپٹ رہے ہیں ، آپ کی شخصیت قابل احترام اور دنیا سے بے نیاز ہے، آپ ہماری  سلطنت کی بقاء و حفاظت  اور دشمنوں  کی ہلاکت کے لئے دعا  کیجئے ، آپ کو حسب  ضرورت  ہمارے زیر قبضہ دیہاتوں سے کسی بھی چیز کے لینے کا اختیار ہے’’، اس خط کے ساتھ اس علاقہ کے گورنر کو سلطان نے یہ حکم بھی بھیجا کہ وہ شنکر اچاریہ کی خدمت میں فوراً اس کی طرف سے دو سو اشرفیاں مع غلہ پیش کرے اور سرکاری مصارف پر سارا  دیوی نام کی مورتی  کو احترام کے ساتھ  دوبارہ اس کی جگہ  نصب کیا جائے اور اس تقریب کے موقع پر ایک ہزار فقراء کو کھانا بھی کھلایا جائے ( سیرت سلطان ٹیپو شہید : 432۔435)

3۔ مندروں کو نذرانے :

تعلقہ حجن گڑھ کے ایک گاؤں کلالے کے لکشمی کانتھ مندر میں چاندی  کے چار پیالے ، ایک پلیٹ اور ایک اگلدان اب بھی موجود  ہے جو ٹیپو نے اس مندر  کو نذر کئے تھے، اسی شہر  کے سری گنیشور مندر کو سلطان نے ایک ایسا مرصع  پیالہ  بھی دیا تھا  جس کےنچلے  حصے میں پانچ قیمتی  جواہرات  جڑے ہوئے تھے، سیالکوٹ کے نرائن سوامی مندر  کوبھی قیمتی  جواہرات  سےجڑے  ہوئے کچھ  برتن ایک نقارہ  اور بارہ ہاتھی  اس نے روانہ کئے تھے ، خود سری رنگا پٹنم کے رنگناتھ مندر  میں ایک  کا فور دان اور چاندی کے سات پیالے اس کے دئیے ہوئے اب  بھی موجود ہیں، ڈنڈ یگل کے قلعہ  پر جب  سلطانی افواج نے حملہ  کیا تو اس نے ان کو یہ حکم دیا کہ چونکہ سامنے راجہ کا مندر موجود ہے اس لئے پیچھے  سے گولہ باری کی جائے، ملیبارمی گروایور پر قبضہ کے دوران جب مسلمان سپاہیوں  نےوہاں  کے مندر کو آگ لگانے کی کوشش کی تو اس نے ان کو نہ صرف سزائیں دیں بلکہ اسی وقت مندر کی مرمت بھی کروادی  ، اس کی مزید بے شمار مثالوں کی ملاحظہ کیجئے ( سیرت سلطان ٹیپو 428۔429)

4۔ شاہی محل  کے قریب مندر :

بچپن میں ایک درویش  کی طرف سے اس کے حق میں کی گئی پیشن گوئی  کے پورا ہونے کے بعد جب سلطان تخت میسور کا وارث بنا تو اس نے اس درویش  سے کئے گئے اپنے وعدے  کے مطابق اپنے محل  کے قریب مسجد  کی تعمیر کا ارادہ کیا، چونکہ  محل کے قریب سری رنگناتھ کامندر پہلے سےموجود تھا ، اس لئے  اسی سے متصل  مسجد کی تعمیر کے لئے اس نے سب سے پہلے ہندو سوامیوں اور عوام سے اس کی اجازت حاصل کی، ان کی مرضی  کے بغیر  اس جگہ  مسجد  کی تعمیر کو وہ صحیح  نہیں سمجھتا  تھا،ان سے اجازت  ملنے کے بعد  اس نے اس جگہ مسجد  اعلیٰ  کی بنا ء رکھی، کبھی اگر وہ چاہتا تو اپنی طاقت کے بل بوتے  پر بادشاہ  ہونے کی وجہ سے ان کی اجازت  کے بغیر ہی اس جگہ مسجد بنا سکتا تھا، مسجد اعلی سےمتصل مندر رنگناتھ مندر کے علاوہ  جو اس کے محل  سے صرف ایک سو گز  کے فاصلہ  پر تھا قلعہ میں نرسمہا اور گنگا دھریسوا نام کے دو اور مندر بھی موجود تھے جہاں ، روزانہ صبح  و شام گھنٹیوں کی آواز سلطان کے محل  میں پہنچتی  تھی، لیکن اس نے کبھی  ان کے ان مذہبی  أعمال  کی ممانعت نہیں ۔

5۔ مندروں کی جائیدادیں:

ڈاکٹر سی کے کریم کی کتاب ( Kerala Under Tipu) کے حوالہ سے محمد عبداللہ بنگلوری نے اپنی کتاب ٹیپو کے تذکرے مختلف ادوار میں لکھا ہے کہ صرف کیرالا کے جنوبی ضلع کے ایک تعلقہ  کے 60 مندروں کو سلطان نے سرکاری خزانہ سے سالانہ وظیفے جاری کئے تھے، گرویار یا کے مندر کو ہی 600 سو ایکڑ قابل کاشت زمین بطور انعام دی گئی تھی، ملیبار  کے مندروں و برہمنوں  کو جو زمینیں  بغیر سرکاری لگان کے ٹیپو نے دی تھیں ، ان کی جو  تفصیلات محبّ الحسن صاحب نے اپنی کتاب  تاریخ ٹیپو میں نقل کی ہے وہ کچھ اس طرح ہے (1) کالی کٹ  کے قبضہ امسوم کے ترکنٹیشور وتاکوام کنعاؤ مندر کے لئے 195 ایکڑ زمین (2) پونانی کے گورویا مندر کے لئے 504 ایکڑ زمین  (3) چیلم براتعلقہ  اراند کے مانور مندر کے لئے 73 ایکڑ زمین (4) پونانی کے تروانچکموم مندر کے لئے 212 ایکڑ زمین ، (5) پونانی کے نمودری مندر کے لئے 531 ایکڑ زمین، سلطنت کے وزیر خزانہ ‘‘پورنیا’’ کا خود کہنا تھا کہ سرکاری خزانہ سے مندروں کو سالانہ 193959پگوڈا مالی امداد دی جاتی تھی ، جب کہ مساجد کے لئے یہ امداد اس سے بہت کم تھی ۔

مجموعی طور پر سلطان کی ہندو رعایا نے اس کے ساتھ محبت و عقیدت کا جو سلوک  کیا، اس کی مثال  ملک کے کسی دوسرے مسلم حکمراں کی تاریخ میں بہت کم ملتی،  ہندؤں  کی اکثریت نے آخری وقت تک ا س کے ساتھ  وفاداری کا ثبوت دیا 4 مئی 1799 میں شہادت  کے دن سلطان کی لاش کے آس پاس سینکڑوں ہندو خواتین کی لاشیں ملیں جس میں بعض  نوجوان لڑکیاں بھی پائی گئی خود انگریز افسران نے جب یہ ماجرا دیکھا تو ہندو رعایا کے دلوں میں بھی اپنے مسلم حکمراں  کے لئے عقیدت کے یہ جذبات دیکھ کر انہیں خود حیرت ہوئی جب سلطان کا جنازہ اٹھا تو راستہ میں ہندو عورتیں  ماتم کرتی ہوئیں اپنے سروں پر مٹی ڈال رہی تھیں ، محاصرہ دارالسطنت پر کئی برہمنوں  نے سلطان کی فتح کے لئے اپنی مذہبی رسومات کے مطابق دن بھر کا روزہ رکھاتھا، اگر سلطان کا سلوک ان ہندوؤں کے ساتھ اچھا نہیں ہوتا تو کیا یہ ممکن تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں ہندو ایک مسلم حکمراں  کے لئے اپنی جانیں تک قربان کرتے، اگر اس کے خلاف عام ہندوؤں میں ناراضگی  پائی جاتی تو انگریز وں یا مرہٹوں  کے لئے اپنے مقاصد کے خاطر ہندو مذہب کے حوالے سے ان سب کو سلطان کے خلاف اجتماعی بغاوت  کے لئے اکسانا بہت آسان تھا،  لیکن پوری سلطنت خداداد کی تاریخ میں اس قسم کا کوئی واقعہ  کسی متعصب  انگریز  مؤرخ کی کتاب  میں نہیں ملتا ، یہی وجہ ہے کہ سلطان کے غداروں کی فہرست میں ہندوؤں  کی تعداد سلطنت  میں اکثر یت میں ہونے کے باوجود ان کی آبادی  کے تناسب سے مسلمانوں کے مقابلہ میں کم تھی ۔

ان تمام تاریخی حوالہ جات سے یہ بات اچھی طرح  معلوم ہوتی  ہے آج ہمارے  برادران وطن کو ٹیپو کے تعلق سےجو غلط فہمیاں  ہیں وہ انگریزوں  کے ٹیپو اور اس کے جرأت و ہمت اور اس کی مذہبی رواداری  اور ہندو مسلم اتحاد سے بعض و عناد اور اس کی وجہ سےاپنی حکومت سازی  میں جو رکاوٹیں  درپیش ہورہی تھیں ان کا سب کا نتیجہ تھا،  جس کی رو  میں بہہ کر اس عظیم مسلمان حکمراں اور سامراج کا ناکوں  چنے چپوانے والے ملک  کے سپوت  کے تعلق زبان درازی کی کوشش یا تویہ تاریخی  حقائق سےعدم واقفیت اور تعصب ذہنی  کی علامت ہے۔

29 جنوری، 2014  بشکریہ : روز نامہ اخبار مشرق ، نئی دہلی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/rafiuddin-hanif-qasmi-wadi--رفیع-الدین-حنیف-قاسمی،/tipu-sultan--the-flag-bearer-of-hindu-muslim-unity--ہندو-مسلم-اتحاد-کاعلمبردار---ٹیپو-سلطان/d/35521

 

Loading..

Loading..