New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 09:21 AM

Urdu Section ( 21 Dec 2014, NewAgeIslam.Com)

Interpretation of Gen Zia's Dream !جنرل ضیاء کےخواب کی تعبیر

 

 

رؤف کلاسرا

19 دسمبر، 2014

جو ہوا ہے وہ تو ہوناتھا۔

اگر ہمیں خبر نہیں تھی تو پھر قصور اپنا ہی سمجھیں ۔ جب ہم نے قاتلوں کے حمایتیوں کو یہ موقع دیا کہ وہ ٹی وی اور اخباری کالموں میں اپنے ‘‘ ناراض بھائیوں’’ کےمظالم کا جواز پیش کریں جو اب تک پچاس ہزار بے گناہ لوگوں کا خون بہا چکے تھے ، تو پھر آج یہ روناکیوں؟ جنہوں نے صوفی محمد کا دفاع کیا وہ آج کیوں روتے ہیں؟ جو پارلیمنٹ صوفی محمد اور مسلم خان کی دھمکی سےڈر کر نظام عدل کے نام پر مالاکنڈ میں ریاست کے اندر ایک اور ریاست قائم کرنے پر تیار ہوئی، اس کےنمائندے آج  کیوں آنسو بہاتے ہیں؟ جب شیری رحمٰن کہتی ہیں کہ طالبان کے اعمال کاجواز پیش کرنےوالے ان بچوں کے قاتل ہیں تو وہ  یہ کیوں بھول جاتی ہیں کہ اس طرح جواز پیپلز پارٹی، نواز لیگ اور اے این پی نے مل کر قومی اسمبلی  میں بھی پیش کیا تھا ۔ تب کیا شیری رحمٰن نے جرأت دکھائی تھی؟ نہیں جناب نہیں ۔ ایم کیو ایم اکیلی جماعت تھی جس نے اصرار کیا تھا کہ مت سرنڈر کریں ۔ دوسری آواز چکوال کے بہادر سپوت ایاز امیر کی تھی کہ ریاست غلط کام کرنے جارہی ہے۔ اس دن ہمارے اخبارات نے فرنٹ پیج پر نمایاں سرخیاں شائع کی تھیں کہ مسلم خان کا کہنا ہے جس ممبر نے مخالفت کی انہیں  چھوڑا جائے گا۔

اور پھر سب نے دیکھا پوری پارلیمنٹ دھڑام سےنیچے آگری۔

آج وہ سیاسی مفاد پرست پشاور میں والدین کے آنسو پوچھنے گئے ہیں ۔ جنرل مشرف نے بھی یہی  کچھ کیا تھا ۔ اس نےبھی طالبان کے گارڈ فادر کو خیبر پختون خوا کا وزیر اعلیٰ بنایا اور طالبان کو کھلی چھٹی دی کہ وہ جو چاہیں صوبے میں کرتے رہیں ۔ طالبان کے سب سے بڑے حامی مولانا فضل الرحمٰن  کو قومی اسمبلی  میں اپوزیشن لیڈر بنایا تاکہ وہ اسے ووٹ دے کر اقتدار میں زندہ رکھیں ۔ سب تنخواہیں  عوام سے لیتے رہے اور وکالت طالبان کی کرتے رہے ۔ مولانا  فضل الرحمٰن کتے تک کو شہید او رمنور حسن ملک کے مسائل کاحل عوام کے قتال میں تلاش کرتے رہے ..... آج وہ قتال شروع ہوگیا ۔

ہمارا میڈیا سب کچھ دکھاتا او رسناتا رہا ۔ جس دہشت گر د نےبموں سے بندے اڑائے اسے بھی ٹی وی پر اینکرز نے فون پر لیا  کہ وہ تفصیل سے بیان کرے کیسے اورکیوں مارا گیا ۔ جاتے جاتے شکریہ بھی ادا کیا گیا کہ آپ  نے وقت نکال کر ہمارے ساتھ بات کی اور انشاء اللہ آئندہ بھی ہوتی رہے گی۔

ان مشہور کالم نگاروں اور صحافیوں کے نام ہم بھول گئے ہیں جو اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد والے گھر سےملے تھے جو اسامہ کے خیال میں القاعدہ کے خیالات کے حامی  تھے اور ان کو القاعدہ اور طالبان کو اپنے پریس ریلیز  بھیجنے چاہئیں ۔ وہ اپنے کالموں او رٹاک شوز میں جنہیں  سناتے رہے ۔ کسی دن آپ وہ نام گوگل کر کے پڑھ لیں تو آپ کے ہوش اڑ جائیں کہ کون کون سا کالم نگار طالبان کے لیے رائے عامہ ہمو ار کررہے تھے ۔ وہ  آج اس ملک کے ممتاز کالم  نگار اور صحافی  ہیں اور اب وہی بیٹھ کر رونابھی  ر ورہے ہیں ۔ یہ لوگ جب چاہیں طالبان کے ساتھ مل جائیں اور جب چاہیں  یہ ہمارے ساتھ کھڑے ہوجائیں ۔

کمال سنگدلی پائی ہے ان لکھاریوں نے بھی ۔

کل ہی چار امریکی صدور کے ایڈوائزر بروس ریڈل کی انکشافات سے بھرپور کتاب ختم  کی ہے ۔ کیا آپ وہ سب کچھ پڑھنا چاہیں گے؟ کہ ہم نے بربادی کا سفر کیسے طے کیا تھا یا پھر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے جینا چاہتے ہیں؟

بروس ریڈل لکھتا ہے: ایک دن جنرل ضیاء نے کہا ‘‘ یہ ہمارا حق ہے کہ افغانستان میں ہماری مرضی  کی حکومت ہو ۔ ہم نے فرنٹ لائن کے طور پر خطرات مول لیے تھے اور ہم یہ  کبھی اجازت نہیں دیں گے کہ افغانستان پہلے کی طرح ہوجائے اور وہاں پر بھارتی یا روسی اثر و رسوخ ہو او روہ ہمارے علاقوں پر دعویٰ کریں ۔ افغانستان ایک مکمل اسلامی ریاست ہوگی جو اسلامی نشاۃ ثانیہ کو دوبارہ اجاگر کرے گی اور ایک دن ہم روس کی اسلامی ریاستوں کو بھی فتح کریں گے۔’’

اور پھر افغانستان اور روس کو فتح کرنے اور پوری دنیا کو مسلمان کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ تبلیغ کی بجائے بموں اور دہشت گردی کا راستہ اپنایا گیا ۔ ملک میں مذہبی مدرسوں کے قیام کے لیے کام شروع ہوا ۔ جنرل ضیاء نے مدرسوں سے پڑھے  طلباء کی ڈگریاں کالجوں اور یونیورسٹیوں  کے برابر کردیں۔ 1971 ء میں مدرسوں کی تعداد 900 تھی جو 1988ء میں 8000 ہوچکی تھی جب کہ اس وقت غیر رجسٹرڈ مدرسوں کی تعداد پچیس ہزار بتائی گئی تھی۔ اب تو ان مدرسوں کی تعداد بھی گنتی سے آگے نکل گئی ہے۔ جنرل ضیاء دور کی آرمی  کا پاکستانی معاشرے میں رول بڑھ گیا۔ ایوب خان کےدور میں فوجیوں کی زمینیں الاٹ کرنے کا کام شروع ہوا تھا ، ضیاء نے مہنگی  کمرشل جائیدادیں شہروں میں الاٹ کرنی شروع کیں اور جنرل مشرف نے جب بغاوت کی تو وہ اس وقت تک سب رئیل اسٹیٹ کے سب سے بڑے گروپ بن چکے تھے ۔ افغانستان کے نام پر ہر ملک سے امداد لی گئی ۔ اسرائیل سے خچر تک منگوائے گئے ۔ اس دوران امریکہ نے جہاں ڈالر دینے شروع کیے  ’ وہیں اسلحہ  بھی ملا ۔ 1984 ء تک سی آئی اے جنرل ضیاء کو سالانہ 250 ملین ڈالر فراہم کررہی تھی ۔ 1988 ء تک یہ امداد 400 ملین ڈالر تک پہنچ گئی تھی ۔ جارجیا  میں مونگ پھلی کے باغات کے تاجر امریکی  صدر جمی کارٹر کے بعد جب ریگن صدر بنا تو اس نے ڈالروں کا منہ کھول دیا۔ چار ارب ڈالروں کا ایک نیا پیکج تیار کر کے پاکستان کو دیا گیا ۔ ہم امریکہ سے ڈالر لیتے رہے مگر ہمیں  اتناپتہ نہ تھا کہ اس کی قیمت کیا ادا کرنی ہوگی۔

چالیس لاکھ افغانی مہاجرین نے پاکستان کا رخ کیا ۔ دنیا بھر سے عربی، تاجک ، ازبک گوریلے لائے گئے اور پاکستان میں بسائے گئے۔ پاکستانی قبائلی لڑکیوں سے شادیاں  کرائی گئیں ۔ افغان شہر افغانیوں  سے خالی ہوگئے ۔ صرف قندھار کی آبادی ڈھائی لاکھ سے کم ہوکر پچیس  ہزر رہ گئی تھی ۔ یہ افغان پاکستان میں پھیلتے گئے  اور خیبر پختون خوا، ابلوچستان اور قبائلی علاقے ان افغانیوں کے ہاتھوں برباد ہوتے گئے جو اپنے ساتھ  کلاشنگوف او رہیروئن لائے تھے۔ ڈرگ ٹریفکنگ کلچر بن گئی ۔ روسی اور افغانی ایجنسیوں نے بدلہ لینے  کے لیے پاکستان کے علاقوں کو ٹارگٹ کرنا شروع کیا۔

پاکستان کے لہو لہان ہونے کاعمل شروع ہوگیا تھا ۔

اس دوران جنرل ضیاء کی دوستی امریکی کانگریس مین چارلی ولسن سے ہوگئی ۔ وہ اس کمیٹی کا ممبر تھا جو سی آئی اے کے خفیہ آپریشن کے لیے پیسوں کی منظوری دیتی تھی ۔ چارلی نے چالیس کے قریب دورے کیے ۔ اسی نے پاکستان کو اسرائیل سے خچر تک لے کر دیے۔

بروس ریڈل اپنی کتاب میں انکشاف کرتا ہے کہ جنرل ضیاء نے چارلی ولسن کو خفیہ طور پر پاکستان آرمی کے ‘‘فیلڈ مارشل ’’ کا درجہ دیا ہوا تھا۔ جس دن جنرل ضیاء کی موت ہوئی اس دن چارلی ولسن پھوٹ پھوٹ کر رویا اورجنرل حمید گل کو بتایا تھا کہ وہ آج یتیم ہوگیا ہے۔ بروس ریڈل کے بقول چارلی ولسن نے پاکستانی میں شادی کرنے کا پروگرام بنایا ہوا تھا ۔ اس نے جنرل ضیاء کو قائل بھی کرلیا تھا کہ وہ خیبر پاس میں اپنی شادی توپوں او رگنوں کی گھن گرج میں عالیشان  تقریب منعقد کرے گا جس میں دنیا بھر سے مہمانوں کو بلایا جائے گا۔ اسرائیل سےبھی مہمانوں نے آناتھا ، تاہم یہ شادی جنرل ضیاء کی موت کی وجہ سے نہ ہوسکی تھی ۔

اس دوران جب افغانستان میں ہماری ہی مذہبی  جماعتوں کی مدد سے غریب بچوں کو مروایا جارہا تھا، تو اس وقت جنرل ضیاء اور جنرل اختر نے اپنے بچوں کو امریکہ بھیج دیا تھا ۔ آج ان کے بچے ارب پتی  ہیں ۔ ایک دن صدر ریگن کے سپائی ماسٹر بل کیسی نے پاکستان کا دورہ کیا تو جنرل ضیاء نے اسے نقشہ دکھاتے ہوئے فخر سےبتایا کہ امریکنوں کو سمجھنا ہوگا اصل میدان جنگ پاکستان ہے۔ جنرل ضیاء کی فلاسفی کے پیروکار آج بھی  اپنے کالموں ، ٹی وی ٹاک شوز اور تبصروں میں یاد دلاتے ہیں کہ افغانستان کی فتح کے بعد روس کی ریاستوں کو فتح کرنا ہے۔ جنرل ضیا ء نے بے شک 26 برس قبل فوت ہوگئے تھے لیکن ہم آج تک افغانستان فتح کررہے ہیں، اور اس دوران خود لہو لہان ہوچکے ہیں ۔ ہمارے ‘‘ اچھے طالبان ’’ افغانستان میں جنرل ضیاء کے خواب کی تکمیل  کر رہے ہیں ، چاہے وہاں بے قصور افغان عورتوں ، بچوں او رعام لوگوں کو ہی کیوں نہ ماریں ۔

آج جنرل ضیاء کے صدر ریگن  کے سپائی  ماسٹر کیسی کو کہی گئی بات سچی نکلی ہے۔ پاکستان ہی اصل  میدان جنگ تھا ۔ جنرل ضیاء کے اس خونی خواب کی تعبیر  ڈھونڈ تے ڈھونڈتے پہلے پاکستانی معاشرہ تباہ ہوا ، پھر پچاس ہزار بے قصور پاکستانی مارے گئے اور آج 140 بچے گولیوں سے چھلنی  ہوئے اور وہ  بموں کے ان گنت  ٹکڑے اپنی معصوم چھاتیوں پر سجائے قبروں میں جا لیٹے ہیں ......!

19 دسمبر، بشکریہ : روز نامہ نئی دنیا ، پاکستان

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/ra-uf-klasra/interpretation-of-gen-zia-s-dream--!جنرل-ضیاء-کےخواب-کی-تعبیر/d/100619

 

Loading..

Loading..