New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 05:24 PM

Urdu Section ( 30 Oct 2014, NewAgeIslam.Com)

Children's rights in the light of Holy Sira بچوں کے حقوق سیرت طیبہ کی روشنی میں

 

قاری نور حسین

31 اکتوبر، 2014

حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمام کائنات کے لئے رحمت بن کر آئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود سراپا رحمت ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رحمت کا فیضان اس کائنات میں ہر سو پھیلا ہوا ہے۔ مخلوقات  کی کوئی نوع اور نسل آدم کاکوئی طبقہ  ایسا نہیں جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمتوں  کے ٹھاٹھیں  مارتے سمندر سےفیضیاب نہ ہوا ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمتوں کی فراوانیاں بے کراں ہیں۔ کائنات کا ہر گوشہ اس سراج منیر کی ضوفشانی  سے منور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت  کے وقت نسل انسانیت کے تمام کمزور طبقات ظلم کی چکی میں پس  رہے تھے،  آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کی بعثت کی بدولت  ان تمام طبقات کو نہ صرف عزت ملی بلکہ  ان کو حقوق  بھی عطا ہوئے ۔ بچے نہایت  معصوم اور سادگی کا موقع ہوتے ہیں، بچوں کی زندگی  ہر گھر اور ہر قوم کے مستقبل کی تابناکیوں کا سر چشمہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے الطاف      و عنایات سے بچے  بھی دیگر طبقوں کی طرح فیضیاب ہوئے ۔ آج کل انسانی حقوق کے چارٹر کا پرچار ہورہا ہے اور ہر سال بچہ مزدوری کی حوصلہ شکنی کرنے ، بچوں کو معیاری تعلیم بہم پہنچانے اور ان کے حقوق  سے کما حقہ آگہی  کیلئے بچوں  کا عالمی دن منایا جاتاہے۔ بچوں کے حقوق  کے اس نام نہاد پرچار سے صدیوں پہلے محسن انسانیت سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اسوہ حسنہ کے ذریعہ عملی اور سنہری  نقوش چھوڑے ہیں۔ آئیے  ہم ایک نظر اسوہ حسنہ اور تعلیمات  نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اہم پہلو پر بھی ڈالتے ہیں ۔

قتل اولاد کی ممانعت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی بعثت  کے وقت انسانیت جہالت کی تاریکیوں میں بھٹک رہی تھی ۔ انسان کی سنگدلی انتہا کو پہنچ چکی تھی ۔ اسی عالم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی بعثت  ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہر طبقہ انسانی سمیت  بچوں کو بھی تحفظ ملا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ‘‘ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سےعرض کیا کہ ا ے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  فرمایا ! تم اللہ کا شریک کسی کو نہ بناؤ ، اس نے   عرض کیا،  اس کے بعد بڑا گناہ کون سا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کردے کہ وہ تیرے ساتھ کھانے میں شریک ہوگی۔’’ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درس دیا  کہ غربت  و افلاس کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنا ظلم عظیم ہے۔

زمانہ جاہلیت  میں اہل عرب اپنی بچیوں کو زندہ درگور کردیا کرتے تھے جس کی ایک وجہ معاشی بد حالی ، دوسری وجہ یہ تھی کہ وہ کسی کو اپنا داماد بنانا باعث توہین سمجھتے تھے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث  ہوئی اس بری رسم کو قلع قمع ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹیوں کی ولادت کو نیک شکون اور ان کی پرورش کو باعث  نجات بتلایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کہا کہ ‘‘ جس کی ایک بیٹی ہو اور اس کو زندہ درگور بھی نہ کرے اور اس کی توہین نہ کرے اور بیٹے کو اس پر ترجیح  بھی نہ دے تو اس کے سبب اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔’’

ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ‘‘ جس نے دو لڑکیوں کو پالا پوسا یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں  تو قیامت کےدن میں اور وہ اس طرح ( قریب) ہوں گے( جس طرح میری یہ دو انگلیاں)  ایک اورجگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : ‘‘ جسے اللہ تعالیٰ  3 بیٹیوں سےنوازے اور وہ ان پر صبر کرے اور اپنی طاقت کے مطابق انہیں اچھا لباس پہنائے تو وہ بیٹیاں اس کے لئے جہنم  کی آگ سے باعثِ رکاوٹ ہوں گی۔’’

بچوں کے اچھے نام رکھنا :

 سیرت طیبہ کے مطالعہ سے معلو م ہوتا ہے کہ بچوں کے اچھے او ربامعنی نام رکھے جائیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے اچھے نام رکھتے تھے اور اگر کسی بچے کانام اچھا اور با معنی  نہ ہوتا تو اسے بدل دیتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ‘‘ اللہ تعالیٰ کےنزدیک سب سے پسندیدہ  نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں۔’’ دوسری جگہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ‘‘ اولاد کا حق یہ ہے کہ ان کےاچھے نام رکھے  جائیں ’’  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ‘‘ میرے نام  پر نام رکھا جائے ۔’’ ایک جگہ فرمایا : ‘‘ بچو ں  کے نام  انبیاء کے نامو ں پر  رکھو ’’ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے صاحبزادے کا نام حضرت ابراہیم کے نام پر رکھا ۔ ان  ناموں کے ذریعے حقیقت بچے کو اللہ کا بندہ ہونے کا اقرار ذہن نشین کرانا ہے۔

بچوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم  بچوں سے بے حد محبت اور شفقت فرماتے تھے ۔ اس سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے کامل رہنمائی ملتی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے صاحبزادے  ابراہیم ‘‘ عوالی ’’ میں پرورش پارہے تھے جو مدینہ سے تین چار میل  کے فاصلے پر ہے ۔ انہیں ملنے کے لئے آپ پیدل تشریف لے جاتے، وہاں دھواں ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچے کو اپنے ہاتھوں پر اٹھاتے تھے اور چومتے  ، او رپھر انہیں واپس کردیتے تھے ۔

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ سےبے حد محبت تھی ۔ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو چوم رہے تھے تبھی اقرح بن حابس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے جب دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے نواسوں کو چوم رہے ہیں  تو اس نےعرض کی میرے 10 بچے ہیں اور میں نے کبھی کسی کو پیا رنہیں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو رحم نہیں  کرتا اس پر رحم نہیں  کیا جاتا ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام بچوں سے بے حد محبت اور شفقت کااظہار فرماتے تھے خواہ وہ بچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل میں حاضر ہوتے یا راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے ۔ بہر صورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت سےانہیں حصہ ملتا ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی پھل  پکتا تو لو گ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں پیش کرتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  دعا فرماتے اے اللہ ہمیں مدینہ میں اپنے پھل میں ، اپنے مد  میں اور صاع  میں برکت عطا فرما پھر  آپ صلی اللہ علیہ سلم سب سے چھوٹے بچے کو وہ پھل عطا فرماتے ۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا فرمائی پھر اپنے گھر کی طرف چلے راستے میں جو بچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک کے رخساروں پر دست شفقت پھیرتے او رمیرے رخساروں پر بھی دست شفقت پھیرا ۔

غیر مسلموں کے بچوں سے بھی محبت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنےاسوہ  سے درس دیا ہے کہ تمام بچے شفقت کے مستحق  ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و شفقت کادائرہ صرف مسلمانوں کے بچوں تک محدود نہیں بلکہ غیر مسلموں کے بچوں سےبھی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم شفقت فرماتے تھے ۔ایک غزوہ میں غیر مسلموں کے چند بچے مارے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت آزردہ ہوئے ۔

حالت  جنگ میں بھی غیر مسلموں کے بچوں کا تحفظ:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو انسانیت کے کمزور طبقات کا اس قدر احساس تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  ہنگامی حالات میں بھی ان کے تحفظ  کا انتظام فرماتے۔  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  جب جہاد کے لئے کوئی لشکر بھیجتے  تو سپہ سالار کو نصیحت فرماتے  کہ بچوں کو قتل نہ کیاجائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں جو اللہ  تعالیٰ کا انکار کردیں ان سے جنگ کرو لیکن  خیانت او رعہد شکنی کا ارتکاب نہ کرنا او رمقتولین کی لاشوں کو مثلہ  نہ کرنا او رکسی بچہ کو قتل نہ کرنا۔ ایک او رجگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا ۔  عورتوں او ربچوں کو قتل نہ کیا جائے ۔

بچوں کی تعلیم کا انتظام:

سیرت طیبہ کے مطالعہ  سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ تعلیم کا انتظام والد اور حکومت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جب بدر کے قیدیوں  کی آزادی  کیلئے فد یہ کی شرط مقرر کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو قیدی پڑھے لکھے ہیں وہ 10۔10 مسلمان بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھادیں تو اس کے عوض آزادی حاصل کرسکتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اورجگہ ارشاد فرمایا اولاد کا والد پر حق یہ ہے کہ ان کے اچھے نام رکھے اور انہیں تعلیم دے ۔ جب بالغ ہوں تو ان کی شادی کرے۔

 بچوں کی تربیت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ  بچوں کی تربیت  کو ترجیح دی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایسی نہ تھی کہ بچوں کو ناجائز امور سے منع نہ فرمائیں  بلکہ  آپ نے ہر مرحلہ پر بچوں کی تربیت فرمائی ۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ سے واپس تشریف لائے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ  کے گھر تشریف لے گئے ۔ دروازے پر کپڑے کا پردہ لٹکا ہوا  دیکھا اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں میں چاندی کے کنگن دیکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ گئے ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئیں  کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس معاملہ کو نا پسند فرمایا ہے تو انہوں نے  وہ پردہ چاک کر دیا او ربچوں کے ہاتھوں سے کنگن اتار دیئے ، پھر انہیں اپنے ناناآنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میرے  اہل بیت ہیں میں نہیں چاہتا کہ یہ دنیاوی  آسائشوں سے آلودہ ہوں ۔

حدیث شریف میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کابچوں کے پاس سے گزرہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سلام کہتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کایہ عمل بچوں کو تربیت کیلئے ہوتا تھا کہ جب یہ بچے  بڑے ہوں تو اخلاق نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم او رآداب شریعت  پر گامزن ہوں ۔

اولاد کو ناجائز کاموں سے منع کرنا:

ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صدقے کی کھجور یں پیش کی گئی ۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً ان کے منہ سے کھجور کا وہ دانہ  نکال دیا اور فرمایا کہ یہ ہماری شان کے لائق  نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا یہ اندازہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نواسے کو نہ صرف منع فرمایا بلکہ کھجور کا وہ دانہ ان کے منہ سے نکال دیا جس سے معلوم ہوتاہے اولاد کو ناجائز کاموں سے روکنا ان کی تربیت کے لئے ضروری ہے۔

بچوں سے جھوٹ بولنے کی ممانعت:

بچے عموماً والدین سے مختلف قسم کےسوال کرتے ہیں اور یہ ان کے سیکھنے کا طریقہ ہوتا ہے اس لئے والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کو مطمئن کریں اور صحیح جواب دیں ٹال مٹول  سے کام نہ لیں اورجھوٹ نہ بولیں۔ اس جھوٹ بولنے سے بچو ں کی غلط تربیت ہوتی ہے اور والدین جھوٹ بولنے پر گنہگار بھی ہوتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ جب میں بچہ تھا تو رسول  صلی اللہ علیہ سلم  ایک دفعہ ہمارے گھر تشریف لائے ، میں باہر جانے لگا تو میری والدہ نے مجھے بلایا کہ واپس آؤ میں تمہیں کچھ چیزدوں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری والدہ سے فرمایا ‘‘ کیا تو اسے کوئی چیز دینے کا ارادہ رکھتی ہو؟ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اسے کھجور دینے کا ارادہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم نے یہ ارادہ  نہ کیا ہوتا تو تمہارے نامہ اعمال میں جھوٹ لکھ دیا جاتا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے یہ درس  ملتا ہے  بچوں کے اخلاق پر والدین اور اساتذہ کو بھر پور توجہ دینی چاہئے۔

یتیموں کی کفالت او ران پر شفقت :

یتیم ان بچوں کو کہتے ہیں جو بلوغت کی عمر کو نہ پہنچے ہوں اور ان کے والد فوت ہوگئے ہوں ۔ ایسے بچے رشتہ داروں ، خاندان او ر اہل علاقہ کی محبت و شفقت اور توجہ کے بہت مستحق ہوتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یتیموں سے حسن سلوک اور ان کی پرورش کی بڑی فضیلت بیان فرمائی۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ مسلمانوں کے گھروں میں سےبہترین  گھر وہ  ہے جس میں کوئی یتیم رہتا ہو اور اس سے حسن سلوک کیا جاتا ہو اور بدترین گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم رہتا ہو او راس بدسلوکی کی جاتی ہو۔ ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے یتیم  سے جو اس کے پاس رہتا ہو حسن سلوک کیا تو وہ اور میں جنت میں اس طرح ہوں گے (جس طرح میری دو انگلیاں) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور جگہ ارشاد فرمایا جس نے محض اللہ کی رضا کے لئے یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا تو اس کے ہاتھ کے نیچے یتیم کے جتنے بال آئے اتنے گناہ اس کے معاف ہوں گے۔

بچوں سے جبراً مزدوری کرانا ظلم ہے:

آج کئی ممالک میں بچوں سے جبراً مشقت لی جاتی ہے جس سے بچوں کے بنیادی حقوق تلف ہوتے ہیں، ان کی صحت اور نشو و نما پر برا اثر پڑتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں پر شفقت اور رحمت کا درس دیا ہے ۔ اس لئے بچوں سے معاشی فوائد کے حصول کیلئے مشقت  کراناظلم ہے۔ بچوں کا استحقاق تعلیم و تربیت ہے، جن بچوں سے مشقت لی جاتی  ہے وہ تعلیم او ر تربیت دونوں سے محروم رہ جاتے ہیں جو کہ صریحاً ان کی حق تلفی ہے۔

خلاصہ بحث:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے فیض سے ایسے  پاکیزہ معاشرے کا قیام عمل میں آیا، تاریخی انسانی جس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے نور سے جو فیضیاب ہوئے انہوں نے ہر میدان میں کامیابی  کےعلم گاڑے ۔  تین سو تیرہ بے سرو سامان نفوس  قدسیہ نے اسلحہ سے لیس ہزاروں کفار کو ایسی ذلت آمیز شکست سے دو چار کیا جس کا صدمہ عالم کفار کو بھلائے  نہیں بھولتا ۔

31 اکتوبر، 2014  بشکریہ : انقلاب، نئی دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/quari-noor-hussain/children-s-rights-in-the-light-of-holy-sira--بچوں-کے-حقوق-سیرت-طیبہ-کی-روشنی-میں/d/99806

 

Loading..

Loading..