New Age Islam
Fri May 14 2021, 07:03 PM

Urdu Section ( 19 May 2017, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

India Will No Longer Be the Abode of Peace; If It Publicly Becomes Hindu Rashtra اعلانیہ ہندو راشٹر بن جانے پر ہندوستان دارالامن نہیں رہے گا

 

قاسم سید

4مئی،2017

جو لوگ ہندو راشٹر کی بات کرتے ہیں اور آگ سے کھیل رہے ہیں ۔ انہیں سمجھنا چاہئے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت نے جناح کے مجوزہ پاکستان کو مسترد کردیا تھا اور گاندھی ،نہرو ، آزاد کے پیچھے آہنی دیوار بن گئے۔ انہیں یقین تھاکہ ہندوستان سب کا ملک ہے۔ایک بات اور دھیان دینے کی ہے۔ صدیوں قبل اسلامی مجتہدین نے اسٹیٹ کے بارے میں دو تصور دیے تھے : دارالاسلام اور دارالحرب ، مگر ہندوستانی علماء نے ملک کی ساخت کو مد نظر رکھتے ہوئے تیسری اصطلاح وضع کی اور ہندوستان کو دارالامن قرار دیا ۔ یہ ہندوستانی مسلمانوں کے عقیدہ میں شامل ہوگیا کہ ہندوستان دارالامن ہے۔ انہوں نے جنا ح کا تقسیم والا ایجنڈا دیوار پر مار دیا۔ یہ تصور فخر کی بات ہے، وہ آزاد ہندوستان کو مضبوط و مستحکم بتانے میں اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتے رہے ہیں جب کہ ہندو راشٹر کا ایجنڈہ تقسیم کرنے والا ہے۔ یہ اکیسویں صدی میں جناح کی سیاست پر عمل کرنے کا اظہار ہے۔ ہندوستانی مسلم جماعتوں کے نمائندہ پلیٹ فارم مسلم مجلس مشاورت کے ساتویں صدر نوید حامد نے گفتگو کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا ۔ وہ اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ ہندو راشٹر کے حامی کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی اکثریت ملک کو اسلامی ریاست بنانا چاہتی ہے ۔

اس سو ال پر کہ موجودہ حالات کو کس طرح بیان کیا جاسکتاہے ؟ نوید حامد نے کہا کہ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اسلام کا سیاسی نظریہ اپنے پیروکاروں کو دارالاسلام اور دارالحرب کے بارے میں ان کو شہری ذمہ داریوں کے تئیں واضح ہدایات دیتا ہے۔ اگر ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کا اعلان کردیا گیا تو پھر یہ زیادہ عرصہ تک دارالامن نہیں رہ سکے گا۔ ایسے میں اسلام کے احکامات کی طرف رجوع کر کے فیصلہ کرناہوگا۔ پھر یہ فیصلہ کرنے کے لئے آزاد ہوں گے کہ ہجرت کریں یا اسلام مخالف ریاست میں مز احمت وجد وجہد کا راستہ اختیار کریں، کیونکہ اس آئیڈیا کا تحفظ ا س کا مذہبی فریضہ بھی ہے۔ یہ بات یقینی ہے کہ اب مسلمان ہجرت نہیں کرنے والا۔ کوئی ملک انہیں قبول بھی نہیں کرے گا ، اس میں پاکستان بھی شامل ہے، کیونکہ اس نے تصور پاکستان اور تشکیل پاکستان کی سخت مخالفت کی تھی۔ دو قومی نظریہ کو مسترد کردیا تھا اور یہ جان لیجئے کہ اگر ہندوستانی مسلمانوں نے نے جناح کی تھیوری مان لی ہوتی تو جنوبی ایشیا کا جغرافیہ مختلف ہوتا ۔ تو کیا یہ مان لیا جائے کہ ملک ہندو راشٹر کی طرف بڑھ رہا ہے ؟ صدر مشاورت کا کہنا ہے کہ یقیناًمودی سرکار کے برسراقتدار آنے کے بعد سے مسلمانوں کو سلیقہ کے ساتھ عوامی زندگی کے ہر فریم سے باہر کیا جارہا ہے۔ لوگ سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے الیکشن میں انہیں ٹکٹ نہیں دیے گئے ۔ ہماچل سے آندھرا تک اور اتر پردیش جیسی بڑی ریاست سے لوگ سبھا میں ایک بھی مسلم نمائندہ نہیں ۔ بہار سے صرف دو ہیں ۔ سیاسی حیثیت کو زبروبنانے کی عملی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ ہماری غلطیاں نہیں ہیں؟ نوید حامد نے اس بارے میں کہا کہ بالکل ہماری حکمت عملی ناکام رہی ، کیونکہ ہم منفی سیاست کرتے رہے۔ لڑائی صرف ہرانے جتانے تک محدود کردیا گیا ۔ صدر مشاورت نے اندیشہ ظاہر کیا کہ ہم ایسے دورکی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ہندوستانی سوسائٹی کے مختلف طبقات میں تصادم کی راہ ہموار ہوگی۔ اس سے امن و امان اور رنگارنگی تہذیب و ثقافت کو خطرہ ہوگا۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا ماحول اقلیتوں کے خلاف ہورہا ہے ؟ انہوں نے کہاکہ ہاں او رہم چاہتے ہیں کہ حکومت وہائٹ پیپر لاکر عوام کو بتائے کہ مسلمانوں نے کب ہندوستان اور قومی مفادات کے خلاف کام کیا۔ان کے پاس تمام معلومات ہوں گی، حالانکہ پی ایم اور وزیر داخلہ الاعلان کہہ چکے ہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں نے آئی ایس کو روکنے کاکام کیا۔ پورے ملک میں چند مسلم نوجوان ہی اس کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے اور سر پرستوں نے اتھارٹیز سے رابطہ کرکے کونسلنگ کرائی۔ تو پھر مسلمانوں کو پاکستانی حامی کیوں کہا جاتا ہے؟ اس میں کیا سچائی ہے؟ نوید حامد نے کہا کہ دلچسپ بات ہے اور میں چاہوں گا کہ حکومت ان تمام جاسوسوں کی لسٹ لائے جنہوں نے 1947کے بعد سے پاکستان کے لیے کام کیا۔ اڈوانی جب وزیر داخلہ او رڈپٹی پی ایم تھے تو انہوں نے الزمام لگایا تھا کہ مدرسے دہشت گردی کے اڈے ہیں ،مگر جب پارلیمنٹ میں ان سے وضاحت مانگی گئی تو انہوں نے وہائٹ پیپر لانے کی بات کہی مگر آج تک ایسا نہیں ہوا۔

نوید حامد نے یہ پوچھنے پر کہ بی جے پی نام نہاد سیکولر پارٹیوں پر مسلمانوں کی خوشامد او رمنھ بھرائی کا الزام لگاتی رہی ہے، اس پر کیا کہیں گے؟ انہوں نے سخت انداز میں کہا کہ اگر واقعی ایسا ہے تو مودی سرکار کے پاس موقع ہے کہ وہ اس پر وہائٹ پیپر لائے ۔ دراصل سیکولر پارٹیاں سافٹ ہندو کارڈ کھیلتی رہی ہیں ۔ انہوں نے ملک کے سیکولر ڈھانچہ کے تحفظ کے لئے سنجیدہ کوششیں کیں ۔ انہیں نظر انداز کیا۔ یہ سلسلہ اندرا گاندھی کے دور سے شروع ہوا تھا ۔ ویسے سچر کمیٹی رپورٹ ایک طرح کا وہائٹ پیپر ہی ہے۔ منھ بھرائی کا حال یہ ہے کہ آزادی سے قبل مسلمان سرکاری نوکریوں میں 30فیصد تھے، 1951ء میں 29فیصد ، اور اب صرف 3فیصد رہ گئے ۔ مسلم آبادی والی پارلیمانی سیٹیں ایس سی ایس ٹی کوٹہ میں ڈال دی گئیں اور جہاں دلت اکثریت میں ہیں وہ جنرل کوٹہ میں ۔ یہ ہے منھ بھرائی ۔ موجودہ حالات میں کیا ہوسکتا ہے ؟ اس بارے میں صدر مشاورت نے کہا کہ سول سوسائٹی کو ساتھ لے کر جمہوری حقوق کا تحفظ کرنا اوّلین ترجیح ہونی چاہئے ۔ اگر سیکولر پارٹیوں نے نزاکت کونہیں سمجھا تو او ربد تر حالت ہوجائے گی ۔ کشمیر کے موجودہ حالات پر انہوں نے کہا کہ مذاکرات واحد راستہ ہے ، طاقت کا استعمال شدت سے زیادہ ہو تو اس کے اچھے اثرات بر آمد نہیں ہوتے ۔ کشمیر کے تناظر میں یہ بات زیادہ اہم ہوجاتی ہے۔

4مئی، 2017بشکریہ : روز نامہ خبریں ، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/qasim-syed/india-will-no-longer-be-the-abode-of-peace;-if-it-publicly-becomes-hindu-rashtra--اعلانیہ-ہندو-راشٹر-بن-جانے-پر-ہندوستان-دارالامن-نہیں-رہے-گا/d/111213

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..