New Age Islam
Sat Dec 04 2021, 03:25 AM

Urdu Section ( 19 Oct 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sir Syed Ahmad Khan سر سید احمد خاں

 

قادر خاں

17 اکتوبر، 2014

بات تو رسوائی کی ہے لیکن با ت کہنا بھی ضروری ہے ۔ موجودہ حالات میں فضا کچھ غداری کی چلی ہوئی ہے ۔ ہر طرف شور ہے کہ غدار کون ہے؟ لیکن سمجھنے کی  بات یہ ہے کہ ہم کسی کو غدار کہہ کیوں رہے ہیں؟ ویسے بھی غداری کچھ فیشن سا بنتا جارہا ہے ۔ جنگ آزادی کو غدر قرار دے کر پہلے مسلمانوں کوجد وجہد کو غداری سے موسوم کیا گیا تھا تو پھر انگریز سرکار نے ہندوستان پر قبضہ کے بعد جد وجہد کرنے والوں کو غدار کہہ کر سزائیں دیں ۔

1857 کےسانحہ ہو شربا کے بعد مسلمانان ہند کی حالت بد سے بدتر ہو چکی تھی سلطنت ، دولت و حشمت اور عزت ناموس کو غارت و تباہ برباد کردیا گیا ۔ ابنائے قوم کو چن  چن کر قتل کیا گیا ۔ صلیبی جنگوں کا بدلہ لینے کے لیے جہاں ایک طرف انگریز شعلہ نفرت میں ملبوس تھا دوسری جانب ہندو پنڈت اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لینے کے لیے دانت پیس رہا تھا ۔ سر سید احمد خان نے جب اپنامشہور رسالہ ‘ اسباب بغاوت ہند’ لکھا تو اس رسالے نے ہندوستان اور انگلستان کے سیاسی  حلقوں میں تہلکہ مچادیا ۔ اسی طرح سر سید احمد خان ‘ لائن محمڈنز آف انڈیا’ میں لکھتے ہیں کہ اس وقت کوئی آفت ایسی برپا نہیں جس کے متعلق  یہ نہ کہا گیا ہو کہ اسے مسلمانوں نےبرپا کیا ہے،  خواہ وہ کسی رام دین یا ماتا دین ہی نہیں کیوں نہ برپا کی ہو ، کوئی بلا آسمان سے نہیں  آئی، جس نے سب سے  پہلے مسلمان کا گھر نہ تاکا ہو، کوئی کانٹوں والا درخت اس زمانے میں نہیں اُگا جس کی نسبت یہ نہ کہا گیا ہو کہ اسے مسلمانوں نے بویا ہے،  کوئی آتشیں بگولہ نہیں اٹھا جس کے متعلق یہ نہ مشہور کیا گیا کہ ہو کہ اسےمسلمانوں نے اٹھایا’۔

‘ اسبا ب بغاوت ہند’ کے رسالے پر انگریز حکومت کے جو ش غیظ و غضب کا اندازہ ان الفاظ سے لگایئے  جو گورنمنٹ آف انڈیا کے فارن  سکریٹری مسٹر بیڈن نے کہے ‘ اس شخص نے بہت باغیانہ مضمون لکھا ہے، اس سے حسب ضابطہ فوراً باز پرس کی جائے اور اگر کوئی معقول جواب نہ  دے سکے تو سخت سزا دی جائے ’ ۔ سر سید احمد خان اس وقت انگریز ملازمت میں تھے ،  ان کی دلیرانہ ہمت پر انگلستان کےمشہور اخبار ‘ ہوم نیوز’ نے اس رسالے پر تبصرہ  کرتے ہوئے لکھا کہ ’ سرسید نے انتہائی  دلیری سے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اور یہ بات محتاج بیان نہیں کہ ان کی اس جرأت مندانہ رائے نے  حکمران طبقہ کوبے حد متاثر کیا ہے’۔

بغاوت ہند کے ایک ہی سال بعد یعنی 1858 میں کلکتہ بمبئی  او رمدراس میں جدید علوم کی یونیور سٹیاں قائم ہوگئی تھیں جن میں ہندو جوق در جوق داخل ہورہے تھے لیکن مسلمانوں کے علما اکرام نے فتویٰ دے رکھا تھا کہ انگریزی پڑھنا حرام ہے ۔ اس لیے مسلمانوں نے اسے شجر ممنوعہ سمجھا، جس کا نتیجہ  یہ رہا کہ بیس سال میں صرف بیس مسلمان گریجویٹس ہوسکے ۔ ان یونیورسٹیوں سے نکلے  ہوئے غیر مسلم،حکومت کی مشنری  میں داخل ہوتے رہے،  بالآخر سر سید احمد خان نے 1863 میں سائنٹفیک سوسائٹی کی بنیاد رکھی جس کا اولین مقصد تھا کہ عصر حاضر کے علوم سے متعلق  جو کتابیں انگریزی میں شائع ہوں، ان کا اردو میں ترجمہ کیا جاسکے ۔ اپریل 1869 یوروپ کے سفر کے بعد جب اکتوبر 1870 میں سر سید احمد واپس ہندوستان  پہنچے تو انہوں نے مسلمانوں کی تعلیمی  زبوں حالی پر ایک کمیٹی  خواستگار ترقی تعلیم بنائی، جس کا فریضہ تھا کہ وہ تحقیق  کرے کہ مسلمان تعلیم میں پیچھے  کیوں ہیں۔ 24 مئی     1875 کو سر سید احمد خان نے مدرسہ کی بنیاد رکھی ۔سر سید احمد خان یہاں یہ کوشش کرر ہے تھے تو دوسری جانب مولوی  حضرات  ان کے پیچھے کفر کا ڈنڈا لیے پھر رہے تھے  ،  فتویٰ جاری ہوا کہ ‘ جو لوگ مدرسۃ العلوم قائم کرنا چاہتے ہیں وہ درحقیقت مسلمان نہیں’ ۔ سر سید احمد خان ملاؤں کو جواب بھی دیتے  رہے اور مدرسہ علی گڑھ کی بنیاد رکھی ۔

اس وقت ملک میں قریب ساڑھے آٹھ سو ہندو گریجویٹس تھے اور صرف بیس مسلمان ۔ علی گڑھ کالج 1878 میں کھلا اور اس کےبیس سال بعد جب  سرسید کی وفات ہوئی تو ملک میں 126 گریجویٹس مسلمان تھے اور 174 انڈر گریجویٹس  تھے ۔ اس کالج نے اتنا ہی نہیں کیا بلکہ اس دیوار کو بھی گرایا جو مسلمانوں کے اور علوم عہد حاضرہ کے درمیان کفر  کا ہوا بن کر حائل تھی ۔  نتیجہ  ملک میں دیگر مقامات  مثلاً  لاہور، امرتسر، کراچی، حیدر آباد، بہاولپور وغیرہ میں مسلمانوں کے اسکول اور کالج کھلنے شروع ہوگئے، اس کا نتیجہ  یہ نکلا کہ جہاں 1881 تک ملک میں صرف 43 مسلمان گریجویٹس تھے، 1893 تک ان کی تعداد 339 تک پہنچ گئی ۔  1894 سے 1898 تک صرف الہ آباد اور پنجاب میں ان کی تعداد 185 تھی، عام تعلیم کی یہ حالت تھی کہ بنگال میں 1881 میں کالجوں  اور اسکولوں میں ایک لاکھ پچاسی ہزار مسلمان طالب علم تھے اور 1894 تک ان کی تعداد چار لاکھ نوے ہزار تک پہنچ گئی ۔ یہ نتیجہ  تھا ایک مرد درویش دیدہ  ور کی دور نگاہی اور جرات آموزی کا۔

بات یہ نہیں تھی کہ غیر مسلم کے مقابلے  میں کتنے مسلم گریجویٹس  پیدا کیے جا رہے ہیں بلکہ زنجیر  غلامی کو توڑ نے کی ایک ایسی کوشش تھی جس نے وقت کے ساتھ یہ ثابت کردیا’ ۔ سرسید خان نے غدار، کافر،  نیچری  جیسے  فتوؤں کے باوجود  مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیےمسلمانوں کو جدید تعلیم نے منور کیا اور اس جد وجہد  نے آگے چل کر مسلمانوں کیے جداگانہ تنظیم کی شکل اختیار کی۔  مدرستہ العلوم  کی تعلیم سے سرسید کا پیش نظر کیا تھا اس  کا اندازہ ان کے اس خطاب سے لگائیے  جو انہوں نے طلبا  سےکیا تھا یاد رکھو!  سب سے سچا کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔اس پر یقین  رکھنے کی  بدولت ہماری قوم ، ہماری قوم ہے، اگر تم نے سب کچھ  کیا اور اس پر یقین  نہ کیا تو تم ہماری قو م نہ رہے، پھر اگر تم آسمان کے ستارے  بھی ہوگئے تو کیا،  مجھے امید ہے کہ تم علم اور اسلام دونوں کے نمونے ہوگے اور جبھی  ہماری  قوم کو حقیقی  عزت نصیب  ہوگی۔’’ سرسید احمد خان اپنے  حصے کا کام کرگئے ، ہمیں اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔ مغربی ممالک ہمارے تعلیمی  نظام میں رخنہ ڈالنے میں کامیاب ہوچکے ہیں او رہم ایک جانب  نہ تو انگلش میڈیم ہیں اور نہ ہی اردو میڈیم  ہیں۔ نقل  مافیانے  رہی سہی کسر پوری  کردی ہے اور کسی حکومت نے اعلیٰ تعلیم ادارے بناکر قوم میں نشاۃ ثانیہ پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ صرف اپنے مقاصد کے لیے  غداروں کی فیکٹریوں  سے کوئی تو سر سید احمد خان کی طرح غدار نکلے ۔

17 اکتوبر، 2014  بشکریہ : روز نامہ خبریں، نئی دہلی 

URL:

https://newageislam.com/urdu-section/qadir-khan/sir-syed-ahmad-khan--سر-سید-احمد-خاں/d/99605

 

Loading..

Loading..