New Age Islam
Wed Apr 14 2021, 06:53 PM

Urdu Section ( 2 Apr 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Poetry of Love for the Homeland جن کی شاعری میں وطن عزیز سے محبت کے سرچشمے پھوٹتے ہیں


پروفیسر نصیر احمد خاں

28 مارچ 2021

فیض احمد خاں فیض۳؍فروری ۱۹۱۱ء کو سیالکوٹ(پاکستان)  میں بیرسٹراور افغانستان کے میر منشی سلطان محمد خاں کے یہاںپیدا ہوے۔ ا ن کی ابتدائی تعلیم مذہبی تھی۔ جدید علوم کے لئے اسکاچ مشن اسکول سے ہائی اسکول اورمرے کالج، سیالکوٹ سے انٹرمیڈئیٹ کیا۔بی۔اے تھرڈ ایئرکے امتحان میں انھیں انگریزی کے پرچہ میںکالج کے پرنسپل اور پروفیسرلینگ ہارن نے۱۵۰؍  میں ۱۶۵؍نمبر یہ کہہ کر دئے کہ میں اس سے زیادہ نہیں دے سکتا تھا۔فیض صاحب نے انگریزی اور عربی دونوں ادبیات میں ایم۔اے کئے۔ ممتاز اساتذہ میں شمس العلما سید میر حسن،پروفیسر یوسف سلیم چستی کے علاوہ پطرس بخاری،صوفی غلام مصطفی تبسم، مولانا عبدالمجید سالک، مولانا چراغ حسن حسرت، ڈاکٹر تاثیر، پنڈت ہری چند اختر وغیرہ تھے۔اےایم اے او کالج امرتسر اور ہیلی کالج لاہور میں پڑھایا اورہارون کالج کراچی کے پرنسپل بھی رہے۔ دوسری جنگ ِ عظیم میں فوج میں اس لئے بھرتی ہوئے کہ سامراجی طاقتوںکو سبق سکھانا چاہتے تھے ۔کرنل کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔فیض صاحب نے انجمن ترقی پسند مصنفیں کی بنیاد رکھی۔ماہنامہ ادب ِ لطیف اورانگریزی اخبار پاکستان ٹائمز کے مدیر اورایفروایشیائی سہ ماہی مجلہ لوٹس کے بیروت میں مدیر ِاعلیٰ بھی رہے۔پاکستان ٹریڈیونین  فیڈریشن کے نائب صدر اور بین الاقوامی مزدور کانفرنس تحریک پاکستان کے رکن ممبربھی تھے۔اشتراکی خیالات رکھنے کی وجہ سے کئی بار جیل گئے۔فیض صاحب پاکستان آرٹ کونسل کے سیکریٹری اور صدر بھی رہ چکے ہیں۔انھیں بین الاقوامی لیلن امن انعام سے بھی نوازا گیا ۔متعدد مسلم ممالک کی سیاحت کی جن میں مصر،شام ،عراق، الجزائر،لبنان خصوصاََ قابل ِ ذکر ہیں۔ انھوں نے  روس ،امریکہ،کناڈا ،برطانیہ،فرانس وغیرہ میں تقاریر اور خطبات بھی پیش کئے ۔ان کی شاعری کے مختلف ایشیائی ،افریقی اوریوروپی زبانوں میںتراجم ہو چکے ہیں جن میں روسی،ترکی، انگریزی، فرانسیسی ، چیکی، ہنگیری ، جاپانی،عربی،فارسی، منگولی،ازبک، بنگالی،ہندی وغیرہ اہم ہیں۔فیض احمد فیض لا ابالی ،بے نیاز اور خود فراموش قسم کے انسان تھے۔بھولنے کی عادت تھی ۔اکثر غائب دماغ رہتے اورکچھ نہ کچھ دیکھتے اور سوچتے رہتے تھے آنکھیں اور لب اکثرایک خوشگوار نیم تبسم میں ڈوبے ہوتے تھے،بلا کے سگریٹ نوش تھے۔عشق و محبت کے حادثات سے بھی گذرے۔کوئی منظور ِ نظرجیل میں پابندی سے انھیں عطر بھیجتی تھیں، جمالیاتی حس بہت بیدار تھی۔ پھول اتنے پسند تھے کہ جیل میں بھی باغبانی کی۔وہ ٹھنڈے مزاج کے بے حد مصلح انسان تھے۔تحمل اور خاموشی سے ناسازگار حالات کا مقابلہ کرتے تھے۔شکوہ و شکایت شیوہ نہ تھا۔ظرف سمندر کی طرح وسیع تھا۔صابر اور بردبار تھے۔ احتجاج نہیں کرتے تھے۔ مخالفین کے پتھر کھا لینے کے باوجود اپنے مسلک پر قائم رہتے تھے۔ایک فرنگن ایلس سے شادی کی جنھوں نے ان کی زندگی سنوارنے میں اہم رول ادا کیا۔کئی فرنگی دوست بھی تھے جن میں ایک اسکاٹش خاتون نے ان کے والد پر انگریزی میں کتاب بھی لکھی۔وہ سیکولر مزاج رکھتے تھے اور ہندوپاک کی گنگا جمنی تہذیب کے دلدادہ تھے جوامیر خسرو، کبیر، گرونانک، غریب نواز، نظام الدین اولیا،بھلے شاہ وغیرہ کے نظریات و خیالات سے عبارت ہے اور جس کی جڑیں قندھار، موہن جوداڑو، ٹکسلا ،متھرا، کاشی، سومناتھ، اجمیر، قطب مینار ،تاج محل، سمرقندو بخارا اور عرب و عجم تک پھیلی ہوئی ہیں۔ہمشیرہ کی رخصتی سے ایک روز قبل والد کی موت ، جیل میں ملنے گئے بڑے بھائی کا ہارٹ فیل ، زنداں کی صعوبتیں، روزنبرگ جوڑے کی بے مثال قربانی، کوریا، کینیا،مراکش اور تئونس کے لوگوں کی شہادتیں،جلیان والا باغ کا قتل ِ عام، وطن ِ عزیز کی خستہ حالی، غربت و افلاس جیسے حالات و واقعات نے فیض کی زندگی کو بہت متاثرکیا۔

فیض احمد فیض نے ہائی اسکول سے ہی شعر کہنا شروع کر دئے تھے۔ پھر پروفیسر یوسف سلیم چستی کی سرپرستی میں باقاعدہ شاعری کرنے لگے۔ان کی شاعری امرتسر میں پروان چڑھی جہاں وہ پڑھاتے بھی تھے۔اپنے زمانے کی مشہورادبی ہستیوں سے ذاتی مراسم تھے ؛ جیسے امتیاز علی تاج ، چراغ حسن حسرت، حفیظ جالندھری ، اختر شیرانی وغیرہ۔رشید جہاں، مجاز، جذبی، مخدوم، سردار، جاں نثار اختر،ملک راج آنند، جوش، فراق ،سجاد ظہیر وغیرہ سے بھی تعلقات تھے۔ سجاد ظہیر تو جیل میں ان کے ساتھ بھی رہے ۔ فیض کا پہلا مجموعہ ٔ کلام نقش ِ فریادی ۱۹۴۱ءمیں چھپ کر منظر ِ عام پر آیا۔دوسرے مجموعوں  کے نام اس طرح ہیں : دست ِ صبا،زندہ  نامہ ، دست ِ تہہ سنگ ، سرِوادیٔ سینا ، شام ِ  ِشہریاراں  میرے دل میرے مسافر (منتخب کلام کے تراجم ) ، غبار ِ ا یام وغیرہ ۔ کلیات کا نام سخن ہائے وفا ہے۔نثری تصانیف میں میزان (تنقیدی مضامین)،صلیبیں میرے دریچے کی،(خطوط) ، متاع ِلوح و قلم(تقریریں اور متفرق تحریریں )، مہہ و سال ِ آشنائی ( یادیں اور تاثرات) ، قرض ِ دوستاں ( مقدمے اور دیباچے)ہیں۔

 فیض کی شاعری ترقی پسند اقدار کے گرد گھومتی ہے۔انھوں نے اپنی شاعری میں انھیںاس خوبصورتی سے اپنایا کہ وہ ان کی تہذیب و تمدن کی روایت، شاعری کی انفرایت اور نرم،شیریں اور مترنم انداز ِ بیان سے مزین ہو گئی ۔ فیض کی نظم ’تم جو تاریک راہوںمیںمارےگئے،روزنبرگ جوڑےکی بےمثال قربانی کی یاددلاتی ہے ۔ سرگودکھااور لایل پور کی جیلوں میں جب انھیں قلم ، کاغذ، کتاب اور اخبار سے محروم کر دیا گیا تو انھوں نے:

متاع ِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے

کہ خون ِ جگر میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے

 جیسے اشعارکہے، ان کی شاعری میں وطن ِ عزیز سے محبت کے سر چشمے بھی پھوٹتے ہیں ۔وہ اپنے ہم وطنوں کی خستہ حالی، قوم کی عزت و ناموس ، ارزانی، بھوک، غم، ناداری اور استحصال کو دیکھ کر تڑپ اٹھتے ہیں ۔ وہ اپنی عوام کو نوآبادیاتی نظام کی غلامی سے آزاد کرانے کی جدوجہد کرتے ہیںاور اپنی شاعری میں دنیا کا غم بھی بانٹتے ہیں ۔فیض کی شاعری کے دو نمایاں پہلو ہیںیعنی امن اور آزادی ۔ ایک صحافی کی حیثیت سے انھوں نے مقامی آقاؤں کی غلامی سے اپنے عوام کو آزاد کرانے کے لئے دل و جان کی بازی لگا ئی۔رجعت پسند لوگ ان کی قوت ،صداقت اور توانا اسلوب سے خوفزدہ تھے۔اس لئے ان پر اسیری مسلط کر کے جیل میں ڈال دیا لیکن قید خانے سے بھی نغمے ابلتے رہے جو مادر ِ وطن کی محبت سے لبریز تھے :

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے

ان کے نغموں کی گونج دوسرے ملکوں میں بھی سنائی دیتی ہے اور لاکھوں انسانوں کے دلوں کو گرماتی ہے۔جیل کی صعوبتوں کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑا بلکہ رہائی کے بعد وہ زیادہ  پرجوش اور ولولہ کے ساتھ اپنی جدوجہد میں لگ گئے ۔ وہ ترقی پسند مصنفین کے قیام کے بعد غم جاناں اور غم ِ روزگار سے گذر کے غم ِ وطن اور غم ِ جہاں کی سنگلاخ راہوں پر چل پڑے تھے۔انھوں نے وطن پرستی اور انسان دوستی کی خاطر ہزار آفتوں کا سامنا کیا اورقربانیاں دیں۔ فیض اکثر کہا کرتے تھے کہ کسی بڑے مقصد کی خاطر اگر انسان کو جیل جانا پڑے تو ضرور جانا چاہئے۔ ان کی نظر میں شاعر کا کام محض مشاہدہ ہی نہیں ،مجاہدہ بھی اس پر فرض ہے۔فیض  احمد فیض بیسویں صدی کے چندشاعروں میں سر محمد اقبال کے بعد دوسرے بڑے شاعر ہیں۔

ایک دن پروفیسر محمد حسن نے راقم سے کہا کہ فیض صاحب دہلی آرہے ہیں ۔کیا خیال ہے کہ اگر انھیں جے این یوبلایا جائے ۔ میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے پرجوش لہجہ میں یہ بھی کہاکہ شعروشاعری کے علاوہ ان سے کچھ لیکچرز بھی دلوائے جائیں تو بہتر ہوگا۔ہمارے طلبا کوان سے استفادہ کرنے کااس سے بہتر موقع پھر کہاں ملے گا‘ ۔ پروفیسر محمد حسن راضی ہو گئے اور مجوزہ پروگرام کی ساری ذمہ داری مجھ پر ڈال دی۔فیض احمدفیض راج کمل پرکاشن کی مالک شیلا سندھو کے یہاں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ہم لوگ ان سے ملنے وہاں گئے توچائے کے دوران اس سے پہلے کہ ہم انھیںیونی ورسٹی آنے کی دعوت دیں وہ مسکراتے  ہوئے بولے : ’ ہمیں  نہرو یونی ورسٹی کب دکھارہے ہو؟‘ محمد حسن صاحب نے جواب دیا :  ’ ہم اسی لئے آئے ہیں ‘َ۔یہ سن کر وہ  شیلا سندھو کی طرف دیکھنے لگے ۔دودن بعد کا پروگرام طے ہوا۔اس بیچ طلبا کو بلا کر میں نے تیاریاں شروع کردیں۔ڈاکٹڑقیصر شمیم جو بعد میں سینٹرل وقف بورڈ  ، حکومت ہند کے چیئرمین ہوئے ، پروفیسرشاہد پرویز(مولانا آزاد اردو یونی ورسٹی)، پروفیسر علی جاوید ( دہلی یونی ورسٹی) وغیرہ جو ان دنوںطالب ِ علم تھے، نے اپنے پنے کام سنبھالتے ہوئے اخبارات میں اشتہار دئے۔کیمپس میں پوسٹر لگائے اور پروگرام کے لئے روسی مرکز کا اڈیٹوریم مخصوص کرایا۔میں فیض صاحب کولینے شیلا جی کے گھر گیا۔راستہ میں جواہر لال نہرو یو نی ورسٹی کے بارے میں پوچھا اور جواب  میں ایک معیاری  اعلیٰ  نئی سوچ رکھنے والی انٹر نیشنل یونی ورسٹی کے قیام کا سن کر خوش ہو گئے۔میں نے پروفیسر نورالحسن، سابق وزیر ِ تعلیم ، حکومت ہندکا نام لیتے ہوئے کہا کہ یہ یونی ورسٹی انھیں کا برین چائلڈ ہے۔ گفتگو کے بیچ فیض صاحب۵۵۵؍ سگریٹ کے کش لیتے  ہوئے مجھے کم اور کھڑکی کے باہر اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے زیادہ دیکھتے رہے تھے۔ لگتا تھا کی انھیں مشاہدہ کا بڑا شوق ہے۔میں نے راستہ میں فیض صاحب سے  زبان کی کچھ غلطیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ آپ کے کلام میں قواعد کی غلطیاں نکالتے ہیں ۔ اس پر آپ کا کیا ردِ عمل ہے ۔ہنستے ہوئے بولے ؛ ’ میں نے اپنی اصلاح کرلی‘۔پھر سگریٹ کاکش لے کر میری طرف دیکھتے ہوئے بولے۔’ کیا تمہارے پاس بھی میری کچھ غلطیاں ہیں ؟۔ یہ سن کر میں ہنس دیااور ان کی عظمت کا قائل ہو گیا۔عرض کیا : ’ لوگوں نے تو مرزا غالب کو بھی نہیں بخشا۔ دراصل بڑا شاعر زبان استعمال کرنے میں کسی اصول کا پابند نہیں ہوتابلکہ وہ جیسے کہتا ہے وہی معیار بن جاتا ہے۔فیض احمد فیض کے ساتھ احمد فراز بھی آئے تھے اورجن پتھ ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔انھوں نے ملاقات پر بتایا کہ وہ فیض صاحب کی کلیات مرتب کر رہے ہیںجس کا نام ’سارے سخن ہمارے‘ رکھنے کا خیال ہے لیکن ابھی عنوان طے نہیں ہوا ہے۔ہم لوگوں سے پہلے وہ  یونی ورسٹی کیمپس پہنچ گئے تھے۔

فیض احمد فیض کا پروگرام تین بجے تھا لیکن پتہ نہیں کیسے لوگوں کو یہ معلوم ہو گیاکہ وہ اس وقت پروفیسر محمد حسن کے چیمبر میں بیٹھے ہیں۔ لوگ اسکول آف لینگوئجیز کی طرف ٹوٹ پڑے۔جواہر لال نہرو یونی ورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ کو سمجھا بجھا کر روسی مرکزبھیج دیا لیکن جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دہلی یونی ور سٹی کے ساتھ کچھ شہر سے آئے ہوئے لوگ جانے کو تیار نہیں تھے اور فیض صاحب سے ملنے اور انھیں دیکھنے کے لئے بیتاب تھے ۔ہم لوگوں نے جواہر لال نہرو یو نی ورسٹی کے روائتی انداز میں ڈھابے سے کچھ نمکین وغیرہ منگاکے چائے پی ۔معمولی کپ میں فیض صاحب کو چائے پیتا دیکھ کر کچھ لوگوں کے ابرو تن گئے جس کا ہم لوگوں نے کوئی اثر نہیں لیا۔چائے پی کر میں انتظامات دیکھنے روسی زبان کے سینٹر پہنچا۔  ہال لوگوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ اگلی صف میں محترم لوگ بیٹھے  ہوئے تھے جن میں بدرالدین طیب جی ( سابق واٗئس چانسلر،مسلم یونی ورسٹی)  ، مشہور پینٹر فدا حسین ، مشہور صحافی کلدیپ نیر ،  پروفیسر مونس رضا ( ریکٹر ،جواہر لال نہرو یونی ورسٹی ) ، عالمی شہر ت کے مالک پروفیسر بپن چندرا ، حیات اللہ انصاری (ا یم۔ پی، راجیہ سبھا) ، ہندی کے مشہور مارکسی نقاد پروفیسر نامور سنگھ ، پروفیسر ستیش چندرا( یونی ورسٹی گرانٹس کمیشن کے چیئرمین ) اور مشہور شاعر گلزار دہلوی خصوصاََ قابل ِ ذکر ہیں۔  میں نے یہ سوچتے ہوئے گھڑی دیکھی کہ پروفیسر محمد حسن وغیرہ کو اب تک آ جانا چاہئے تھا۔ ہال سے باہر نکلا تو سامنے سے ایک بڑی سی کالی گاڑی آتی ہوئی نظر آ ئی جس پر پاکستان کا جھنڈا لہرا رہا تھا ۔اس میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالستار بیٹھے ہوئے تھے۔’  انھیں توہم نے بلایا نہیں تھا۔‘ یہ بڑبڑاتے ہوئے میں نے آگے بڑھ کر انھیں ریسیوکیا۔ ہاتھ ملاتے ہوئے مسکرا کر بولے : ’آپ نے تو ہمیں بلایانہیں لیکن فیض احمد فیض سر میرے استاد ر ہے ہیں اس لئے خود چلا آیا۔‘  میں انھیں لے کر ہال میں داخل ہوا۔کسی نے کسی ردَ عمل کا اظہار نہیں کیا شاید پہچانانہیں تھا۔ وہ پچھلی سیٹوں کی طرف بڑھنے لگے کہ اچانک گلزار دہلوی ہز ایکسی لینسی کہہ کر چیخ پڑے۔ سب پاکستان ہائی کمشنر کو دیکھنے لگے۔ میں نے بدرالدین طیب جی کے پاس انھیںبٹھایا۔چند ہی منٹوں بعدپروفیسر محمد حسن ہال میں داخل ہو ئے ۔فیض صاحب کو دیکھتے ہی پورے ہال نے کھڑے ہوکر دیر تک تالیاں بجا کر ان کا استقبال کیا۔  نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے میں نے یونی ورسٹی اور یونی ورسٹی اساتذہ  و طلبہ کے طرف سے فیض صاحب کا خیر مقدم کیااوراسٹو ڈینٹ یونین کے بیباک صدرسیتا رام یچوری کو دعوت دی کہ وہ طلبا کی طرف سے فیض صاحب کا استقبال کریں ۔ سیتا رام یچوری جو اِس وقت سی پی ایم کے جنرل سیکریٹری اور ممبر پارلیامینٹ ہیں، نے کہا : ’  فیض احمد فیض صرف پاکستان کے نہیں بلکہ ہم سب کے ہیں خصوصاََان ملکوں کے جہاں غربت ہے، غلامی ہے،غصب ہے اور جہاں انقلاب کی ضرورت ہے‘۔انھوں نے دکنی لہجہ میں ٖفیض احمد فیض کے چند شعر بھی پڑھے ؛ جیسے گلوں میں رنگ بھرے۔۔۔۔،ہم کہ ٹھہرے اجنبی ۔۔ ۔۔، وہ بات جس کا سارے فسانہ میں۔۔۔ وغیرہ۔  جب مجمع سے کسی طالب ِ علم کی آواز آئی کہ ’ ہم ٖفیض صاحب کو سننے آئے ہیںتو ہنستے ہوئے ڈائس سے اتر ّآئے۔یہاں مجھے سیتا رام یچوری کاایک واقعہ یاد آ رہاہے۔اسٹوڈینٹ یونین صدر کی حیثیت سے جب وہ  یونی ورسٹی کانوو کیشن میں وزیر ِ اعظم ہند مرار جی ڈیسائی سے اپنے مخصوص حلیے اور انداز میں ملے تو بکھرے بال اور کھلاگریبان دیکھ کر انھوں نے ٹوکتے ہوئے  ناگوار لہجہ میںکہا کہ اپنے گریبان کے بٹن لگاکر رکھا کرو۔ یچوری نے بر جستہ جواب دیا : ’سر ! یہ میرا اسٹائل ہے‘ اور بغیر بٹن لگائے مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔فیض صاحب کے اس پروگرام میںطلبا میں سیتا رمن( موجودہ وزیر ِ خزانہ )  ،شو شنکر ( موجودہ وزیر ِ خارجہ ) اورابھے جیت بنرجی جنھیں حال ہی میںنوبل انعام سے نوازہ گیا ہے،بھی شریک تھے۔

پروفیسر محمد حسن نے فیض احمد فیض کی شاعری پر کئی یادگار باتیں کہیں جن میںایک  یہ بھی تھی کہ فیض دنیا کے واحد شاعر ہیں جنھوں نے امن، آزادی  اور انقلاب کی آوازوںکو سولہ سنگھاروں میں سنوار کر پیش کیا ہے ۔ ان کے لہجہ کی مٹھاس اوردھیمے اور لطیف اندازِ بیان نے نذرالسلام اورجوش کی گھن گرج  پر بازی مارلی ہے ۔محمد حسن صاحب کا اشارہ فیض کے استعاراتی اسلوب کی طرف تھا ۔  ان کے تعارفی کلمات کے بعد جب فیض صاحب اپنا کلام سنانے کھڑے ہوئے  تو دیر تک ہال تالیوں سے گونجتارہا ۔فیض احمد فیض نے ڈائری کھول کر ہنستے ہوئے کہا کہ میرا  تازہ کلام سنیں گے یا مہدی حسن کی غزلیں تو سب لوگ کھلکھلا کر ہنس پڑے۔تقریباََ دو گھنٹے تک وہ اپنا کلام سناتے رہے۔اس میں فرمائشیں بھی شامل تھیں۔ فیض صاحب کا کلام جتنا پر مغز ،پر اثر اور معیاری تھا ان کے پڑھنے کا انداز اتنا ہی خراب تھا۔لگتا تھا کہ جیسے کوئی بے تعلق شخص کچھ پڑھ رہا ہے لیکن اشعارکی معنویت سماں باند ھ دیتی تھی اور اسلوب سے خیال آسمانوں کو چھونے لگتا  تھا۔کچھ لوگ سوال و جواب کا سیشن بھی چاہتے تھے لیکن فیض صاحب کے تھک جانے کی وجہ سے اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ تقریب کے بعد لوگ  ان پر ٹوٹ پڑے لیکن ہم لوگوں نے انھیں اپنے گھیرے میں لے لیا۔فیض صاحب  پاکستان ہائی کمشنر عبدالستار صاحب سے باتیں کرتے ہوئے راستہ میں کھڑی ان کی گاڑی کے پاس لمحہ بھر کے لئے  رکے توہائی کمشنرنے تعضیماََ دروازہ کھول کران سے گاڑی میں بیٹھنے کی درخواست کی لیکن وہ  ہم لوگوں کی طرف اشارہ کر کے مسکراتے ہوئے بولے : ’ میں ان لوگوں کے ساتھ ہوں‘۔اور آگے بڑھ گئے۔ وہ تقریب یادگار تھی۔

28 مارچ 2021،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/prof-naseer-ahmad-khan/poetry-love-homeland-جن-کی-شاعری-میں-وطن-عزیز-سے-محبت-کے-سرچشمے-پھوٹتے-ہیں/d/124641


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..