New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 11:54 PM

Urdu Section ( 23 Apr 2013, NewAgeIslam.Com)

Islam and Modern Sensibility اسلام اور جدید حساسیت

پروفیسر محمد رفیع

23 ا پریل 2011

'موافق ' کا مطلب کسی کے ساتھ، ہم آہنگی ، اتفاق اور سازگار انداز میں رہنا اور معاملہ کرنے کے قابل ہونا  ہے۔ آج مسلمان جدید اقدار اور رجحانات کے ساتھ ان کے مذہب کی مطابقت کے بارے میں الجھن کا شکار  ہیں۔

کچھ مسلمانوں کے عدم روادار اور سرکش  رویے  اور کردار نے  الجھنوں نے  مزید اضافہ کردیا ہے،  جس نے ان کے مذہب کی روح پر پردہ ڈال دیا ہے۔ اس صورت حال نے  اسلام مخالف فورسز کو اسلام کی طرف اپنی بندوقیں تاننے پر ابھار دیا ہے ، دنیا کو یہ بتانے پر مجبور کر دیا ہے کہ یہ ایک فرسودہ اور نا قابل عمل نظام  حیات ہے ۔

مسلمانوں کی اچھی ، بری یا مختلف حالت ایک بات ہے ، اور اسلام کی کامیابی یا ناکامی بالکل دوسری بات ہے ۔ اسلام کے ذریعہ پیش کی گئی سچائیاں اتنی ہی پرانی ہیں جتنی کہ خود یہ کائنات۔ ان سچے اقدار نے آہستہ آہستہ اپنے  راستے اپنے ہی طرف بنانا  شروع کر دیا ہے ۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف لوگوں نے انہیں اپنی  ملکیت بنائی اور ایک ہری بھری زبردست  فصل کاٹی  ۔

ایک نظریہ اور نظام زندگی(دین)  کے طور پر اسلام ایک ایسا جاری خلقی عمل ہے جو  مسلسل تازہ پھل اگاتا رہے گا، لیکن ایک نئی فصل کے لئے، جدید علم پرمبنی  مناسب طریقے سے منظم ، اور اسی طرح  قرآنی اقدار پر مبنی کوششیں ضروری ہیں۔ آج کے مسلمانوں میں اس نمونے کی کمی  ہے۔

علم کی کمی اور سالوں سے  عقیدے کی تلقین مذہبی عدم رواداری اور تعصب کی وجہ رہی ہے، جس کی اسلام سختی کے ساتھ  مخالفت کرتا ہے۔ اگر اسلام کے انصاف، رواداری، اخلاقیات، دیانت داری اور ذمہ داری  کے اپنے بنیادی اقدار کو فروغ دیا جاتا   ہے،اور اس  پر عمل کیا جاتا ہے ، تو  اسلام یقینی طور پر وقت کی جاری رفتار کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ جدید تناظرمیں اسلام کا فیصلہ ان اصول پر نہیں کیا جانا چاہئے ، جو مذہبی جنون بھڑکاتے ہیں ، بلکہ ان اصول کے ذریعہ کیا جانا چاہئے ، جو  انسانی عظمت اور مساوات کے اعلی معیار کا تقاضہ کرتے ہو ں ۔

اگر مسلمان خونخوار دشمنی  کو ختم کرتے ہیں، اور قرآن میں مقرر نظام کے لئے اپنی توانائیاں وقف کردیتے  ہیں، تو بھر نئے قوانین کی ضرورت نہیں ہے۔ سروجنی نایڈو کے مطابق (ینگ مین مسلم ایسوسی ایشن، مدراس، 1917 کو خطاب کرتے ہوئے) "اسلام وہ پہلا مذہب ہے، جس نے  جمہوریت کی تعلیم دی اور اس پر عمل کیا ،مسجد میں ہر روز پانچ مرتبہ، اسلام کی جمہوریت پر عمل کیا جاتا ہے ۔"

نیو ورلڈ آرڈر، جسے  کوئی نہیں سمجھتا،اس نے  مغربی اور غیر مسلم طاقتوں کو نام نہاد جنگلی مسلمانوں کے خلاف کھڑا کر دیا ہے ۔ ارتقاء، آزادی، جمہوریت، ترقی اور صنفی مساوات جیسے جدید دور کے نئے تصورات کے تعلق سے ترقی پذیر، ایک بڑی آبادی کے ساتھ، مسلم ممالک، الجھن میں پڑ ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ محسوس کرنا شروع کر دیا ہے کہ شاید اسلام ان نئے غور و فکر کے آلات کے ساتھ  ہم آہنگ نہیں ہے ۔

اسلامی اقدار یقینی طور پر کارپوریٹ کلچر کی حمایت کرنے کے لئے صف بند نہیں ہے، جس کا مقصد ہر قیمت پر دولت کی بہتات ہے ۔ قرآن اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس کی تعلیمات  ہر زمانے کے لئے ہیں، اور خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے، اور توازن قائم کیا ہے، تاکہ ہم اس توازن سے تجاوز نہ کر جائیں۔ وہ ہمیں انصاف کے ساتھ تولنے کا حکم دیاتا ہے ، اور تول میں کمی سے  منع فرماتا ہے ۔ (9-55:1) ۔

دنیا کے وسائل پر قبضہ کرنا  اور دوسروں کو محروم کرنا، ایک عدم توازن کا سبب ہے، اس جرم  کا ارتکاب ترقی یافتہ ممالک کے ذریعہ غریب اور پسماندہ ممالک پر،  امن اور خوشحالی کے نام پر، کیا جا رہا ہے ۔

قرآن اس طرح کے طرز عمل کے خلاف ہے اس لئے کہ وہ فطرت کے ساتھ، انسان کے خوش حال تعلقات کو متأثر کرتا ہے  ۔ اس مقام پر بھی  ہم اسلام کا دستورالعمل یا ایک اچھا  ورلڈ آرڈر پاتے  ہیں۔ یہ مسئلہ اور الجھن جدید اقدار اور ان کی افادیت کی وضاحت میں پیش آتی ہے ۔ یہ ان کے لئے فائدہ مند ہو سکتے ہیں ، جو ان اقدار اور رجحانات کو مذہبی بنا دیتے ہیں ۔ ایک ہی وقت میں، یہ الجھن پیدا کر رہے ہیں اور ان لوگوں کےلئے  غیر منطقی ہیں، جنہیں  مغربی اقتصادی استعماریت کو  بوجہ مجبوری قبول کر  کے نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔

اسلام کمزور کی ہلاکت کی نفی کرتا ہے ۔ یہاں تک کہ مغرب کاخالص معقولیت پر  انحصار کو بھی اب بہت سے اسکالر کے ذریعہ سرکشی قرار دیا گیا  ہے، اور مکمل طور پر بےترتیب رہا ہے۔ سائنسی علم نے زندگی کے معیار اور مدت میں اضافہ کر دیا  ہے، لیکن اس کا استعمال کیا ہے ؟ اب پہلے سے کہیں زیادہ خودکشی کے واقعات ہو رہے ہیں ۔ جدید رجحانات کے ساتھ ہم آہنگ ہونا یہ اسلام کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ایک قدم اور آگے بڑھ کر ، جدید رجحانات کو ان کے اپنے اقدار کے ساتھ ان کی مطابقت ثابت کرنی ہے، اور صرف اسی صورت میں اسلامی اقدار کا ایک سچا شعور  سامنے آئے گا۔

مغرب خود اپنے نئے زمانے کے فلسفہ میں اتنا پریشان ہے کہ ، ان میں سے بہت سارے  دنیا پرطاری ہونے والے خاتمے کی  بات کر رہے ہیں ۔

وہ جدید دور کی برائیوں کے لئے اسلام سے کیسے سوال یا اسے ذمہ دار ٹھہرا  سکتے ہیں، جب کہ  انہوں نے  خود کو ، اختیار اور جبریت کے  درمیان قید کر لیا ہے ،اور ایک اخلاقی سیاہ دور میں روپوش کر لیا ہے۔ ؟

کیا اسلام کی جدید کاری کی جا سکتی ہے؟ یہ ایک ایساسوال ہے جس نے پوری دینا کے لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے ۔ اس کے  جواب کو، معاشرے کو ہم آہنگ کرنے کے لئے ایک ممکنہ قوت کے طور پر، اسلام کی دوبارہ ایک درست تشریح در کار ہے۔ ثقافتی اسلام کے روایتی معمولات  اور الٰہی پیغام کی حقیقی تعلیمات کو مختلف طریقوں سے دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔ سوچنے  کی آزادی پر پابندی اور آزاد سوچ پر سخت دباؤ، ضرور  ختم ہونا چاہئے۔

قرآن کے مندرجہ ذیل احکام ہر زمانے میں  ایک بہتر مستقبل کا باعث  ہیں: مسلمانوں اپنے کام آپس کے مشورے ،(42:38) ۔ اور مساوی انسانی عظمت (17:70) سے کرتے ہیں ۔وہ زمین میں انصاف قائم کریں گے  (5:8) ۔ وہ زمین پر فساد کو روکیں گے ، اس لئے کہ  خدا فساد کو پسند نہیں فرماتا (2:205) ۔ وہ بنی نوع انسان کے اتحاد کے لئے کام کریں گے (2:213) ۔ ان کا بنیادی مقصد بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود (3:110)، صنفی مساوات (4:32)، صرف کردار کی بنیاد پر  برتری (49:13)، افراد کی نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی (3:79)،اور دین کی  (22:40) اور اظہار رائے کی  آزادی کے کے لئے کام کرنا ہے (2:42) ۔

مغربی طاقتیں جاہل مسلمانوں کے  ہر ایک  غیر اسلامی عمل کی اشاعت اسلامی عمل کے طور پر کرنے کے لئے  امادہ  ہیں، اور مسلمان دانشوروں اور علماء کرام کو  حقیقی قرآنی اسلام پیش کرنے نہیں دینا چاہتے ، اس خوف سے کہ کہیں ان کے اپنے پیروکار  اطاعت شعاری بدل نہ دیں اور ان آفاقی اقدار پر عمل کرنا شروع کر دیں ۔

Source: The Dawn

http://www.newageislam.com/islamic-ideology/islam-and-modern-sensibility-/d/4504

: URL for this article

 http://newageislam.com/urdu-section/prof-muhammad-rafi-پروفیسر-محمد-رفیع/islam-and-modern-sensibility-اسلام-اور-جدید-حساسیت/d/11267

 

Loading..

Loading..