New Age Islam
Wed Mar 18 2026, 09:20 AM

Urdu Section ( 1 Jan 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Contemporary Meaning of Ali Mian's Thoughts افکارِ علی میاںؒ کی عصری معنویت

 افکارِ علی میاںؒ کی عصری معنویت

پروفیسر محمد قطب الدین

30دسمبر،2024

مفکر اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی حسنی ندوی ؒ (1913-1999ء)جو ’علی میاں‘کے نام سے بھی مشہور ہیں،ایک ہمہ گیر اور کثیر الجہات شخصیت کے مالک تھے۔آپؒ کا میدانِ عمل صرف اتر پردیش کے مشہور شہر لکھنؤ میں واقع دارالعلوم ندوۃ العلما کی چہار دیواری یا ہندوستان کی سرحدوں تک محدود نہیں تھا بلکہ مشرق و مغرب اورعرب و عجم بھی ان کادائرۂ کار تھا ۔ اسی طرح یہ کہنا غلط ہوگا کہ ان کی تحریرو تقریر ،وعظ و نصیحت اور افکارو پیغامات انسانوں کے کسی خاص طبقے یا خاص عمر کے لوگو ںکے لیے ہے،بلکہ سچ تو یہ ہے کہ مولانا علی میاںؒ کے مخاطَب مسلم بھی ہیں اور غیر مسلم بھی ،عوام بھی ہیں اور خواص بھی ،رہنمایان قوم اور دانشوران بھی ہیں اور امرا و سلاطین بھی، اسی طرح طلبا و اساتذہ بھی ہیں ۔آپؒ کی علمی و ادبی ،اصلاحی اور دعوتی کوششیں قومی بھی ہیں اور عالمی بھی۔

کسی بھی ملک یا ملت کا مستقبل اس کے نوجوان اور نئی نسل کی تعلیم و تربیت اور اس کی اچھی نشو ونما پر منحصرہے۔مولاناؒ نے ملت اسلامیہ کو اپنی نئی نسل کی تعلیم و تربیت ،عقیدے کی درستگی اور اپنی تہذیبی و ثقافتی وراثت سے آشنا ہونے پرزوردیاہے۔نئی نسل کو کفرو ایمان ،توحید و شرک،عقیدہ و مذہب کا فرق سمجھنے کے لیے وہ صباحی یا شبینہ مکاتب و مدارس کے قیام کو ضروری سمجھتے تھے۔چنانچہ مولانا علی میاںؒ فرماتے ہیں:’ہمارے بچے جو پڑھ رہے ہیں اُن کو آپ نے ایک دن نہیں بتایاکہ توحیدکیاہے؟آپ نے کوئی انتظام اپنے شہر میں دینی مکاتب کا نہیں کیا جہاں بچے پڑھ کر پھر اسکولوں میں جاتے اور اپنا ایمان بچانے کے قابل ہوجاتے۔نہ گھروں میں وہ ماحول،نہ محلہ اور بستی میں ۔اس صورتِ حال کا نتیجہ کیا ہوگا؟ نسل کی نسل دین سے نا آشنا ہوگی،اردو پڑھ نہ سکے گی۔‘(خطباتِ علی میاں ؒ۔ ج۱، ص۲۲۰-۲۲۱)

 دوسری طرف مولانا نے صنعتی ، سائنسی اور دیگر عصری علوم کی تعلیمی افادیت سے بھی امت مسلمہ کو باخبر کیا اور کئی مواقع پر ان علوم کو سیکھنے اور ان کے لیے ادارے و مراکز قائم کرنے کی بھی تلقین کی،صنعتی و سائنسی علوم کو سیکھنے اور سکھانے کے مراکز قائم کرنے کی ضرور ت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:’ہم ہندوستان میں عزت کی زندگی اپنی صلاحیت سے گزارنے پر قادر اور خودکفیل بننے کے قابل اس وقت تک نہیں ہوسکتے جب تک ہم اُن میدانوں (سائنس اور ٹکنالوجی )میں بھی مہارت حاصل نہ کرلیں اور کم سے کم اس سے ہم کام نہ لے سکیں ۔‘ (خطباتِ علی میاں ؒ۔ ج۱، ص۲۳۰)

موجودہ دور میں اکثر مختلف گوشو ںسے یہ بات زوروشور سے کہی جاتی ہے کہ مدارس کے نصابِ تعلیم میں زمانے کے لحاظ سے حسبِ ضرورت تبدیلی آنی چاہیے تاکہ فارغین وقت کے تقاضے کو سمجھ سکیں اور قومی دھارے میں شامل ہوسکیں۔مولانا علی میاں ندوی ؒ بھی اس بات کے قائل تھے کہ نصابِ تعلیم تغیر پذیر ہے اور ہر زمانے میں وقت کے تقاضوں کے مطابق اس میں تبدیلی کی گئی ہے۔ایک موقع پر ندوۃ العلما کے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے آپؒ نے فرمایا: ’خود آپ کا نصابِ تعلیم اس بات کا گواہ ہے کہ علمائے اسلام نے کسی ضرورت کے تسلیم کرنے اور کسی مفید و ناگزیر چیز کو قبول کرنے میں کبھی پس و پیش نہیں کیا،یہ نصاب عہد بہ عہد تبدیلیوں اور مختلف علمی و عقلی رجحانات کانمائندہ ہے،اس میں ہردور میں اضافہ وترمیم ہوتی رہی ہے، صرف یہ سوبرس کا زمانہ ایسا ہے جس میں اس نصاب میں کم سے کم تبدیلی ہوئی ہے۔ حالانکہ یہی زمانہ اپنی سیاسی و دینی تبدیلیوں کی بناپر جائز اور ضروری تبدیلیوں کاسب سے زیادہ مستحق و متقاضی تھا۔‘(پاجاسراغِ زندگی ۔ص:۹۹)۔مولاناؒنے ہمیشہ طلبائے علومِ نبوت کو ان کا منصب و مقام یاددلایا،ملک و ملت کی ان سے توقعات اور موجودہ دور میں ان کی ذمے داریوں کی نشان دہی بھی کی،انھیں عصر حاضر کی زبان سیکھنے اور زمانے کا نبض شناس بننے کی تلقین کی۔حب الوطنی مولاناؒ کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری تھی،وہ ملک عزیز کے وقارکو ہمیشہ پوری دنیا میں بلندو برتر دیکھناچاہتے تھے ،فرقہ وارانہ ہم آہنگی،اخوت و بھائی چارگی،آپسی میل جول کے ساتھ ایک صالح معاشرہ کے قیام کی خاطر پیامِ انسانیت کی تحریک مولانا ؒ نے شروع کی اور اس مقصد کی خاطرگاؤں گاؤں ،شہر ،شہراور قصبے قصبے کا دورہ کیا ۔جذبۂ حب الوطنی سے سرشار مولاناؒ نے ایک مرتبہ ہندستانی عوام کوخطاب کرتے ہوئے کہا:’میرے بھائیو!ہمیں چاہیے کہ ہم سب مل کر اپنے اس ملک میں نظامِ امن پیدا کریں۔اپنے ملک کے وقار کو مجروح نہ ہونے دیں،آپس میں میل محبت کے ساتھ رہیں ،کسی کے بارے میں غیر ہونے کا گھٹیا تصورو خیال بھی ہمارے ذہن و دماغ میں نہ آنے پائے ،یہی وہ ملک ہے جس کے پریم و محبت کی داستان سرائی دوسرے ملکوں میں ہوتی تھی بلکہ آج بھی ہوتی ہے۔جب لوگ یہ جان جاتے ہیں کہ یہ ہندستانی ہیں تو یہ سمجھتے ہوئے بڑی قدرو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ یہ وہ قوم ہے اور یہ ایسے ملک کے رہنے والے ہیںجن کے اندر اختلاط کا حسین امتزاج ہے۔‘(خطباتِ علی میاں ؒ۔ ج ۴، ص۱۰۲)

مولانا ابوالحسن علی حسنی ندویؒ عالمی شخصیت کے مالک تھے۔ ان کا پیام بھی عالمی تھا،اسی لیے مولاناؒ نے عالم اسلام کو بھی خطاب کیا۔وہ جتنے ہندستانی عوام کے نزدیک مقبول تھے اتنے ہی اسلامی ممالک میں بھی ان کی مقبولیت تھی۔انھوں نے عربوں کے اندر حمیت اسلامی اور غیرتِ ایمانی کو جگایا اور جہاں ضرورت پڑی بلا کسی ڈرو خوف کے ان پر تنقید برائے اصلاح بھی کی،انھیں للکارا،ان کا ماضی یاددِلایا اور ایک بار پھر سے انھیں عالمی قیادت پر ابھارا۔

مولاناؒ نے اپنی تحریرو تقریر میں اسلامی دنیا اور بطورِ خاص عالم عرب کی صورتِ حال کا مفصل جائزہ لیا اور اُن اسباب و عوامل کو بیان کیا جن سے آج پورا عالم اسلام دوچار ہے،نیز اس کا حل بھی بتایا۔چنانچہ مولانا موصوفؒنے انھیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا:’آج کی دنیا جس عالمِ اسلام کا سامنا کررہی ہے وہ ذہنی افلاس کی کگار پر کھڑی ہے اور وہ اپنی تباہی دیکھ رہی ہے۔ اُچکّوں اور رہزنوں کا منظم گروہ ہے جوپوری انسانیت پر شب خون ماررہا ہے۔کوئی اس کی فریاد رسی کرنے والا نہیں ہے۔ایسے نازک ترین حالات اور گھٹا ٹوپ اندھیرے میں انبیاعلیہم السلام کی بعثت ہوا کرتی ہے،لیکن سید الانبیاء خاتم النبین کی آمد کے بعد اب کوئی نیا دین آنے والا نہیں البتہ مجدد دین اور اصحاب دعوت و عزیمت تجدید دین کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے۔‘(میرِ کارواں ۔مولانا عبداللہ عباس ندویؒ۔ص۳۳۵)

مولانا علی میاں ندویؒ کے افکارو خیالات تحریر و تقریر اور تصنیف و تالیف کا محور و موضوع تین ’’الف‘‘ میں پنہاں ہے اور وہ ہیں:’ ایمان‘ ،’انسانیت‘ اور’ اخلاق‘، اس میں انسانی معاشرہ کی اصلاح ،انسانیت کے احترام ،خودداری و خود شناسی کا پیام ہے جو ہمیں سچی حب الوطنی ،ملک و ملت کی بے لوث خدمت ،فرض شناسی اور ممتاز شہری ہونے کا احساس دلاتاہے۔‘‘(ڈاکٹر محمد نفیس ۔میری تمام سرگزشت ۔ص۳۹)

گرچہ مولانا علی میاںندویؒ۳۱؍دسمبر۱۹۹۹ءکو اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے مگرآج جب کہ مولاناؒ کی وفات کو تقریباً پچیس برس ہوچکے ہیں ،ان کے افکارو خیالات میں جدت و صالحیت ایسی ہی باقی ہے جیسے پہلے تھی بلکہ عصر حاضر کے انسانیت کُش ،اخلاق سوز، بے راہ روی اور مادہ پرستی کے ماحول میں مولاناؒ کی فکرو پیام کی اہمیت ومعنویت مزید بڑھ جاتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ انھیں دور دور تک پھیلایا جائے تاکہ انسانی معاشرہ ہوش کے ناخن لے کر امن و شانتی کی طرف لوٹے ۔

30 دسمبر،2024، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

-------

URL:     https://www.newageislam.com/urdu-section/contemporary-ali-mian-thoughts/d/134212

 

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..