New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 04:41 AM

Urdu Section ( 28 May 2020, NewAgeIslam.Com)

Sir Syed Ahmad Khan's Educational and Social Mission روشنی بکھیرتا سرسید احمد خاں کا تعلیمی اور سماجی مشن


پروفیسر محمد جہانگیر وارثی

29مئی،2020

آج دنیا جہاں مہلک کورونا وائرس سے دوچار ہے، وہیں ہندوستان میں واقع علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اپنے سو سال پورے کررہی ہے۔ اس یونیورسٹی کا شمار برصغیر کی سب سے بڑی رہائشی یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے اور تقریباً تمام ہندوستانی ریاستوں کے طلبا کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک کے طلبابھی یہاں تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ اس یونیورسٹی کی اپنی ایک قابل فخر اور عظیم الشان تاریخ رہی ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں یہاں کے تعلیم یافتہ لوگوں نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ یونیورسٹی آزادی کی مہم سے لے کر ہندوستانی تعلیمی نظام میں غیر معمولی بہتری لانے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہی اور اپنا مستقل تعاون دیتی رہی ہے۔ آج یونیورسٹی جس بلند مقام پر ہے اور اس کا دائرہ جس قدر وسیع ہے، اس کا سہرا ملک اور بیرون ممالک کے بہت سے لوگوں کے سر جاتاہے۔ بلاتفریق مذاہب وملل بے شمار لوگوں نے اسے عظیم بنانے میں اہم کردار ادکیا۔ لیکن اس کے ساتھ یہاں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ قومی مفاد کے پیش نظر اس یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو بحال کرنا ضروری ہے، کیوں کہ اقلیتی طبقہ نے اس کی بنیاد رکھی اور اس کے انتظام وانصرام میں بھی اسی طبقہ کا اہم کرداررہا ہے۔  اس کا قانونی حق بھی ہندوستانی آئین کی دفعہ۳۰ کے تحت محفوظ ہے۔

سید احمد خان کی ابتدائی زندگی بھی دانشورانہ فکر اور سنجیدہ کوششوں سے عبارت ہے۔ وہ اپنے مثبت افکار اور جہد مسلسل کے ساتھ ساتھ اپنے علمی و سماجی مشن کی طرف گامزن رہے۔ اس تعلیمی و سماجی مشن نے ابتدا سے ہی انہیں ایک منفرد اسکالر اور عظیم سماجی کارکن کی شناخت عطا کی۔ انیسویں صدی کے آخر میں، سرسید احمد خان اپنے زمانے کے سب سے زیادہ  باوقار ، بصیرت افروز، انسان دوست اور ماہر تعلیم بن کر منظر عام پر آئے اور عالمی سطح پر ایک منفرد شخصیت کے مالک بن گئے۔ انہوں نے ہندوستانی معاشرے خصوصاً ہندوستانی مسلم کمیونٹی کے لئے جدید تعلیم کی ضرورت کو محسوس کیا۔ سرسید احمد خان بخوبی واقف تھے کہ خود مختاری اور خود اعتمادی صرف علم، شعور، اعلیٰ کردار، اعلی تربیت سے ہی آسکتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ سرسید احمد خان نے لوگوں کو روایتی تعلیم کی جگہ جدید علم کے حصول کی ترغیب دی۔ کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ جدید تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔سرسید احمد خان اپنے مشن کے مخالفین و طعن وتشنیع کرنے والوں کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ انھیں جواب دینا ہمیشہ مناسب نہیں سمجھتے تھے، ان کو کام تھا فقط اپنے ہی کام سے۔ وہ فروغِ مشن میں لگے رہتے تھے۔ سرسید احمد خان کو کامل یقین تھا کہ وہ مثبت رویہ اپناتے ہیں تو وہ اپنے مشن میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ ان کی دانش مندی اور رواداری کا ہی نتیجہ یہ ہے کہ آج سرسید احمد خان کو ایک عہد ساز انسا ن کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔ متعدد مذاہب کے لوگ ان کا احترام کرتے ہیں۔ سرسید احمد خان نے ہمیشہ اپنی تقریروں میں کہا ’ہندو اور مسلمان ہندوستان کی دو آنکھیں ہیں، اگر ان میں سے ایک آنکھ بھی ذرا خراب ہوجاتی ہے تو اس کا حسن ختم ہوجائے گا‘۔ انھوں نے ۱۸۵۷ کے عظیم انقلاب اور اس کی ناکامی کے نتائج کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ انگریز ہندوستان پر ظلم کرتے رہے۔ سرسید مسلمانوں کی بربادی کو دیکھ کر پریشان ہوگئے اور ان کے دل و دماغ میں حب الوطنی کی لہر دوڑنے لگی۔ انگریزوں نے سرسید کو بہت سے مواقع پر نرم کرنے کی کوشش کی اور اپنے خلاف نہ لکھنے کی ہدایت کی۔ یہ موقع تھا کہ سرسید انگریزوں کے جال میں پھنس جائیں۔ لیکن وہ بہت ذہین انسان تھے اور ہمیشہ ہی انھوں نے دانش مندی کا ثبوت دیا ۔ انگریزوں کی پروا نہیں کی اور حب الوطنی اور تعلیمی مشن کے فروغ میں لگے رہے۔ سرسید کی یہ سب سے بڑی خوبی ہے کہ انھوں نے حالات سے سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ وہ اپنے تعلیمی مشن کو فروغ دینے میں ہمہ تن مصروف رہے۔

 سرسید اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ ہندستان پر انگریزوں کی حکمرانی قائم ہے اور ایسی صورتحال میں ہم صرف تعلیم کی مدد سے ہی ان کا مقابلہ کرسکتے ہیں، لہذا سرسید نے اپنی قوم کو تعلیم کے سہارے ہی آگے بڑھانے کو بہتر سمجھا۔ انھوں نے اپنے بہترین مضامین سے قوم میں تعلیم کی روح پھونکنے اور تعلیم کے لیے انھیں بیدار کرنے کی کوشش کی، تاکہ کوئی بھی تعلیمی میدان میں ہماری قوم پر غلبہ حاصل نہ کر سکے۔ اس مشن میں یہ بھی مرحلہ آیا کہ ان پر کفر کے فتوے بھی لگائے گئے لیکن سرسید ایک مستحکم شخصیت کے مالک تھے ۔اس لئے انھوں نے ہمیشہ ان کو نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ ابھی قوم تعلیم سے آشنا نہیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کرکے تعلیم کے فروغ میں لگے رہے۔ ہندوستان میں منظم تعلیمی ادارہ اور مسلمانوں کی اجتماعی فلاح کے پیش نظروہ انگلینڈ گئے، تاکہ مشن کو مضبوط کرنے کے لیے بہتر طریقوں سے آگاہ ہوسکیں۔ وہاں انھوں نے متعدد تعلیمی اداروں کا جائزہ لیا اور وہاں کی تہذیب وثقافت کو قریب سے دیکھا۔یوروپی تعلیمی نظام کو قریب سے پرکھا۔پھر وہ بہت سی چیزوں کو ذہن میں بسائے ہندوستان واپس آئے اور اپنے مشن کی سمت میں سنجیدگی سے کام کرنا شروع کردیا۔ سرسید نے۱۸۸۶ میں آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس تشکیل دی، جس کے زیر اہتمام تعلیمی فروغ اور مسلمانوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم مہیا کرنے کے لئے مختلف مقامات پر سالانہ کانفرنسیں ہونے لگیں۔ سرسید نے انگلینڈ سے واپسی کے بعد۱۸۷۵میںمحمڈن اینگلو اورینٹل کالج کی بنیاد رکھی۔ دیکھتے دیکھتے کالج نے تیزی سے ترقی کی اور۱۹۲۰ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام سے اس کی توسیع ہوئی۔ سرسید احمد خان نے کالج کے قیام کے بارے میں اپنی ایک تقریر میں کہا تھاـــ’’آج ہم جو بیج بو رہے ہیں وہ ایک گھنے درخت کی طرح پھیل جائے گا اور اس کی شاخیں ملک کے مختلف علاقوں میں پھیل جائیں گی۔ یہاں کے طلبا نہ صرف ہندوستان میں بلکہ پوری دنیا میں رواداری، باہمی محبت اور ہم آہنگی اور علم کا پیغام پھیلائیں گے۔‘ آج ہم ان کے اس قول کی سچائی کو کھلی آنکھوں دیکھ سکتے ہیں۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور سرسید کے مشن سے بخوبی واقف ہیں اور خود بھی ایک مشہور ماہر تعلیم اور پیشے سے ڈاکٹر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خان کے وژن ومشن کو فروغ دینے کے لئے مسلسل کوشاں رہتے ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو  سینٹر آف ایکسی لینس  (Centre of Excellence)کے طورپر ساری دنیا میں ایک مقام دلانے میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ یونیورسٹی کو مزید اونچائی پر لے جانے والی نئی اسکیموں پر غور کریں تاکہ آپسی تعاون سے یونیورسٹی کو عالمی معیار کی یونیورسٹی کی درجہ بندی میں ایک نمایاں مقام حاصل ہو سکے۔    انہوں نے کہا کہ اگر ہم عالمی سطح کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی مشترکہ وراثت اور ثقافت کے فروغ میں پیش پیش رہے تو صحیح معنوں میں ہم سرسید کے مشن کو فروغ دینے میں کامیاب ہوں گے اور یہی ان کے لیے بہترین خرج عقیدت ہوگی۔ یہ حقیقت ہے کہ آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور عالمی سطح پر ہندوستانی تہذیب اور ثقافت کو فروغ دے رہے ہیں۔ سرسید ہندوستانی مسلمانوں کے اولین سماجی مصلحین میں سےتھے جنھوں نے جہالت کی چادر کو چاک کیا اور مسلمانوں میں جدید تعلیم کی روح پھونک کر انھیں ایک نئی زندگی عطا کی۔

 warsimj@gmail.com

29 مئی 2020 بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://newageislam.com/urdu-section/prof-mohammad-jahangir-warsi/sir-syed-ahmad-khan-s-educational-and-social-mission--روشنی-بکھیرتا-سرسید-احمدخاں-کا-تعلیمی-اور-سماجی-مشن/d/121973


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..