New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 10:38 PM

Urdu Section ( 4 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

Shab e Baraat: A Night of Blessings شب برأت: خیرو برکت کی رات

 

یہ موقع اللہ نے ہمیں اپنی خصوصی عنایت اور کرم وشفقت کے تحت عطا فرمایا ہے، تاکہ اس کے ناتواں بندے اپنی کمزوری او ربے بسی کا دامن پھیلا کر اس کی بے کراں رحمتوں سے فیضیاب ہوجائیں

پروفیسر اخترالواسع

5  جولائی ،2012

ابھی کچھ پہلے معراج کی شب گزری ہے، اب شب برأت کی آمد آمد ہے، اور اس کے بعد شب قدر آئے گی۔ ان میں سے ہر شب اپنے اندر کچھ پیغام رکھتی ہے، اور ایک ایسا موقع بن کر آتی ہے جس میں ہم اپنے ماضی کو دیکھتے ہیں اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں ۔ یہ موقع اللہ نے ہمیں اپنی خصوصی عنایت او رکرم و شفقت کے تحت عطا فرمایا ہے ، تاکہ اس کے ناتواں بندے اپنی کمزور ی  او ربے بسی کا دامن پھیلا کر اس کی بے کرا ں رحمتوں سے فیضیاب ہوجائیں۔

شعبان المعظم کا مہینہ بڑی  برکتوں کا مہینہ ہے ۔ یہ مہینہ  رمضان المبارک کی آمد کاہر ادل ہے۔ اس مہینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سےروزے رکھتے تھے او رلوگوں کو اس کی تلقین  فرماتے تھے ۔ روایات میں آتا ہے کہ جب شعبان کا مہینہ  آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبادات او رخیرات کے لیے اپنی کمر کس لیا کرتے تھے۔ اس ماہ مبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ لوگو! رمضان المبارک کا مہینہ  تمہارے  اوپر سایہ فگن ہے۔  یعنی  یہ مہینہ استقبال رمضان کا مہینہ ہے ۔ اس عظیم مہینہ کا استقبال جو تمام مہینوں میں افضل ہے اور جس کی فضیلت قرآن و حدیث میں متعدد جگہ آئی ہے جو نزول قرآن کا مہینہ ہے اور مہینہ کا  استقبال آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی ماہ میں فرماتے تھے۔

شعبان کی فضیلت متعدد احادیث میں وارد  ہوئی او ر شعبان میں بھی ایک خاص وقت اہمیت کا ہے اور وہ  ہے 14 اور 15 شعبان کی درمیانی شب او رپندرہ شعبان کا دن۔ اس شب کو لیلۃ البرأۃ یا شب برأت کہا جاتا ہے ۔ یہ رات بڑی فضیلت او ربرکت کی رات ہے۔

سال کے مہینوں میں ماہ رمضان ، ہفتہ کے دنوں میں جمعہ کادن ، حج کے موقع پر  عرفہ کادن ، اور اس کے ساتھ ذی الحجہ کی ایک تادس تاریخیں ، اور محرم کی دسویں تاریخ وغیرہ ایسے  ہی افضلیت رکھنے والے  کچھ اوقات ہیں۔ اسی طرح شب کے لمحات میں سحر کا وقت خصو صی مقام رکھتا ہے، جمعہ کے دن ایک ایسا لمحہ آتا ہے جس میں دعا قبول  ہوتی ہے۔  شب قدر کی فضیلت میں تو قرآن کریم کی ایک پوری سورت ( سورہ القدر) اتاری گئی ہے۔  شب برأت اوقات افضلیت کے اسی سلسلہ زریں کی ایک کڑی ہے۔ شعبان کا پورا مہینہ  نہایت فضیلتوں کا حامل ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رجب  او ررمضان کے درمیان واقع ایک مہینہ  ہے جس کی برکت سے لوگ غافل ہیں۔اس ماہ میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ ( انسائی)

شب برأت عربی میں ‘‘لیلۃ النصف من شعبان ’’ کہلاتی ہے ،یعنی ماہ شعبان کی پندرہویں شب۔  حدیث کی متعدد کتابوں میں متعدد روایات کے اندر اس شب سے متعلق باتو ں کے ذکر کے لئے یہی عنوان استعمال ہوا ہے۔ ان روایتوں سے مجموعی طور پر جو بات سامنے آتی ہے، وہ یہ کہ اس شب میں اللہ رب العالمین آسمان دنیا پر تشریف لاتے ہیں، اعلان ہوتا ہے کہ کون ہے مغفرت طلب کرنے والا ، او رکون ہے رحمت کاطلب گار ؟ پھر بہت بڑی تعداد میں گنہ گار بندوں کی مغفرت کی جاتی ہے۔  اور اس رحمت عام سے صرف وہ لوگ محروم رکھے جاتے ہیں جو اپنے دلوں میں دوسروں کے لئے کینہ رکھتے ہیں ، یا جنہوں نے شرک او ر قتل جیسے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔اس رات کے تعلق سے یہ بھی ذکر آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس شب میں جنت البقیع کے قبرستان تشریف لے گئے ۔اس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے۔  وہ تلاش کرتے ہوئے آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس شب کی اہمیت  بتائی۔  حضرت علی فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب شعبان  کی پندرہویں شب ہوتو اس رات میں قیام کرو اور اس دن روزہ رکھو۔ یہ ایک لمبی حدیث ہے جو ابن ماجہ میں ہے۔ محدثین نے اس پر کلام کیا ہے تا ہم بڑی تعداد میں امت کا اس پر عمل رہا ہے۔  اس لیے اس موقع پر عبادت کے اہتمام میں بظاہر کوئی چیز مانع نظر نہیں  آتی۔ اس چیز کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام مہینوں کی بھی تیر ہویں ، چودہویں اور پندرہویں شب کو روزہ رکھتے تھے۔  ان ایام کو حدیث میں ایام بیض ( یعنی چاندنی کے دن) سے تعبیر کیا گیا ہے۔

یہ باتیں شب برأت یا ‘لیلۃ النصف من شعبان’یعنی شعبان کی پندرہویں  شب کے تعلق سےآنے والی تفصیلات کا خلاصہ ہیں، ان روایات پر فنی اعتبار سے گفتگو اہل فن کا حق ہے ، اور انہوں یہ گفتگو کی ہے۔ عوام کے لئے ان کا یہ نتیجہ  اہمیت رکھتا ہے کہ یہ شب اسی سلسلہ فضیلت کا  ایک حصہ ہے جس میں وہ رحمت الہٰی کے وسیع دربار میں اپنی غفلت و کوتاہی کے احساس ندامت کی درخواست پیش کر کے اس کی رحمت و مغفرت کے  انعام کا حق دار بن سکتے ہیں ۔ اور اس ضرورت سے کون انسان بے نیاز ہے؟ شب برأت کی یہ فضیلت تو ایک اضافی موقع ہے۔  ورنہ حق تعالیٰ کی باران رحمت بھولے بھٹکے بندوں کو نواز نے کے لئے بہانے ڈھونڈتی رہتی ہے۔ مشہور کہاوت ہے ‘‘رحمت حق بہانہ می جو ید نہا نمی جوید’’ (یعنی اللہ کی رحمت بہانہ ڈھونڈتی ہے قیمت نہیں )اس سے مانگنے کے لئے کسی خاص وقت کی بھی قید نہیں ہے۔ وہ تو ہر آن او رہر لمحہ  اپنے بندہ سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ، ہر لحظہ سننے والا ہے ‘‘ ادعونی استجب لکم’’( مجھ سے مانگو، میں نوازوں گا) کی صدالگانے والا ہے۔ غافل تو خود بندہ ہے، اگر شب برأت کا موقع اس کی غفلت کو جھنجھوڑ تا ہے تو یہ بھی اس کے لئے ز ہے قسمت ہے۔ مختلف روایتوں کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ اس رات کی برکات سے محروم رہ جاتے ہیں اور ان کی مغفرت نہیں ہوتی ان میں  یہ لوگ شامل ہیں: مشرک ،قاتل ،والدین کی نافرمانی کرنے والا، لوگوں نے بغض وعداوت رکھنے والا ،رشتہ توڑنے والا، شرابی ،زنا کار، تکبر کے طور پر ٹخنوں کے نیچے کپڑا پہننے والا۔

شب برأت کا ایک عمل  جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے وہ قبرستان جانا او روہاں مدفونین کے لیےدعا کرنا ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس شب جنت البقیع کے قبرستان تشریف لے گئے تھے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں مذکور ہے ، اس لیے اس شب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بار قبرستان تشریف لے جانا ثابت ہے، اس لیے ہر مسلمان کو کم از کم ایک دفعہ اس شب میں قبرستان جانا چاہئے،یہ بھی اتباع سنت کے زمرے میں آئے گا۔  اس سنت کے اتباع میں مسلمان آج بھی اس رات میں قبرستان جاتے ہیں  اپنے عزیزوں کی قبروں پر حاضری دیتے ہیں  اور دعائے مغفرت کرتے ہیں اور تمام قبرستان والوں کو ایصال ثواب کرتے ہیں۔

قبرستان کی زیارت ہمارے دلوں میں ایک اور حقیقت کی شمع روشن کرتی ہے، وہ یہ کہ اس موقع پر ہم یاد کرتے ہیں اور اپنے گذرنے والوں کو ، ان کے کاموں او رکارناموں کو ، ان کے نقوش پا تو ہماری زمین کے چپہ چپہ پر ثبت ہیں، ہمارے اسلاف ، بزرگان دین، اولیا ء او رماہرین ، کیسے کیسے  لعل و گہر سینہ زمین میں مدفون ہیں۔ان کے عظیم احسانات سے ہماری گردنیں جھکی  ہوئی ہیں۔ یہ یاد ہمیں  ان کی راہوں پر چلنے کے لئے مہمیز کرتی ہے اور ہماری  زبانیں  بار گاہ رب العالمین  سے ان کے لئے جزائے عظیم کی طلب گار ہوتی  ہیں۔ اسی بات کی تعلیم تو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ اپنے مرنے والوں کی خوبیوں  کا اظہار کرو۔ اور خود قرآن میں ہمیں یہ دعا سکھا ئی گئی کہ :  اے ہمارے پروردگار ! ہماری مغفرت فرما او ر ہمارے  ان بھائیوں کی مغفرت فرما جو ہم سے پہلے ایمان کے ساتھ گذر گئے ہیں ، اور ہمار ے دلوں میں کچھ بھی کھوٹ ان کے لئے باقی نہ رہنے دے جو ایمان لائے تھے۔  اے ہمارے رب! بے شک تو مہربان او رمعاف کرنے والا ہے۔

شب برأت کے موقع پر اگر ہمارا  عمل اسی رویے کا مظہر بنتا ہے تو ہم اس امید میں بجا ہوں گے کہ یہ شب ہمارے  لئے بھی شب برأت یعنی نجات اور گناہوں سے آزادی کی رات ہے، ورنہ تو یہ بھی ایک موقع ہے جو دیگر مواقع کی طرح دبے پاؤں گزر جاتا ہے ۔

مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی کے شعبۂ اسلامیات کے سربراہ ہیں

5  جولائی ، 2012   بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

URL: 

http://www.newageislam.com/urdu-section/shab-e-baraat--a-night-of-blessings--شب-برأت--خیرو-برکت-کی-رات/d/7827

 

Loading..

Loading..