New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 01:01 AM

Urdu Section ( 20 Jun 2012, NewAgeIslam.Com)

Palestine, Al-Quds and We ارض فلسطین ، القدس اور ہم


اب صورت حال یہ ہے کہ فلسطینیوں کی کئی نسلیں بے وطنی کے شدید تجربے اور انتفاضہ کے عمل سے گزر کر ایک ایسی منزل پر آپہنچی ہیں جہاں ماضی ، حال اور مستقبل تینوں تاریک نظر آتے ہیں

پروفیسر اختر الواسع

21  جون ، 2012

ہماری یہ دنیا جہاں  صدیوں سے زندگی کا تماشہ جاری ہے، مختلف قومیں اور تہذیبیں آئیں اور اپنا نام او رکام دکھا کر رخصت ہوگئیں۔ زندگی کے مختلف نظام آئے اور چلے گئے  ۔  معاشرے قائم ہوئے ، مملکتیں اور حکومتیں قائم ہوئیں اور صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں ۔  حالات وواقعات کے اس نامختتم سلسلے کے پیش نظر دنیا کو ایک اسٹیج بھی کہا گیا ہے جہاں افراد ، معاشرے اور قومیں آتی ہیں، اپنا مقررہ کردار اداکرتے ہیں اور چلی جاتی ہیں اور ان کی جگہ دوسرے لوگ آجاتے ہیں ۔ اس اسٹیج پر اکثریہ بھی ہوتا  کہ جو آج ایک کردار کررہا ہے وہی حالات میں تبدیلی کے بعد اس کا برعکس کردار ادا کرنے لگتا ہے ۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان گزشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصے سے جاری خونیں کشاکش کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمنی میں ہٹلر کے بالا دستی حاصل کرنے کے بعد نازیت کا جو طوفان اٹھا اور جو لرزہ خیز انسانیت سوز مظالم کئے گئے وہ اب تاریخ کا حصہ ہیں۔  انسانی تاریخ میں انسانوں پر انسانوں کے مظالم کی کسی بھی رودادمیں ان مظالم کا ذکر نمایاں ترین مظالم میں ہوگا جو نازیت کے زیر اثر روا رکھے گئے ۔  ان مظالم کے سامنے چنگیز او رہلاکو کے مظالم بھی معمولی معلوم ہوتے ہیں۔    ان مظالم میں جرمنی کے یہودیوں  کو جس طرح اجتماعی وغارت گری کا شکار بنایا گیا اس نے انسانی تاریخ میں نسل کشی کا ایک  ایسا سیاہ ترین باب رقم کیا جس کی مثال بہت کم ملتی ہے ۔ جنگ کے بعد  یورپ بلکہ پوری مغربی دنیا جس بھیانک تباہی وبربادی کی گرفت میں آئی اس میں یہودیوں کی اس نسل کشی پر احساس جرم بھی شامل تھا۔  یہودی اس وقت ایک بے یارو مدد گار او ربے کس قوم تھے اور ساری دنیا سے مدد اور سہارے کے طالب تھے۔ مغرب نے اپنے احساس جرم سے چھٹکارا پانے کے لئے اسرائیلی ریاست قائم کرنے کا ڈول ڈالا جو بالآخر وجود میں آگئی ۔ لیکن یہاں بھی مغرب کی استعماری جبلت نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا ، کیوں کہ یہ ریاست ا س علاقے کے عرب باشندوں کوان کی زمینوں اور گھروں سے بے دخل کر کے وجود میں لائی گئی ۔ اس طرح ایک زمانے کی ایک بے سہارا ،بے بس اور مظلوم  قوم بہت جلد ایک قومی ریاست کی شکل میں طاقتور ہوتے ہی دوسروں کو مظلوم بنانے والی ظلم کی طاقت میں تبدیل ہوگئی ۔  ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ خود ظلم و جبر کا شکار رہ چکی یہودی قوم ایسے کسی فیصلے سے خود کو دستبردار کر لیتی لیکن اس کے برعکس ۔ قیام کے اول روز سے ہی اسرائیل حکومت تسلسل کے ساتھ ایسے اقدامات میں مصروف ہے جو فلسطینیوں کے مصائب اور مسائل میں اضافہ کرنے والے ہوں۔   کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس میں فلسطینیوں  کو ان کی مظلومیت او رمحرومی  کا احساس نہ دلایا جاتا ہو۔ ان کے پر امن مظاہروں  پر گولیاں برسائی جاتی ہیں اور جب رد عمل میں نہتے فلسطینی  پتھر اٹھاتے ہیں تو ان پر ٹینکوں سے گولے داغے جاتے ہیں۔

اسرائیل نے اپنے قیام کے فوراً بعد ایک طرف مغربی طاقتوں کی امداد اور پشت پناہی کے ذریعے اپنی طاقت میں اضافہ شروع کیا تو دوسری طرف ایک ایسا توسیعی منصوبہ مرتب کیا جس میں اطراف کی عرب ریاستوں پر قبضہ کرنے اور ایک وسیع تر یہودی ریاست وجود میں بھی تھا کہ فلسطینیوں کی بے وطنی اور بے گھری کے زخموں پر نمک چھڑ کا جائے۔ اس کے جواب میں فلسطینیوں کی طرف سے پرتشدد اور مسلح مزاحمت کا سلسلہ شروع ہوا جس نے ساری دنیا میں اسرائیل کی دراز دستی اور مظلوم فلسطینیوں کی اپنے حقوق کی بحالی کی جد وجہد کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کردیا ۔ہندوستان سمیت تیسری دنیا کے بہت سے ملکوں میں فلسطینیوں کی حمایت کے جذبات پیدا ہوئے ، مالی اور مادی امداد فراہم کی گئیں لیکن دوسری طرف مغربی طاقتوں نے اس بات کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش بھی کی کہ اسرائیلی اپنی روش پر برقرار  رہے ۔ لیکن جب اسرائیل کی طرف سے منصوبہ بند، کھلے اور درپردہ تشدد اور جارحیت ناقابل دفاع ہوگئی تو استعماری طاقتوں نے معاہدوں کی حکمت عملی اختیار کی۔ اگرچہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان قیام امن کی یہ کوشش بظاہر بہت مبارک تھی مگر نیتیں درست نہ ہونے کے سبب اسے نہ صرف کامیابی  نہیں ملی بلکہ اس کے رد عمل میں صورت حال میں مزید ابتری  پیدا ہو گئی۔  فلسطینیوں کے وجودی مسائل کے علاوہ مسلمانوں کے قبلہ اول اور اسلامی تاریخ کے بہت سے آثار اسرائیل کے زیر تسلط ہونے کے سبب ساری دنیا کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات بھی اس کش مکش سے وابستہ ہیں۔

اب صورت حال یہ ہےکہ فلسطینیوں کی کئی نسلیں بے وطنی کے شدید تجربے اور انتفاضہ کے عمل سے گزر کر ایک ایسی منزل پر آپہنچی ہیں جہاں ماضی، حال او رمستقبل تینوں تاریک نظر آتے ہیں ۔ ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست جسے اسرائیل کے متوازی اپنا وجود قائم رکھنے کا حق حاصل ہو، ایک تجویز سے زیادہ ایک خواب ہے جو برسوں سے مشرق وسطیٰ کے خونیں تھیڑ میں امن کے ایک سراب کی طرح کبھی کبھی چمک اٹھتا ہے اور پھر نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے ۔ لیکن اگر مشرق وسطیٰ میں مستقل تشدد کی صورت حال کو ختم کرنا ہے اور اس کے حوالے سے دنیا کو لاحق سیاسی اعصابی تناؤ کے ایک بڑے سبب سے نجات دلانی ہے تو ایک آزاد او رخود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ لیکن یہ ریاست فلسطینی عوام کی عزت نفس اور حقوق و اختیارات کی مکمل بحالی کا ذریعہ تبھی بن سکتی ہے جب اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ اسرائیل کی تمام تر ظاہری اور در پردہ ریشہ دوانیوں اور مداخلتوں کا نشانہ نہیں بنائی جائے گی۔  اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ اسرائیل کو تمام مقبوضہ علاقے خالی کرنے اور ان علاقوں میں موجود آبادیوں سے دست بردار ہونے پر آمادہ کیا جائے، کیوں کہ اس کے بغیر آزاد وخود مختار فلسطینی ریاست پرُ امن او رمحفوظ نہیں رہ سکے گی۔

امریکہ کے اولین سیاہ فام صدر براک اوباما نے اپنے عہدہ صدارت کا آغاز امن پسندی اور مصالحت کوشی کے جس جذبے کے ساتھ کیا تھا اور جس کھلے ذہن کے ساتھ اسلامی دنیا کی طرف افہام و تفہیم اور اشتراک وتعاون کا ہاتھ بڑھایا تھا اس سے امید بندھی تھی کہ شاید مسئلہ فلسطین کا کوئی منصفانہ اور قابل قبول حل جلد تلاش کرلیا جائے مگر یہ امیدیں پوری نہ ہوسکیں۔ ممکن ہے ان کی سیاسی مجبوریاں اس راہ میں مزاحم رہی ہوں او رممکن ہے کہ اگر وہ دوبارہ امریکی صدر منتخب ہوں تو ا س سلسلے میں پیش رفت کی کوئی صورت پیدا ہو لیکن صدر اوباما ہوں یا مغرب کے دیگر طاقتور ملکوں کے سربراہان حکومت وریاست یا تیسری دنیا کے سیاسی رہنما ،فلسطینی  عوام کے مصائب اور ابتلاؤں کا منصفا نہ اور پائیدار حل تلاش کرنا ان سب کے لئے ایک اجتماعی چیلنج ہے کیوں کہ پر امن اور بقائے باہم اور عدل و انصاف پرمبنی  عالمی نظام کا کوئی تصور مسئلہ فلسطین کے برقرار رہنے کی صورت میں نہیں  کیا جاسکتا ۔ ہمارا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے اور بار بار ہم اس کا اعادہ بھی کرتے رہے ہیں کہ دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک کہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہ ہو اور مشرق وسطیٰ میں امن اس وقت تک قائم نہیں ہوگا جب تک کہ فلسطینیوں کو ان کا حق اور انصاف نہیں مل جاتا ۔

عالم اسلام میں مسلمانوں کی غالب ترین اکثریت  بالخصوص ہندوستانی مسلمان ہمیشہ سے  امن و آشتی ،مصالحت اور مفاہمت اور بقائے باہم کی قدروں کے ساتھ ساتھ بین  مذہبی مکا لمے کے حامی اور اس کے لئے کوشاں رہے ہیں۔  فلسطینیوں کے جائز حقوق کی بازیابی کی جد وجہد کی تحریک سے ہم اپنے آپ کو مکمل طور پر ہم آہنگ کرتے ہوئے دنیا کی بڑی طاقتوں کے سربراہوں اور خاص طور پر حکومت ہند سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کو ان کا کھویا ہوا وطن اور انسانی حقوق واپس دلانے اور مشرق  وسطیٰ میں پائیدار امن کی بحالی کے لئے اپنی بہترین ذہنی ،اخلاقی ، سیاسی اور مادی کوششوں کو بروئے کار لائیں تاکہ کل کے مورخ کو ان کے لئے اچھے الفاظ استعمال کرنے میں پس وپیش سے  نہ گزرنا پڑے ۔

مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی کے شعبۂ اسلامیات کے سربراہ ہیں

21  جون  ، 2012    بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/palestine,-al-quds-and-we--ارض-فلسطین-،-القدس-اور-ہم/d/7694

 

Loading..

Loading..