پرویز اشرفی
20 نومبر،2025
یہ بات 1806ء عیسوی کی ہے جب کرناٹک کے ویلور سے ایک ساتھ 12/پانی کے جہاز روانہ ہوئے، اس جہاز میں 300/ سے بھی زیادہ لوگ سوار تھے۔ یہ سبھی لوگ ایک ہی خاندان کے تھے او رہمیشہ کیلئے کرناٹک کو چھوڑ کر جارہے تھے۔ جہاز سونا، چاندی، ہیرے جواہرات اور روپے سے لدے ہوئے تھے جو کلکتہ جارہے تھے۔ حیرت کی بات ہے کہ ان تین سو لوگوں میں سے کسی نے بھی کبھی کلکتہ (کولکاتہ) کو نہیں دیکھا تھا، اس کے باوجود وہ ایک انجان شہر میں جانے کو مجبور تھے جہاں کی نہ تو زبان جانتے تھے نہ ہی وہاں کے کسی شخص کو۔ یہ لوگ کوئی عام لوگ نہیں تھے بلکہ ہندوستان کی ایک بڑی ریاست کے سلطان کے خاندان کے لوگ تھے۔ یہ وہ سلطان تھے جس نے انگریزو ں کو کئی بار شکست دیا اور پھر اپنی آخری جنگ لڑتے ہوئے شہید ہوگئے تھے۔ یہ شیر میسور فتح علی ٹیپو سلطان تھے جن کے بیٹوں کو پورے خاندان کے ساتھ میسور چھوڑ کر کولکاتہ جانا پڑگیا تھا۔ ایک ایسا شہر جہاں خود کبھی ٹیپو سلطان بھی نہیں گئے تھے۔ آج عالم یہ ہے کہ آپ کو میسور یا کرناٹک میں ٹیپو کے خاندان کاکوئی فرد نہیں ملے گا بلکہ اگر آپ کولکاتہ جائیں گے تو وہاں بہت ایسے لوگ ملیں گے جو خود کو شہزادہ یا سلطان بلاتے ہیں۔یہ لوگ آج کوئی سلطان نہیں ہیں، نہ ہی ان کی حالت خود کو سلطان کہنے لائق ہے لیکن یہ پھر بھی خود کو سلطان کے خاندان سے جوڑتے ہیں اور ساتھ ہی ہر سال 20/نومبرکے دن ٹیپوسلطان کا یوم پیدائش بھی مناتے ہیں۔ان کے حالات یہ ہیں کہ آج ان میں سے کئی لوگ سائیکل بنانے کاکام کرتے ہیں یا پھر بجلی مستری ہیں اور درزی کاکام کرتے ہیں۔ان سب کو سننے کے بعدذہن سوچنے پرمجبور ہوتا ہے کہ ملک میں راکٹ کاایجاد کرنے والے ٹیپو سلطان کے خاندان کا یہ حال کیسے ہوا؟ کیوں ٹیپوسلطان کوکرناٹک سے ہزارکلومیٹر دور کولکاتہ میں جانا پڑا اور انگریزوں نے ان شہزادوں کے ساتھ کیساسلوک کیا۔

ٹیپو سلطان ریاست میسور کے سلطان تھے انگریزوں کے خلاف چار جنگ لڑنے کے بعد 1799 ء میں سری رنگا پٹنم کے قلعے کے صدر دروازے پر جنگ لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ ٹیپو سلطان کے کل 12بیٹے تھے ان سبھی کو انگریزو ں نے پکڑ لیا اور میسور سے 300کلو میٹر دور ویلور کے قلعے میں نظربند کردیا۔ انگریزوں نے ایسا اس لیے کیا تھا کیونکہ انہیں یہ خدشہ تھا کہ ٹیپوسلطان کے بیٹے انگریزوں کے خلاف دوبارہ کھڑے نہ ہوجائیں۔ ویسے بھی بڑی مشکل سے ٹیپو سلطان پرانہوں نے جیت حاصل کی تھی۔ ویلور میں بھی انگریزوں نے ٹیپوسلطان کے خاندان کو قیدیوں کی طرح رکھا۔ اپنے اہل خانہ کے ساتھ جن میں شہزادوں کی بیویاں شامل تھیں وہ قیدیوں کی طرح یہاں پررہتے تھے۔ اسی ویلور قلعے میں 1806 ء میں ایک بڑی بغاوت ہوئی تھی جب قلعے میں موجود ہندو اورمسلم فوجیوں نے مل کر انگریزوں کے خلاف بغاوت کردی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف سپاہیوں کے ذریعے کی گئی اس بغاوت کو ایک دن کے اندر ہی قابو میں کرلیا گیا تھا۔ اس بغاوت میں 117 انگریز مارے گئے تھے۔بغاوت کے الزام میں انگریزوں نے ٹیپو سلطان کے خاندان پر سختی کرنا شروع کیا اور اسی بنیاد پر انہوں نے ٹیپوسلطان کے 300 رشتہ داروں کو 12/ جہازوں میں سارے سازوسامان کے ساتھ کولکاتہ بھیج دیا۔ اس جہاز میں ایک اور خاندان ٹیپوسلطان کے واحد بھائی عبدالکریم خان کا تھا۔اس خاندان کے کل ملا کر دوہزار لوگ تھے جن میں سے 300/ لوگ خاص تھے۔کلکتہ میں ٹیپوکے خاندان کو انگریزوں نے کولکاتہ کے ایک دلدلی علاقے میں رہنے پر مجبور کردیا جہاں پر ملیریا جیسی مہلک بیماری سے لوگ پریشان رہتے تھے۔ یہ آج بھی ٹالی گنج کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہاں پرٹیپوسلطان کے خاندان کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جاسکتاہے کہ کلکتہ آنے کے 30سالوں کے اندر ہی ٹیپوسلطان کے 12بیٹوں میں سے 11 کی موت ہوگئی۔ اس میں سے زیادہ تر کو یہاں کاموسم، آب وہوا را س نہیں آئی۔ ٹیپو کے سب سے بڑے بیٹے پرنس حیدر کو پہلے ہی انگریزوں نے پکڑلیا تھا۔ پھرپرنس عبدالخالق کی کلکتہ پہنچنے سے پہلے ہی موت ہوگئی تھی وہیں ویلور بغاوت میں شامل ہونے کا الزام لگا کر پرنس معزالدین کوجیل میں ڈال دیا گیا تھا او ران کے پورے خاندان کو پنشن دینے سے منع کردیا۔ ٹھیک ایسے ہی ٹیپوسلطان کے تیسرے بیٹے پرنس مسیح الدین نے خود کشی کرلی تھی۔ ان 12/لوگوں میں سے صرف ایک شہزادہ غلام محمد ہی زندہ بچے اور ان کے ساتھ ہی ایک اور بیٹے منیرالدین کے خاندان نے آگے چل کر ٹیپو کے خاندان کو زندہ رکھا۔ موجودہ وقت میں منیر الدین کی نسلیں چھوٹے تاجر کی حیثیت سے اپنی زندگی گزار رہی ہیں اورگلاب محمد کے خاندان ایک بوسیدہ حویلی میں رہتے ہیں لیکن غلام محمد کا خاندان آج جن مصیبتوں میں زندہ ہے ویسا پہلے نہیں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک وقت میں غلام محمد کا بنگال میں اچھا خاصا رسوخ تھا۔
اپنے مضمون میں Exile in Calcutta the descendant of Tipu Sultan میں بننے گپتا اور جین چالہا بتاتے ہیں کہ جب غلام محمد کلکتہ آئے تھے تو وہ صرف 11سال کے تھے لیکن 1872ء آتے آتے انہوں نے انگریزوں کی دی ہوئی پنشن کوصحیح ڈھنگ سے استعمال کرتے ہوئے ایک بڑا اثاثہ کھڑا کرلیا تھا۔ تاریخ داں Happy Thanksppan nair کے مطابق ٹالی گنج کلب کے میدان کو 60/ایکڑ زمین ابھی بھی ٹیپوسلطان کے خاندان کے قبضے میں تھی۔ مورخین کا دعویٰ ہے کہ کلکتہ کامشہور رائل گولف کلب کا میدان ٹیپوسلطان کے خاندان کا تھا جسے اس نے قانونی لڑائی میں کھودیا۔ اس طرح سے ٹالی گنج میں ایک امام باڑا شاہی مسجد چیتلہ میں میسور ہاؤس جو آج کھنڈر بن چکاہے۔ 1983 ء تک غلام محمد کے بیٹے حیدر علی نے غلام محمد کی جائیداد کوسنبھالا ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے آصف علی کو جائیدا د کی دیکھ بھال کیلئے متولی بنایا گیا لیکن انہوں نے بھی اس جائیداد کو دیکھ بھال نہیں کی۔ لکھنؤ یونیورسٹی سے پڑھائی کرنے والے آصف علی کچھ دن کولکاتہ میں رہے۔پھر دوبارہ لکھنؤ چلے آئے کیونکہ ان سے وہ جائیداد سنبھالی نہیں گئی۔ ان کی دوبیویاں تھیں۔ آصف علی کی حویلی میں رہنے لگیں او رآج یہ حویلی بالکل کھنڈر ہوچکی ہے۔ آج اس حویلی میں رہنے والے کرایہ دارو ں کے پیسوں سے سلطان کے خاندانوں کاگزر ہوتا ہے۔آگے چل کر جو جائیداد وقف ہوئی اس سے ان کا کنٹرول بھی چھوٹ گیا، آج اگر آپ دیکھیں تو ٹیپو سلطان کی نسلیں شہرمیں رہتی ہیں اس میں سے زیادہ تر غریبی کی زندگی جی رہی ہیں۔ مورخ کپپن نائر بتاتے ہیں کہ پچھلے کئی سالوں میں ٹیپو کی نسلیں لکھنؤ میں، کچھ زندگی گزارتے ہیں اس کے باوجود کہ ان کے پاس ملک کے سب سے بڑے وقف ٹرسٹ میں سے ایک میں ان کی حصہ داری ہے۔ وہ آج بھی شیر میسور ٹیپوسلطان کا یوم پیدائش مناتے ہیں، خواہ وہ کتنی ہی مفلسی میں کیو ں نہ جی رہے ہوں۔
--------------------
URL: https://newageislam.com/urdu-section/story-tipu-sultan-family/d/137714
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism