New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 10:06 PM

Urdu Section ( 24 Dec 2014, NewAgeIslam.Com)

O' Lord, O' Lord, O' Lord رَبنا، رَبنا، رَبنا

 

 

اوریا مقبول جان

22 دسمبر ، 2014

درویش کی محفل میں سناٹا تھا ۔ شاید اس قیامت کے دکھ کے بعد لوگ بات کرنا بھول گئے تھے ۔ ہر کوئی صاحب اولاد ہوتا ہے اور ہر کسی کو بچوں میں اپنی اولاد کے چہرے نظر آتے ہیں۔ ایسا تو شاید ہی انسانی تاریخ میں کسی ہلاکو نے بھی نہ کیا ہو کہ بچوں کو علیحدہ کرکے، ان کےمعصوم چہروں پر نظر پڑنے کے باوجود بھی ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی گئی ہو۔ دنیا کی جنگوں کی تاریخ میں بم برستے رہے، شہر اجڑتے رہے ، لوگ مرتے رہے لیکن ایسا کبھی نہ ہوا تھا کہ منگول اور ایشائے کو چک سے آنے والے منگول نسل کےلوگوں سے پہلے دنیا میں بہت سی وحشیانہ سزاؤں کا رواج نہیں تھا، لیکن ان وحشیانہ سزاؤں کے موجدوں نےبھی کبھی علیحدہ کرکے نہیں مارا۔ بچے ماں باپ کی آغوش میں ایک ساتھ ضرور مارے گئے ہوں گے، بے خبری میں ان پر بم ضرور برسے ہوں گے، اچانک ان کو اکٹھے کسی افتادہ کا سامنا ضرور کرنا پڑ گیا ہوگا جیسے ڈوبنا، آگ لگنا، یا اسکول میں زلزلہ آجانا۔ ایسے میں موت کی آغوش میں جاتے ہوئے یہ ایک دوسرے کا ہاتھ ضرور تھام لیتے ہوں گے، ایک دوسرے کو تسلی کےلفظ ضرور بول لیتے ہوں گے۔ زندگی میں سب سے خوفناک منظر میں نے ان چھ تصویروں میں دیکھا تھا جو ایک فلسطینی بچے اور اس  کے باپ کا منظر تھا ۔ یہ منظر ایک فوٹو گرافر نے کیمرے کی آنکھ میں چند تصویروں کے ذریعے محفو ظ کر لیا تھا۔ فلسطینی باپ او ربچہ اچانک اسرائیلی گولیوں سے بچنے کیلے ایک دکان کے چھجے تلے پناہ لیتے ہیں دوسری تصویر میں بچہ سہما ہوا باپ سے لپٹا ہے، تیسری تصویر میں باپ اسے تسلی دے رہا ہے، چوتھی تصویر میں گولی بچے کو لگی ہے، پانچویں تصویر میں بچہ باپ کی گود میں درد سے  کراہ رہا ہے او ر چھٹی تصویر میں بچہ مر چکا ہے اور باپ بےبسی کی تصویر ہے۔ ان چھ تصویروں میں جو کیفیت تھی اس نے مجھے سالوں مضطرب اور بے چین رکھا، بلکہ آج بھی وہ تصویریں یاد آجاتی ہیں تو جی سنبھل نہیں پاتا۔

 لیکن اس سانحے میں تو بچوں  کو اپنے باپ کی گود بھی میسر نہ تھی کہ  موت کے وقت اس آغوش کی گرمی او رمحبت حاصل کرلیتے ۔ اس المیے کا تصور ہی کیا ، صرف اس بات کا سوچ میں لانا کہ چند لوگ اسلحے تانے  ایک ہال میں داخل ہوتےہیں جہاں بچے اپنے آپ میں مگن ہیں اور پھر اچانک سارا منظر خوفناک و حشت میں بدلنے لگتا ہے ۔ اس پہلے لمحے کے آگے سوچنے کی ہمت نہیں پڑتی ۔ میں نے اب تک جو انسانی تاریخ پڑھی ہے، اس سے درد ناک واقعہ نہیں پڑھا ۔ خاندان کے خاندان قتل ہوئے، مارے گئے، ہلاک ہوئے، لیکن ایک ساتھ، ہر کوئی بے بسی او رمجبور ۔ لیکن یہاں تو بے بسی خاص طور پر ان معصوم بچوں کے مقدر  میں آئی ۔ بچے یرغمال بنائے گئے، ان کو اغوا برائے تاوان کے لئے لے جایا گیا ، پھر سرمایہ نہ ملنے پر قتل کیا گیا۔ ان سارے معاملات میں بچوں کے دل  میں ایک امید ضرور موجود رہتی ہے کہ شاید کوئی انہیں  رہائی دلا دے۔ روس میں باسلان کے اسکول میں جب چیچن گھس آئے تھے تو 280 کے قریب بچے مارے گئے تھے۔ مگر وہ سب روسی فوج اور چیچن جنگجوؤں کی لڑائی کے دوران مارے گئے ۔ ایسے ماحول میں بھی ایک امید ضرور ساتھ چلتی ہے کہ جنگ ختم ہوئی تو ہم زندہ سلامت باہر نکل جائیں گے لیکن اس سانحے میں تو ان بچوں نے موت تک صرف موت ہی دیکھی ، نہ کوئی آس، امید، نہ تسلی و تشفی او رنہ کسی مہربان کی گود۔ بس خوفناک آنکھوں اور شعلہ اگلتی بندوقوں کا سامنا تھا۔

درویش کی محفل میں سناٹا تھا۔ سب دم بخود تھے ۔ کسی کو اس بات کا اندازہ تک نہیں تھا کہ انسان اس قدر خونخوار اور ظالم بھی ہوسکتا ہے ۔ اس سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے جس نے اذیت دینے والے مشرکین مکہ کو جنگ بدر کے بعد قید کیا تو ان کو رسیوں سے باندھا ہوا تھا۔ رسیاں سخت تھیں، رات کو قیدیوں کی کراہنے کی آواز آئی تو بے چین ہوگئے، صحابہ سے کہا اگر تم کہو تو ان کی رسیاں ڈھیلی نہ کردیں ۔ اپنی دستر س میں آئے ہوئے لوگوں پر اس قدر رحم، دسترس میں بھی وہ لوگ جو چند گھنٹے پہلے جنگ لڑ چکے تھے ، جو تیرہ سال مکے میں اذیتوں کے پہاڑ کھڑے کرچکے ہیں۔ محمد خراسانی کی  ای میل جو ا س ملک میں ہر صحافی کو بھیجی گئی ۔ پڑھتا ہوں تو سوچتا ہوں ، کیا پورے قرآن پاک اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں ان لوگوں کو کوئی رحم ، عفوو در گزر اور بچوں پر شفقت کا ایک واقعہ  بھی یاد نہیں آیا ۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کون سا حکم ہے جو انتقام کی اجازت دیتا ہے ۔ انتقام تو عصبیت اور قبائلیت کی صفت ہے جسے مٹانے کےلئے میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے اور پھر حجتہ الوداع کے دن فرمایا: ‘‘ تمہاری  جاہلیت اور عصبیت کے بت میرے پاؤں تلے کرچی کرچی ہوچکے ’’۔ جس عصبیت کے بت میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں تلے کرچی کرچی ہوجائیں کیا اس عصبیت کے انتقام کاتمہیں  آخرت میں اجر ملے گا۔ ہر گز نہیں ۔ چلو تم نے پشتون روایات کے تحت بدلہ لے لیا ہے لیکن شاید بھول گئے ، کیا پشتون روایات میں بچوں اور عورتوں سےکبھی بدلہ لیا گیا۔

درویش کی محفل کا سناٹا قائم تھا کہ میں نے سوال کیا ‘ کب تک؟’ فرمایا سورہ تغابن کی وہی آیت دہراؤ ‘‘ کوئی مصیبت آہی نہیں سکتی مگر اللہ کا اذن نہ ہو’’ ( تغابن 11)۔  پوچھا کیا یہ واقعی مصیبت ہے؟ ۔ بولے سورہ الانعام کی وہی آیت دہراؤ جو بار بار لکھتے رہتےہو ‘‘ کہہ دو، وہ قدرت رکھتا ہے ا س پر کہ تم پر عذاب بھیجے تمہارے اوپر سے اور تمہارے پاؤں کے نیچے سے یا تم کو آپس میں گروہوں میں بانٹ کر لڑادے اور ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت  کامزا چکھا دے’’ ( الانعام 65) : سوال کیا،بہت ہوگیا یہ عذاب’ بہت چکھ لیا مزا ایک دوسرے کی طاقت کا، کوئی راہ  نجات ۔ بولے جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر جب اس آیت کا نزول ہوا تو آپ نے ہاتھ دعا کیلئے بلند کر دیئے، او رکہا۔ اے اللہ، اے قادر مطلق ، میں پناہ مانگتا ہوں ترے چہرے کے تقدس کی اس عذاب سے جو تو ہمیں گروہوں میں بانٹ کر ہمیں لڑا کر ہم پر نازل کرتا ہے ’’۔ فرمایا، تم لوگوں نے کبھی اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم  کی اس صفت پر عمل کیا ۔ کبھی پوری قوم گڑ گڑ ا کر اللہ کے حضور روئی ، سجدہ ریز ہوئی، معافی کی طلبگار ہوئی ۔ کبھی کہا کہ اے اللہ ہم اس عذاب کے متحمل نہیں ہوسکتے، ہم پر رحم فرما۔ کبھی دیوانہ وار اللہ سے گڑگڑ انے کے لئے باہر نکلے جیسے  شمعیں روشن کرنے نکلتےہو ۔ ایک دفعہ نکل کے تو دیکھو ، ایک دفعہ اسے آزماؤ تو سہی ۔ وہ رب ہے، رحیم ہے، کریم ہے۔ اس کا دعویٰ ہے میں دلوں کو جوڑ تا ہوں، ا س کا دعویٰ ہے میں بھوک میں کھانا او رخوف میں امن بخشتا ہوں ۔ وہ تو انتظام کرتے ہوئے پکارتا ہے کہ کوئی قوم یونس علیہ السلام کی قوم کیوں نہ ہوگئی کہ ہم سے معافی مانگتی او رہم اسے معاف کردیتے’’۔ میں درویش کے چہرے پر سناٹے سے دیکھتا رہا ۔ باہر شمعیں روشن کرنے والے اپنے دکھ کا اظہار کررہے تھے ۔ میری آنکھوں کے آنسوؤں میں شمعوں کو لو ٹمٹمانے لگی، صرف پروردگار سے ایک التجا  کی ، اللہ ان شمعیں جلانے والے ہاتھوں کو اپنی بار گاہ میں ایسے  اٹھنے کی توفیق دے جو تیری ناراضگی کو ختم کرسکے، جو اس خوف کے موسم میں امن واپس لاسکے ۔ بے شک صرف تو ہی ہے جو خوف میں امن دیتا ہے۔

22 دسمبر، 2014  بشکریہ : روز نامہ ایکسپریس ، پاکستان

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/oriya--maqbool-jan/o--lord,-o--lord,-o--lord--رَبنا،-رَبنا،-رَبنا/d/100678

 

Loading..

Loading..