New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 02:11 AM

Urdu Section ( 4 May 2018, NewAgeIslam.Com)

Muslim Divorce: Imams Shouldn't Be Judge مسلمانوں کے طلاق میں ائمہ فیصل نہیں

 

عمر ہاشمی اور مریم توخی

24 اپریل 2018

 

 

 

 

 

 

 تصویر: عورتیں عبادت کرتی ہوئیں جیسا کہ رمضان میں مقامی مسلم برادری کے لئے پرتھ چرچ کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں۔ اسلامی صحائف واضح طور پر طلاق دینے کا حق مرد اور عورت دونوں کو دیتے ہیں۔ (اے بی سی نیوز: بریانا شیفرڈ)

مسلم معاشروں میں طلاق کے اسلامی نقطہ نظر پر اے بی سی کی حالیہ تحقیقات سے جو انکشافات سامنے آئے ہیں وہ اکثر آسٹریلیائی مسلمانوں کے لئے تکلیف دہ ہوں گے۔

اسلامی صحائف واضح طور پر طلاق دینے کا حق مردوں اور عورتوں دونوں کو عطا کرتے ہیں۔ لیکن خبروں کے مطابق بعض ائمہ گھریلو تشدد کا سامنا کرنے والی مسلم خواتین کو طلاق کا یہ اسلامی حق دینے کے لئے تیار نہیں ہیں جس کی وجہ سے بعض دفعہ ایسی خواتین کئی کئی سالوں تک ذلت آمیز رشتہ ازدواج میں بندھے رہنے پر مجبور ہوتی ہیں۔

اگر چہ ہمیں مایوسی ہے کہ ائمہ طلاق دینے کے حق سے خواتین کو محروم کر رہے ہیں لیکن ہمیں اس پر کوئی حیرانی نہیں ہے۔

بہت سے آسٹریلیائی مسلمانوں کی طرح ہمیں بھی ایک طویل عرصے سے اس بات کا احساس ہے کہ ہمارے مساجد کے ائمہ کا تعلق معاصر آسٹریلیائی معاشرے منقطع ہو چکا ہے۔

ہماراکہنا یہ ہے کہ اب اس بات کو تسلیم کرنے کا وقت آ چکا ہے کہ یہ مسئلہ ہمارے بہت سے "مرکزی دھارے (mainstream) " کے مذہبی اداروں کے اندر گہری ڈھانچہ جاتی خامی کی علامت بن چکا ہے ؛ مثلاً فرسودہ مکاتب فکر اور پیٹریارکل ثقافتی بنیاد پرستی کی طرف رجحان ، جس نے نتیجۃً ترقی پسند، ایماندار اور پر امن سماجی انصاف کی روح کو کچل دیا ہے ، جس کی تبلیغ محمد ﷺ نے کی تھی۔

شادی کے بارے میں اسلام کی کیا تعلیم ہے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دولہا اور دلہن کے درمیان عقد نکاح گواہوں کی موجودگی میں انجام دیا جاتا تھا۔

اور اس عقد کی تنسیخ اور بھی آسان تھی ، مرد یا عورت خود ہی اسے انجام دے سکتے تھے۔ اس میں ائمہ کا کوئی دخل نہیں تھا، اور نہ ہی اس میں کسی فریق کو "غلط ٹھہرانے" کی کوئی ضرورت تھی۔ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھتیجی زینب اور منھ بولے بیٹے زید کے درمیان ایسے ایک طلاق کا واضح طور پر ذکر قرآن میں ہے۔

اگر آپ کسی امام سے یہ دریافت کویں کہ وہ اسلامی عقد نکاح کیوں منعقد کرتے ہیں تو شاید وہ آپ کو یہی بتائیں گے کہ یہ ایک ثقافتی روایت ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ عقد نکاح مناسب اور قانونی طریقے انجام دیا گیا ہے۔ اور یہ بات معقول بھی معلوم ہوتی ہے – اس لئےکہ آسٹریلیائی قانون کے مطابق بھی لوگ ایسا ہی کرتے ہیں۔ (اور زیادہ تر امام آسٹریلیائی میریج ایکٹ 1961 کے تحت رجسٹرڈ ہیں)

تاہم، مسائل اس وقت پیدا ہوسکتے ہیں جب یہی لوگ رلیشن شپ کاؤنسلر (تعلقاتی مشیر) اور روحانی رہنما بن بیٹھتے ہیں۔

اے بی سی کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ بعض ائمہ ناخوشگوار تعلقات جھیلنے والوں کی جسمانی اور نفسیاتی حفاظت پر مصالحت کو ترجیح دے رہے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسلامی قانون اور آسٹریلیائی قانون دونوں میں ثالثی اور مصالحت کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔

تاہم ، غیر جانکار فیصل اور غیر ذمہ دار مشیر بن کر بہت سے ائمہ اسلامی عقد نکاح کے تصور کو نظر انداز کر رہے ہیں یا اسے چھپا رہے ہیں۔

ہم (ہمارے ائمہ سمیت) تمام آسٹریلیائی مسلمانوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ طلاق کے سرکاری قوانین پہلے سے ہی اسلامی طلاق کے تمام تقاضوں کی کفالت کرتے ہیں (در حقیقت سرکاری قوانین اسلامی طلاق سے بھی زیادہ سخت ہیں)۔

اس کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ بھروسہ کرنے والے سادہ لوح مردوں اور عورتوں کو غیر ضروری طور پر ان ائمہ کے تحکمانہ مرد لیڈرشب پینل کے سامنے لایا جا رہا ہے جنہیں ناخوشگوار اور یہاں تک کہ ذلت آمیز ازدواجی زندگی کا شکار ہونے والوں کو در پیش چیلنجوں کی نہ تو کچھ سوجھ بوجھ ہے اور نہ ہی اس کا انہیں کوئی شعور ہے۔

اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے ائمہ کے اندر - اگرچہ ان کی نیت نیک ہے- مشاورت کی ٹریننگ کا فقدان ہے اور انہیں گھریلو تشدد جیسے مسائل کو حل کرنے میں بھی کوئی تجربہ نہیں ہے جس سے آج جدید آسٹریلیائی جوڑے جوجھ رہے ہیں۔

ان تمام ناکامیوں کی نشاندہی کے بعد اب یہ آسٹریلیائی مسلم رہنماؤں کے لئے شادی اور طلاق کروانے کے اپنے طریقہ کار کا جائزہ لینے کا وقت ہے- خاص طور پر انہیں ائمہ کے فیصل ، جیوری اور رلیشن شپ کاؤنسلر (تعلقاتی مشیر) کے طور پر اماموں کے متضاد کردار پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔

بہت سے مسلمان کیوں 'اَن موسکیوڈ ‘UnMosqued' ہیں

البتہ ! یہ ہمارے لئے ان مذہبی مراکز کو دوبارہ مضبوط بنانے کا بھی وقت ہے جو آسٹریلیائی مسلمانوں کو کمزور کر رہے ہیں، جس کا نتیجہ ہے کہ بہت سے لوگوں 'اَن موسکیوڈ ‘UnMosqued (بے مسجد)' تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔

اسی لئے گزشتہ چند سالوں سے مسلم کلکٹیو(Muslim Collective) نام سے آسٹریلیا کی ایک کثیر جہتی مسلم جماعت ہمارے مذہبی مراکز کے اندر جامعیت پسندی کو بہتر بنانے کے لئے مسلم اور سول سوسائٹی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

ہماری تنظیم جو کہ 2015 سے بڑے شہروں میں مسلم کمیونٹی کی بڑی سرگرمیوں کو انجام دے رہی ہے – اس نے ایسے مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا ہے جو روایتی مسلم تنظیموں میں خود کو حاشیہ نشیں پاتے ہیں یا غیر مطمئن محسوس کرتے ہیں۔

یہ عصر حاضر کے اہل فکر و نظر مسلمان ہیں جو اپنی برادری کے ساتھ روحانی اور ثقافتی تعلق کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں ، لیکن انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہاں ان کی آواز اور ان کے سوالوں کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اور جب وہ ان سے رابطہ کرتے ہیں ، تو ان تنظیموں میں متمکن افراد کی جانب سے فرسودہ اور دقیانوسی مشوروں کی خبریں آتی ہیں (اگرچہوہ نیک نیتی پر مبنی ہوتے ہیں) اس لئے کہ وہ ازدواجی تعلقات سمیت روزمرہ کے مسائل میں الجھے ہوئے ہوتے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ اسلام آسٹریلیا میں فروغ پا رہا ہو لیکن خاموشی کے ساتھ ایسے مسلمان برگشتہ بھی ہو رہے ہیں جو روایتی اداروں سے اس سے کہیں زیادہ امید رکھتے ہیں جتنا کہ انہیں فراہم کیا جا رہا ہے۔

مساجد میں ہر مذہب کے لوگوں کا خیرمقدم ہونا چاہیے اور سب کے لئے اس کا دروازہ کھلا رہنا چاہئے۔ انہیں قیادت میں خواتین کو بھی شامل کرنا چاہئے ، وہاں ایک ساتھ مردوں اور عورتوں کے لئے جگہیں بھی ہونی چاہئے ، اس میں معذور افراد کے لئے گنجائش ہونی چاہئے ، ان لوگوں وقت دیا جانا چاہئے جو اپنے مذہب کے متعلق سوال کر سکتے ہوں ، اقلیتوں کا (بشمول جنسی اقلیتوں کے) احترام کیا جانا چاہئے ، اور مظلوم خواتین سمیت ستم رسیدہ لوگوں کا تعاون کرنا چاہئے۔

ڈھانچہ جاتی عدم توازن اور قیادت کی ان ناکامیوں کی اصلاح کرنے کے بعد ہی مساجد ان میں عبادت کے لئے جمع ہونے والوں کی اکثریت اور بڑے پیمانے آسٹریلیائی مسلم کمیونٹی کے لئے افادیت بخش ہوں گے۔

ماخذ:

 abc.net.au/news/2018-04-24/muslim-divorce-imams-shouldnt-be-judge-jury-marriage-counsellor/9688378

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/omar-hashmi-and-mariam-tokhi/muslim-divorce--imams-shouldn-t-be-judge,-jury-and-relationship-counsellor-for-marriages/d/115043

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/omar-hashmi-and-mariam-tokhi,-tr-new-age-islam/muslim-divorce--imams-shouldn-t-be-judge--مسلمانوں-کے-طلاق-میں-ائمہ-فیصل-نہیں/d/115146

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..