New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 02:40 PM

Urdu Section ( 28 Nov 2014, NewAgeIslam.Com)

Consensus against Dai'sh دولت اسلا میہ کے خلاف اجماع

 

عبید اللہ ناصر

28 نومبر، 2014

امریکی  بمباری  اور کرد افواج کی پیش قدمی سے دولت اسلامیہ کی چولیں  ہلنے  تو لگی ہیں لیکن ابھی بھی اس کا زور پوری طرح ٹوٹا  نہیں ہے او راپنے ظالمانہ و بہیمانہ کار ناموں کی وجہ سے وہ سرخیاں بٹور تا ہی رہتا ہے۔گذشتہ  دنوں اس کے خونخوار دستہ نے ایک اور امریکی راحت  رساں کا سر قلم کرکے دنیا بھر سے لعنت ملامت بٹوری۔ سوشل سائٹوں پر اپنے غلط گمراہ کن اور مکروہ پروپیگنڈے کی وجہ سے اسے جنگجو نوجوانوں کی بھرتی میں کوئی  دقت نہیں آرہی ہے۔ گذشتہ  دنوں جماعت اسلامی پاکستان کے سربراہ  قاصی منور حسن  نے جہاد اور قتال فی سبیل اللہ کی وکالت کرکے شاید قتل و غارت گری میں اضافہ کی راہ ہموار کررہے ہیں ۔ قاضی جی ابھی بھی قرون وسطیٰ میں جی رہے ہیں ۔ انہیں احساس ہونا چاہئے کہ اس درندگی کی کیا قیمت ان کا ملک اور پوری انسانیت ادا کررہی ہے۔ اسلام کے نام پر اسلام کو رسواکرنے کی مذموم کوششوں کی بھرپور مذمت کی جانی چاہئے نہ کہ اس کو جواز فراہم کیا جارہا ہے۔

دولت اسلامیہ کے طوفان کو محدود تو کرایا گیا ہے لیکن ابھی اس کا مکمل قلع قمع نہیں ہوسکا ۔ عراق میں نوری المالکی  سے نجات حاصل کرنا اس کے مقصد کی ایک معمولی کامیابی ہوسکتی ہے لیکن  شام میں بشر الاسد کا اقتدار بھی برقرار ہے ۔ دولت اسلامیہ کاقلع قمع ضروری ہے تو بشر الاسد کے اقتدار کا خاتمہ بھی اتنا ہی ضروری ہے تاکہ وہاں  صحیح  معنوں میں ایک جمہوری حکومت قائم ہوسکے جو سماج کے ہر طبقہ کو ساتھ لے کر ملک کو امن  و امان اور ترقی کی شاہراہ  پر لے جاسکے ۔ عراق اور شام کے بعد دولت اسلامیہ نے اپنا اگلا ہدف سعودی  عرب کو بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ایجنسیوں سے موصول اطلاعات کے مطابق اس وقت دو ہزار سے زیادہ سعودی دولت  اسلامیہ کے شانہ بشانہ لڑرہے ہیں جوکہ اپنے ساتھ سخت گیر ‘ تکفیری ’ اسلام کے نظریات سعودی عرب  لے کر آئیں گے دولت اسلامیہ  کے رہنما اپنی پیش قدمی روکنے کے موڈ میں  نظر نہیں  آرہے ۔ بظاہر  اپنے تازہ آڈیو پیغام میں دولت اسلامیہ کے رہنما ابوبکر البغدادی نے اسلام کی جائے پیدائش اور تیل کی دولت سے مالا مال ملک سعودی عرب کو اپنا اگلا ہدف قرار دیا۔

انہوں نے سعودی عرب کا نام تو نہیں لیا کیونکہ  یہ نام حکمران قبیلے السعود کی مناسبت سے رکھا گیا تھا اور دولت اسلامیہ  السعود کی حکمرانی تسلیم  نہیں کرتی۔ خلافت کےاعلان کے بعد یہ تو تقریباً طے تھا کہ دولت اسلامیہ خطے کے سب سے بڑے اور اہم ملک پر اپنی نظریں  مرکوز کرے گی۔ سعودی عرب کےمفتی  اعظم دولت اسلامیہ کو اسلام کا سب سے بڑا دشمن قرار دے چکے ہیں۔ نیویارک میں چھپنے والے ایک مضمون میں سعودی حکومت کے قریبی سعودی باشندوں کا کہنا تھا کہ خطے میں اگر کوئی قوت دولت اسلامیہ کو شکست دے سکتی ہے تو وہ طاقتور سعودی حکومت ہے۔ سعودی حکام کئی بار سعودی عرب کو دولت اسلامیہ کا سب سےبڑا ہدف قرار دے چکے ہیں ۔ لیکن اس سب کے باوجود کئی تجزیہ کار سعودی  عرب پر دولت اسلامیہ کی فنڈنگ کرنے اور ان کے سخت گیر اسلام کی در پر دہ حمایت کے الزامات لگاتے ہیں ۔ لیکن سعودی حکومت ان الزامات کو سختی سے رد کرتی آئی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ دولت اسلامیہ شام میں ہونے والی لڑائی اور عراق کی شیعہ حکومت کی تعصب پر مبنی  پالیسیوں  کے پیداوار ہے۔

سعودی عرب کو انتہائی مشکل اور پیچیدہ حالات کا سامنا ہے ۔ سعودی ائیر فورس دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی  سربراہی میں بننے  والے اتحاد میں شامل  ہے اور اس فیصلہ پر بہت سے سعودیوں کو اعتراض  ہے ۔ اطلاعات کے مطابق دولت اسلامیہ کے خلاف ایف 15 جنگی طیارہ اڑانے والے سعودی شہزادے کو قتل کی دھمکیاں  دی گئی ہیں۔ کویت اور قطر سمیت سعودی عرب کو بھی عام لوگوں کی جانب سے دولت اسلامیہ کی مالی امداد روکنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ سعودی عرب کو فی الحال دولت اسلامیہ کی جانب سے براہ راست حملے کا تو خطرہ نہیں لیکن سعودی انٹیلی جنس ایجنسی کو دولت اسلامیہ کے پیروکاروں کی جانب سے سعو دی عرب میں دہشت گردانہ کارروائیوں  کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ یہ ان کی صلاحیتوں  کی ایک بڑی آزمائش ہوگی۔

دولت اسلامیہ کے خطرہ اور اس کی حرکتوں سے بطور مذہب اسلام کی مسلسل بدنامی سے فکر مند سنی اور شیعہ  علما کی ایک میٹنگ  ایران کے شہر قم میں ہوئی جس میں اتحاد بین المسلمین کے ذریعہ دولت اسلامیہ جیسی خطرناک جنگجو تنظیموں سے اسلام کو بدنامی سے بچانے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔ امریکی خبر رساں  ادارے اے پی نے اطلاع دی ہے کہ اس اجتماع کے میز بان آیت اللہ نصیر مکرم شیرازی نے شیعہ اور سنی فرقوں میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور تمام مسلمان علماء کو شدت پسند ی اور انتہا پسندی کو ہوا دینے والے عناصر کی مذمت اور حوصلہ شکنی کرنے کوکہا۔ انہوں نے کہا کہ دولت اسلامہ کے شدت پسند گمراہ گروپ کے خلاف جاری فوجی کارروائی ضروری لیکن ناکافی ہیں۔  انہوں نے کہا کہ علماء  کا فرض ہے کہ وہ اسلام کا معتدل  او رسچا چہرہ دنیا کے سامنے پیش کریں اور دولت اسلامیہ  کے مکر وہ چہرے کو بے نقاب کریں ۔ عراق کے وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری نے کہا کہ  دولت اسلامیہ  کا گروہ اسلامی دنیا کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے ۔ دولت اسلامیہ کےبڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے سعودی عرب جیسی ریاستیں بھی پریشان ہیں انہوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ کو مسلم معاشرہ کو تباہ کرنے اور اسلام کو بدنام کرنے کے لیے بنایا گیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ دولت اسلامیہ  کے جنگجو سنی اور شیعہ دونوں فرقے کے لوگوں کو بلا تخصیص ہلاک کررہے ہیں۔ سنی عالم دین عبدالرحمان سربازی نےجو جنوب مشرقی ایران میں جمعہ کے اجتعمات کی امامت کرتے ہیں کہا کہ دولت اسلامیہ کی انسانیت سوز اور ظالمانہ کارروائیوں کی سنیوں کو بھی اسی شدت کے ساتھ مذمت کرنی چاہئے کیونکہ گروہ انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔ ایک شیعہ رہنما مہدی  علی زادہ موسی نے کہا کہ دولت اسلامیہ مسلمانوں میں خلیج اور اختلاف کو گہرا کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس تقریب کے دیگر شرکا نے ان سازش مفروضوں کو دہرایا کہ دولت اسلامیہ کے پیچھے اسرائیل  اور امریکہ  ہے جو عالم اسلام میں اختلاف  کوہوا دینا چاہتے ہیں ۔ کچھ بھی ہو ہر قسم کی جنگجوئیت کا خاتمہ ضروری ہے جو بغیر انصاف کے ممکن نہیں ہے دولت اسلامیہ ، طالبان ، جیش محمد، جیسی تنظیمیں  اسلام کی  بدنامی کا  باعث بن رہی ہیں  یہ سلسلہ ختم ہوناچاہئے ساتھ  ہی فلسطین  کے مسئلہ کا آبرو مندانہ اور انصاف پر مبنی  حل بھی  نکلنا چاہئے عالم اسلام کا سیاسی معاشی اور سماجی استحصال بھی بند ہوناچاہئے ۔

28 نومبر، 2014  بشکریہ : روز نامہ جدید خبر، نئی دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/obaidullah-nasir/consensus-against-dai-sh--دولت-اسلا-میہ-کے-خلاف-اجماع/d/100237

 

Loading..

Loading..