New Age Islam
Sun Sep 27 2020, 07:15 AM

Urdu Section ( 23 Feb 2018, NewAgeIslam.Com)

Reasons of the Fall of Sufism and Its Impact- Part-3 تصوف کے زوال کے اسباب او راس کے اثرات

 

نورین علی حق

(تیسری قسط)

23فروری،2018

حصول تعلیم ہے معنی

قرآن پاک کے سلسلۂ نزول کاپہلا لفظ ’’ اقراء‘‘ ہے،اس کے بعد بھی قرآن نے متعدد بار حصول تعلیم کی اہمیت پر زور ڈالا ہے، احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تعلیم کی اہمیت و ضرورت او راس کی افادیت سے لیس ہیں،ہمارے صوفیہ بھی تزکیہ کا آغاز حصول تعلیم سے کرتے رہے ہیں ۔چونکہ غلط اور صحیح کے درمیان جو چیز حائل ہوتی ہے وہ تعلیم ہی ہے۔ اگر یہی نہ معلوم ہوکہ کیا غلط ہے اور کیا صحیح تواصلاح نفس، تصفیہ قلت اور تزکیہ باطن کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ۔

تصوف کے دور زوال میں خانقاہوں کے نظر سے تعلیم کی اہمیت بھی ختم ہوگئی، چونکہ ان کے آباو اجداد کی تعلیم اور علمی و فکری کارنامے اتنے معروف ہوئے کہ بعد کے لوگوں نے انہی کی تعلیم کو فروخت کرکے اپنا کام چلانا چاہا او ریہ بآسانی کہا جاسکتا ہے کہ ایک آدھ نسل کا کام ان کی پچھلی نسلوں کی تعلیم سے چلا بھی ۔ مگر صرف سنی سنائی باتوں سے زندگی کے تمام مسائل حل نہیں کیے جاسکتے ۔ہر آن ہر لحظہ دنیابدل رہی ہے، نئے نئے مسائل سے ہم دو چار ہیں ۔ ان کے حل کی راہیں اور استدلال بھی ہمیں تلاش کرنا ہے، جس کے لیے نصوص کی ورق گردانی اور مطالعہ انتہائی ضروری ہے، جس کے اہل ہم تھے ہی نہیں ۔ تعلیم کی کمی نے نہ ہمیں اپنے مسائل حل کرنے دیے نہ اپنے متعلقین و وابستگان کے، جس کے بعد ہمیں تعلیمی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے کہیں اور کاسۂ گدائی دراز کرنا پڑا۔کئی بار تو ہم نے جہالتوں کے اندھیروں میں سخت ترین اندھیری رات میں صحرا میں بھٹکنے والے اونٹوں کی طرح تو بھٹکنا گوارہ کیا مگر حصول تعلیم کے لیے کمر بستہ نہ ہوسکے او راپنے بعد کی نسلوں کی تعلیم کابھی بہتر اور مناسب انتظام نہ کرسکے ۔ اسلاف کے مدفن بیچنے میں اس قدر محور ہوئے او راس سے ہماری اتنی زیادہ آمدنی ہوئی کہ حصول معاش کی فکر ہی نہ رہی تو تعلیم حاصل ہی کیوں کرتے، جس کے بعد نہ دنیا سے واقفیت ضروری محسوس ہوئی نہ ہی ان کتابوں تک ہماری نگاہیں پہنچیں ، جن کے ذریعے ہماری جڑیں کھودی جارہی تھیں۔ تعلیم کی کمی نے یہ بھی ظلم کیا کہ ہمارے اندر سے خدمات اور انعام دونو ں کا فرق مٹ گیا ۔ بعد میں ہم اپنے آباو اجداد کی کرامتیں گھڑتے رہے اور عوام کو سنا کر یہ گمان کرتے رہے کہ اس سے عوام ہمارے دست گرفتہ رہیں گے جمہور اہلسنت میں شاید ایساکوئی نہیں، جو کرامات اولیاء کا قائل نہیں لیکن اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ کرامات کا ظہور من جانب اللہ ہوتاہے اور کرامات اللہ کی طرف سے اپنے نیک بندوں کے لیے انعام ہے، ان کی ان خدمات کا انعام ، جو مخلوق خدا کے لیے اولیائے کرام انجام دیتے رہتے ہیں ہم ان ہی کرامات کوبیان کرتے رہے اور اپنے اسلاف کی خدمات کونہ بیان کرسکے نہ ہی ان خدمات کی انجام دہی کے لیے عملاً  خود کو تیار کرسکے ۔ تعلیم کی کمی اورناخواندگی نے شریعت اور طریقت کے مابین خط امتیاز کھینچ دیا ۔حالانکہ طریقت کا بنیادی مقصد ہی اپنے باطن کے ساتھ شریعت کی پیروی او راس کا غلبہ ہے،جس کے نتیجے میں متعدد روحانی و عرفانی انعامات سے ہم نوازے جاتے رہے ہیں۔

تعلیم کے ساتھ اسی بے اعتنائی نے ہماری خانقاہوں سے قابل قدر تعلیم دینے والے مدارس کو ختم کردیا چہ جائے کہ کالج اوریونیورسٹی کا تصور کیا جاسکے ۔ خانقاہوں میں جو مدارس آج پائے جاتے ہیں ۔ ان کے طلبہ یاتو آداب و رسوم خانقاہی میں مصروف رہتے ہیں ، یا وہاں اچھے او ربا صلاحیت اساتذہ کا انتظام ہی نہیں ۔ آج بھی ہندوستان کی ایک بڑی آبادی تصوف اور اس کی عملی خدمات کی قائل تو ہے،مگر تصوف بحیثیت موضوع کسی مدرسے میں ،نہ ہی کسی کالج اور یونیورسٹی میں داخل نصاب ہے اور خانقاہوں میں بھی ایسے شیوخ خال خال پائے جاتے ہیں ، جو اپنے متعلقین و مریدین کی علمی و فکری اور متصوفانہ تربیت بہتر انداز میں کرسکیں ۔ تعلیم کی اسی کمی کے راز ہائے سربستہ کی غواصی سے ہمیں دوررکھا او رہمارے وجود میں اخلاق کی عدم موجودگی نے ہمیں حسد ، جلن ، دیگر شیوخ ، دوسری خانقاہوں اور مدمقابل کی تضحیک و تذلیل اور ان کے قرار واقعی کارناموں اور خدمات کی تحقیر کا عادی بنا دیا، جس کے منطقی و عقلی نتیجے کے طور پر آج ہم لخت لخت نظر آتے ہیں او رمفاہمت نامے کے ڈرافٹ کی تیاری کے بغیر ہی اتحاد و اتفاق خانقاہی کی چڑیا کی تلاش میں جنگل و بیابان کی خاک چھان رہے ہیں ۔ اس غیر منظم کوششوں کے دوران بھی وہ عوام و خواص او رعلمائے بے دماغ وبے عقل جونسبت ارادت کے حصول سے قبل بلاتفریق سلسلۂ طریقت یکساں طور پر تمام شیوخ و پیران سلاسل کو توقیر کی نگاہوں سے دیکھنے کے قائل تھے، ما بعد حصول نسبت ارادت ’ یک گیر حکم گیر‘ کی تشریح و تفہیم ان کے ذہن و دماغ نے اس طور پر کی کہ اپنے شیخ اور اپنے سلسلہ کے علاوہ تمام شیوخ و سلاسل اور خانقاہیں ان کی نظر میں لائق مذمت او رلائق ہتک ٹھہریں ۔ چہ جائے کہ ہم نبوی اخلاق کریمہ کواپنے لیے نمونہ عمل بناتے ہمارے اخلاق و اطوار اقوام ضالین و مغضوبین سے زیادہ بدتر ہوگئے ۔

شوق تسخیر مؤکل و جن

متقدمین صوفیہ کے پیش نظر ہمیشہ خدا اور مخلوق خدارہی، عامۃ المسلمین کی خدمات کا ان کے اندر ایسا جذبہ تھا، جس سے سر موانحرف کی گنجائشنہیں ۔ اس جذبۂ خدمت کی وجہ سے ہمیشہ وہ بادشاہوں اور بادشاہتوں سے دور رہے۔ متقدمین صوفیہ نے عوام کی خدمت دعا و تعویذ کے ذریعے بھی کی،البتہ انہوں نے تسخیر مؤکل و جن کے لیے عملیات و وظائف کا کبھی سہارا نہیں لیا۔ ان کے اعمال صالحہ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور قرب خدا کے لیے اعمال پیہم اور تسلسل نے ان کی زبان میں وہ تاثیر رکھ دی تھی کہ وہ اکثر من کان للہ کان اللہ لہ کی عملی تصویر اور تجسیم نظر آئے ۔ ان کا مقصود اصلی ذات خداوندی او راس کی رضا تھی ۔ مگر افسوسناک صورتحال یہ پیدا ہوئی کہ ابتدائی زمانہ کے ساتھ اس نظریہ میں بھی عملی تبدیلی واقع ہوگئی ۔ بعدکے زمانوں میں ریاضیت نیم شبی کا مقصد تسخیر مؤکل وجن او راعمال و وظائف ٹھہرا ۔ خدا کی ذات کے بجائے نقطہ انجماد قریب مؤکل و جن ہوا ۔ یہ زمانہ جب طوالت اختیار کر گیا او رعملیات کا گلیمر جب صوفیوں کے سر چڑھ کربولنے لگا تو بالآخر انیسویں صدی کے صوفی شاہ محمد سلیمان تونسوی (م 1770۔ف1850ء ) کو یہ کہنا پڑا :

’’ سالک راباید کہ درعملیات تضیع وقت نہ کند کہ این رہزن و مانع راہ فقر است و مقصود اصلی کہ یاد کردن حق است‘‘۔(نافع السالکین ص 25بحوالہ تاریخ مشائخ چشت ص 637) مرکز اصلی سے عملی طور پر ہمارے ہٹ جانے اور دور ہوجانے کے باوجود معاملہ رکا نہیں ۔ ہم اس راہ میں مزیدآگے بڑھتے چلے گئے ۔ نوبت بایں جارسید کہ فی زمانہ زیادہ صوفی قرب خداوندی اور تسخیر و مؤکل و جن دونوں سے محروم ہیں، اس کے باوجود ان کے غالی مریدین او ربعض سندیا فتہ مگر بے علم افراد ان کے سامنے جنوں او رمؤکلوں کے صف بستہ ہونے کی الف لیلولی داستانیں تراش کر عملاً ان کے خلاف منفی تشہیر کررہے ہیں اور سند افتخار و قربت حاصل کررہے ہیں یہ الگ بات ہے کہ علمی حلقوں میں اس طرح کی تشہیر سے صوفیہ بدنام ہورہے ہیں ، جس کی فکر نہ خود صوفیوں کو ہے نہ ان کے مریدین جو متوسلین او رتشہیر ی مہم کے سالاروں کو ۔

23فروری،2018، بشکریہ : روز نامہ میرا وطن، نئی دہلی

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..