New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 05:23 PM

Urdu Section ( 6 Jan 2012, NewAgeIslam.Com)

Killing for Honour and Islam عزت کے لئے قتل اور اسلام

 

نیلو فر احمد (انگریزی سے ترجمہ۔ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)

جاگیردارانہ ساخت کا  ہمارا معاشرہ اپنے انسانیت سوز قوانین پر  عمل کرتا ہے ۔اور یہ غیر انسانی اور ظلم کے نظام  کو اس لئے لاگو کرتا ہےتاکہ سماجی درجے میں سب سے اعلیٰ مقام چنندہ لوگوں کوتفویض کی کا سکے ۔ان لوگوں  کو اس بات کی فکر نہیں کہ وہ کس نام سے جانے جائیں گے  ہر سال عزت کے نام پر ہونے والے مظالم  کے شکار لوگوں کی تعداد سیکڑوں میں ہوتی ہے۔

یہ گھناونی  روایت ،شہری اور دیہی سبھی سماجی طبقوں پھیل چکی ہے۔قابل نفرت یہ جرم عزت کے نام پر  جائداد کے جھگڑوں، پرانی دشمنی کا بدلہ لینے کے لئے، یا ایک خاتون اگر اپنے بدسلوکی کرنے والے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے ،یا  ایک قاتل کا دفاع کرنے کے لئے جس نے ایک مرد کا خون کر دیا  اور اسے چھپانے کے لئے ایک معصوم خاتون کا قتل کر دیا  اور مقتول پر کارو کاری کا الزام  لگاتے ہیں  اور اسی طرح کے دوسرےمعاملوں کو چھپانے کے لئے کیا جاتا ہے۔کارو کاری کی یہ اصطلاح غیر قانونی تعلقات، بیوی  یا شوہر کے علاوہ جنسی تعلقات اور آوارہ پن کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

دوہرا قتل بھی کیا جاتا ہے جب ایک مرد اور ایک خاتون اپنی مرضی سے شادی کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔اس طرح کے  معاملات میں اکثر  خاتون قاتل کی بہن، سابق بیوی یا کوئی اور رشتہ دار شکار ہوتی ہے۔چونکہ قاتل بھی  متاثر ہونے کا دم بھرتا ہے اور وہ معاملے کو اپنےحق میں کرنے کے لئے دلیل دیتا ہے کہ اس کی عزت تباہ ہوئی ہے اور اس کے پاس سوائے  مجرم کو قتل کرنے کےکوئی اور چارہ نہیں تھا !اور  اگر انہں  کوئی سزا ملتی بھی ہے  تو وہ بہت  معمولی ہوتی ہے اور اس طرح وہ چھوٹ جاتا ہے۔مقتول کی قریبی رشتہ دار بھی قاتل کو  معاف کر دیتے ہیں۔

آج تو بہت سے مسلم ملکوں میں یہ رائج ہیکہ اگر ایک شوہر اپنی بیوی کو کسی کے ساتھ زنا کرتے ہوئے  پائے تو  شوہر دونوں کو قتل کر دے اور بیوی کو تو ضرور کر دے۔لیکن قرآن اس کے بر عکس تعلیم دیتا ہے۔لیان، وہ طریقہ کار ہے جب ایک شوہر اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگاتا ہے  لیکن چار گواہ پیش نہیں کر پاتا ہے، تب اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ حکام کے پاس جائے اور اور یہ قسم چار بارکھائے کہ وہ جو کچھ بھی کہہ رہا ہے وہ سچ ہے۔سورۃ النور میں ذکر ہے، ‘اور جو لوگ اپنی عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور خود ان کے سوا ان کو گواہ نہ ہوں تو ہر ایک کی شہادت یہ ہے کہ پہلے تو چار بار خدا کی قسم کھائے کہ بے شک وہ سچا ہے۔اور پانچویں بار یہ (کہے)  کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر خدا کی لعنت۔اور عورت سے سزا کو یہ بات ٹال سکتی ہے کہ وہ پہلے چار بار خدا کی قسم کھائے کہ بے شک یہ جھوٹا ہے۔اور پانچویں دفعہ یوں  (کہے) کہ اگر یہ سچا ہو تو مجھ پر خدا کا غضب  (نازل ہو)۔’ (24:6-9)

اگر وہ جرم قبول کرے یا خاموش رہے، تو بدکاری کے لئے جو سزا طے ہے اسے ملے گی۔اگر وہ قسم کھاتی اور کہتی ہے کہ وہ بےقصور ہے، تو شوہر کے خلاف  اسکی بات مانی  جاۓ گی ۔ اور وہ طلاق لے سکتے ہیں۔

نبی کریم ﷺ کے فرمان کی بنیاد پر ، اس کے بعد پیدا ہونے وا لا  بچہ ماں کا  کہلائے گا اور وہ کسی طرح اپنے والد سے نہیں جوڑا جائے گا۔اس کے بعد اگر کوئی اس عورت کو  بدکار کہتا ہے اور بچے کو  ناجائز کہتا ہے تو ایسے شخص کوبہتان لگانے کے سبب 80 درّے لگانے کی سزا دی جا سکتی ہے اور اسے  دوبارہ قابل اعتماد گواہ نہیں مانا جائے گا  (دیکھیں 24:4)۔ جو شخص چار گواہ نہ پیش کر سکتا ہو اسے اس طرح کے الزام نہیں لگانے چاہیے۔روایتی طور پر  کارو کاری کے لئے قتل کی گئی عورت کی مناسب تدفین بھی نہیں کی جاتی ہے اور نہ ہی اسے اس طبقے کے قبرستان میں دفن کیا جاتا ہے۔کوئی بھی  اس کی قبر پر نہیں جا سکتا ہے اور یہاں تک کہ بعد میں بھی نہیں جا سکتا ہے۔یہاں ہمارے لئے نبی کریم ﷺ کی اس حدیث پر غور کرنا فائدہ مند ہوگا۔ایک بار ایک عورت نے اعتراف کیا کہ اس نے بد کاری کی ہے۔سزا ٹالنے کے لئے نبی کریم ﷺ نے اسے چار بار واپس   کیا لیکن وہ عورت بضد تھی۔آخر میں اسے سزا دی گئی۔اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے کہا کہ اس کی نماز جنازہ پڑھائی جائے اور اس کی تدفین اسی طرح کی جائے جس طرح ایک مسلمان کی ہوتی ہے۔

مسئلہ تب تک برقرار رہے گا جب تک عزت کے نام پر  قتل کو ختم کرنے کے لئے ٹھوس اقداما ت نہ کئے جائیں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم  اپنے اصلاحی  منصوبے میں پولیس اور  پیش امام اور قاری جیسےمذہبی لیڈران کو شامل کریں اور ان کی تر بیت کریں۔مذہبی لیڈران کو اس بات پر مطمئن کیا جانا چاہیے کہ یہ عمل  قرآن کے خلاف ہے اور ان سے کہا جائے کہ وہ اپنے خطبے میں  لوگوں کواور مدرسے کے طالب علموں کو  بتائیں کہ  قتل  کا  یہ عمل قابل نفرت ،ظالمانہ اور گھناؤنا جرم ہے۔اسکی شروعات  اگر ابھی کریں توہم امید کر سکتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسل اس معاملے میں  زیادہ رحم دل بن جائے۔

بشکریہ۔ ڈان، کراچی

URL for Urdu article:

http://www.newageislam.com/islamic-ideology/honour-killing-and-islam/d/3020

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/killing-for-honour-and-islam--عزت-کے-لئے-قتل-اور-اسلام/d/6323

 

Loading..

Loading..