New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 08:49 PM

Urdu Section ( 15 Jan 2012, NewAgeIslam.Com)

The Best Names of Allah اللہ کے بہترین نام

 

نیلو فر احمد  (انگریزی سے ترجمہ۔ سمیع الرحمٰن ،  نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)

ایک رات  نبی کریم ﷺ اپنے گھر میں عبادت کر رہے تھے اور ان ا لفاظ کے ساتھ خدا سے استدعا کر رہے تھے، ‘یا اللہ! یا رحمٰن!’۔آپ ﷺ پر  ایمان نہ لانے والے پڑوسی ابو جہل یہ سن کر بہت خوش ہوا۔

وہ دوڑتا ہوا اپنے دوستوں کے قریب گیا اور کہا، ‘محمدﷺ جو ایک خدا کی پرستش کی تبلیغ کرتے ہیں وہ خود دو خدائوں اللہ اور رحمٰن کا نام لیتے ہیں۔’

اس کے بعد سورۃ بنی اسرائیل نازل ہوئی ،‘کہہ دو کہ تم (خدا کو) الله (کے نام سے) پکارو یا رحمٰن (کے نام سے) جس نام سے پکارو اس کے سب اچھے نام ہیں (17:110)۔’ایک حدیث کے مطابق اللہ کے99اسماء الحسنیٰ یا سب سے اچھے نام ہیں جو اللہ کی صفات کو بیان کرتے ہیں۔ (ترمذی)

اللہ ال اور الاہ کا مجموعہ ہے، ال ایک حرف تخصیص جیسے عربی میں آل ہوتا ہے اور الاہ کے معنی خدا کے ہیں۔اللہ خدائے واحد کا ذاتی اور مناسب نام ہے۔اس نام میں اس کی صفات کی تمام خصوصیات کو یکجا کیا گیاہے

‘ الرحمن’  کا مطلب رحم کرنے والے کے ہیں اور یہ اللہ کے ناموں میں  سب سے زیادہ کثرت کے ساتھ استعمال کئے جانے والوں میں سے ایک ہے۔‘الرحیم’  کا مطلب ہےبے حد رحم کرنے والا۔الرحمٰن کہ ہی طرح اس کی بھی مادّہ ایک ہی ہے۔رحم کے معنی بچہ دانی کے ہیں جو تمام محبت اور رحم کا مرکز ہے۔ یہ نام بھی خدا کے پسندیدہ ناموں میں سے ایک ہےکیوں کہ یہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم  میں استعمال ہوتا ہے اور جسے قرآن  کی تلاوت کرنے سے قبل سے لے کر   کھانہ شروع  کرنے اور سفر کا آغاز کرتے وقت کی جاتا ہے۔اس کے علاوہ حدیث قدسی ہے  جس میں خدا نے فرمایا ہے کہ  ‘رحمتی  سبقت غضبی’ جس کے معنی ، ‘میری رحمت میرے غضب پر فوقیّت حاصل کر لی۔’

’اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں (اپنا) نائب بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا۔ کیا تُو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت وخون کرتا پھرے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح وتقدیس کرتے رہتے ہیں۔ (خدا نے) فرمایا میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔اور اس نے آدم کو سب (چیزوں کے) نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ۔

انہوں نے کہا، تو پاک ہے۔ جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے، اس کے سوا ہمیں کچھ بھی  علم نہیں۔ بے شک تو دانا (اور) حکمت والا ہے۔ا(تب) خدا نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ۔ جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جاتنا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے’ (2:30-33)

سوال یہ اٹھتا ہے کہ ناموں سے مراد کیا ہے جو حضرت آدم ؑ کو سکھائے گئے۔اس کی ایک وضاحت یہ ہے علم سے مراد نام ہے۔ انسانوں کو علم حاصل کرنے اور کائنات کے راز کو دریافت کرنے کی صلاحیت دی گئی ہے۔

اس کی ایک اور وضاحت یہ ہے کہ ، یہ اللہ کے 99خوبصورت نام ہیں۔پروردگار کی  خصوصیات تمام کائنات اور سبھی مخلوقات میں سرایت کی ہو ئی  ہے۔اس کائنات کو سمجھنے کے  لئے  اس پرور دگار کی صفات کا علم حاصل کرنا ہوگا۔

امام غزالی اپنے صحیفے میں خدا کے خوبصورت ناموں کے بارے میں لکھتے ہیں کہ  ‘المقصد الأسنى في شرح معاني أسماء الله الحسنى ’ یعنی ہر کوئی اپنی صلاحیت کے مطابق مختلف سطحوں پر  ان ناموں کے معنی کو سمجھتا ہے۔اللہ کی مخلوقات میں سے فرشتے اور جانور دو تیہا ئی میں شامل ہیں: فرشتے جذبے اور غصے کے تابع نہیں ہیں جبکہ جانوروں کا تصور اور عمل ان تک ہی محدود ہے۔ان دونوں کے درمیان انسان ہے، اگرچہ ان کی فطرت غلبہ حاصل کرنے کی ہے۔ان کی خواہش دونوں کو تخلیقی طور پر جمع کرنے کے لئے اپنی آزادانہ مرضی کے استعمال کرنے کی ہے اور اس طرح کمال حاصل کرنے کی ہے۔

ایسا کہا جاتا ہے کہ خدا کے بے شمار نام ہیں اور ہر ایک فرد خدا کے ساتھ اپنے تعلق کی بنیاد پر اس فہرست میں اضافہ کر سکتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہر ایک نام اللہ کے خزانوں  میں سے کچھ ایک کی چابھی ہے۔ایک کے بعد ایک نام  کو یا ناموں کے روحانی اثر کے مطابق مختلف مقاصد کے لئے مخصوص مجموعہ میں  تلاوت کرنے کی  روایت رہی ہے۔

 خدا کی صفات کا حصہ ایک شخص اپنی صلاحیت کے مطابق لے سکتا ہے۔اگر ایک شخص  الرحمٰن  یعنی نہایت رحم کرنے والی صفات میں اپنا حصہ چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اس وصف پردوسری مخلوق کے تئیں اور زیادہ رحم کرنے کاعمل شروع کر دے۔دوسری جانب اگر وہ اس کے ذکر پر عمل کرتا ہے اور یا رحمٰن کا ورد کرتا ہے تو  اسے معلوم ہو گا کہ خدا اس پر اور زیادہ مہربان ہو رہا ہے۔اس طرح وہ رحم کرنے والا تو بنے گا ہی ساتھ ہی اس پر خدا کی رحمت بھی ہوگی۔

اس سے اس کی روح اور خدا کے وصف کے درمیان  تعلق پیدا ہوگا۔اور اس خدا کی قربت حاصل کرنے کی خواہش میں جو باکمال اور حق ہے اضافہ ہوگا۔قرآن میں اللہ کے بعض  نام پیغمبر محمد ﷺ کو عطا کئے گئے ہیں جیسے عزیز ، (معروف یا غالب)  ، رؤف (محبت) ،ہادی (رہنما ) ، او رحیم  (رحم کرنے والا) ،  چونکہ تخلیق  کائنات کی تاریخ  میں نبی کریم ﷺ خدا کے سب سے قریب  رہے ہیں۔

صوفی حضرات کے مطابق ، خدا کے جوہر یا ذات پاک کی حقیقت میں  مہارت حاصل نہیں کی جا سکتی ہے۔ لیکن خدا کی  صفات  کی تلاوت اور ان پر عمل  کے ذریعہ ایک شخص خدا کی ان صفات کو  اپنی ممکنہ  حد تک حاصل کر سکتا ہے اور پہلے فرشتوں اور بعد میں خدا کی قربت حاصل کر سکتا ہے۔

وہ لوگ جنہوں نے عظیم بلندیوں کو  حاصل کیا ہے وہ اس  مرحلے کو پہنچ  سکتے ہیں جب  وہ مسجود ملک یا جن کا سجدہ فرشتے کرتے ہیں بن جائیں جیسا کہ حضرت آدم ؑ کے معاملے میں تھا۔چونکہ حتمی کمالات صرف اور صرف اللہ کی ذات تک محدود ہے اور دوسری چیزیں صرف اس کے سلسلےکو  مکمل کرنےکا ذریعہ ہو  سکتی ہیں۔اللہ کے بعض صفات کو حاصل کرنے اور ان سے نفع حاصل کرنے کی چاہت کمال کو پانے کی چاہت کا بھی راستہ ہے۔

مصنفہ قرآن کی اسکالر ہیں اور عصر حاضر کے موضوعات پر لکھتی ہیں

بشکریہ: دی ڈان، کراچی

URL for English article:

 http://www.newageislam.com/islam-and-spiritualism/his-are-the-most-beautiful-names--the-names-of-allah/d/6098


URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/the-best-names-of-allah--اللہ-کے-بہترین-نام/d/6384

 

Loading..

Loading..