New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 09:34 PM

Urdu Section ( 2 Oct 2011, NewAgeIslam.Com)

Misaq e Madina: First Written Constitution of the World میثاق مدینہ: دنیا کا پہلا تحریری آئین

نیلوفر احمد  (انگریزی سے ترجمہ۔ سمیع الرحمٰن،نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)

جب پیغمبر اسلام محمدﷺ نے مدینہ ہجرت کی تو وہاں نہ کوئی حکمراں تھا،نا ہی کوئی تحریری قانون اور نتیجتاً جرم کے لئے کسی کی کوئی جواب دہی نہ تھی۔طاقتور کو کھلی چھوٹ تھی جبکہ کمزور کواپنی بقاء کے لئے طاقتور قبیلے یا اس کے لیڈر کے زیر سایہ رہنا پڑتا تھا۔

عرب میں لاقانونیت کے ساتھ ہی ساتھ باہمی ہلاکتوں والی مسلسل قبائلی جنگیں جاری رہتی تھیں۔رسول اللہﷺ شہر کو ایک ریاست کی شکل دینے اور تحریری قوانین جو بنیادی آئین کے لئے زمین فراہم کر سکیں، کو بنانے کے لئے فوراً منظم کوشش کرنے لگے۔

مدینہ منورہ میں مسلمانوں کی آمد سے قبل آبادی تقریباً10ہزار تھی اور ان میں تقریباً15فیصد مہاجر مسلمان تھے اور باقی کی آبادی یہودیوں اور مشرکوں کے درمیان برابر سے تقسیم تھی۔وہاں کوئی عام قوانین نہیں تھے اور نہ ہی کوئی مرکزی کمان تھی۔

ہر قبیلہ اپنی رسم ورواج کے مطابق معاملات کو حل کیا کرتا تھا۔ڈاکٹر ایم حمید اللہ نے نبی کریم ﷺ کی سوانح عمری’ محمد رسول اللہﷺ‘ میں لکھا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تمام جماعتوں کے ساتھ مشاورت کرکے ایک کنفڈریشن کی بنیاد پر مدینہ میں ایک شہر کی ریاست کے قیام کا فیصلہ کیا۔

اس میں شامل تمام اکائیوں کے لئے ایک حد تک خودمختاری اور عام قوائد اور ایسے قوانین جو شہریوں کے درمیان اتحاد قائم کریں ضروری تھے۔

مسلمان ،یہودی اور مشرکین سبھی ایک امّت مانے جائیں گے۔

ہجری سن کے پہلے سال (623C.E.)میں قوائد کا مسودہ تیار کیا گیا جسے میثاق مدینہ کہا گیا۔اس آئین کی مکمل شکل ابن اسحاق کے ذریعہ نبی کریم ﷺ پر لکھی سوانح عمری میں ہمارے سامنے آئی۔یہ دستاویز تقریباً52 شقوں پر مشتمل تھا۔کیونکہ اس وقت مسلسل قبائلی جنگیں جاری تھیں اس لئے اس آئین کی زیادہ تر شقیں جنگ کے مسائل اور اس کے بعد کے معاملات پر مبنی تھیں۔

ڈاکٹر حمید اللہ اسے دنیا کا پہلا تحریری آئین قرار دیتے ہیں۔ڈاکٹر حمید اللہ مزید کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سیاست میں اخلاقی اقدار کو متعارف کروایااور انصاف کو یقینی بنانے کے لئے اداروں کا قیام کیا اور یہ اعلان کیا کہ حقیقی اورحتمیٰ طاقت اللہ ہی سے تعلق رکھتی ہے۔آپﷺ نے اس تصور کو دور کیا کہ بادشاہ کوئی غلطی نہیں کر سکتا ہے۔ آپﷺ نے خود کو اللہ کے نبی ہونے اور اس زمین پر اللہ کانمائندہ ہونے کا اعلان کیااور امّت کے لئے آئی ہدایات کو خود کے لئے بھی فر ض مانا۔

ایم اختر مسلم اپنی تصنیف ’قرآن اور انسانی حقوق‘ میں لکھتے ہیں کہ اس دستاویز نے انصاف،رواداری،امن اور آزادی بشمول مذہب کی آزدی اور بقائے باہمی کے اصول کے تعلق سے ہر فرد اور طبقے کی ضروریات اور چیلنجز کو پورا کرنے کی کوشش کی۔وہ مزید لکھتے ہیں کہ یہودی جو اپنے علم، مہارت اور سمجھداری کے لئے صدیوں سے جانے جاتے تھے اور جو دوسروں کے ساتھ معاملات میں بہت تیز تھے،انہوں نے اس معائدہ کو پوری طرح ،اپنی مرضی اور پر امن طریقے سے قبول کیا تھا۔

اس کے علاوہ تمام شہریوں نے بغیر کسی دباؤ کے رسول اللہﷺ کو اس وقت اپنا حکمراں مان لیا تھا،جب کہ وہ اقلیتوں کے ہی رہنما تھے۔یہ بہت بڑی کامیابی تھی۔ ڈاکٹر حمید اللہ کے مطابق اس معائدے نے سماجی تحفظ کے تصور کو بھی متعارف کرایا۔اگر ایک فرد خون بہا یا تاوان ادا نہ کرنے کی وجہ سے مشکل صورت حال میں پایا جاتا ہے تو اس کا قبیلہ اس سلسلے میں اپنے وسائل سے اسکی مدد کر سکتا ہے۔امّت کا سب سے غریب تصور کیا جانے والا شخص بھی جسے وہ اس قابل سمجھے تحفظ فراہم کر سکتا ہے اور پوری امّت کو اپنی زبان کا پابند کرا سکتا ہے۔جو لوگ معائدے سے باہر تھے ان کی بھی حفاظت کی جاسکتی تھی۔

مدینہ ان لوگوں کے لئے ایک مقدس مقام بن گیا جنہوں نے اس دستاویزپر دستخط کئے۔تمام یہودی قبائل جنہوں نے تعاون کیا انہیں برابری کا درجہ ملا اور مدد بھی۔وہ مہاجر ین جو مکّہ سے مدینہ ہجرت کر کے آئے ان کو ایک قبیلہ تصورکیاگیا۔امن معاہدیے میں یہ مشروط تھا کہ کوئی مومن کسی غیرمومن کی کسی مومن کے خلاف مدد نہیں کریگا۔تمام مومن اس شخص کے خلاف ہیں جومومنوں میں ناانصافی،دشمنی،گناہ یا بد عنوانی کو پھیلائے،یہاں تک کی اگر وہ مومنوں میں سے ہی ایک ہو۔ بغیر ریاست کے سربراہ کی اجازت کے کو ئی بھی جنگ کرنے کا اختیار نہیں رکھے گا۔

انصاف کا نظم کسی ایک ظالم کے ہاتھ میں نہیں ہوگا بلکہ پوری امّت کی ذمہ داری ہوگی۔

اس کا مطلب ہے کہ بے روک ٹوک بدلے پر لگام لگ جائے گی اور لوگوں کو انصاف دلانا ریاست کی ذمہ داری ہوگی۔انصاف کے معاملے میں برادری یا سماجی تعلقات حائل نہیں ہوں گے۔کسی کو قاتل یا مجرم کے حفاظت کی اجازت نہیں ہوگی۔

مکّہ کے قریش یا ان کے معاونین جو مسلسل مومنوں کو نقصان پہچانے کہ در پہ تھے، انکی حفاظت کا اختیار کسی کو نہیں ہوگا۔

تنازعہ کی صورت میں پیغمبر اسلام محمدﷺ کی تعلیمات سے رجوع کیا جائے گا۔ یہ واضح کہا گیا کہ مسلمانوں اور یہودیوں کو اپنے مذہب پر عمل کی اجازت ہوگی۔ کسی ایک فرد کے جرم کے لئے پورا قبیلہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔معاہدہ پر دستخط کرنے والوں میں سے کسی ایک پر حملہ ہوتا ہے تو تمام اراکین پر اس کا دفاع کرنا مجبوری ہوگی۔اگر یہودی کسی پارٹی کے ساتھ امن معائدہ کرتے ہیں اور مومنوں کو بھی اس میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں تو مومنین کو جہاد کے علاوہ اس میں شامل ہونا ہوگا۔

اس معاہدے سے کئی قبائل کی لوگوں کو دبانے والے عمل کی جگہ لوگوں کو متحد کرنے والے جدید تصور کوا س کے اوپر غالب آنے کا موقع ملا۔دوسرے عقائد کے ماننے والوں کے ساتھ بقائے باہم کے بنیادی اصول ،سبھی کے ساتھ انصاف کرنے،کسی کی زبان کا پاس رکھنے اور کمزور کے لئے تشویش رکھنے کے عمل پر اس معاہدے کے ذریعہ روشنی ڈالی گئی اور آنے والی نسلوں کے عمل کے لئے حکومت کی بنیاد رکھی۔

مصنفہ قرآن کی اسکالر ہیں اورعصر حاضر میں اس کی معانویت پر لکھتی رہتی ہیں۔

بشکریہ۔ ڈان، کراچی

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-society/misaaq-i-madinah--first-written-constitution-of-the-world/d/5576

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/misaq-e-madina--first-written-constitution-of-the-world--میثاق-مدینہ--دنیا-کا-پہلا-تحریری-آئین/d/5608

 

Loading..

Loading..