New Age Islam
Sat Apr 04 2026, 01:19 PM

Urdu Section ( 12 Feb 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Unethical Way of Roping in Women in BLA بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچ خواتین کا استحصال

نیو ایج اسلام اسٹاف رائیٹر

12فروری 2026

فروری کے آغاز میں بلوچستان لبریشن آرمی نے پاکستان آرمی کے خلاف آپریشن ہیروف 2 لانچ کیا اور ان کے دعوے کے مطابق انہوں نے پاکستان فوج کے 200 سے زائد فوجی مارے۔ اس آپریشن کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی قیادت دو بلوچ خواتین ہوا بلوچ اور آصفہ مینگل نے کی۔ دونوں پاکستانی فوج کے جوابی آپریشن آپریشن ردالفتنہ میں ہلاک ہوئیں۔ بی ایل اے نے دونوں کوشہید قرار دیا۔ ہوابلوچ اور آصفہ مینگل کی بلوچ آرمی ۔ی۔ بحیثیت شرکت سے اس بیانئیے کو تقویت ملی ہے کہ اب بلوچ خواتین پاکستان فوج کے خلاف عسکری شعبے میں بھی شامل ہوکر دوبدو جنگ کررہی ہیں۔ اب تک بلوچ خواتین بلوچ یوتھ کمیٹی کے بینر تلے ماہ رنگ بلوچ کی قیادت میں صرف پرامن دھرنوں اور احتجاجوں میں ہی شریک ہوتی تھیں اور گمشدہ اور اغوا شدہ افراد کی رہائی یا ان کے متعلق معلومات عام کرنے کا مطالبہ کرتی تھیں۔ اس سے قبل کچھ بلوچ خواتین  بلوچ لبریشن آرمی کے خودکش دستے میں بھی شامل ہوکر خودکش دھماکے کرچکی ہیں ۔ان واقعات سے اس بیانئے کو فروغ ہوا کہ بلوچ خواتین اب پاکستان فوج کے خلاف جنگ میں بھی شریک ہورہی ہیں اور خودکش بمبار بننے میں بھی رضامندی ظاہر کررہی ہیں۔ لیکن ادھر کچھ خواتین کے ساتھ بی ایل اے کی طرف سے  عسکری ونگ میں شامل ہونے کے لئے زور زبردستی کرنے اور انکار کرنے پران کی عصمت دری کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچ عسکری تنظیمیں اب اپنے مقاصد کے حصول کے لئے اسلامی حدود کا خیال بھی نہیں رکھ رہی ہیں۔ مثال کے طور پر گشتہ ماہ بی ایل اے نے ہانی بلوچ نامی ایک بلوچ خاتون کا اغوا کیا اور پھر اس کے ساتھ چار دنوں تک جنسی زیادتی کرکے چھوڑ دیا ۔ ہانی بلوچ پہلے بی ایل اے میں اپنی رضا مندی سے شامل ہوئی تھی لیکن پھر وہ اس تحریک سے دستبردار ہوگئی۔ لیکن بی ایل اے اس پر  تنظیم میں واپس آنے کے لئے برابر دباؤ ڈالتا رہا۔ جب اس نے ان کی بات نہیں مانی تو اسے اغوا کرلیا گیا اور چار روز تک اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرکے چھوڑ دیا گیا۔ اس نے ریاستی حکومت اور پولیس سے اسے تحفظ دینے کی فریاد کی ہے کیونکہ اسے اپنی جان کوبی ایل اے سے خطرہ ہے۔

مختلف رپورٹس سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ بی ایل اے میں جو خواتین خودکش بمبار شامل ہوتی ہیں وہ اپنی رضامندی سے خودکش بمبار نہیں بنتیں بلکہ بی ایل اے کا ایک نیٹ ورک ان کو دھوکے سے ان کو تنظیم میں شامل کرتا ہے۔ ان کا موڈس آپرانڈائی یہ ہے کہ بی ایل اے کے خفیہ کارکن بلوچ خواتین کو پہلے عشق کے جال میں پھنساتے ہیں پھر ان کے ساتھ سیکس کی ویڈیو بنا کر انہیں بلیک میل کرتے ہیں کہ اگر وہ تنظیم کے لئے کام نہیں کرینگی تو وہ  ان کی ویڈیو عام کردینگے۔ گرفتار ہونے والی کئی بلوچ خواتین نے بی ایل اے کے اس طریقہء کار کا انکشاف کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی مرد اور عورت خودکشی نہیں کرنا چاہتی جب تک کہ اسے اس ذہنی اور نفسیاتی حالت تک نہ پہنچا دیا جائے۔

بی ایل اے میں نوجوانوں کی شمولیت اور پاکستانی فوج سے ان کی شدید نفرت کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی فوج نے بلوچوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے ہیں۔ ان کی عورتوں اور مردوں کو اغوا کرکے یا تو ان کا قتل کردیا ہے یا پھر انہیں برسوں کسی قانونی کارروائی کے بغیر جیلوں میں اذیتیں سہنے کے لئے چھوڑ دیا ہے۔ خواتین کے اغوا اور ان کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات بھی عام ہیں۔خود ماہ رنگ بلوچ اور سمی دین بلوچ جو گمشدہ افراد کے مسئلے پر تحریک چلاتی ہیں اسی ظلم کا شکار ہوئی ہیں۔ ان کے والد کا اغوا کرکے قتل کردیا گیا۔ لہذا ، بلوچ نوجوانوں اور خواتین کا پاکستانی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھالینا عین ممکن ہے جیسا کہ ہوا بلوچ اور آصفہ مینگل کی کہانی سے واضح ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بی ایل اے اور بی ایل ایف اپنے خواتین عسکری ونگ میں شمولیت کے لئے بلوچ خواتین کے ساتھ اغوا ، عصمت دری اور بلیک میل کا غیر اسلامی طریقہء کار اختیار کرتی ہیں۔ ان کے اس طرز عمل سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ کوئی بھی متشدد تحریک زیادہ طویل عرصے تک اخلاقی اور انسانی حدود کا پاس نہیں رکھ سکتی اور اپنے نصب العین کو پانے کے لئے کوئی بھی طریقہ اختیار کرنے کو جائز سمجھنے لگتی ہے۔ پاکستان میں یہ منظرنامہ زیادہ نمایاں ہے کیونکہ وہاں خودکش دھماکوں کو شرعی حیثیت دے دی گئی ہے اور عراق اور شام  میں داعش کے تسلط کے دوران "دشمن " عورتوں کے ساتھ عصمت دری اور ان کی خرید وفروخت کو جائز ٹھہرایا گیا تھا۔ بلوچ باغی تنظیمیں بھی ان بلوچ عورتوں کو دشمن سمجھتی ہیں جو ان کی تحریک میں شامل نہیں ہونا چاہتیں یا جو خواتین یا مرد بی ایل اے کی جنگی  مہم کی مخالفت کرتے ہیں۔ پاکستانی فوج کے ساتھ بلوچ تنظیموں کی جنگ جتنی زیادہ شدت اختیار کرے گی بلوچ تنظیموں کو بلوچ جنگجوؤں کی اتنی ہی زیادہ ضرورت پڑے گی اور زیادہ سے زیادہ مردوں اور خواتین کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کے لئے بلوچ عسکری تنظیمیں اور بھی زیادہ سفاک اور غیر اسلامی طریقہء کار اختیار کرینگی جس کے نتیجے میں ان کی عوامی مقبولیت میں کمی آئے گی ۔ داعش اور خالصتان کی تحریک کی مثال دنیا کے سامنے ہے۔

------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/unethical-roping-women-in-bla/d/138820

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..