New Age Islam
Sun Apr 12 2026, 12:07 AM

Urdu Section ( 24 Feb 2024, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Ulema's Disagreement over Shab-E-Barat شب براءت کے مسئلہ پر علماء میں اختلاف کیوں؟

نیوایج اسلام اسٹاف رائئٹر

24 فروری 2024

ہر سال شب برءات کے موقع پر علماء میں شب برءات کی فضیلت پر علمی بحث چھڑ جاتی ہے۔ علماء کا ایک طبقہ اس کی فضیلت کی حمایت میں چند احادیث پیش کرتا ہے جکہ دوسرا طبقہ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ شب براءٹ کی فضیلت میں جو حدیثیں موجود ہیں وہ ضعیف ہیں۔

شب برات ماہ رمضان سے قبل ماہ شعبان کی پندرہویں شب کو کہتے ہیں۔ مسلمانوں نے اس موقع کو تہوار کی شکل دے دی ہے۔ اس رات مسجدوں اور قبرستانوں میں چراغاں کیا جاتا ہے۔ لوگ رات بھر مسجد میں عبادت کرتے ہیں اور دوسرے دن روزہ رکھتے ہیں۔ بچے اور جوان آتش بازی بھی کرتے ییں ۔ کبھی کبھی آتش بازی سے آگ بھی لگ جاتی ہے اور جانی و مالی نقصان بھی ہوتا ہے۔ شب برءات میں حلوہ بھی پکایا جاتا ہے حلوہ پکانے کو لے کر بھی من گھڑت روایتیں مسلمانوں میں مقبول ہو گئی ہیں۔

علماء نے شب برءات میں آتش بازی اور حلوہ خوری کو بدعت قرار دیا یے۔ رہی بات قبرستان جانے ، دن کو روزہ رکھنے اور رات کو مسجد میں عبادت کرنے کی تو حدیثوں میں اس کا بھی کوئی جواز نہیں ملتا۔ شب براءت کی بنیاد ایک ضعیف روایت پر ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک رات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی آنکھ کھلی تو انہوں نے بستر پر حضور پاک ﷺ کو نہیں پایاوہ آپ ﷺ کو ڈھونڈنے نکل گئیں۔ انہوں نے جنت البقیع قبرستان میں آپ ﷺ کو مرحومین کے لئے یاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہوئے دیکھا۔وہ وہاں سے واپس آگئیں۔ اتفاق سے وہ رات پندرہویں شعبان کی رات تھی۔ جبکہ علماء کے نزدیک یہ ضعیف روایت ہے۔ بہرحال اسی روایت کو بنیاد بنا کر شب براءت میں رات کو مسجد میں عبادت کرنے اور صبح کو قبرستان جانے کی روایت قائم کرلی گئی۔

روزہ رکھنے کی روایت کی بنیاد یہ ہے کہ حضور ﷺ نے اس دن روزہ رکھا تھا۔ دراصل حضور ﷺ ہر ماہ کی تیرہویں ، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو خصوصیت سے روزہ رکھتے تھے اور شعبان کے مہینے میں زیادہ روزے رکھتے تھے۔ لہذا ، مسلمانوں نے پندرہ شعبان کو روزہ رکھنے اور چودہ شعبان کی سحر کو قبرستان جانے کو شب براءت سے جوڑ دیا جبکہ تین دنوں کا روزہ آپ کا ہر ماہ کا معمول تھا۔

اب رہ گئی بات مسجدوں میں رات بھر عبادت کی تو چند حدیثوں میں پندرہ شعبان۔میں عبادت کی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔ظاہر ہے یہ نفلی عبادت ہے ۔ اس لئے پندرہ شعبان کی رات کی عبادت کے لئے مسجد میں جانا ضروری نہیں ہے۔ نفلی عبادتیں گھر میں بھی کی جاسکتی ہیں۔ اور نفلی عبادتیں وہی لوگ کرتے ہیں جو فرائض پابندی سے ادا کرتے ہیں۔ جبکہ شب براءت کو تہواربنادیا گیا ہے اور اس رات مسجدوں میں عبادت کرنے والوں میں زیادہ تعداد ان نوجونوں کی ہوتی ہے جو فرض نمازوں کی پابندی نہیں کرتے۔ بلکہ مسجد میں ہی نماز کا طریقہ دوسروں سے پو چھتے ہیں۔

جدید دور کے علماء شب براءت میں عبادت کے نام پر ہونے والی خرافات کی مذمت کرتے ہیں ۔ مولانا طارق مسعود کہتے ہیں کہ قبر ستان جانے کی روایت کی بنیاد حضور ﷺ کے قبرستان جانے کو بنانا درست نہیں ہے کیونکہ حضور پاک پندرہویں شعبان کی شب میں قبرستان زندگی میں صرف ایک بار گئے تھے۔دوسری بات اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی آنکھ نہ کھلی ہوتی تو اس بات کا بھی پتہ نہ چلتا آپ ﷺ قبرستان گئے تھے۔ اجینیئر محمد علی۔مرزا بھی شب براءت سے متعلق حدیثوں کو ضعیف مانتے ہیں۔

شب براءت کی رات میں نفلی عبادتوں کی فضیلت کے متعلق ضعیف روایتوں کو مان بھی لیا جائے تو ان سے صرف پندرہویں شعبان کی رات نفلی عبادتوں کاجواز ثابت ہوتا ہے۔ قبرستان میں اسی رات کو جانا ، مسجدوں میں اور قبرستانوں میں چراغاں کرنا ، آتش بازی کرنا ، حلوہ پکانا اور تقسیم کرنا اور ان سب کو دین کا حصہ سمجھنا ان کے نزدیک بدعات ہیں۔

مولانا تقی عثمانی اگرچہ پندرہویں شعبان سے متعلق حدیثوں کو صحیح مانتے ہیں لیکن وہ بھی بدعات اور خرافات کی مذمت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سعودی عرب میں اس رات میں عبادتوں کا خصوصی اہتمام نہیں ہوتا۔۔

بہرحال وہ یہ کہتے ہیں کہ پندرہویں شعبان کی فضیلت میں 17 صحابہ کی روایتیں موجود ہیں۔ اس موضوع پر مولانا طارق مسعود اورانجینیئر محمد علی مرزا کہتے ییں کہ اصول حدیث و فقہ کے مطابق اگر کسی مسئلے پر کثرت سے ضعیف حدیثیں موجود ہوں تو ان سب کو ملا کر حسن قرار دے دیا جاتا ہے۔ لہذا ، چونکہ پندرہویں شعبان کی فضیلت پر کئی ضعیف حدیثیں موجود ہیں اس لئے ضعیف ضعیف ملکر حسن ہوگئیں اور اسی بنا پر پندرہویں شعبان کی فضیلت کو قبول۔کرلیا گیا۔

اگر یہ اصول کسی ضعیف اور غیر معتبر روایت کو اعتبار بخشتا ہے تو یہ اصول غیر منطقی اور غیر عقلی ہے۔مثال کے طور پر کوئی کہہ دے کے زید بیمار ہے اور اس بات کی تصدیق کئے بغیر کئی لوگ کہہ دیں کہ زید بیمار ہے تو پھر اس اصول کے مطابق یہ مان لیا جائے گا کہ زید بیمار ہے کیونکہ کئی لوگوں سے یہ بات سنی گئی ہے جبکہ کسی نے زید کو گھر یا اسپتال کے بستر پر بیماری کی حالت میں نہیں دیکھا ہے ، نہ ہی اس کی طبی رپورٹ کسی کے پاس ہے اور نہ یی اس کے گھر والوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ یہ تو ایسا ہی ہے کہ کوئی کہے کہ جب سب لوگ کہہ رہے ہیں کہ زید بیمار ہے تو وہ بیمار ہوگا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ شب براءت سے قبل اخبارات میں شب براءت کی فضیلت پر سینکڑوں مضامین شب براءت کی فضیلت پر شائع ہوتے ہیں۔ان میں کئی باتوں کو خلط ملط کردیا جاتا ہے۔ جو حدیثیں نقل کی جاتی ہیں ان سے حضور پاکﷺ کا ہر پندرہویں شعبان کو رات کو قبرستان جانا اور صحابہ کرام کا شب براءت کا اہتمام کرنا ثابت نہیں ہوتا ۔ روایتوں سے جو ضعیف ہیں پندرہویں شعبان کی شب میں نفلی عبادتوں کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ ان ضعیف حدیثوں سے شب براءت کے تہوار ہونے کا پتہ نہیں چلتا۔

جب ایک روایت راتوں کو مساجد اور قبرستان جانے کی شروع ہوگئی تو وہاں روشنی کے انتظام کی ضرورت بھی ہوئی۔ رات کے وقت لوگوں کے لئے چائے ناشتے کا انتظام بھی ضروری ہوگیا اور مختلف قسم کے پکوانوں کی دکانیں بھی لگنے لگیں۔ نوجوان لڑکوں کو موٹر سائیکل پر رات کے وقت تیز رفتاری سے مٹرگشتی کرنے کا بھی سنہرا موقع مل گیا۔ آتش بازی کو بھی اس سے جوڑ دیا گیا اور اس رات مسلمانوں نے پٹاخوں کی دکانیں بھی کھول لیں۔ اس طرح ایک ضعیف حدیث کی بنیاد پر ایک تہوار شروع کردیا گیا جس میں غیراسلامی اعمال انجام دئیے جانے لگے۔

ایک بڑی واضح دلیل اس تہوار کے متعلق یہ ہے کہ دین کے جتنے بھی فرائض تھے وہ سب حضورپاک ﷺ نے اعلانیہ طور پرمسلمانوں کو بتا دئیے۔ رمضان کے روزے کی فرضیت کا اعلان حضور پاک ﷺ نے منبر پر کھڑے ہوکر فرمایا۔ نماز ، روزہ ، حج ، زکوة ، بندوں کے حقوق وغیرہ کی فرضیت اعلانیہ طور پر بیان فرمائی اور ان فرائض کی ادائیگی کی تاکید بھی بار بار کی۔ پندرہویں شعبان میں روزے اور عبادت کی حیثیت نوافل کی ہے اس لئے ان کا ذکر صرف چند ضعیف روایتوں میں ملتا ہے۔ ،

ضرورت اس بات کی ہے کہ علمائے کرام ذاتی عقائد سے اوپر اٹھ کر شب برءات کے مسئلے پر ایک متفقہ مؤقف اختیار کریں۔ ان کے متضاد بیانات کی وجہ سے مسلمان شب براءت کے موضوع پر کنفیوزڈ ہوتے ہیں۔ اخبار میں ایک ہی صفحے پر شب براءت کی حمایت اور مخالفت ہر مضامین شائع ہوتے ہیں جو ایک عام مسلمان کو مخمصے میں ڈال دیتے ہیں۔ان مضامین میں آتش بازی کرنے اور رات کے وقت موٹرسائیکل پر طوفان بدتمیزی اٹھانے کی مذمت شاذونادر ہوتی ہے اور شب براءت کو ایک ضروری تہوار ظاہر کرنے پر زیادہ زور یوتا ہے جتی کہ یہ بھی لکھا جاتا ہے کہ اس رات کو نہ جاگنے والے لوگ بدبخت ہوتے ہیں جبکہ دین میں مبالغہ آرائی سے بچنے کو کہا گیا ہے۔

---------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/ulema-disagreement-shab-e-barat/d/131789

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..