نیو ایج اسلام اسٹاف
رائٹر
30 جون 2022
اودے پور راجستھان میں نوپور شرما کے ذریعہ مبینہ طور سے اہانت
رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے تناظر میں
ہونے والے ہولناک قتل نے ملک میں بے چینی
پیدا کر دی ہے ۔ پورے ملک میں افسو س کی
لہر ہے اور ہر کوئی اس کی مذمت کررہا ہے۔ ملک بھر میں مسلم شخصیات اور
تنظیموں نے اس کی مذمت کی ہے۔ اس واقعہ کو
غیر انسانی اور غیر اسلامی قرار دیا ہے۔ اس کو ملک کی روایات کے خلاف قرار
دیا ہے بلکہ اسے مذہبی جنون قرار دیا ہے ۔ جس کی کسی بھی مہذب سماج میں کوئی
گنجائش نہیں ہے۔
انسانیت کے قاتل پیغمبر
امن کے دشمن : آل انڈیا علما و مشائخ بورڈ
ادے پور کا واقعہ انسانیت
کو شرمسار کرنے والا
آل انڈیا علما و مشائخ
بورڈ کے بانی و صدر اور ورلڈ صوفی فورم کے چیئرمین حضرت سید محمد اشرف کچھوچھوی نے
ادے پور میں کنہیالال کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کو سخت سے سخت سزا
دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ پوری انسانیت کے لیے شرمناک ہے
۔ انہوں نے کہا کہ قاتل نبی کے دشمن اور پوری انسانیت کے قاتل ہیں کیونکہ قرآن
مجید کی سورہ المائدہ میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ جس نے کسی ایک انسان کو قتل کیا
گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا اور جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے پوری
انسانیت کو بچایا۔ اب کس طرح کسی انسان کے قتل کو جائز ٹھہرایا جا سکتا ہے ، یہ
سیدھے طور پر قرآن کی تعلیمات کے خلاف ہے۔
جیسا کہا جا رہا ہے کہ جس
شخص کو قتل کیا گیا اس نے گستاخ رسول نوپور شرما کی حمایت کی تھی جس کی وجہ سے
درندہ صفت اور متشدد سوچ رکھنے والوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی
تعلیمات کو نظر انداز کرتے ہوئے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا اور ایک ایسا ناقابل
برداشت جرم کیا جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ یہ براہ راست نبی سے دشمنی ہے جسے
نبی کی محبت کے نام سے کیا جارہا ہے
انہوں نے حکومت سے ان
مجرموں کو سخت سے سخت سے سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ حکومت
نوپور شرما کو جلد از جلد گرفتار کرے تاکہ ہمارے ملک میں بد امنی پھیلانے کی سازش
میں نوجوانوں کو ورغلانے والوں کو کامیاب نہ کیا جا سکے۔ اپنے آپ کو دعوت اسلامی
کا رکن کہنے والے اس بے رحم قاتل کی تحقیق ہونی چاہیے کہ اسے ایسے ظلم کی فکر اور
تعلیم کس نے دی ، کون لوگ ہیں جو ملک کا امن تباہ کرنا چاہتے ہیں۔
مسلمانوں کے لیے نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ان کی جان سے بڑھ کر ہے اور یقینا مسلمانوں کو نوپور
شرما کے اس بیان سے شدید دکھ پہنچا ہے جس کی وجہ سے ناراض ہیں لیکن اسلام کسی کی
جان لینے کی اجازت نہیں دیتا اور ایسا کرنے والے خود نبی کے گستاخ ہیں کیونکہ ان
کی وجہ سے نبی کی تعلیم پر انگلیاں اٹھیں گی، لہذا قانون کو ہاتھ میں لیے بغیر
آئینی طریقے سے اپنی بات کرنی چاہیے اور حکومت کو بھی کسی بھی مذہب کے خلاف تبصرہ
کرنے والوں کے سخت کارروائی کرنی چاہیے ، اس میں کوئی تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادے پور کا واقعہ انتہائی
افسوس ناک اور قابل مذمت : جمعیۃ علمائے ہند
جمعیۃ علمائے ہند کے جنرل
سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے ادے پور میں مبینہ طور سے اہانت رسول (صلی
اللہ علیہ وسلم) کے تناظر میں قتل کے ہوئے واقعہ کو بہت ہی افسوسناک اور ہر طرح سے
لائق مذمت بتایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کو جس نے بھی انجام دیا ہے ، اس کو
کسی بھی طریقے سے درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا ، یہ ملک کے قانون اور ہمارے مذہب کے
خلاف ہے ۔ ہمارے ملک میں قانون کا نظام ہے ، کسی شخص کو ذاتی طور سے قانون کو ہاتھ میں لینے کا ہرگز ہرگز
اختیار نہیں ہے ۔
مولانا حکیم الدین قاسمی
نے اس موقع پر ملک کے تمام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے جذبات کو قابو میں
رکھیں اور ملک کے اندر امن و امان قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔
۔۔۔۔
جمعیۃ علماء ہند کے صدر
مولانا محمود اسعد مدنی نے اودے پور میں ایک غیر
مسلم ٹیلر ماسٹر کے قتل اور اس کے بعد قاتلین کی طر ف سے ویڈیو بنا کر جائز
ٹھہرانے کو انسانیت کے نام پر بدنما داغ اور مذہب اسلام کو بدنام کرنے والا عمل
قرار دیا ہے ۔ مولانا مدنی نے کہا یہ واقعہ جس کسی بھی شخص کے ذریعہ انجام دیا گیا
ہو ، ملک کے قانونی نظام کے لیے بڑا چیلنج اور شرمناک ہے ۔ انھوں نے کہا کہ کسی کو
قانون ہاتھ میں لینے کا اختیار نہیں ہے۔
مولانا مدنی نے کہاکہ
جمعیۃ علماء ہند ہر طرح کی شدت پسندی کے خلاف ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ بلاتفریق
مذہب و ملت ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔یہ نہایت ہی افسوس کا مقام
ہے کہ شرپسندوں اور فرقہ پرست عناصر کے سلسلے میں قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں
کا رویہ جانبدارانہ ہوتا ہے ، جس کی وجہ سے اس طرح کے حالات رونما ہورہے ہیں ۔ یہ
نہایت ضروری ہے کہ یہ واقعہ ہو یا اس سے قبل اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا
سانحہ ہو ، سرکاریں چاق وچوبند ہو کر عبرت ناک کارروائی انجام دیں تا کہ ایسی
ذہنیت پھل پھول نہ سکے۔
مولانا مدنی نے اس موقع
پر ملک کے سبھی لوگوں سے امن وامان قائم رکھنے کی خصوصی اپیل کی ہے اور کہاکہ فرقہ
واریت کے خلاف بلاتفریق مذہب وملت ہر طبقہ کے افراد کھڑے ہوں ۔
۔۔۔
مولانا سیف اللہ منظر
نے کہا کہ اودے پور راجستھان میں آج جو کچھ ہوا وہ نہایت ہی شرمناک اور غیر مذہبی
حرکت ہے ۔ اسلام کبھی بھی اس طرح کی درندگی اور بہیمانہ قتل کی ہرگز ہرگز اجازت
نہیں دیتا ہے ۔ میں اس کی پرزور مذمت کرتا ہوں اور وہاں کی سرکار اور انتظامیہ سے
مجرموں کے خلاف سخت سزا کی مانگ کرتا ہوں ۔
۔۔
ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی
نے کہا کہ اودے پور میں قتل کا جو واقعہ پیش آیا ہے اس نے ہندوستانی مسلمانوں کے
مسائل میں اضافہ کر دیا ہے اور اسلام کی بھی بہت غلط ترجمانی کی ہے ۔ کتنی عجیب بات
ہے کہ مسلمان کوئی کام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے دعوے کے ساتھ
انجام دے اور وہ کام ایسا ہو جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض
کرنے والا ہو اور ان کے غضب کو بھڑکانے والا ہو ۔
۔۔۔
زین اللہ نظامی چیئرمین
غوثیہ فلاح ملت فاؤنڈیشن رجسڑڈ دہلی نے کہا کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس ملک میں مذہب کی بنا پر ہزاروں قتل و
غارتگری ہوئی ہے۔ لیکن آج جس طرح میڈیا مذہبی رنگ دے کر افواہوں کا بازار گرم کر رہی ہے یہ مستقبل کے
لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔2014 میں گائے کے نام پر 64 قتل کا کیس سامنے آیا
تھا اور باقاعدہ جے شری رام کے نعرے کے ساتھ واقعہ پیش آیا ہے۔ اس کے بعد داڑھی ٹوپی کے معاملے میں تقریباً 20 واقعہ پیش
آیا تھا اور ملک میں جتنے بھی دنگے فساد ہوئے ہیں اس میں مسلمانوں کا قتل عام اور
مالی نقصان ہوا ہے کہیں نا کہیں مذہبی تعصب کے ساتھ ہوا ہے۔ ہم اودے پور معاملے کی
سخت مذمت کرتے ہیں لیکن یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ میڈیا کا اس طرح مسلمانوں کے
خلاف سازشیں و زہر افشانی مستقبل کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ لہذا ٹی وی
چینل پروگراموں میں شرکت سے اجتناب کریں اور باقاعدہ طور پر اجتماعی کوششوں سے
مسلمانوں کے جان و مال کے تحفظ کے لئے حفاظتی اقدامات شروع کردیئے جائیں۔
۔۔
آل انڈیا مسلم مجلس
مشاورت
آل انڈیا مسلم مجلس
مشاورت نے اپنے بیان میں کہا کہ جو لوگ پیغمبر
اسلام سے محبت کا دعوی کرکے ایسے جرائم میں ملوث ہو رہے ہیں انہیں قانون کے مطابق
سخت ترین سزائیں دی جانی چاہییں۔ اودے پور کا واقعہ غیر اسلامی ہے اور منافرت آمیز
تقریروں کا نتیجہ ہے۔
مولانا سیف اللہ منظر نے کہا کہ اودے پور راجستھان میں آج
جو کچھ ہوا وہ نہایت ہی شرمناک اور غیر مذہبی حرکت ہے۔ اسلام کبھی بھی اس طرح کی
درندگی اور بہیمانہ قتل کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں دیتا ہے۔ میں اس کی پرزور مذمت
کرتا ہوں۔ اور وہاں کی سرکار اور انتظامیہ سے مجرموں کے خلاف سخت سزا کی مانگ کرتا
ہوں۔
۔۔۔
مسعود بیگ
نے کہا کہ اودے پور میں نفرتی ٹویٹ کرنے
والی اور نفرتی بھاشا بولنے والی بھاجپا کی ترجمان (پارٹی سے معطل مگر قانونی گرفت
سے آزاد) نپور شرما کی حمایت کرنے والے ٹیلر کا بہیمانہ قتل اسلام کی تعلیمات کے
صریحاً خلاف ہے۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ہم مسلمانانِ ہند ان قاتلوں
اور ان جیسے قاتلوں اور نفرت پھیلانے والوں کو سخت سے سخت اور جلد سے جلد سزا دیئے
جانے کی مانگ کرتے ہیں۔ ہمارے ہندوستان میں گزشتہ آٹھ دس سال سے نفرت کی سیاست اور
اس سے اُپجے نفرت کے کلچر کو جس قدر فروغ ملا ہے اس کی مثال دنیا میں ملنی مشکل
ہے۔ نفرت نفرت کو جنم دیتی ہے۔ کچھ عرصے
پہلے سینئر کانگریسی لیڈر ششی تھرور نے صحیح چیتایا تھا اور آنے والے حالات اور
خطرات سے مودی حکومت اور عوام کو آگاہ کیا تھا، وہ سچ ثابت ہو گیا ہے۔ ایک مہذب
سماج میں نفرتی سیاست اور نفرتی قتل و غارتگری انسانیت پر بہت بڑا داغ ہے۔ سرکار
اور عدلیہ کو ایسے معاملات کی سنوائی اور جلد سے جلد سزا دلانے کی دستوری ذمہ داری
بنتی ہے۔
۔۔۔
اودے پور واقعے کی جتنے
سخت الفاظ میں مذمت کی جائے کم ہوگا: اجمیر درگاہ خواجہ غریب نواز کے سجادہ نشین
شیخ المشائخ دیوان سید زین العابدین
نوپور شرما تنازعہ کے سبب
اودے پور میں جو کچھ ہوا، اس واقعے کی جتنے سخت الفاظ میں مذمت کی جائے کم ہوگا -
ایسے واقعات کی اجازت نہ تو اسلام دیتا ہے نہ ہی قرآن دیتا ہے اور نہ ہی پیغمبر
اسلام کی تعلیمات میں اس کی کوئی گنجائش ہے-ان خیالات کا اظہار اجمیر کی درگاہ خواجہ غریب نواز کے سجادہ نشین
شیخ المشائخ دیوان سید زین العابدین نے کیا -
انہوں نے کہا کہ میں
ہندوستان کے ہندوؤں مسلمانوں اور دیگر تمام مذاہب کے ماننے والوں سے اپیل کرتا ہوں
کہ ملک میں اتحاد کو برقرار رکھیں- اس کی ایکتاکو سلامت رکھیں کیونکہ اس واقعہ کا
اسلام کی تعلیمات, قرآن کی تعلیمات اور پیغمبر اسلام کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں
ہے یہ جو کچھ بھی کیا ہے بہت ہی افسوسناک اور غیر انسانی ہے-
میری آپ سب سے اپیل ہے کہ
امن و امان قائم رکھیں آنکھیں مل کمی شانتی بنائے رکھیں
اس کے ساتھ میں یہ بھی
کہنا چاہوں گا کہ ہم ملک میں طالبان ہیں تہذیب نہیں آنے دیں گے
کیوں کہ ایسے واقعات سے
نہ صرف اسلام بد نام ہوتا ہے بلکہ ماحول خراب ہوتا ہے اور اتحاد اور ایکتا کے ساتھ
فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے
میں حکومت سے اپیل کرتا
ہوں کہ ان ملزموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے -ہمارا ملک ہمیشہ دنیا کے لیے ایک
مثال رہا ہے ہماری گنگا جمنی تہذیب ہمارا اثاثہ ہے ہم اس کو گنوا نہیں سکتے۔
اس پورے حملے کی ویڈیو
بھی منظر عام پر آگئی ہےیاد رہے کہ۔ یہی نہیں ملزمان نے واقعے کے بعد سوشل میڈیا
پر پوسٹ کرکے قتل کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔ قاتل اپنے کپڑے کاناپ دینے کے بہانے
دکان میں داخل ہوا اور کنہیا لال تیلی کا قتل کر ڈالا۔
پروفیسر اخترالواسع ، اسلامک اسکالر
نے کہا کہ یہ بہت تکلیف دہ ہے، بہت افسوس
ناک ہے۔ یہ خیال رکھنا چاہئے کہ تشدد کسی بھی مسئلے کاحل نہیں ہے ۔تششد کا سہار ا
کمزرور لوگ لیتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہماری طرف سے کوئی ایسی
کارروائی نہ ہو جس سے ملک کا امن و امان اور خود مسلمانوں کا صبر و سکون برباد ہو۔
میں اپیل کروں گا ان تمام لوگوں سے، جو ادے پور میں تشدد میں شامل ہیں، یا تشدد کا
شکار ہوئے ہیں، وہ بہرحال صبر و سکون سے کام لیں ۔ احتیاط سے کام لیں اور امن و
امان کو برباد نہ ہونے دیں۔
پروفیسر اخترالواسع نے
مزید کہا کہ یہ انسانیت کے ہر قاعدے اور قوانین کے حوالے سے غلط ہے۔ہندوستان کا
دستور اس طرح کی کسی غیر ذمہ دارانہ فعل کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ہمیں اگر کسی سے
شکایت ہے تو ملک کے قانون کا سہارا لینا چاہئے۔ ہمیں ملک کا جو عدلیہ کا نظام ہے،
اس سے مدد مانگنی چاہئےاپنے ہاتھ میں قانون نہیں لینا چاہئے۔
مفتی منظور ضیائی
نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک ایک الگ دِشا میں جارہا ہے اور لوگ الگ
دِشا میں جارہے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ایسا واقعہ رونما ہوا ہے۔ جو لوگ قانون ہاتھ
میں لے رہے ہیں ،حکومت کو ان کے خلاف کاروائی کرنی چاہئے۔
مفتی ضیائی نے کہا کہ
مجرموں کے خلاف سخت قانونی کاروائی ہو۔ہم ایسی حرکتوں کی مذمت کرتے ہیں۔ ہمارا ملک
قانون سے چلتا ہے، کسی کو بھی قانون کو ہاتھ میں لینے کا اختیار نہیں ہے۔ قانون کے
راج کودوبالا کرنا چاہی
مولانا خالد رشید فرنگی
محلی نے اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے سخت
کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ دوبارہ ایسا قدم نہ اٹھایا جائے۔ انہوں نے ملک
میں امن برقرار رکھنے کی بھی اپیل کی۔ پیغمبر اسلام نے دشمنوں کو معاف کیا -
مولانا مولانا فرنگی محلی نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا
ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کے ساتھ پیار و محبت کے ساتھ اچھے ماحول میں رہنا چاہیے۔
کسی شخص پر ظلم اور
زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔ پیغمبر اسلام نے اپنے بڑے سے بڑے دشمنوں کو بھی معاف کیا۔
اس لیے سب سے اپیل ہے کہ ملک میں امن و سکون برقرار رکھیں۔ اودے پور جیسا واقعہ
انجام دینے کا حق کسی کو نہیں ہے
دارالعلوم فرنگی محلی کے
ترجمان مولانا سفیان نظامی نے کہا کہ راجستھان کے
اودے پور سے جس طرح سفاکانہ اور افسوسناک معاملہ سامنے آیا ہے ہم اس کی شدید مذمت
کرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں قانون ہے، آئین ہے، اگر کسی کو اپنا اعتراض درج کرانا ہے
تو قانون اور آئین نے اسے حق دیا ہے۔ حکومتوں (حکومت) تک اپنی بات پہنچانے کے
طریقے ہیں۔ آئین اور قانون کو ہاتھ میں لے کر کسی کو بھی ایسا واقعہ کرنے کا حق
نہیں دیا گیا۔ اس لیے ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جو بھی ہو ملزمان کو سخت
ترین سزا دی جائے۔ تاکہ آنے والے وقت میں ایسی مثالیں دیکھنے کو نہ ملے۔
جماعت اسلامی نے کی مذمت
جماعت اسلامی ہند نے بھی
اس واقعے کی سخت مذمت کی ہے- ٹویٹر پر ایک بیان میں جماعت اسلامی ہند کی جانب سے
کہا گیا ہے کہ اودے پور کا واقعہ وحشیانہ، غیر مہذب ہے اوراسلام میں تشدد کے جواز
کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ کوئی بھی شہری قانون کو
اپنے ہاتھ میں نہ لے۔ قانون کی بالادستی ہونے دیں۔
۔۔۔
ممبئی کے ممتاز عالم دین
مولانا ظہیر عباس رضوی صاحب نے اودے پور کے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی-
انہوں نے کہا کہ یہ غیر انسانی حرکت ہے جس کی اسلام اور قرآن میں کوئی گنجائش
نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل برداشت ہے ہم کو اس بات کو سمجھنا ہوگا یہ مسئلہ
کا حل نہیں ہے۔ اس سے فرقہ وارانہ ماحول
پر اثر پڑ سکتا ہے۔ میں اپیل کرتا ہوں ہر کسی سے کہ وہ امن و امان قائم رکھیں۔
کوئی قانون اپنے ہاتھ میں نہ لے۔ یہ حرکت بہت ہی خوفناک ہے اور اس کی سخت سے سخت
الفاظ بے مذمت کی جانی چاہیے۔
۔۔۔
اودے پور میں انسانیت کا
خون شرم ناک ،اسلام اور انسانیت کے خلاف: علمائے راجستھان
راجستھان کے علما نے کہا
اودے پور میں انسانیت کا خون شرم ناک ،اسلام اور انسانیت کے خلاف - علماء نے پر
زور الفاظ میں کہا- اسلام میں تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
راجستھان کے علما نے
ادےپور میں ایک نوجوان کے قتل کی یہ کہہ کر سخت الفاظ میں پرزور مذمت کی ہے کہ ایک
نوجوان کا قتل انسانیت کا خون ہونے کے مساوی اور بہت شرم ناک کرتوت ہے۔ یہ اسلام
اور انسانیت کے برخلاف بڑا ہی خراب کام کیا گیا ہے۔ آواز دی وآیس اردو نے اس موضوع
پر جب علماء سے گفتگو کی تو انہوں نے تشدد کو سخت الفاظ میں شرمناک اور ہر لحاظ سے
غلط بتایا۔۔
۔۔۔
اسلام میں تشدد کے لیے
جگہ نہیں : مفتی اعظم راجستھان مولانا شیرمحمد
محمد مفتی اعظم راجستھان
مولانا شیر محمد نے کہا کہ الله تعالیٰ کو تشدد پسند نہیں ہے۔اسلام میں تشدد کے
لیے کویی جگہ نہیں ہے۔اسلام تو کہتا ہے کہ زمین پر خون خرابا مت کرو۔انسانیت اور
امن ہی صراط مستقیم ہے۔انہوں نے کہا کہ ادے پور میں یہ کام انسانیت کے خلاف ہوا
ہے۔ امن، خلوص و محبت ہی مکمل زابطہ حیات ہے۔خون خرابا کرنے سے کچھ بھی حاصل نہیں
ہوگا۔ مفتی راجستھان نے کہا کہ انسان کی زندگی اتنی سستی نہیں ہے کہ اسے اتنی دردی
سے مار دیا جائے۔یہ بہت شرم ناک اور افسوس ناک ہے۔
۔۔۔
ادے پور میں نوجوان کا
قتل بہت افسوس ناک: پیر ابوالحسن مینائی چشتی
پیر ابوالحسن مینائی چشتی
خواجہ عبداللطیف شاہ نجمی سلیمانی چشتی درگاہ کے ناظم اعلیٰ پیر قاری محمد
ابوالحسن مینائی چشتی نے کہا کہ ادے پور میں ایک نو جوان کا قتل بہت افسوس ناک ہے
اور اس کی جتنی زیادہ مذمت کی جائے،کم ہے۔ہند مسلم یکجھتی کی سرزمین ہندوستان کے
صوبہ راجستھان میں خون خرابا کرنا بہت بڑی بات ہے۔ ۔ انہوں نے کہا کہ ہر انسان کو
ہنسی خوشی پر سکون زندگی گزارنے کا پورا حق ہے۔ اسلام میں تشدد کے لیے کویی جگہ
نہیں ہے
۔۔
خوبصورت ادےپور میں تشدد
بدنما داغ: محمد عتیق مارواڑ مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی
محمد عتیق مارواڑ مسلم
ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے سی ای او اور نائب صدر محمد عتیق نے کہا کہ
سیاحت کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہ جھیلوں کا شہر ہے۔ راجستھان کی جنت ادے
پور خوبصورت شہر ادےپور میں بدصورت تشدد ایک بدنما داغ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدم
تشدد ہی اسلام اور انسانیت کا حقیقی راستہ ہے۔انسان کا انسان سے بھایی چارا ہر حال
میں قایم رہنا چاہیے ۔ محمد عتیق نے کہا کہ اسلام کسی کا خون کرنا اور جھگڑا فساد
پسند نہیں کرتا ۔گنگا جمنی تہذیب اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی ہی ہندوستان،راجستھان
اور اسلام کی اصل پہچان ہے۔اگر کویی غلط بیانی کرے تو اس کے لیے شکایت کی جا سکتی
ہے۔ ملک کا قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔
۔۔۔
ادےپور میں نوجوان کا قتل
انسانیت اور اسلام کے خلاف: شہر قاضی جودھپور
شہر قاضی جودھپور کے شہر
قاضی واحد علی نے کہا کہ بھارت ایک خوبصورت گلشن ہے اور راجستھان میں بہت سے مذاھب
کے ماننے والے لوگ برسوں سے خوشبو سے مہکتے ہویے پھولوں کی مانند ملجل کر رہتے آیے
ہیں۔ادےپور میں ایک نوجوان کا قتل انسانیت کے بر خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ
راجستھان ادے پور کا عام آدمی امن پسند شہری ہے اور وہ سکون کے ساتھ زندگی گزر بسر
کرنا چاہتا ہے.اس سے سیاحت کا کاروبار بھی متاثر ہوگا ۔
۔۔۔۔۔۔
شاہجہانی جامع مسجد کے
شاہی امام سید احمد بخاری نے اودے پور میں ایک غیر مسلم ٹیلر ماسٹر کے قتل پر پر
ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس معاملہ کو گھناؤنا جرم قرار دیتے ہوئے انسانیت کے
نام پر بدنما داغ اور اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ 'ادے پور
میں دلخراش، گھناؤنے قتل نے انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا۔ کنہیا لال نام کے شخص کو
ریاض اور غوث نام کے دو افراد کے ہاتھوں قتل کیے جانے کا غیر انسانی واقعہ اور وہ
بھی حضور ﷺ کے نام پر نہ صرف بزدلی بلکہ خلافِ اسلام، غیر قانونی اور غیر انسانی
فعل ہے۔ میں اپنی اور بھارت کے مسلمانوں کی طرف سے، پوری شدت کے ساتھ، اس فعل کی
مذمت کرتا ہوں'۔
اسلام امن و آشتی کا مذہب
ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمدردی، رواداری، سخاوت اور انسان
دوستی کی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ جو لوگ اس وحشیانہ فعل کے مرتکب ہوئے،
اگر وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و کردار کا مطالعہ کرتے اور انہیں قرآن و
شریعت سے اچھی طرح واقفیت ہوتی تو وہ اس گھناؤنے جرم کے مرتکب نہ ہوتے۔
URL:
New Age Islam, Islam Online, Islamic
Website, African
Muslim News, Arab
World News, South
Asia News, Indian
Muslim News, World
Muslim News, Women
in Islam, Islamic
Feminism, Arab
Women, Women
In Arab, Islamophobia
in America, Muslim
Women in West, Islam
Women and Feminism