New Age Islam
Sun Sep 26 2021, 08:33 PM

Urdu Section ( 13 Sept 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Taliban Leaders Reportedly Forcing Women into Marriage طالبانی لیڈر مبینہ طور پر خواتین کو شادی پر مجبور کر رہے ہیں- یہ غیر اسلامی ہے جسے کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کیا جا سکتا

افغان طالبان کا مبینہ طور پر خواتین کو اپنے جنگجوؤں سے شادی کرنے پر مجبور کرنا اسلامی شریعت کی خلاف ورزی ہے۔

اہم نکات:

1.      اطلاعات کے مطابق طالبان رہنماؤں نے شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ غیر شادی شدہ خواتین کو ان کے جنگجوؤں کے لیے "بیویوں" کے طور پر پیش کریں۔

2.      طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے کہ طالبان خواتین کو شادی پر مجبور کر رہے ہیں۔

3.      جبری شادیاں ناجائز اور اسلامی شریعت میں سخت ممنوع ہیں۔

4.      نکاح کے جائز ہونے کے لیے بالغ عورت اور بالغ مرد دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔

 -----

 نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

26 اگست 2021

In Iraq, a 1987 law entitled the Personal Status Law and Amendments stated that a person may not marry until age 18, however, they could marry with judicial consent at age 15. Nevertheless, 24% of girls marry by age 18 and 5% marry by age 15. In Afghanistan, the numbers are just as shocking. In fact, 35% of girls in Afghanistan marry by 18, and 9% by age 15. The consequences of forced marriage in Iraq and Afghanistan are detrimental to the development of a young girl’s identity and safety, and they shed light on issues with child marriage around the globe.

-----

 عراق میں ۱۹۸۷ کے پرسنل اسٹیٹس لاء اور ترمیم کے قانون میں کہا گیا ہے کہ کوئی شخص ۱۸ سال کی عمر تک شادی نہیں کر سکتا، تاہم وہ ۱۵ سال کی عمر میں عدالتی رضامندی سے شادی کر سکتا ہے۔ اس کے با وجود ۲۴ فیصد لڑکیاں ۱۸ سال کی عمر میں اور ۵ فیصد ۱۵ سال کی عمر میں شادی کرتی ہیں۔ افغانستان میں اس کی تعداد حیران کن ہے۔ در اصل، افغانستان میں ۳۵ فیصد لڑکیاں ۱۸ سال کی عمر میں اور ۹ فیصد ۱۵ سال کی عمر میں شادی کرتی ہیں۔ عراق اور افغانستان میں جبری شادی کے نتائج نوجوان لڑکیوں کی شناخت اور حفاظت کے لیے نقصان دہ ہیں اور اس سے کم عمر بچیوں کی شادی سے پیدا ہونے والے مسائل کا پتہ چلتا ہے۔

طالبان رہنماؤں نے عوامی سطح پر فتح کے ساتھ انسانی ہمدردی کا حلف لیا ہے اور افغان حکومت کے افسران، فوجیوں اور شہریوں کو یقین دلایا ہے کہ انہیں کسی چیز کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انہوں نے افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ تاہم افغان شہریوں نے اور جو ابھی تک طالبان کے زیر کنٹرول اضلاع میں ہیں انہوں نے مبینہ طور پر یہ بتایا ہے کہ طالبان رہنماؤں نے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ غیر شادی شدہ خواتین کو ان کے جنگجوؤں کے لیے "بیویوں" کے طور پر پیش کریں، جو کہ ایک قسم کی جبری شادی ہے۔ جون کے آخر میں ایک اعلیٰ طالبانی کمانڈر کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اس نے 15 سال سے زائد عمر کی تمام خواتین اور 40 سال سے کم عمر کی بیوہ خواتین کو طالبان فوجیوں سے شادی کرنے کا حکم دیا ہے۔ دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے کہ طالبان خواتین کو شادی پر مجبور کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں اسلامی قانون اور ثقافتی روایت کے خلاف ہوں گی۔ ایسی خبروں کے درمیان دنیا جاننا چاہتی ہے کہ اسلام میں جبری شادیاں جائز ہیں یا ناجائز۔

جبری شادیاں ناجائز اور اسلامی شریعت میں سختی سے ممنوع ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شادی کے مقبول اور درست ہونے کے لیے عورت کی رضامندی ضروری ہے۔ اسلام میں اس کی شادی تب ہی درست ہوگی جب وہ اپنے ہونے والے شوہر کو چننے پر پوری رضامندی کا اظہار کرے گی۔ یہ ممانعت اس واقعہ پر مبنی ہے جو اسلام کے ابتدائی دور میں رونما ہوا جب ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میرے والد نے اپنے بھتیجے سے میری اجازت کے بغیر میری شادی کر دی ہے۔ اس عورت کا کہنا تھا کہ میرے والد نے معاشرے میں اپنی ساکھ اور عزت و عظمت کو بڑھانے کے لیے اس کی شادی کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کو منسوخ کردیا۔ اس عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ "اب جب کہ میں آزاد ہوں، میں آزادانہ طور پر اس شادی کے لیے رضامند ہوں۔ میں صرف دنیا کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ عورتوں کی شادی کے معاملے میں مردوں کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس واقعہ کو کئی محدثین نے اس طرح بیان کیا ہے:

خنساء بنت خدام الانصاریہ نے بیان کیا کہ جب وہ بیوہ [اور ایک بالغ] تھیں ان کے والد نے [ان کی اجازت کے بغیر کسی سے] شادی کر دی جو کہ انہیں نے نامنظور تھی۔ نتیجۃ اس خاتون نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شادی کو کالعدم قرار دیا۔ (صحیح بخاری، 5138، حدیث 74/ نیز ابوداؤد 2101، نسائی 3268، ابن ماجہ 1873، دارمی 2192 ، مسند احمد 6-328 ، مشکوٰۃ المصابیح 3128)

ایک اور حدیث میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت کا کوئی شوہر نہیں ہے اس کی شادی نہ کی جائے جب تک کہ اس سے مشورہ نہ لے لیا جائے اور کسی کنواری کی اس کی اجازت کے بغیر شادی نہ کی جائے"، لوگوں نے پوچھا "یا رسول اللہ ہم اس کی رضامندی کیسے جان سکتے ہیں؟" آپ نے فرمایا "اس کی خاموشی [اس کی اجازت کی طرف اشارہ کرتی ہے]"۔ [صحیح بخاری 6968 ، صحیح مسلم 64-1419 ، ترمذی 1109 ، ابوداؤد 2092 ، نسائی 5611 ، ابن ماجہ 1871 ، مسند احمد 2-250 ، دارمی 2186]

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آئیم [یعنی مطلقہ، یا بیوہ، عاقلہ و بالغہ] کا [اپنے نکاح کے بارے میں] اپنے ولی سے زیادہ اختیار ہے۔ ایک کنواری [جو بالغہ ہو] اس کی شادی کے لیے اس کی اجازت حاصل کرنا ضروری ہے اور اجازت اس کی خاموشی ہے۔ " [صحیح مسلم 2-1036]

مندرجہ بالا وضاحت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں نکاح کے جائز ہونے کے لیے بالغ عورت اور بالغ مرد دونوں کی رضامندی لازمی ہے۔ مہر کے بدلے میں [بیوی کو عزت و احترام کی نشانی کے طور پر دی گئی ایک واجب رقم] دونوں کا دو گواہوں کی موجودگی میں متفق ہونا ضروری ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ لڑکی کو شادی پر مجبور کرے۔ نہ تو شریعت اور نہ ہی جدید قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔ اگر طالبان جنگجو ایسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو بین الاقوامی حکام کو لڑکیوں کو ظلم سے آزاد کرانے کے لیے جلد از جلد بات کرنی چاہیے جو کہ اسلام کی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔

Related Article:

Taliban Leaders Reportedly Forcing Women into Marriage—an Act against Islamic Law That Should Not Be Acceptable At Any Cost

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/forced-marriage-taliban-islamic-law/d/125355

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..