New Age Islam
Sat Mar 14 2026, 09:23 AM

Urdu Section ( 24 Dec 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Taliban - Enemies of Women عورتوں کا دشمن طالبان

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

24 دسمبر 2022

طالبان نے گذشتہ سال برسراقتدار آتے ہی یہ تاثر دینا شروع کیا تھا کہ وہ 1996 سے 2001 تک کی اپنی پچھلی حکومت سے مختلف ہونگے اورانکی نئی حکومت عورتوں کے حقوق کا خیال رکھے گی اور اسلامی شریعت کے دائرے میں رہ کر انہیں آزادی دیگی۔ لیکن عملاً اس کے برعکس ہورہا ہے۔ ابتدا میں عورتوں کو میڈیا سے نکلنے پر مجبور کیا گیا۔ انہیں تجارت کرنے سے روکا گیا ۔ نتیجے میں بہت سی بوٹیکس بند ہو گئیں۔ اس کے بعد لڑکیوں کے لئے درجہ ششم سے آگے پڑھنے پر روک لگا دی گئی۔ طالبان نے کچھ عرصے کے لئے کالجوں کی تعلیم کو جاری رکھنے کی اجازت اس شرط پر دی کہ کلاس میں لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان پردہ لٹکا یا جائے۔ طالبان حکومت نے لڑکیوں کی تعلیم کو,اس لئے بھی بند رکھا تھا کہ ان کے لئے اسکول یونیفارم کا فیصلہ نہیں ہو سکا تھا۔

اب طالبان کی وزارت تعلیم نے یہ حتمی حکم جاری کیا ہے کہ لڑکیوں کوپرائمری سے لیکر اعلی تعلیم حاصل کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اس لئے انہیں یونیورسٹی کی تعلیم کی اجازت نہیں ہوگی۔ وہ صرف مدرسوں میں بنیادی دینی تعلیم حاصل کریں گی اوراس کے بعد شای کرکے گھر میں قید ہو جائیں گی۔ انہیں گھر سے نکلنا ہوگا تو برقع میں پوری طرح خود کو ڈھانک کر اور کسی محرم کو لیکر نکلیں  گی۔

حکومت کے اس حکم سے اعلی تعلیم حاصل کرنے کا جذبہ رکھنے والی ہزاروں لڑکیوں کا مستقبل تاریکی میں ڈوب گیا ہے۔ تین ماہ قبل ہی ہزاروں لڑکیوں اور خواتین نے یونیورسٹیوں میں داخلے کا ٹیسٹ دیا تھا۔انہوں نے انجینئرنگ اور ڈاکٹری سمیت کئی شعبوں میں اعلی تعلیم حاصل کرکے کیرئیر بنانے کا خواب دیکھا تھا۔

طالبان ایک طرف تو خواتین کے لئے ہر شعبے میں علیحدہ انتظام چاہتے ہیں تو دوسری طرف خواتین کو کسی بھی شعبے میں تعلیم حاصل کرنے سے روک رہے ہیں۔وہ عورتوں کی بیماری کا علاج مرد ڈاکٹروں کو نہیں کرنے دیتے۔ ایسے میں ملک میں زیادہ سے زیادہ خواتین ڈاکٹروں کی ضرورت ہوگی۔لیکن طالبان نے عورتوں کو ڈاکٹری پڑھنے پر پابندی لگا دی ہے۔ایسے میں آنے والے برسوں میں خواتین کے لئے طبی بحران سامنے آئیگا عورتیں سنگین بیماریوں میں ماہر ڈاکٹروں کی خدمات حاصل نہیں کر پائیں گی۔ اور علاج کے فقدان سے مر جائیں گی۔

پولیس اور دیگر انتظامی شعبوں میں خواتین کی غیر موجودگی سے خواتین کے انسانی حقوق پامال ہونگے کیونکہ مرد پولیس ہی خواتین کو کوڑے لگائیں گے جیسا کہ ابھی ہو رہا ہے۔ جبکہ عورتوں کو کوڑے لگانے کا کام خواتین پولیس کے ذمے ہونا چاہئے۔ جیلوں اور تھانوں میں خواتین عملہ کی غیر موجودگی میں ان کے ساتھ زیادتی کا خطرہ موجود رہے گا۔

ہسپتالوں میں بڑی تعداد میں نرسوں اور خواتین ڈاکٹروں کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ وہاں عورتوں کے امراض کے علاج اور زچگی کرانے کے لئے خواتین ڈاکٹروں نرسوں اور صفائی عملہ کا ہونا لازمی ہوتا ہے۔ جب طالبان عورتوں کو تعلیم ہی حاصل نہیں کرنے دینگے تو پھر ہسپتالوں میں زچگی اور عورتوں کے مخصوص امراض کا علاج بھی مرد ڈاکٹروں کو ہی کرنا ہوگا جو کہ خود طالبان کی اپنی پالیسی کے خلاف ہوگا۔

آج دنیا کے بیشتر ممالک میں ہر سرکاری شعبے میں خواتین کو بحال کیا جاتا ہے تاکہ خواتین کے مسائل اور معاملات کو خواتین ہی نمٹیں اور خواتین ہراسانی اور زیادتی اور تعصب سے بچ سکیں۔

اسلام کے ابتدائی دور میں عورتوں نے جنگوں میں حصہ لیا۔ انہیں تعلیم۔ حاصل کرنے کی اجازت تھی۔ بلکہ عورتوں اور مردوں پر تعلیم حاصل کرنا فرض قرار دیا گیا۔ طالبان نے ان کو سماجی زندگی سے بالکل کاٹ دیا ہے اور خواتین کے لئے مشکلات پیدا کردی ہیں۔

پاکستان اور سعودی عرب نے طالبان حکومت کے اس اقدام پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور اس سے یہ فیصلہ واپس لینے کی اپیل کی ہے۔لیکن یندوستان کی کسی اسلامی جماعت نے طالبان کے اس فیصلے کی تنقید نہیں کی ہے۔ وہ اپنے ملک میں لڑکیوں کو اعلی تعلیم دلانے پر اعتراض نہیں کرتے بلکہ علما کی بیٹیاں اعلی تعلیم حاصل کررہی ہیں مگر افغانستان کی بیٹیوں کے لئے ہندوستانی علماء کا دل نہیں تڑپتا کیونکہ ان کی نظر میں طالبان فریڈم فائٹر اور خلافت کے وارث پیں۔ اس کے لئے اگر تھوڑا بہت نقصان ہو رہا ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ہندوستان کے زیادہ تر علماء اور اسلامی تنظیمیں طالبان کے لئے چھپی ہوئی عقیدت رکھتی ہیں جبکہ وہ اس بات سے واقف ہیں کہ ان کے ہاتھ ممعصوم مسلمانوں اور بچوں اور خاص طور پر خواتین کے خون سے رنگے ہیں۔افغانستان میں انہوں نے حجاب نہ پہننے پر لڑکیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔اب انہیں تعلیم سے بھی محروم کرکے پوری قوم کو علم سے دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔طالبان کا یہ قدم آنے والی دہائوں میں افغان خواتین کے لئے سنگین مشکلات پیدا کرنے والا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف غیروں کی سازشوں کانظریہ پیش کرنے والے یہ سمجھ لیں کہ جب خود مسلمانوں میں ایسے گروہ موجود ہونگے تو دشمنوں کو ان کے خلاف سازش کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنیگا ناپائیدار ہوگا۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/taliban-enemies-women/d/128700

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..