New Age Islam
Tue Sep 28 2021, 01:19 AM

Urdu Section ( 5 Sept 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Taliban Are Unlikely To Reform: Afghan Women’s Greatest Fears May Realise even under Taliban 2.0 طالبان میں اصلاح کا امکان نہیں: افغان خواتین کو جن باتوں کا خوف ہے وہ طالبان کی اس حکومت میں بھی سچ ثابت ہو سکتے ہیں

طالبان 1996-2001 سے اب تک: راوا کے ایک مطالعے کی بنیاد پر طالبان لیڈروں کی جانب سے حقوق نسواں کے تحفظ کی حالیہ یقین دہانیوں سے منافقت کی بو آتی ہے

اہم نکات:

1.      طالبان نے وعدہ کیا ہے کہ حقوق نسواں کا تحفظ "شریعت" کے فریم ورک میں کیا جائے گا لیکن انہوں نے کوئی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی ہے۔

2.      1996سے 2001 تک جبر و ظلم طالبان کی تاریخ کا ایک باب تھا کیونکہ انہوں نے خواتین پر کئی طرح کی پابندیاں عائد کی تھی۔

3.      ریولیشنری ایسوسی ایشن آف افغان ویمن (RAWA) نے خواتین پر عائد 29 پابندیوں اور 1996 سے 2001 کے درمیان تمام افغانیوں پر 11 پابندیوں کی ایک "مختصر" فہرست شائع کی ہے۔

4.      فقہ اسلامی کے چاروں مذاہب کے درمیان حجاب اور نقاب کے موضوع پر اختلاف ہے ۔

5.      صرف ایک نکتہ جس پر اسلامی فقہ کے چاروں مذاہب  نے اختلاف کیا وہ یہ ہے کہ آیا عورت کے ہاتھ اور چہرے کو ڈھانپنا چاہیے یا نہیں

6.      طالبان کی اصلاح کا  امکان نہیں ہے اور افغان خواتین کو جن باتوں کا خوف ہے وہ سچ ثابت ہو سکتے ہیں۔

-------

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

 31 اگست 2021

Daily life in Kabul in 1988, one year before civil war broke out. Patrick Robert/Sygma via Getty Images

-----

طالبان نے 1996 سے 2001 تک افغانستان کے تقریبا تین چوتھائی حصے پر قبضہ حاصل کیا اور سخت ترین شریعت یا اسلامی قانون کو نافذ کیا۔ 1994 میں طالبان افغان خانہ جنگی میں سب سے مضبوط قوت کے طور پر ابھرے جو کہ بنیادی طور پر مشرقی اور جنوبی افغانستان کے پشتون اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلباء پر مشتمل تھے اور انہوں نے سوویت-افغان جنگ میں حصہ لیا تھا۔ یہ تحریک محمد عمر کی قیادت میں افغانستان کے بیشتر حصوں میں پھیل گئی۔ 1996 میں طالبان نے افغانستان کی آمرانہ اسلامی امارت قائم کی اور قندھار نیا افغان دارالحکومت بن گیا۔ اس کے دور عروج میں صرف تین ممالک، پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ 2001 میں اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد طالبان، افغانستان کی جنگ میں امریکی حمایت یافتہ کرزئی انتظامیہ اور نیٹو کی قیادت والی بین الاقوامی سکیورٹی امدادی فورس (ایساف) سے لڑنے کے لیے ایک باغی قوت کے طور پر دوبارہ منظم ہوئے۔ جنگ کے نتیجے میں ہزاروں شہری ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔ دو دہائیوں کی لڑائی کے بعد اب طالبان نے افغانستان پر فتح حاصل کر لی ہے۔ اس جماعت نے 15 اگست 2021 کو کابل پر قبضہ کر لیا اور پورے ملک میں انتہائی تیزی سے پھیل گئی۔ یہ سب کچھ امریکہ -طالبان امن معاہدے کے نتیجے میں ہوا ہے، جس میں طالبان رہنماؤں نے افغانستان کو مغربی ممالک کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکنے کا عہد کیا ہے۔ تاہم، پہلے سے ہی یہ خدشات موجود ہیں کہ یہ جماعت کس طرح ملک پر حکومت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، نیز خواتین، انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں پر ان کی حکومت کے مضمرات کیا ہیں۔

اگرچہ طالبان نے افغانستان میں دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے فورا بعد عام معافی کا اعلان کر دیا اور کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کو اسکول جانے اور یہاں تک کہ "شریعت" کے فریم ورک کے اندر کام کرنے کی بھی اجازت ہوگی، لیکن انہوں نے اس پر کوئی اضافی تفصیلات فراہم نہیں کی ہے۔ ایک نیوز کانفرنس میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ خواتین کو تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور ملازمتوں کے حقوق حاصل ہوں گے اور وہ "شرعی قانون" کے تحت "خوش" ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ "طالبان اسلام پر مبنی خواتین کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے پر عزم ہیں۔ خواتین صحت کے شعبے اور دیگر شعبوں میں جہاں ضرورت ہو وہاں کام کر سکتی ہیں۔ خواتین کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔ طالبان کے ایک اور ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ یہ جماعت افغان ریتی رواج اور اسلامی اقدار کے مطابق خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کا احترام کرے گی۔

اس بات پر تشویش پائی جا رہی ہے کہ طالبان اس بار خواتین کے حقوق کے بارے میں اسلامی تعلیمات کی تشریح کیسے کریں گے۔ آخری بار جب وہ 1996 سے 2001 تک اقتدار میں تھے تب جبر و ظلم طالبان کی حکومت کا ایک حصہ تھا۔ انہوں نے بڑی تیزی کے ساتھ خواتین پر کئی قسم کی پابندیاں عائد کی تھی۔ اس دور میں خواتیں کو اسکول جانے، روزگار حاصل کرنے یا کسی مرد رشتہ دار کے بغیر اپنے گھر سے نکلنے کی آزادی نہیں تھی۔ طالبان کے احکامات کی ِخلاف ورزی کرنے اور اسلام کی ان کی تعبیر نہ ماننے والوں کو کوڑے مارے جاتے تھے جو کہ اسلام کی کئی دوسری تشریحات کے مطابق ظالمانہ اور اسلام کے خلاف ہے۔

A woman holds a placard as Afghan migrants demonstrate against the Taliban takeover of Afghanistan, on the island of Lesbos, Greece. (REUTERS)

------

ریولوشنری ایسوسی ایشن آف افغان ویمن (RAWA) نے ایک "مختصر" فہرست شائع کی ہے جس میں خواتین پر عائد 29 پابندیوں اور 1996 سے 2001 کے دوران تمام افغانیوں پر ان تمام 11 پابندیوں کا ذکر ہے جو طالبان نے اپنے دور حکومت میں نافذ کیا تھا۔ دو دہائیوں کے بعد آج طالبان رہنماؤں کا یہ کہنا ہے کہ ہم اسلامی اقدار کے مطابق خواتین کے حقوق کا احترام کریں گے جس پر یہ سوال اٹھائے جائیں گے کہ وہ اپنے انٹرویوز میں کون سی اسلامی اقدار کا ذکر کر رہے ہیں۔ کیا 2021 کی "اسلامی اقدار" 1996-2001 کی اقدار سے مختلف ہونے والی ہیں؟ چونکہ فقہ اسلامی میں کچھ حد تک لچک موجود ہے اور فروعی مسائل میں وقت کی ضرورت کے مطابق تبدیلی کی جا سکتی ہے، لہٰذا کیا ہم طالبان سے اس کی توقع کر سکتے ہیں؟ ایک اور تشویش یہ بھی پیدا ہو رہی ہے کہ کیا وہ ایک نئی فقہ وضع کریں گے جسے طالبانی فقہ کہا جائے گا کیونکہ اسلام کی روایتی تشریح میں مختلف قسم کے فقہی مذاہب موجود ہیں۔ حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی ، اور جعفری – اسلام کے فروعی مسائل میں ہر ایک کی مختلف تشریحات ہیں۔

مثال کے طور پر حجاب اور نقاب کے موضوع پر صرف ایک نکتہ ایسا ہے جس پر اسلامی فقہ کے چاروں مذاہب  کے مسلم فقہاء نے اختلاف کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا عورت کے ہاتھ اور چہرے کو ڈھانپا ضروری ہے یا انہیں بے نقاب چھوڑا جا سکتا ہے۔ فقہ اسلامی کے چاروں مذاہب  اس پر متفق نہیں ہیں۔ اکثر مالکی اور حنفی فقہاء کا ماننا ہے کہ عورت کا مکمل جسم ڈھکا ہونا ضروری ہے  سوائے اس کے چہرے اور ہاتھ کے۔ فقہ حنبلی اور فقہ شافعی میں جو کہ چاروں مذاہب میں جو کہ اس معاملہ میں سب سے سخت ہیں، یہ حکم ہے کہ مسلم خواتین کو اپنے چہرے اور ہاتھوں سمیت اپنے پورے جسم کا پردہ کرنا ضروری ہے۔ جہاں تک طالبان کے حجاب قانون کا تعلق ہے تو اس وقت یہ واضح نہیں ہے، حالانکہ طالبان کے ترجمانوں نے حال ہی میں خواتین کو دفاتر میں کام کرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے، کیا انہیں حجاب کے قانون میں رعایت دی جائے گی یا حجاب کے سخت ترین قانون کو ان کے لیے لازمی قرار دیا جائے گا۔ حقوق نسواں کے حوالے سے خدشات اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب ہم طالبان کے ماضی پر غور کرتے ہیں، جو ابتدائی طور پر عوام میں بیس سال قبل ظاہر ہوئے تھے جو خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کرنے والی ایک انتہائی بنیاد پرست تنظیم تھی۔

راوا کی رپورٹ کے مطابق 1996 سے 2001 تک اپنے دور حکومت میں طالبان نے خواتین پر جو پابندیاں عائد کیں اور ان کے ساتھ جو سلوک کیا اس کی فہرست حسب ذیل ہے:

1. گھر سے باہر خواتین کے کام پر مکمل پابندی، جو کہ خواتین اساتذہ، انجینئرز اور زیادہ تر پیشہ ور افراد پر بھی نافذ ہوتے ہیں۔ صرف چند خواتین ڈاکٹروں اور نرسوں کو کابل کے کچھ ہسپتالوں میں کام کرنے کی اجازت ہے۔

2. گھر سے باہر خواتین کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی جب تک کہ وہ کس محرم (قریبی مرد رشتہ دار جیسے باپ ، بھائی یا شوہر) کے ساتھ نہ ہوں ۔

3. مرد دکانداروں کے ساتھ معاملات کرنے پر خواتین پر پابندی۔

4. مرد ڈاکٹروں کے ذریعہ خواتین کے علاج پر پابندی

5. اسکولوں، یونیورسٹیوں یا کسی دوسرے تعلیمی ادارے میں پڑھنے والی خواتین پر پابندی۔ (طالبان نے لڑکیوں کے اسکولوں کو دینی مدارس میں تبدیل کر دیا ہے۔)

6. ضروری ہے کہ خواتین لمبا پردہ (برقعہ) پہنیں جو انہیں سر سے پاؤں تک ڈھانپے

7. طالبانی قانون کے مطابق پردہ نہ کرنے والی یا بغیر محرم کے گھر سے نکلنے والی عورتوں کو کوڑے مارنا، ان کی پٹائی کرنا اور ان کے ساتھ بد زبانی کرنا۔

8. ٹخنوں کو نہ ڈھکنے پر عوام میں کوڑے لگانا

9. زنا کی ملزم خواتین پر سرعام پتھراؤ۔ (اس اصول کے تحت متعدد عاشق جوڑوں کو سنگسار کیا جاتا ہے)۔

10. کاسمیٹکس کے استعمال پر پابندی (ناخن پالش کا استعمال کرنے والی متعدد خواتین کی انگلیاں کاٹ دی گئی ہیں)۔

11. عورتوں پر غیر محرم مردوں سے بات کرنے یا مصافحہ کرنے پر پابندی

12. عورتوں کے زور سے ہنسنے پر پابندی (کسی اجنبی کو عورت کی آواز نہیں سننی چاہیے)۔

13. ایسی اونچی ایڑی کے جوتے پہننے پر پابندی جن کو پہن کر چلنے سے آواز پیدا ہوتی ہو۔ (مرد کو عورت کے قدموں کی آہٹ نہیں سنائی دینے چاہیے)۔

14. بغیر محرم کے ٹیکسی میں سوار ہونے پر خواتین پر پابندی۔

15. ریڈیو، ٹیلی ویژن، یا کسی بھی قسم کے عوامی اجتماعات میں خواتین کی موجودگی پر پابندی۔

16. خواتین کے کھیلنے یا اسپورٹس سنٹر یا کلب میں داخل ہونے پر پابندی۔

17. سائیکل یا موٹر سائیکل پر سواری کرنے پر محرموں کے ساتھ بھی خواتین پر پابندی۔

18. چمکدار رنگ کے کپڑے پہننے پر خواتین پر پابندی طالبان کی اصطلاح میں یہ "جنسی طور پر اپنی طرف متوجہ کرنے والے رنگ" ہیں۔

19. عید پر یا کسی تفریحی مقصد سے تہواروں کے موقع پر خواتین کے جمع ہونے پر پابندی۔

20. دریاؤں کے کنارے یا عوامی جگہ پر خواتین کے کپڑے دھونے پر پابندی۔

21. لفظ "خواتین" سمیت تمام جگہوں کے ناموں میں ترمیم مثال کے طور پر "خواتین کے باغ" کا نام "بہار باغ" رکھا گیا ہے۔

22. عورتوں کے اپارٹمنٹس یا گھروں کی بالکونیوں پر نظر آنے پر پابندی۔

23. تمام کھڑکیوں کی لازمی پینٹنگ، تاکہ خواتین کو گھروں سے باہر نہ دیکھا جا سکے۔

24. مرد درزیوں پر خواتین کی پیمائش لینے یا خواتین کے کپڑے سلنے پر پابندی۔

25. خواتین کے عوامی حمام پر پابندی۔

26. ایک ہی بس میں مرد و عورت کے ایک ساتھ سفر کرنے پر پابندی۔ عوامی بسوں پر اب "صرف مرد" (یا "صرف خواتین") لکھ دیا گیا ہے۔

27. برقعے کے اندر بھی پھیلے ہوئے شلوار پہننے پر پابندی۔

28. خواتین کی تصویر کشی یا ویڈیو گرافی پر پابندی۔

29. اخبارات اور کتابوں میں چھپی ہوئی خواتین کی تصویروں پر پابندی، یا گھروں اور دکانوں کی دیواروں پر لٹکائی گئی تصاویر پر بھی پابندی۔

اس میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ "خواتین پر مندرجہ بالا پابندیوں کے علاوہ، طالبان نے:

1. موسیقی سننے پر نہ صرف خواتین بلکہ مردوں کے لیے بھی پابندی عائد کی تھی۔

2. سب کے لیے فلمیں، ٹیلی ویژن اور ویڈیو دیکھنے پر پابندی۔

3. مارچ میں روایتی نئے سال (نوروز) منانے پر پابندی ہے۔ طالبان نے اس چھٹی کو غیر اسلامی قرار دیا ہے۔

4. یوم مزدور (یکم مئی) کو مسترد کر دیا گیا کیونکہ اسے "کمیونسٹ" چھٹی مانا جاتا ہے۔

5. حکم جاری کیا گیا ہے کہ غیر اسلامی ناموں والے تمام لوگ اپنے لئے اسلامی نام رکھ لیں۔

6. افغان نوجوانوں کو بال کٹوانا ضروری ہے

7. مردوں کو اسلامی لباس اور ٹوپی پہننا ضروری ہے۔

8. مرد اپنی داڑھی نہ مونڈیں اور نہ تراشیں، ڈاڑھی ایک مشت ہونا ضروری ہے۔

9. تمام لوگ مساجد میں روزانہ پنج وقتہ نماز میں شرکت کریں۔

10. کبوتر رکھنے اور پرندوں کے ساتھ کھیلنے پر پابندی، اسے غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے قید کی سزا اور پرندے مار دیے جائیں گے۔ پتنگ بازی بھی ممنوع ہے۔

11. تمام ناظرین کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اللہ اکبر کا نعرہ لگائیں اور تالی بجانے سے گریز کریں۔

12. کچھ کھیلوں پر پابندی جن میں پتنگ بازی بھی شامل ہے جو کہ طالبان کے مطابق "غیر اسلامی" ہے۔

13. جو بھی کوئی قابل اعتراض لٹریچر لے کر چلے گا اسے پھانسی دی جائے گی۔

14. جو کوئی بھی اسلام کو چھوڑ کر کسی دوسرے مذہب کو قبول کرے گا اسے پھانسی دی جائے گی۔

15. تمام مرد طلباء کو پگڑی پہننا ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے "پگڑی نہیں تو تعلیم نہیں"۔

16. غیر مسلم اقلیتیں کوئی علامتی نشان رکھیں یا اپنے لباس پر زرد کپڑا پیوستہ رکھیں تاکہ اکثریتی مسلم آبادی سے فرق کیا جا سکے۔ جیسا کہ نازیوں نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا۔

17. عام افغانیوں اور غیر ملکیوں کے لئے انٹرنیٹ کے استعمال پر پابندی

 وغیرہ وغیرہ.."

راوا کی رپورٹ میں مزید یہ بھی ہے کہ خواتین کے پردے سے متعلق آرڈیننس تیار کرنے کے لیے ایک خاص کمیٹی تشکیل دی گئی جسے مبینہ طور پر اسلامک اسٹیٹ آف افغانستان کی ہائی کورٹ کی نو رکنی پروفیشنل کمیٹی نے جاری کیا جو کہ حسب ذیل ہے:

• "پردہ کا انکار کرنے والا کافر ہے اور بے نقاب رہنے والی عورت بدکار ہے"

• "نقاب پہننے کی شرائط:

• پردہ پورے جسم کو ڈھانپنا چاہیے۔

• خواتین کے کپڑے پتلے نہیں ہونے چاہئیں۔

• عورتوں کے کپڑے سجے سنورے اور رنگین نہیں ہونے چاہئیں۔

• عورتوں کے کپڑے چست اور تنگ نہیں ہونے چاہئیں تاکہ فتنہ انگیز اعضاء ظاہر نہ ہو سکیں۔ پردہ بارک کپڑے کا نہیں ہونا چاہیے۔

• خواتین پرفیوم نہ لگائیں۔ اگر کوئی عورت خوشبو لگا کر مردوں کے پاس سے گزرے تو اسے زانی سمجھا جائے گا۔

• عورتوں کے کپڑے مردوں کے کپڑوں سے مشابہ نہ ہوں۔

"اس کے علاوہ،

• عورتیں پرفیوم نہ لگائیں۔

• وہ زیب و زینت والے کپڑے نہ پہنیں۔

• وہ پتلے کپڑے نہ پہنیں۔

• وہ چست اور تنگ کپڑے نہ پہنیں۔

• وہ اپنے پورے جسم کو ڈھانپ کر رکھیں۔

• ان کے کپڑے مردوں کے کپڑوں سے مشابہ نہ ہوں۔

• مسلم خواتین کے کپڑے غیر مسلم خواتین کے کپڑوں سے ملتے جلتے نہ ہوں۔

• ان کے پاؤں کے زیورات سے آواز پیدا نہ ہو۔

• وہ بہت زیادہ خوبصورت کپڑے نہ پہنیں۔

• وہ سڑکوں کے بیچوں بیچ نہ چلیں۔

• وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

• وہ کسی اجنبی مرد سے بات نہ کریں۔

• اگر بات کرنا ضروری ہو جائے تو دھیمی آواز میں بغیر ہنسے بات کی جائے۔

• وہ اجنبیوں کی طرف نہ دیکھیں۔

• وہ اجنبیوں کے ساتھ میل جولائی نہ کریں۔ "

ماخذ: http://www.rawa.org/rules.htm

راوا کے سروے کے نتائج اور طالبان کے ترجمانوں کی طرف سے کیے گئے حقوق نسواں کے تحفظ کے وعدوں پر غور کرنے کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ طالبان کی اصلاح کا امکان نہیں ہے اور افغان خواتین کے بدترین خدشات سچ ہو سکتے ہیں۔

--------------

Related Article:

Taliban Are Unlikely To Reform: Afghan Women's Greatest Fears May Realise even under Taliban 2.0

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/taliban-afghan-women-reform/d/125317

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..