New Age Islam
Sun Sep 26 2021, 08:32 PM

Urdu Section ( 14 Sept 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Refuting The Ideology Behind Suicide Bombings خودکش بم دھماکوں کے پس پشت نظریہ کی تردید

اسلام میں خودکش حملے حرام ہیں: کیا کابل حملے کے بعد طالبان داعش کو یہ بتا سکتے ہیں؟

اہم نکات:

1.      آئی ایس آئی ایس-خراسان کی بنیاد افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کے بنیاد پرستوں نے رکھی تھی۔

2.      آئی ایس آئی ایس-خراسان کا خطرہ صرف افغانستان کے لیے ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی سلامتی کے لیے ایک اہم نقطہ ہے۔

3.      آئی ایس آئی ایس-خراسان اور طالبان ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں جو امارت اسلامیہ کے قیام کی تگ و دو میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے ہیں۔

4.      کیا طالبان آئی ایس آئی ایس-کے خودکش دھماکوں کو روک سکتے ہیں اور کم از کم خودکش حملوں سے حفاظت کی ضمانت دے سکتے ہیں؟

5.      طالبان خودکش حملوں کو کیسے روک سکتے ہیں جب کہ وہ خود خودکش بم دھماکے انجام دیتے ہیں اور اسے جائز سمجھتےہیں؟

6.      کیا یہ ممکن ہے کہ طالبان اپنے ’’شریعت کے فریم ورک‘‘ کے اندر افغانستان پر قبضے کے بعد روایتی اسلامی بیانیے پر عمل کریں جو ہر حالت میں خودکش حملوں کی ممانعت کرتی ہے؟

7.      ہر قسم کے حالات میں خودکش حملے حرام ہیں: قرآن اور احادیث سے ثبوت

 .....

 نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

 28 اگست 2021

Photo courtesy: abc7/ Islamic State of Khorasan

----

آئی ایس آئی ایس-کے یا صوبہ خراسان کی دولت اسلامیہ نے کابل ایئرپورٹ پر خودکش بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے، جن میں وہ افغان بھی شامل تھے جو ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے تھے اور کم از کم 13 امریکی فوجی (آئی ایس کے پی) بھی ہلاک ہوئے جو کہ اگست 2011 میں چینوک ہیلی کاپٹر پر حملے کے بعد افغانستان میں امریکی افواج کا سب سے بڑا نقصان ہے جس میں 30 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

محکمہ صحت کے ایک عہدیدار اور طالبان کے ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے افغانوں کی تعداد 72 ہو گئی ہے جن میں 28 طالبان ارکان بھی شامل ہیں۔ آئی ایس آئی ایس-کے کے مطابق جو طالبان اور مغرب دونوں کا مخالف ہے، دولت اسلامیہ کے خودکش حملہ آوروں میں سے ایک "امریکی فوج کے مترجموں اور شراکت داروں کے ایک بڑے اجتماع تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا تھا"۔ طالبان، جنہوں نے افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کرنے سے پہلے متعدد خودکش دھماکے کیے تھے، اس نے جمعرات (26 اگست ، 2021) کو کابل ائیرپورٹ کے قریب آئی ایس آئی ایس-کے خودکش دھماکوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ علاقہ جہاں حملے ہوئے وہ امریکی کنٹرول میں ہے۔ اس کے بعد بائیڈن نے طالبان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ "یہ طالبان کے مفاد میں ہے کہ آئی ایس آئی ایس کے کو فروغ حاصل نہ ہو۔

'دولت اسلامیہ خراسان' کیا ہے؟

افغانستان کے شورش زدہ، دہشت گردانہ اور سیاسی اور قبائلی درندگی کے پیچیدہ ماحول میں آئی ایس آئی ایس-کے (دولت اسلامیہ خراسان) اسلامک اسٹیٹ کا کی ایک شاخ ہے جو 2014 کے آخر میں قائم کی گئی تھی۔ خراسان اس خطے کا ایک تاریخی نام ہے جو جدید دور کے افغانستان اور ساتھ ہی ساتھ مشرق وسطی اور وسطی ایشیا کے کچھ حصوں پر مشتمل ہے۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں انجام دیے جانے والے حملوں کی وجہ سے پچھلے کچھ سالوں میں شدید درندگی کے لیے یہ خطہ کافی بدنام ہوا ہے۔ علاقے میں اسلام پسند عسکریت پسندی کے کچھ ماہرین کے مطابق آئی ایس آئی ایس-کے کی بنیاد افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کے چند بنیاد پرستوں نے رکھی تھی جو پاکستانی سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کے بعد افغانستان بھاگ گئے تھے۔ کابل میں یہ خودکش حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ-طالبان معاہدہ ایک ممکنہ امن اور مفاہمت کے ایک طویل سفر پر گامزن ہے، کیونکہ امریکہ 31 اگست 2001 تک مکمل فوجی انخلاء کا ارادہ رکھتا ہے۔ امریکہ-طالبان امن معاہدے کے خلاف کھڑےہونے والے دولت اسلامیہ خراسان کا خطرہ صرف افغانستان کے لیے ہی نہیں بلکہ مجموعی طور پر جنوبی ایشیا کی سلامتی کے لیے بھی ایک اہم نقطہ ہے۔ درحقیقت شورش ایک وسیع و عریض علاقے میں پروان چڑھ رہی ہے جو ایران-افغان سرحدی علاقوں سے لے کر کشمیر تک پھیلا ہوا ہے۔

طالبان بمقابلہ دولت اسلامیہ خراسان: فرق کیا ہے؟

دولت اسلامیہ خراسان اور طالبان دونوں انتہا پسند 'سنی' گروہ ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے حریف ہیں جو ’’امارت اسلامیہ‘‘ قائم کرنے کی تگ و دو میں ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔ دولت اسلامیہ خراسان کے طالبان کے ساتھ کافی اختلافات ہیں، ان کا طالبان پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے دوحہ قطر کے "پرتعیش ہوٹلوں" میں طے پانے والے امن معاہدے کے بدلے میدان جنگ اور جہاد کا سودا کر لیا ہے۔

سٹینفورڈ یونیورسٹی کے سینٹر فار انٹر نیشنل سیکیورٹی اینڈ کوآپریشن کے مطابق ان کے اختلافات نظریاتی ہیں۔ نظریاتی اختلافات اور وسائل کے لیے مقابلہ آرائی نے ان دو دھڑوں کے درمیان دشمنی کو ہوا دی ہے۔ آئی ایس-کے کا کہنا ہے کہ "طالبان نے اپنی قانونی حیثیت ایک آفاقی اسلامی عقیدے کے بجائے ایک تنگ نظر نسلی اور قوم پرستی کے تصور سے حاصل کی ہے"۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جیسے ہی طالبان نے حالیہ برسوں میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوشش شروع کی تو ان میں سے بہت سے لوگ جو مذاکرات کے خلاف تھے انہوں نے اپنا اتحاد مزید شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ خراسان کو منتقل کر دیا۔

کابل اور دیگر شہروں میں آئی ایس آئی ایس نے حکومتی اور غیر ملکی عسکری مقاصد کو نشانہ بناتے ہوئے خودکش دھماکوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک زیادہ پرتشدد اور بنیاد پرست عسکریت پسند گروپ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گاؤں کے عمائدین کی ہلاکتوں سے لے کر ریڈ کراس کے ملازمین کے قتل اور شہریوں کے اجتماعات پر خودکش حملوں، خاص طور پر شیعوں کے خلاف مسلسل وحشیانہ خودکش کارروائیوں کا الزام دولت اسلامیہ خراسان کے سر پر ہے۔ اس کے تازہ ترین اہداف میں کابل کی صوفی مسجد، بجلی کے کھمبے، ایندھن کے ٹینکر اور شیعہ بس کے مسافر شامل ہیں۔ امریکی ذرائع کے مطابق آئی ایس آئی ایس-کے نے بڑی تعداد میں شیعہ ہزارہ برادری کی لڑکیوں کے اسکولوں پر بھی حملہ کیا ہے۔

 طالبان اور آئی ایس آئی ایس-خراسان   کےدرمیان نظریاتی اختلافات ہیں۔ لیکن طالبان کے قبضے کے بعد جو سوالات پیدا ہوتے ہیں وہ یہ ہیں: 'کیا طالبان آئی ایس-کے کے خودکش بم دھماکوں کو روک سکتے ہیں اور کم از کم خودکش حملوں سے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنا سکتے ہیں؟' طالبان خودکش حملوں کو کیسے روک سکتے ہیں جب انہوں نے خودکش بم دھماکوں کو جائز کہا اور خود انجام بھی دے چکے ہیں ؟ کیا طالبان نظریاتی طور پر ان بیانیوں کی تردید کر سکتے ہیں جو خودکش دہشت گردی کا جواز پیش کرتی ہیں؟ کیا طالبان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے ’’ شریعت کے فریم ورک ‘‘ میں افغانستان پر قبضے کے بعد روایتی اسلامی بیانیے پر عمل کریں جو ہر حالت میں خودکش حملوں کی ممانعت کرتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر ہمیں افغان شہریوں کے لیے اور جنوبی ایشیاء میں امن و امان کے لیے فوری طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ہر حال میں اسلام کے اندر خودکش دھماکوں کی ممانعت

اب ہم ان روایتی اسلامی بیانیوں کو پیش کریں گے جن میں ہر حال میں خودکش بم دھماکے کی واضح طور پر ممانعت وارد ہوئی ہے۔

تمام جدید جہادی جماعتوں کے پاس سب سے مہلک ہتھیار ہمیشہ سے خودکش بمباری رہا ہے۔ اس ہتھیار کے لئے اختراع کا طریقہ کار استعمال کیا گیا ہے۔ وہ اسے اسلام میں "جائز" کہتے ہیں۔ تاہم، وہ ان قرآنی نصوص اور پیغمبرانہ اقوال کو نظر انداز کرتے ہیں جن میں اسلام ہر حالت میں خودکشی کی ممانعت کرتا ہے۔

خودکش حملوں کو اسلام میں کبھی بھی کسی وجہ سے جائز نہیں ٹھہرایا گیا ہے، یہاں تک کہ جنگی حربہ جیسے غیر معمولی حالات میں بھی نہیں۔ جبکہ دوسری طرف دولت اسلامیہ خراسان بے دریغ اس کا استعمال کرتے ہیں۔ قرآن کریم کے مطابق دوسروں کو قتل کرنے کے مقصد سے یا کسی اور مقصد سے خودکش حملے کرنا شدید حرام ہے۔ اللہ رب العزت کا اعلان ہے:

"خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو" (4:29)

اس آیت (4:29) کی تشریح امام فخر الدین الرازی نے ان الفاظ میں کی ہے: "یہ جملہ کہ 'خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو' یہ ثابت کرتا ہے کہ کسی اور کو یا خود کو ناحق قتل کرنا ممنوع ہے۔" (امام رازی، تفسیر کبیر، 57:10)

آیت 4:29 میں خودکش حملے کرنا منع ہے۔ اللہ نے خودکش حملہ آوروں کے لیے سزا کا حکم اگلی آیت (4:30) میں بیان کیا ہے:

"اور جو ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو آسان ہے"۔ (4:30)

اسلامی فقہاء اور ماہرین علم کے درمیان اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ اگر اللہ تعالی عام معنوں میں کوئی قانون نازل کرتا ہے تو وہ پابندی ہر حال میں باطل ہوتی ہے جب تک ثبوت نہ پا لیا جائے۔ آیت کی یہ جامع تشریح ان تمام لوگوں کی تردید کرتی ہے جو مخصوص حالات میں خودکش بم دھماکے کو جنگی حربے کے طور پر جائز سمجھتے ہیں۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ایک اور آیت میں بھی ارشاد فرماتا ہے:

"اور اپنے ہاتھوں، ہلاکت میں نہ پڑو اور بھلائی والے ہو جاؤ بیشک بھلائی والے اللہ کے محبوب ہیں۔"(2:195)

اسلامی فقہاء اور مفسرین کے مطابق یہ آیت (2:195) اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرنے کے تناظر میں نازل ہوئی ہے۔ تاہم، انہوں نے اس آیت کو بطور ثبوت پیش کیا ہے کہ خود کو قتل کرنا یا کسی بھی طرح خودکش حملے کرنا غیر قانونی ہے۔ انہوں نے اپنی رائے کی بنیاد اس آیت میں وارد ہونے والے لفظ (تھلکۃ) کے عمومی معنی کے ساتھ ساتھ دوسری آیات مثلا 4:29، 4:30 اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد احادیث پر رکھی ہے جن میں خودکش حملوں کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔

 چونکہ "تفسیر القرآن بالقرآن" (قرآن کی وضاحت قرآن سے) قرآنی آیات کو سمجھنے اور سمجھانے کا بہترین طریقہ ہے، یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آیت 2:195 کی لفظ تھلکۃ کے اپنے عمومی معنی کے ساتھ آیت 4:29 کے ساتھ ملا کر بہتر تشریح پیش کی جا سکتی ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ خودکش حملہ حرام ہے اور اللہ تعالی نے خودکش حملہ آوروں کے لیے جہنم میں مستقل عذاب کا حکم دیا ہے۔

مندرجہ ذیل احادیث کے مطابق کسی بھی حالت میں خودکش بم حملے جائز نہیں ہیں:

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ

"جو بھی خودکشی کرے گا وہ جہنم میں ڈالا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ گرتا ہی رہے گا" (صحیح بخاری)

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ

"جو شخص خود کو خنجر مار کر خودکشی کرے گا وہ جہنم میں خود کو ہمیشہ خنجر مارتا ہی رہے گا۔ اور جو کوئی پہاڑ سے کود کر خودکشی کرے گا وہ جہنم میں ہمیشہ چٹان سے کودتا ہی رہے گا۔ اور جو شخص خود کی پھانسی لگا کر خودکشی کرے گا وہ جہنم میں ہمیشہ جود کی پھانسی لگاتا رہے گا۔ " (صحیح بخاری)

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ

"جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کی قسم کھاتا ہے (یعنی اگر وہ یہ کہہ کر قسم کھاتا ہے کہ اگر وہ جھوٹ بول رہا ہے تو وہ غیر مسلم ہے) تو اگر اس کی قسم جھوٹی ہے تو وہ ویسا ہی ہے جیسا کہ وہ کہتا ہے، اور جو شخص کسی چیز سے خودکشی کرے گا جہنم کی آگ میں اسے اسی چیز کی سزا دی جاتی رہے گی اور کسی مومن پر لعنت کرنا اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے اور جو شخص کسی مومن پر کفر کا الزام لگاتا ہے تو گویا اس نے اسے قتل کر دیا۔ (صحیح بخاری/صحیح مسلم)

 حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ

"جو کوئی جان بوجھ کر خود کو کسی پہاڑ سے گرا کر خودکشی کرتا ہے وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیش کیلئے اسی طرح گرتا رہے گا۔ اور جو شخص زہر پی کر خودکشی کرتا ہے وہ اپنا زہر ہاتھ میں لے کر جہنم آگ میں ہمشہ ہمیش کے لئے پیتا رہے گا، اور جو خود کو لوہے کے ہتھیار سے مار کر خودکشی کرے گا وہ جہنم میں اس ہتھیار سے ہمیشہ کے لئے اپنا شکم چاک کرتا ہے گا۔ (صحیح بخاری)

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ

"تم سے پہلے ایک شخص تھا جسے زخم لگا۔ وہ اس زخم سے اتنی اذیت میں تھا کہ اس نے ایک چاقو لیا اور اس سے اپنا ہاتھ کاٹ لیا جس کی وجہ سے اس کا خون بہتا رہا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے خود مجھے روک دیا ہے۔ میں نے اس پر جنت حرام کر دی ہے۔ " (صحیح بخاری/صحیح مسلم)

قرآن اور حدیث کے مطابق خودکش حملہ مطلقا ممنوع ہے۔ تاہم، آئی ایس آئی ایس کے عسکریت پسند اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں نام نہاد 'جہاد' اور 'شہادت' کی بنیاد پر کسی نہ کسی طرح اسے جائز ٹھہرا کر نوجوانوں کی منفی ذہن سازی کرتے ہیں۔ بخدا، وہ ان تمام احادیث کو توڑ مروڑ کر نظر انداز کر رہے ہیں جن میں حقیقی جہاد (یعنی دفاعی جہاد) کے دوران بھی خودکشی سے منع کیا گیا ہے، نام نہاد 'جہاد' کی تو بات ہی چھوڑ دیں جو آج لڑا جا رہا ہے۔

قرآن و حدیث کے مطابق خودکش حملے مطلقا ممنوع ہیں۔ آئی ایس آئی ایس سے وابستہ دہشت گرد اور دیگر عسکریت پسند جو خودکش دھماکے کرتے ہیں انہیں اسلام مجرم سمجھتا ہے اور انہیں جہنم میں سزا دی جائے گی۔

Related Article:

Refuting The Ideology Behind Suicide Bombings: The Kabul Suicide Attack, ISIS-K And Taliban

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/refutation-ideology-suicide-bombing-kabul/d/125360

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..