New Age Islam
Fri Sep 24 2021, 06:16 PM

Urdu Section ( 5 Aug 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

More and More Islamic Countries Monitor Friday Sermons to Prevent Extremism انتہاء پسندی کے سد باب کے لیے متعدد اسلامی ممالک میں جمعہ کے خطابات کی نگرانی

کچھ خطبا منبر سے نفرت انگیز تقریر کرتے ہیں

اہم نکات:

1.      جارڈن نے جمعہ کے خطابات پر پابندیاں عائد کر دی

2.      مصر، پاکستان اور بنگلہ دیش نے جمعہ کے خطابات پر پابندیاں عائد کیں

3.      پاکستان نے جمعہ کے خطابات کے لیے 44 موضوعات تجویز کیا ہے

4.      بنگلہ دیش میں خطیبوں کو تحریری خطابات پڑھنا پڑتا ہے

5.      بہت سے خطیب کھلے عام دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرتے ہیں

-----

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

2 اگست 2021

خطابات جمعہ اسلامی علوم پھیلانے اور رائے عامہ تیار کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم رہے ہیں اور اماموں اور خطیبوں نے اس پلیٹ فارم کو ہر دور میں اہم مسائل پر مسلمانوں کی تعلیم اور رہنمائی کے لیے استعمال کیا ہے۔ چونکہ جمعہ کی نماز میں علاقے کے مسلمان ایک بڑی تعداد میں جمع ہوتے ہیں اس لیے اماموں اور خطیبوں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ بڑے عوامی مفادات کے اہم پیغامات لوگوں تک پہنچائیں۔

تاہم، بہت سے سیاسی نظریات والے اور فرقہ وارانہ تعصب کے شکار اماموں اور خطیبوں نے جمعہ کے خطابات کو اپنے حقیر سیاسی یا فرقہ وارانہ مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ کئی مسلم ممالک میں فرقہ وارانہ نفرت سے بھرپور یا مسلمانوں کو منتخب حکومتوں کے خلاف بھڑکانے والی تقاریر کی جار ہی ہیں۔ کچھ انتہا پسند خطیبوں نے شدت پسند تنظیموں کی حمایت بھی کی ہے۔ داعش کے ظہور کے بعد بہت سے خطیبوں نے خلافت کے علم بردار کے طور پر داعش کی کھل کر حمایت کی یا اس کی تعریف کی۔ اس سے کئی اسلامی ممالک میں انتشار اور تشدد کا ماحول پیدا ہوا۔

چونکہ خطابات جمعہ حکومتوں اور معاشروں کے لیے زیادہ سے زیادہ پریشانی کا باعث بننے لگے تھے اسی لئے متعلقہ حکومتوں نے ان خطابات کی نگرانی کرنے اور ’فسادی‘ خطیبوں پر شکنجہ کسنے کی ضرورت محسوس کی۔

یہ ضرورت داعش کے ظہور کے بعد زیادہ محسوس ہوئی کیونکہ سخت گیر اسلامی تنظیموں سے وابستہ خطیبوں نے داعش کی حمایت کی اور نوجوانوں کو اس میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔

2014 میں اردن ان ممالک میں سے ایک تھا جنہوں نے سب سے پہلے جمعہ کے خطابات کی نگرانی کا فیصلہ کیا کیونکہ کچھ سلفی خطیبوں کی حمایت کی وجہ سے داعش ملک میں قدم جما رہا تھا۔ وزارت برائے اسلامی امور نے خطیبوں اور آئمہ کو اپنے جمعہ کے خطبات میں اعتدال پسند اسلام کی تبلیغ کرنے کی ہدایت دی ہے اور انہیں خبردار کیا کہ اگر انہوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیر نے ان سے کہا کہ وہ صرف 15 منٹ کا خطبہ دیں جس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثالیں پیش کی جائیں جن کے خطابات مختصر اور جامع ہوتے تھے۔ اتنا ہی نہیں، وزارت نے جمعہ کے خطبات میں خطباء کے لئے موضوعات بھی تجویز کی ہے۔ یہاں کچھ موضوعات ذکر کئے جاتے ہیں:

1. سلامتی اور استحکام: بحران کے وقت اتحاد کی ضرورت

2. ہجرہ سال نو: مکہ سے نبی ﷺ کی ہجرت سے حاصل ہونے والے اسباق

3. برسات کے موسم کا آغاز--- سردیوں کی تیاری میں حفاظتی اقدامات

2016 میں حکومتِ بنگلہ دیش نے بھی خطابات جمعہ کی نگرانی کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب مبینہ طور پر داعش کی جانب سے کئی دہشت گرد حملے کئے گئے جن میں خاص طور پر ایک بیکری پر حملے قابل ذکر ہیں، اور کچھ حملہ آوروں نے تسلیم کیا کہ وہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی تقریروں سے متاثر ہیں۔

بنگلہ دیش میں خطیب اکثر ایسے خطبات دیتے ہیں جو انتہا پسندی کو ہوا دیتے ہیں یا فرقہ وارانہ نفرت پھیلاتے ہیں۔ اس نے حکومت کو ملک بھر کی تین لاکھ مساجد میں خطابات جمعہ کو کنٹرول کرنے پر مجبور کیا۔ حکومتِ بنگلہ دیش کے ایک ادارہ اسلامک فاؤنڈیشن نے نماز سے پہلے خطیبوں کو پہلے سے تحریر شدہ خطبات ارسال کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہیں نوجوانوں میں انتہا پسندانہ خیالات کی اشاعت کو روکنے کے لیے دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف خطاب دینے کی ہدایات دی گئیں۔

2018 میں حکومت پاکستان نے بھی ایسا ہی فیصلہ کیا۔ چونکہ پاکستان کے اماموں اور خطیبوں کا ایک طبقہ جو فرقہ وارانہ اور انتہاء پسندانہ نظریات کی پیروی کرتا ہے، اکثر نفرت اور تشدد پر اکسانے والی تقریریں کرتا ہے اسی لئے نیشنل کاؤنٹر ٹیروریزم اتھارٹی نے خطیبوں اور اماموں کے خطابات پر پابندیاں عائد کر دیں۔ حکومت نے 44 مضامین تجویز کیے ہیں جن پر خطیب جمعہ کا خطبہ دے سکتے ہیں۔ تاہم، خطباء نے کہا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں گے لیکن کوئی تحریری اسکرپٹ قبول نہیں کریں گے۔

2016 میں مصر کی وزارت برائے مذہبی اوقاف نے مساجد کے اماموں پر اسی طرح کی پابندیاں عائد کیں۔ آئمہ کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو روکنے کے لیے مجوزہ موضوعات پر ایک جیسے ہی خطبات پڑھیں۔ جمعہ کے خطابات کے لیے موضوعات وزارت طے کرے گی۔ مثال کے طور پر ایک موضوع تھا:

"بے گھر افراد کے لئے کھر بنانے اور غریبوں کی مدد کرنے کی اہمیت"

اگرچہ خلیجی ریاستوں مثلاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر میں جمعہ کے خطابات کی نگرانی کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ یہ سلطنتیں اور امارات اختلاف رائے کو دبانا چاہتے ہیں لیکن پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے دوسرے جمہوری ملکوں کے لئے اس طرح کی پابندیوں کو نافذ کرنا ایک مجبوری بن گئی تھی کیونکہ خطباء نے منبر کو فرقہ وارانہ اور انتہا پسندانہ نظریات کو پھیلانے کا پلیٹ فارم بنا دیا تھا جس سے انتہا پسندانہ نظریات کو فروغ مل رہا تھا۔ اصولی طور پر حکومت کو اماموں کو یہ حکم نہیں دینا چاہیے کہ وہ کیا کہیں اور کیا نہ کہیں کیونکہ انہیں شریعت کا علم ہے لیکن اماموں کو بھی یہ شعور ہونا چاہیے کہ منبر کو فرقہ واریت یا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس سال مئی میں امیر حمزہ نامی ایک خطیب کو تشدد پر اکسانے اور عسکریت پسندوں کی تعریف کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پاکستان کے ایک اور خطیب سید مظفر شاہ قادری نے سلمان تاثیر کے قتل کی کھل کر حمایت کی تھی اور ممتاز قادری کی تعریف و توصیف بھی، ان پر پاکستان میں خطاب کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی لیکن انہیں بعض مساجد میں خطاب دینے کے لیے برطانیہ مدعو کیا گیا تھا۔

اس طرح کے انتہاء پسند خطیب نفرت پھیلاتے ہیں اور مسلم نوجوانوں کو جمہوری حکومتوں کے خلاف بغاوت پر بھڑکاتے ہیں اور انہیں شدت پسند تنظیموں میں شامل ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔ چنانچہ اسلامی ممالک کی ان حکومتوں کو منبر سے دیے جانے والے خطابات جمعہ کی نگرانی کے لیے ایک طریقہ کار تشکیل دینا پڑا۔

---------

Related Article:

More and More Islamic Countries Monitor Friday Sermons to Prevent Extremism

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/sermons-friday-extremism/d/125184

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..