New Age Islam
Tue Sep 28 2021, 01:06 AM

Urdu Section ( 1 Sept 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Like Hindus, Muslims Too Believe In Reincarnation and Oppose Triple Talaq ہندوؤں کی طرح مسلمان بھی حیات بعد الموت پر یقین رکھتے ہیں اور تین طلاق کی مخالفت کرتے ہیں

ہندوستانی مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی صوفی اسلام پر یقین رکھتی ہے

 اہم نکات:

1.      6 فیصد پیدائشی مسلمان خود کو ملحد مانتے ہیں

2.      63 فیصد مسلم خواتین تین طلاق کی مخالفت کرتی ہیں

3.      مسلمانوں کو ہندوستانی ہونے پر فخر ہے۔

4.      بعض مسلمانوں نے اسلام چھوڑ دیا ہے

5.      ہندوستانی مسلمان پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں سے زیادہ روادار ہیں

 ----

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

 27 اگست 2021

پیو ریسرچ سینٹر نے حال ہی میں ہندوستانیوں کے مذہبی رویے پر ایک سروے کی رپورٹ شائع کی ہے۔ یہ سروے 17 زبان بولنے والے تقریبا تمام بڑے مذاہب سے تعلق رکھنے والے 30،000 ہندوستانیوں کے براہ راست انٹرویو پر مبنی ہے۔ مذہبی رواداری، بقائے باہمی اور سماجی مسائل کے بارے میں ہندوستانیوں کی عمومی رائے کے علاوہ اس سروے میں مذہبی اور سماجی مسائل پر ہندوستانیوں کے طرز عمل اور خیالات میں کچھ غیر محسوس تبدیلیوں کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ یہاں ہم اس سروے کی بنیاد پر ہندوستان کے مسلمانوں کے مذہبی رویے اور سوچ کا تجزیہ کرتے ہیں۔

سروے میں مسلم جواب دہندگان سے رواداری، تین طلاق، بین المذاہب شادی، فرشتے اور جنت، الحاد، تصوف اور ان کی زندگی میں اسلام کی اہمیت کے بارے میں سوالات پوچھے گئے تھے جن کے جوابات سے ان کے مذہبی رویے اور فکر کے بارے میں جانکاری ملتی ہے۔

تین طلاق

ایک ہی نشست میں تین طلاق یا فوری طلاق پر مسلم دانشوروں کے درمیان بڑے پیمانے پر بحث ہوتی رہی ہے۔ علماء کے ایک بڑے طبقے کا یہ ماننا ہے کہ تین طلاق کو علمائے جمہور کی تائید حاصل ہے لیکن کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ قرآن سے تین طلاق کی حمایت نہیں ہوتی ہے۔ 2017 میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے فیصلہ دیا کہ تین طلاق غیر آئینی ہے اور 2019 میں اسے حکومت ہند نے جرم قرار دیا ہے۔ حکومتی فیصلے پر مذہبی قیادت کی طرف سے ہنگامہ آرائی ہوئی۔ لیکن پیو سروے سے عام مسلمانوں اور خواتین کی مختلف رائے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ 63 فیصد خواتین تین طلاق کی مخالفت کرتی ہیں۔ سروے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تین طلاق کے جواز پر مسلم مردوں کی رائے منقسم ہے اور مسلم خواتین کی اکثریت تین طلاق پر پابندی کے حکومتی فیصلے کی حمایت کرتی ہے۔

رواداری

سروے سے پتہ چلتا ہے کہ مذہبی عدم رواداری اور خاص طور پر ہندوستان میں اسلامو فوبیا کے عروج کے باوجود مذہبی رواداری اب بھی مذہبی ہندوستانی قوم پرستی کی بنیاد ہے۔ ہندو اور مسلمان دونوں اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ملک کو متحد رکھنے کے لیے مذہبی رواداری کی ضرورت ہے۔ 82 فیصد ہندو کہتے ہیں کہ دوسرے مذاہب کا احترام کرنا ہندو ہونے کے لئے ضروری ہے۔ وہ مذہبی فرقہ واریت کو بھی ایک اہم مسئلہ سمجھتے ہیں۔ 65 فیصد ہندو کہتے ہیں کہ فرقہ واریت ایک بڑا مسئلہ ہے۔ لہذا، ہندو اور مسلمان دونوں پرامن طریقے سے رہنا چاہتے ہیں لہٰذا فرقہ وارانہ تشدد صرف مٹھی بھر مذہبی تعصب پرستوں کا کام ہے۔

تصوف

ہندوستان ہزاروں صوفیاء کرام کی آماجگاہ ہے جو دیگر مسلم ممالک سے چل کر ہندوستان آئے اور اسلام کے پیغام کو پرامن طریقے سے پھیلایا۔ ان صوفیاء کے جامع اور تکثیری طرز عمل کی بدولت ہندوستان صوفی اسلام کا ایک بڑا مرکز بن گیا۔ بعد میں بہت سے علماء و صوفیاء نے اسلام کے جامع پیغام کو عام کیا۔ اگرچہ ہندوستان کے کچھ سخت گیر علماء اسلام کے نظریاتی اثرات کی وجہ سے عدم برداشت، فرقہ وارانہ اختلافات اور انتہا پسندانہ خیالات کو ہندوستانی مسلمانوں میں فروغ حاصل ہوا، پیو سروے سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی اب بھی صوفی ازم پر یقین رکھتی ہے۔ ہندوستان کے 37 فیصد مسلمان اپنی شناخت صوفی ازم سے کرتے ہیں۔

بین المذاہب شادی

کثیر المذاہب معاشرہ ہونے کے ناطے، ہندوستان میں تمام مذہبی برادریوں میں بین المذاہب شادیوں کا رواج ہے اور تقریبا تمام مذہبی برادریاں اسے اپنے مذہبی وجود کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔ وہ اپنے پیروکاروں کو بین المذاہب شادیوں کے خطرات سے آگاہ کرتے ہیں۔ پھر بھی ایسی شادیاں زندگی کے مختلف شعبوں میں مردوں اور عورتوں کے باہمی تعامل کے نتیجے میں ہوتی ہیں۔

80 فیصد مسلمان کہتے ہیں کہ مسلم خواتین کو غیر مسلم مردوں سے شادی کرنے سے روکنا ضروری ہے۔ اور صرف 76 فیصد کا کہنا ہے کہ مسلمان مردوں کو ایسا کرنے سے روکنا بہت ضروری ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کا ایک طبقہ دوسرے مذاہب کی عورتوں سے شادی کرنا درست سمجھتا ہے

قوم پرستی

مسلمان ہزاروں سال سے برصغیر پاک و ہند میں مقیم ہیں اور انہوں نے اس سرزمین کو اپنے علم، ثقافت اور تاریخ سے مالا مال کیا ہے۔ وہ مصیبت، چڑھائی اور دیگر قومی بحرانوں کے وقت ملک کی دیگر مذہبی برادریوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہے۔ انہوں نے ہندوستان کی جنگ آزادی میں انتہائی فعال کردار ادا کیا۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی ہندوستانیت پر فخر کا اظہار کیا ہے اور انہیں ہندوستانی ہونے پر فخر ہے۔ پیو سروے سے پتہ چلتا ہے کہ 95 فیصد مسلمان کہتے ہیں کہ انہیں ہندوستانی ہونے پر بہت فخر ہے۔ 85 فیصد مسلمان کہتے ہیں کہ ہندوستانی ثقافت دوسروں سے بہتر ہے۔

امتیازی سلوک

مسلمانوں کو شکایت ہے کہ انہیں مختلف شعبوں میں امتیازی سلوک کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ تاہم، ہندوستان کے مختلف علاقوں کے مسلمان کی مختلف شکایات ہیں۔ جبکہ اوسطا 24 فیصد مسلمان کہتے ہیں کہ انہیں امتیازی سلوک کا سامنا ہے، شمالی ہندوستان کے 40 فیصد مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انہیں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔

ارتداد

اگرچہ مسلمان دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے مقابلے میں اپنے مذہب پر زیادہ مضبوطی سے عمل کرتے ہیں لیکن سروے سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کا ایک چھوٹا سا حصہ ملحد یا مرتد ہو چکا ہے۔ انہوں نے اسلام کو چھوڑ دیا ہے۔ 0.3 فیصد مسلمان بچپن سے ہی اسلام چھوڑ کر دوسرے مذاہب میں داخل ہو چکے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ 6 فیصد خود کو مسلمان کہنے والے لوگ خدا پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ وہ ملحد ہیں۔ یہ مسلمانوں میں ایک حیران کن رجحان ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

حیات مابعد الموت پر یقین

اسلام حیات مابعد الموت یا کرما کا عقیدہ نہیں دیتا ہے۔ لیکن مقامی عقائد یا صوفی عقائد سے متاثر ہو کر مسلمانوں کا ایک طبقہ دوبارہ پیدائش اور کرما یعنی انسان کے اعمال کے مطابق اس کی پیدائش کے تسلسل پر یقین رکھتے ہیں۔ 27 فیصد مسلمان دوبارہ پیدائش یا کرما پر یقین رکھتے ہیں۔

انتہا پسندی

اسلام اور قرآنی آیات کی بہت سی فقہی تشریحات ہیں کہ جن کی بنیاد پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کو٘ فروغ حاصل ہوا ہے۔ تاہم، ہندوستانی مسلمان اس معاملے میں زیادہ روادار ثابت ہوئے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اسلام کی ایک سے زیادہ حقیقی تعبیر و تشریح ہو سکتی ہے لہٰذا وہ مذہبی مسائل کے معاملات میں رواداری کا مظاہرہ کرتے ہیں جبکہ شدت پسند طبقے کا ماننا ہے کہ اسلام کی صرف ایک ہی حقیقی تشریح ہو سکتی ہے اور وہ صرف ان کی ہے۔ جبکہ پاکستان میں 72 فیصد مسلمان اور بنگلہ دیش میں 69 فیصد مسلمان یہ مانتے ہیں کہ مذہب کی صرف ایک ہی تشریح ہو سکتی ہے، ہندوستان میں صرف 63 فیصد مسلمان یہ مانتے ہیں کہ مذہب کی صرف ایک حقیقی تشریح ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ تناسب بھی زیادہ حوصلہ بخش نہیں ہے لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستانی مسلمان عدم برداشت کا شکار کم ہیں۔

جنت اور فرشتوں پر ایمان

اگرچہ قیامت، جنت، دوزخ اور فرشتوں پر ایمان ایک مسلمان کے ایمان کا لازمی جز ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کا ایک چھوٹا سا طبقہ جنت اور فرشتوں کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہے۔ اگرچہ تمام مسلمان جنت اور فرشتوں پر یقین رکھتے ہیں لیکن صرف 58 فیصد ہندوستانی مسلمان جنت پر اور 53 فیصد ہندوستانی مسلمان فرشتوں پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ حیران کن ہے اور اس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اکثر ہندوستانی مسلمانوں کو اسلام کا بنیادی علم بھی نہیں کیونکہ صرف 6 فیصد مسلمان خود کو ملحد بتاتے ہیں۔

لہذا، پیو ریسرچ سینٹر کا سروے ہندوستانی مسلمانوں کے مذہبی رویے اور عقائد کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کرتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستانی مسلمان دیگر اسلامی ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ روادار ہیں۔ ان میں سے اکثر تین طلاق کو درست نہیں سمجھتے اور تین طلاق پر حکومت کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔ انہیں ہندوستانی ہونے پر فخر ہے اور یہاں کی جامع ثقافت پر ناز ہے۔ انہیں ملحد ہونے کی آزادی ہے اور حیات مابعد الموت اور کرما پر ان کا ایمان بہت سے علمائے اسلام کو حیران و ششدر کر دینے والا ہے۔ جنت اور فرشتوں پر عقیدہ کا ایمان کے لازمی حصہ ہونے کے باوجود مسلمانوں کی ان سے لاعلمی پر مذہبی علماء کو غور کرنا چاہیے۔ یہ واضح ہے کہ کمیونٹی کی تمام تر کوششوں کے باوجود ہندوستانی مسلمانوں کو اپنے مذہب کا صحیح علم نہیں ہے۔ مذہبی علماء مسلمانوں کو ان کے مذہب کے بارے میں صحیح تعلیم دینے کے بجائے فرقہ وارانہ مسائل میں زیادہ مصروف ہیں۔

------------

Related Article:

Like Hindus, Muslims Too Believe In Reincarnation and Oppose Triple Talaq: Some Important Indicators from Pew Research Survey

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/pew-hindus-muslims-reincarnation-talaq/d/125304

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..