New Age Islam
Tue Jun 16 2026, 01:54 AM

Urdu Section ( 22 May 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Killing of Religious Scholars in Pakistan پاکستان میں علماء کا منصوبہ بند قتل

نیو ایج اسلام اسٹاف رائیٹر

22مئی،2026

گزشتہ 5 مئی کو پاکستان کے خیبر پختونخوا صوبے کے چارسدہ میں جمعیت علماء اسلام کے ریاستی سرپرست اور سابق ممبر اسمبلی مولانا محمد ادریس کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے شہید کردیا۔ واردات کے بعد داعش خراسان نے اس قتل کی زمہ داری لی۔ یعنی قتل کے پیچھے وہ تنظیم ہے جس کو 2014ء میں دنیا کے بیشتر سنی علماء بشمول علامہ قرضاوی اور سید سلیمان حسنی ندوی نے اسلامی خلافت کا علمبردار قرار دے کے کر مسلمانوں کی داعش میں شامل ہونے کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ مولانا محمد ادریس کے خسر صاحب مولانا حسن جان بھی 2007ء ۔یں دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔گزشتہ ایک سال میں پاکستان کے خیبر پختونخوا میں کم از کم آٹھ عالم دین دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہوئے ہیں اور ان میں سے بیشتر جمعت علماء اسلام کے عہدہ دار تھے۔ مولانا محمد ادریس افغان طالبان کے معلم بھی تھے اور افغان طالبان کے ساتھ داعش کی رنجش کھل کراگئی ہے کیونکہ افغان طالبان نے ان سے کھل کر کہہ دیا تھا کہ انہیں افغان میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ کسی ایک ملک میں خلافت کے دو دعویدار نہیں رہ سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ داعش جمعیت علما اسلام سے وابستہ علما کو ایک ایک کرکے قتل کررہا ہے۔ مولانا محمد ادریس کے قتل سے قبل 10 جنوری 2026ء کو وزیرستان میں حافظ سلطان محمد کو ان کی کمسن بچی سمیت ہلاک کردیا گیا۔ فروری 2025ء مولانا حامدالحق حقانی کو، 8 مارچ 2025ء کو مفتی شاہ میر کو، 15 مارچ 2025ء کو مفتی منیر شاکر کو پشاور میں ، 17 مارچ 2025ء کو مفتی عبد الباقی نورزئی کو ،10 جولائی کو باجوڑ میں مولانا خان زیب کو اور 21جولائی 2025ء کو چارسدہ میں پیر ابراہیم کو دہشت گردوں نے اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا۔

یہ تو صرف ایک سال میں شہید ہونے والے چند معروف علماء کی فہرست ہے ۔گزشتہ 25 برسوں میں پاکستان میں شہید کئے جانے والے علماء کی تعداد سو سے زیادہ ہے ۔یہ قتل یا تو سیاسی وجوہات سے ہوتے ہیں یا پھر مسلکی بنیادوں پر انجام دئیے جاتے ہیں۔

مولانا محمد ادریس کے قتل کی۔مذمت تحریک طالبان پاکستان اور دیگر علماء تنظیموں نے کی ہے کیونکہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی ایک ہی سیاسی اور مسلکی نظریات کو مانتے ہیں ۔ جمعیت علماء اسلام سے وابستہ علماء خاص طور سے داعش کا نشانہ اس لئے بنتے ہیں کہ وہ خیبر پختونخوا حکومت میں شامل رہی ہے اور پاکستانی حکومت کی طرف سے ٹی ٹی پی کے خلاف فوجی آپریشن کی۔مخالف ہے۔ موجودہ پی ٹی آئی حکومت کے سربراہ سہیل آفریدی ٹی ٹی پی کے خلاف فوجی آپریشن نہیں چاہتے اس لئے پاکستانی فوج اور شہباز شریف حکومت جمعیت علماء اسلام کے کردار سے خوش نہیں ہے۔ داعش سے پاکستانی فوج کی قربت اور الحاق کا راز کئی موقعوں پر کھل چکا ہے۔ بلوچستان میں بی ایل اے کے خلاف پاکستانی فوج کے ساتھ داعش نے لڑنے کا اعلان کیا تھا اور گزشتہ سال نائیجیریا میں پاکستان کے کئی داعش دہشت گرد وہاں کے دہشت گردوں کو اسلحے اور تربیت دینے کے الزام میں گرفتار کئے گئے تھے۔

 پاکستان خصوصاَ خیبر پختونخوا میں علماء کے اتنے برے پیمانے پر قتل کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے مسلکی بنیادوں پر دہشت گردی کی حمایت کی اور دہشت گرد تنظیموں کو اسلام کا سچا علم بردار قرار دے کر انہیں مسلمانوں میں قبولیت دلوائی۔ آج جب سیاسی اختلافات کی بنیاد پر یہ دہشت گرد تنظیمیں خود انہیں نشانہ بنارہی ہیں تو اب وہ انہیں خارجی اور اسلام دشمن قرار دے رہے ہیں۔ 2014 میں جب داعش نے امریکا، قطر اور سعودی عرب کی مدد سے عراق اور شام کے ایک بڑے خطے پر اپنی نام نہاد اسلامی خلافت قائم کرکےسنی اور شیعہ  مسلمانوں اور عیسائیوں کا قتل عام کررہی تھی تو یہی علما کہہ رہے تھے کہ کسی بڑے مقصد کے حصول میں چھوٹی موٹی زیادتیاں ہو جاتی ہیں۔

آج پاکستان کے علماء اور دینی تنظیمیں سیاسی اور مسلکی بنیادوں کئی خیموں میں بٹ چکی ہیں۔ اور ہر خیمہ دوسرے خیمے کے علماء کی جان کا دشمن بنا ہوا ہے۔ مسلکی عقائد کی بنیاد پر کفر کے فتوے جاری کئے جاتے ہیں اور کارٹواب سمجھ کر جاہل اور گمراہ نوجوان علماء کا قتل کردیتے ہیں۔ علماء کے  ہر قتل کا  طریقہء واردات ایک ہی ہے۔ موٹر سائیکل پر سوار کرایے کے قاتل انہیں راستے میں فائرنگ کرکے ہلاک کردیتے ہیں اور پولیس انہیں گرفتار نہیں کرپارہی یا سیاسی یا مسلکی دباؤ میں گرفتار کرنا ہی نہیں چاہتی۔

لہذا٫مولانا محمد ادریس کا قتل  پاکستان میں علماء کا آخری قتل نہیں ہے بلکہ یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ کیونکہ خود علماء نے ہی دوسرے مسلک کے علماء اور پیروکار کافر اور واجب القتل قرار دے کر مذہبی قتل کی راہ ہموار کی ہے۔ اس سلسلے کو روکنے کے لئے خود علماء کو  اجتماعی طور پر تکفیری روئیے کو خیر باد کہنا ہوگا اور مسلکی منافرت کو اجتماعی طور پر ختم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا۔

----------------

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/killing-religious-scholars-pakistan/d/140117

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..