New Age Islam
Wed Jun 10 2026, 01:20 AM

Urdu Section ( 20 Nov 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Israel's Calendestine Efforts to Relocate Gazans فلسطینیوں کے انخلا کاخفیہ اسرائیلی منصوبہ

نیو ایج اسلام اسٹاف رائیٹر

20 نومبر 2025

اسرائیل کے ایک اخبار ہاریٹز نے اپنے اتوار کے شمارے میں اسرائیل کی طرف سے  خفیہ طور پر فلسطینیوں کو ساؤتھ افریقہ ، انڈونیشیا اور ملائشیا  بھیجنے کے ایک پلان کو طشت از بام کرکے پوری دنیا میں ہلچل مچادی ہے اور عالمی سطح پر اسرائیل کے اس اقدام پر تنقید ہورہی ہے۔ اسرائیلی اخبار نے ایک تفتیشی مضمون میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت اور اسرائیلی فوج ایک مشکوک فلاحی ادارے المجد کی مدد سے فلسطینیوں کو غزہ سے نکال کر کسی محفوظ مقام پر پینچانے کا فریب دے کر انہیں افریقہ ، انڈونیشیا اور ملائشیا میں غیر قانونی طور پر بھیج رہی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ایستونیا اور اسرائیل کی دوہری شہریت رکھنے والا تومر جنار لینڈ المجد کا مالک ہے جو پہلے اسرائیلی فوج کے لئے کام کرچکا ہے۔اسرائیلی حکومت نے اس تنظیم کے لئے اسرائیلی فوج کو سفارش کی اور پھر اس تنظیم۔نے فلسطینیوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے غزہ سے نکال کر محفوظ ملک میں پہنچانے کی پیش کش کی۔ خواہش مند فلسطینیوں سے اس تنظیم نے 2000 ڈالر فی کس لئے اور انہیں  رومانیا کی ایرلائن اور چارٹرڈ جہازوں کے ذریعہ انڈونیشیا ، ملائشیا اور ساؤتھ افریقہ بھیجا۔ یہ سلسلہ مئی سے ہی شروع ہوچکا تھا۔اور رومانیا کی فلائٹ سے 57 فلسطینیوں کو انڈونیشیا اور ملائشیا بھیجا گیا تھا۔ اس کے بعد 28 اکتوبر کو 176 فلسطینیوں کو چارٹرڈ پلین سے ساؤتھ افریقہ کے جوہانسبرگ پینچایا گیا۔ تیسری بار تین دن قبل 153 فلسطینیوں کو جوہانسبرگ پہنچایا گیا ۔اس بار جنوبی افریقہ کی حکومت نے باقاعدہ تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ جن فلسطینیوں کو جوہانسبرگ لایا گیا ہے ان کے پاسپورٹ پر اسرائیلی حکومت کی کوئی مہر نہیں لگی ہے اور انہیں غیر قانونی طور پر لایا گیا ہے۔ لہذا ، حکومت افریقہ نے ان فلسطینیوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور ان سبھوں کو ایر پورٹ پر ہی 12 گھنٹے روکے رکھا گیا۔ بہر,حال ، حکومت افریقہ نے انسانی بنیادوں پر ان تمام فلسطینیوں  کو بغیر ویزہ کے 90 دنوں تک جنوبی افریقہ میں رہنے کی اجازت دی۔ لیکن اس واقعے سے اسرائیل اور امریکا کا اصل کھیل دنیا کے سامنے آگیا ہے۔  دوسری طرف اسرائیلی حکومت اور فوج کے حکام کے بیان سے معاملہ مزید پراسرار ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کو ایک تیسرے ملک سے منظوری ملنے کے بعد ہی فلسطینیوں کو غزہ چھوڑنے کی اجازت دی گئی لیکن انہوں نے اس تیسرے ملک کا نام نہیں بتایا۔ واضح ہو کہ فلسطینیوں کو غزہ سے باہر بھیجنے میں المجد کی مدد  اسرائیلی حکومت اور فوج نے کی۔ فلسطینیوں کو غزہ کے کسی خاص مقام سے اسرائیل کی بسوں میں  جنوبی اسرائیل میں واقع رامن ایرپورٹ لایا گیا اور پھر وہاں سے انہیں کینیا کے راستے ساؤتھ افریقہ کے جوہانسبرگ لایا گیا۔

واضح کے 2025ء کے آغاز میں ہی امریکی صدر ٹرمپ اپنے غزہ۔پلان کے تحت یہ کہہ چکے ہیں کہ غزہ۔میں فرنچ ریوئیرا کی طرز پر تفریح گاہیں بنائی جائینگی اور اس کے لئے بیس لاکھ اہل غزہ کو عارضی طور پر دوسرے ملک میں منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کئی ممالک نے فلسطینیوں کو اپنے یہاں جگہ دینے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ جب ان کے اس پلان کی عالمی سطح پر تنقید ہوئی تو انہوں نے اپنا بیان بدل دیا تھا اور کہا تھا کہ کسی کو جبری طور پر غزہ سے منتقل نہیں کیا جائے گا لیکن جو لوگ اپنی خوشی سے غزہ چھوڑنا چاہیں گے وہ جاسکتے ہیں۔ اب جب کہ سینکڑوں فلسطینی اپنی خوشی سے 2000 ڈالر اسرائیلی حکومت کو دے کر اس جنگ زدہ خطے سے نکل جانا چاہتے ہیں  تو ان کو دوسرے ممالک میں بھیجنے کے لئے اسرائیل نے ایک خفیہ پلان تیار کیا ہے اور ایک۔منصوبہ بند طریقے سے فلسطینیوں کو غزہ سے نکالا جارہا ہے۔

اس انکشاف کے بعد انڈونیشیا نے اس معاملے میں اپنے کردار کی تردید کی ہے۔ 20 نومبر کو انڈنیشیا کے وزیر خارجہ کی ترجمان ایوون میون کانگ نے کہا کہ انڈونیشیا نے فلسطینیوں کے جبری نقل۔مکانی کی ہمیشہ مخالفت کی ہے اور اس کو بین  الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اس لئے اس نے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی میں کوئی سہولت کاری نہیں کی ہے۔

فلسطینیوں کو انڈونیشیا ،ملائشیا اور ساؤتھ افریقہ بھجوانے کے اس پلان میں اسرائیل براہ راست ملوث ہے کیونکہ المجد نامی ادارے نے اپنے ویب سائٹ میں جو تفصیلات دی ہیں وہ سب فرضی ہیں۔۔اس میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ المجد جرمنی اور مشرقی یروشلم میں رجسٹرڈ ہے اور وہاں اس کے دفاتر ہیں جبکہ ہاریٹز نے وہاں کوئی دفتر نہیں پایا۔اس نے جو فون نمبر اور ای میل آئی ڈی دیا ہے وہ بھی فرضی ہے۔ اس ادارے کی طرف سے یہ دعوی کیا گیا ہے کہ وہ جنگ زدہ خطوں میں پھنسے ہوئے مسلمانوں کی مدد کرتا ہے۔ لیکن اس نے جن افراد کے بارے میں مدد کی کہانیاں اپنےویب سائٹ میں بیان کی ہیں وہ بھی جھوٹی ہیں۔ دراصل اسرائیل ایک فرضی ادارے کی آڑ میں خوش حال فلسطینیوں کو 2000 ڈالر کے عوض غزہ سے باہر بھیج رہا ہے اور اس کھیل میں کچھ مسلم۔ممالک بھی درپردہ شامل ہیں۔ یہ خفیہ کھیل مئی سے ہی جاری تھا لیکن انڈونیشیا نے 20 نومبر کو معاملے کے سامنے آنے کے بعد ایک۔تردیدی بیان دیا ہے جبکہ مئی کے مہینے میں ہی 50 سے زیادہ فلسطینی انڈونیشیا اور ملائشیا بھیجے جاچکے ہیں۔

فلسطینیوں کو غزہ سے نکالنے کا یہ پہلا مرحلہ تھا۔ اس مرحلے میں آسودہ حال فلسطینیوں کو باہربھیجا جارہا تھا جو یہاں سے نکلنے کے لئے 2000 ڈالر دینے کی پوزیشن میں تھے اور اس خطے سے نکل جانا چاہتے تھے۔ انہیں یہ بھی نہیں بتاہا گیا تھا کہ وہ۔کہاں جارہے ہیں ۔وہ بس غزہ سے نکل جانا چاہتے تھے۔ دوسرے مرحلے میں فلسطینیوں کو غزہ سے نقل مکانی  کرنے کے لئے لاکھوں ڈالر کی رقم ادا کی جائے گی۔ اس طرح شمالی غزہ سے تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کو خالی کرایا جائے گا اور وہاں تفریح گاہیں ، مینوفیکچرنگ ہب اور تجارتی عمارتیں تعمیر کی جائینگی۔

ساؤتھ افریقہ نے بروقت معاملے کی تحقیق کرکے  اور ہاریٹز اخبارنے  اپنے تفتیشی۔مضمون کے ذریعے اسرائیل اور امریکا کے اس خفیہ  پلان کو بے نقاب کردیا ہے اورانڈونیشیا اور ملائشیا کے کردار پر  بھی سوال کھڑے کردئیے ہیں۔

---------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/israel-efforts-relocate-gazans/d/137707

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..