New Age Islam
Sun Feb 08 2026, 08:27 AM

Urdu Section ( 1 Oct 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Hijab Has Come Full Circle in India ہندوستان میں پھر حجاب کا دور شروع ہو گیا

 ماضی قریب میں لڑکیاں حجاب کو اتنی سختی سے نہیں پہنتی تھیں

 اہم نکات:

 1. 19ویں صدی کے دور میں ہندوستان کی مسلم خواتین پردے میں رہتی تھیں۔

 2.  تعلیم کی بدولت 20ویں صدی میں ہندوستان میں مسلمان لڑکیاں پردے سے باہر آئیں۔

 3. اسکول اور کالج جانے والی لڑکیاں حجاب نہیں پہنا کرتی تھیں۔

 4. حجاب اور نقاب کا چلن 90 کی دہائی کے بعد ہی مسلم لڑکیوں میں بڑھا۔

 5.  21ویں صدی میں مسلم لڑکیوں نے پھر پردہ کرنا شروع کر دیا۔

 -----

 نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

 29 ستمبر 2022

 اردو کے طنزیہ شاعر نے 1020 کی دہائی میں لکھا:

بے پردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں

اکبر زمین میں غیرت قومی سے گڑ گیا

میں نے جو پوچھ آپکا پردہ وہ کیا ہوا

کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا

یہ مشہور شعر 1920 کے دور میں پردے پر مسلم دانشوروں کی بے چینی کا اشارہ دیتا ہے۔ اس دور میں مسلم خواتین پردہ سے نکل کر اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخل ہوئیں۔ یہ مسلمانوں میں تعلیمی نشاۃ ثانیہ کا دور تھا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ان مسلم لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی جو "انگریزی تعلیم" حاصل کرنا چاہتے تھے جس تعلیم کو محمد اقبال اور اکبر الہ آبادی جیسی عظیم ہستیوں نے حقارت کی نظر سے دیکھا کیونکہ انہیں خوف تھا کہ مغربی تعلیم لڑکیوں کے ذہنوں کو خراب کر دے گی اور ان کی اخلاقیات کو متاثر کرے گی۔ یہی وجہ تھی کہ سرسید احمد خان کو علمائے کرام اور نام نہاد مسلم دانشور دونوں نے ہی اپنا نشانہ بنایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 نئی دہلی، ہندوستان میں 8 فروری کو آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے اراکین نے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے خلاف دہلی یونیورسٹی میں احتجاج کیا۔

 سنچیت کھنہ/ہندوستان ٹائمز بذریعہ گیٹی امیجز

 -----

 1911 میں بیگم رقیہ نے مسلم لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ایک مہم شروع کی تھی۔ انہوں نے کولکتہ میں رقیہ سخاوت میموریل گرلز اسکول قائم کیا۔ لیکن والدین اپنی لڑکیوں کو اسکول جانے کی اجازت نہیں دیتے کیونکہ اس سے انہیں بے پردہ ہونے کا خطرہ تھا۔ محترمہ رقیہ نے پیشکش کی کہ بس میں پردے کا مناسب انتظام کیا جائے تاکہ مرد انہیں نہ دیکھ سکیں۔ اس کے بعد کچھ بچیوں کے والدین میں تھوڑی نرمی ائی۔

 دھیرے دھیرے والدین نے پابندیاں ختم کر دیں اور زیادہ سے زیادہ لڑکیاں اسکول اور کالج جانے لگ گئیں۔ اس دور کے بنگلہ دیش کے علاقوں سمیت بنگال کے بنگالی مسلمان تعلیمی طور پر زیادہ ترقی یافتہ تھے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی میں زیادہ مسلم لڑکیوں نے داخلہ لیا جہاں لڑکیاں پردے کے بغیر جاتی تھیں۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کی پہلی مسلم گریجویٹ خاتون فضیلت النساء تھیں۔ اس دور میں لڑکیاں اسکولوں یا کالجوں میں حجاب یا نقاب نہیں پہنتیں۔ درحقیقت صرف مائیں مکمل نقاب پہن کر باہر نکلتی تھیں۔ اس سچائی کا ذکر اوپر دیے گئے شعر میں کیا گیا ہے۔ ایک اور شعر درج ذیل میں دیا جا رہا ہے جس سے مسلم دانشوروں کی بے چینی کا اظہار ہوتا ہے :

رشیدہ چمکی نہ تھی انگلش سے جب بیگانہ تھی

اب ہے شمع انجمن پہلے چراغِ خانہ تھی

 یہ اور اس دور کے دوسرے اشعار عورتوں کی آزادی کی بات کرتے ہیں۔ وہ سماجی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی تھیں اور تعلیمی میدان میں اپنی شناخت بنا رہی تھیں۔ انہوں نے پردہ چھوڑ دیا تھا۔ اس کے باوجود سماج کا ایک طبقہ پردے کا پابند تھا لیکن طلباء کو حجاب اور نقاب پہننے پر مجبور نہیں کیا جاتا تھا۔

 مذہبی رہنما اور یہاں تک کہ وہ لوگ جو آزاد خیال سمجھے جاتے تھے سختی کے ساتھ پردے کے حق میں تھے۔ لیکن دوسرے طبقے کو خواتین کے پردے کے بغیر عوام میں جانے پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ بنگال میں آزادی کی تحریک کے دوران ایک جلسہ عام کے میں، کمیونسٹ منتظمین چاہتے تھے کہ ایک مسلم خاتون اسٹیج سے تقریر کرے۔ انہوں نے حاضرین کی اگلی صف میں بیٹھے علمائے کرام سے اجازت طلب کی۔ انہوں نے اسے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ ایک خاتون سٹیج پر مردوں کے سامنے نہیں آ سکتی۔ تب منتظمین نے تجویز پیش کی کہ وہ پنڈال سے متصل اسکول کے ایک کمرے سے اپنی تقریر کر سکتی ہیں۔ لیکن علمائے کرام نے فرمایا کہ عورت کو اپنی آواز کا بھی پردہ کرنا چاہیے۔ انہیں سٹیج سے یا جلسہ گاہ سے ملحقہ کمرے سے تقریر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ علمائے کرام کی مخالفت کے باوجود مسلم خواتین نے بڑے پیمانے پر بغیر حجاب یا نقاب کے عوامی امور میں حصہ لیا۔

 آزادی اور تقسیم کے بعد یہ ملک ایک سیکولر ملک بن گیا اور سیکولر تعلیم عام ہو گئی۔ مسلم لڑکیوں نے غیر مسلم لڑکیوں کے ساتھ اسکولوں اور کالجوں میں داخلہ لیا۔ لڑکیوں کے لیے پردہ لازمی نہیں تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ مسلم لڑکیوں نے تعلیم کے میدان میں بڑی پیش رفت کی۔ لڑکیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ اسکول قائم کیے گئے۔ یہاں تک کہ لڑکیاں لڑکوں کے ساتھ مخلوط تعلیمی نظام والے اسکولوں میں پڑھتی تھیں اور والدین نے کبھی اس کی مخالفت اور شکایت نہیں کی۔

Muslim students speak to media after they were not allowed to enter pre-university colleges while wearing the hijab, in Udupi town, Karnataka, India, on Feb. 16.

Anadolu Agency via Getty Images

-----

 لیکن 1990 کی دہائی کے بعد، اور واضح طور پر 2000 کے بعد سے، پردے کے حق میں ایک نظریاتی مہم شروع کی گئی۔ مختلف علمائے کرام نے نوجوان لڑکیوں کے لیے نقاب یا حجاب کے استعمال کی وکالت کی۔ اس مسئلہ پر مسلمانوں کے تمام فرقے متحد تھے۔ انہوں نے تمام خواتین کے لیے ان کی عمر یا ازدواجی حیثیت سے قطع نظر مکمل پردے کی مہم چلائی۔ مواصلات کے تمام ذرائع کو اس حجابی نظریہ کی اشاعت کیے استعمال کیا گیا۔ ہندوستان، افغانستان سے لے کر پاکستان تک خواتین اور لڑکیوں کو کہا گیا کہ وہ گھر میں رہیں اور اگر گھر سے باہر نکلنا بھی پڑے تو وہ پورے پردے کے اہتمام کے ساتھ باہر نکلیں۔ کچھ علماء نے یہاں تک کہہ دیا کہ خواتین برقع میں بنے ایک سوراخ سے دیکھ سکتی ہیں چاہے وہ اس کی وجہ سے سڑک پر گر جائیں یا حادثے کا شکار ہو جائیں۔

 طالبان اور دیگر انتہا پسند تنظیموں کے عروج نے برصغیر کے مسلمانوں میں حجابی نظریے کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ افغانستان میں انہیں حجاب نہ پہننے کی وجہ سے مار دیا جاتا ہے۔ ایران میں سات سال کی لڑکیوں کو حجاب پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

 20ویں صدی کے دوسرے نصف میں اسلامی معاشرہ کے پچھڑنے کی وجہ 20ویں صدی کے دوران پیدا پیش کیے جانے والا اسلامی لٹریچر تھا۔ اگرچہ اسلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں عرب تاجروں کے ذریعے ہندوستان کے جنوبی مغربی ساحل تک پہنچ چکا تھا، لیکن اسلامی لٹریچر صرف 19ویں صدی کی آخری تہائی میں مرتب کیا گیا تھا۔ شاہ ولی اللہ 18ویں صدی میں قرآن کا فارسی میں ترجمہ کرنے والے پہلے شخص تھے اور ان کے بیٹے شاہ عبدالقادر نے 18ویں صدی کے آخر میں قرآن کا اردو میں ترجمہ کیا۔ شاہ ولی اللہ نے ہندوستان میں علم حدیث کی اشاعت کی اور محدث دہلوی کہلائے۔ مغل شہنشاہ اورنگزیب نے 18ویں صدی میں اسلامی فقہ کی تالیف و تدوین میں اہم کردار ادا کیا۔

 تاہم، فرقہ وارانہ نظریہ کی نشر واشاعت نے صرف 19ویں صدی کے آخر میں ہی رفتار پکڑی۔ اس عرصے کے دوران زیادہ سے زیادہ مفسرین، علماء اور محققین منظر عام پر آئے اور اپنے اپنے نظریے کو فروغ دیا۔ تاہم، مولانا وحید الدین خان جیسے چند لوگوں کو چھوڑ کر، تقریباً سبھی نے پردہ کے حوالے سے سخت گیر موقف کا پرچار کیا۔ اس پردہ نے ہندوستان میں مقبولیت حاصل کر لی۔ اب مختلف تنظیمیں چھوٹی بچیوں کے لیے بھی پردے کی مہم چلاتی ہیں۔ سماجی اور سیاسی حالات نے بھی نقاب کی مقبولیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب لڑکیاں اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں حجاب پہنتی ہیں اور کام کرنے والی خواتین دفتر میں نقاب پہننے کو ترجیح دیتی ہیں۔ یہ تصادم اور قانونی لڑائیوں کا سبب بنتا ہے۔

 اس طرح 19ویں صدی میں مسلمان لڑکیوں پر جو پردہ مسلط کیا گیا تھا وہ 21ویں صدی کے روشن خیالی کے دور میں پھر سے رائج ہو گیا ہے۔ 20 ویں صدی کے نصف ثانی میں ہی آزاد خواتین کا ظہور ہوا جنہوں نے معاشرے اور ملک کی ترقی میں عظیم الشان کردار ادا کیا۔ آج سینکڑوں لڑکیاں پردے کی خاطر اپنا تعلیمی مستقبل برباد کر دیتی ہیں۔

English Article: Hijab Has Come Full Circle in India

URL: https://newageislam.com/urdu-section/hijab-niqab-veil-india/d/128080

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..