New Age Islam
Sat Feb 14 2026, 08:39 PM

Urdu Section ( 18 Apr 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Growing Sectarian Intolerance in South Asia, particularly in the Barailvi school of thought ہندوپاک میں بریلوی مکتب فکر میں بڑھتی عدم رواداری

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

18 اپریل،2023

ہندوپاک میں دو مسلکی مکاتب فکر ۔۔۔ بریلوی اور دیوبندی ۔۔۔ میں نظریاتی اختلاف رہے ہیں اور یہ اختلافات اتنے شدید رہے ہیں کہ دونوں ایک دوسرے کو کافر تک قرار دے چکے ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ان اختلافات میں کمی آنے کی بجائے شدت ہی آتی جارہی ہے۔ کبھی کبھی دونوں مسلکوں کے سربراہ وقتی طور پر اختلافات کو بھلاکر اتحاد قائم کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن اس میں خلوص نیت نہیں ہوتا اس لئے اس سمت کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوتی۔

گزشتہ ماہ جموں میں بریلوی اور دیوبندی علماء نے عید اور رمضان میں رویت ہلال کے مسئلے پر افراتفری اور اختلاف رائے سے بچنے کے لئے ایک میٹنگ کی ۔ اس میٹنگ میں جموں کشمیر کے سرکردہ دیوبندی اور بریلوی علماء شریک ہوئے۔ اس میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ عید کے بعد دونوں مکتب فکر کے علماء پھر بیٹھیں گے اور ایک رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل کریں گے۔ اس کمیٹی کا ایک صدر منتخب کیا جائے گا۔ اور رمضان اور عید میں رویت ہلال کا فیصلہ متفقہ طور پر کیا جائے گا تاکہ قوم میں انتشار نہ ہو۔ اس میٹنگ کے موقع پر بریلوی اور دیوبندی علماء نے ایک دوسرے سے سلام و مصافحہ کیا اور ایک ساتھ تصویریں کھنچوائیں۔

اس میٹنگ میں کئی علماء تدریس اور امامت کے پیشے سے بھی جڑے تھے۔ اس سلام و مصافحہ کی تصویریں جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو بریلوی مکتب فکر کے لوگوں نے اس میٹنگ پر اعتراضات اٹھائے اور دیوبندیوں کے ساتھ سلام و مصافحہ کرنے پر انہیں لعن طعن کرنے لگے۔ جب اعتراضات طول پکڑنے لگے تو ایک بریلوی عالم مولوی بشارت حسین رضوی اپنے موقف سے پلٹ گئے اور کہا کہ ہم لوگ دیوبندیوں کے ساتھ کمیٹی نہیں بنائیں گے اور صرف بریلوی علماء کو لیکر کمیٹی بنائیں گے ۔ گجرات کے ایک بریلوی مسلک کے پیروکار عمران رضا نے اس مسئلے پر ایک سوال پاکستان کے بریلوی مسلک کے دارالافتا کراچی بھیجا اور اس مسئلے پر فتوی مانگا۔ سوال یہ تھا:

کیا فرماتے ہیں علماء دین و متیان شرع متین اس مسئلے میں کہ مولوی فاروق مصباحی امام و خطیب پونچھ آج تک وہابی دیوبندیوں کے ساتھ تعلقات رکھنے پر لوگوں کو کافر و مرتد اور توبہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح کرنا ضروری اور لازم قرار دیتے تھے۔ آج ساری باتیں موصوف مولوی پر صادر ہوتی ہیں۔ اور نام نہاد مفتی کے ویڈیو کے ساتھ اٹیچ کی ہے۔اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے؟

اس استفتاء کا جواب یہ دیا گیا۔

دیوبندی وہابی اپنے عقائد کفریہ کے سبب کافر مرتد بے دین اور ایسے بدعتی ہیں جن کی بدعت حد کفر کو پہنچ چکی ہے۔ علماء حرمین شریفین نے ان کے متعلق فتوی دیا تھا۔ جو شخص ان کے کفر و الحاد میں شک کرے وہ خود بھی کافر ہے ۔ لہذا ایسے لوگوں سے میل جول رکھنا اپنے یہاں مہمان بنانا ، ان کے ساتھ شادی بیاہ کرنا ، ان کو,عزت دینا ، ان کی صحبت اختیار کرنا شرعاً ناجائز وحرام ہے۔

یہ فتوی طویل ہے اور اس میں قرآن کی سورہ الانعام کی آیت نمبر 18 اور کئی حدیثوں کے حوالے سے بھی دیوبندی مسلک کے پیروکاروں سے میل جول رکھنے کو غلط کہا گیا ہے۔ طوالت کے خوف سے پورا فتوی نقل نہیں کیا جارہا ہے۔ اس میں امام احمد رضا قادری کا فتوی بھی نقل کیا گیا ہے۔ ان کا فتوی مندرجہ ذیل ہے۔

"اعلی حضرت امام اعلی احمدرضا قادری قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں : وہابی و غیر مقلدین و دیوبندی و مرزائی آج کل سب کفار و مرتد ین ہیں۔ ان کے پاس نشست و برخاست حرام ہے ، ان سے میل جول حرام ہے ، اگرچہ باپ بھائی یا بیٹے ہوں اور ان لوگوں سے کسی دنیاوی معاملت کی بھی اجازت نہیں ان کے پاس بیٹھنے والا اگر ان کے پاس بیٹھتا ہے اور ان کے کفر میں شک رکھتا ہے اور ان کے احوال سے مطلع ہے تو بلا شبہ کافر ہے۔( فتاوی رضویہ مترجم جلد نمبر 21 صفحہ 278 رضا فاؤنڈیشن)۔۔فاؤنڈیشن

اس کے بعد لکھا گیا ہے:

لہذا، صورت مسئولہ میں مولوی فاروق مصباحی اور اس کے ساتھ جتنے علماء بھی تھے دیوبندی سے میل جول ، ان کی صحبت اختیار کرنا ، سلام و کلام کرنا ناجائزحرام بدکام و بدانجام۔ہے۔ مولوی فاروق سچی توبہ کے بعد امامت وتدریس وغیرہ کا فریضہ انجام دے سکتا ہےجبکہ دوسری شرعی ممانعت نہ پائی جائے۔ جب تک توبہ نہ کرے اس کو امام و مدرس بنانا منع ہے۔ ہاں، ، اس وہابی کے کفر یہ عقائد پر مطلع ہوتے ہوئے جو بھی تعلقات رکھے اسے مسلمان جانے تو یہ کفر ہے۔ اور ایسی صورت میں توبہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح کرے۔

دارالافتا الجامعہ الاحتشامیہ ، کراچی

اس فتوی کے آتے ہی بریلوی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔ دیوبندیوں سے سلام و مصافحہ کرنے والے اسلام سے خارج ہوگئے اور ان کا نکاح چکناچور ہوگیا۔ انہیں امامت اور تدریس کے عہدے سےہٹا دیا گیا۔ مسئلہ سنگین ہوتا دیکھ بریلوی علماء نے مورچہ سنبھالا اور مسئلے کا حل نکالا۔ ان تمام بریلوی مولویوں کو توبہ کرائی گئی ۔ اور ان سے عہد لیا گیا کہ وہ آئندہ کبھی کسی دیوبندی سے سلام و مصافحہ نہیں کریں گے۔ اس کےبعد ان کی ملازمت بحال کی گئی۔

یہ فتوی طویل ہے اور اس میں بیروت کے کسی دارالافتاء کا بھی حوالہ دیا گیا ہے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کسی حدیث کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ ظاہرہے دیوبندی مکتب فکر کا وجود 19 ویں صدی میں عمل میں آیا اس لئے حدیثوں میں اس فرقے کا ذکر محض تاویل کی بنا پر مان لیا گیا ہے۔ پھر سورہ الانعام کی جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے اس میں بھی اس موضوع پر کچھ نہیں ہے۔ ( فتوی کے پورے متن کو سننے کے لئے سید فضیل احمد ناصری کے یوٹیوب چینل پر جائیں۔)

افسوس کا مقام یہ ہے کہ جموں کشمیر کو زمانہء قدیم سے صوفیوں کا مسکن اور تصوف کا گہوارہ سمجھاجاتا ہے جہاں مذہبی جنون عدم رواداری اور تعصب و مسلکی منافرت کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ایسے صوبے میں اس طرح کی مسلکی منافرت اور عدم برداشت افسوسناک ہے۔۔ پاکستان میں بھی بریلوی مسلک کے پیروکاروں اور علماء میں ا نتہا پسندی اور مذہبی جنون میں شدت دیکھی جارہی ہے۔ ابھی حال ہی میں پیر افضل قادری نے محمد علی مرزا کے خلاف کفر کا فتوی جاری کیا اور انہیں واجب القتل قرار دے کران کے سر پر پانچ لاکھ کا انعام کا اعلان کیا۔ ان سے قبل بریلوی مسلک کے نوجوان ممتاز قادری نے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو قتل کردیا۔ محمد علی مرزا پر اب تک قتل کی تین کوششیں ہوچکی ہیں۔ پاکستان میں ایک طرف دیوبندی مکتب فکر نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دیا ہے تو دوسری طرف بریلوی مکتب فکر نے بھی گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں اپنی طاقت میں اضافہ کیا ہے اور ا س کے نتیجے میں کئی مسلکی قتل ہوئے ہیں۔

بدقسمتی سے دونوں مکاتب فکر کے چند بڑے علماء بھی اس مسلکی منافرت اور عدم رواداری کو ہوا دے رہے ہیں۔ اگر وہابی فکر کو بڑھاوا دینے والوں میں ذاکر نائک اور طارق مسعود ہیں تو بریلوی تکفیری نظریئے کو فروغ دینے میں پیر محمد افضل قادری اور طاہرالقادری شامل ہیں۔ ایسے میں مسلم معاشرے میں امن اور اتحاد کے قیام کی کوششیں بارآور نہیں ہوسکتیں ۔ ایسے میں فائدہ مسلمانوں کے صرف دو ہی فرقوں کا ہوگا۔ ایک گورکن کا اور دوسرا نکاح رجسٹرار کا۔ ایک کو ہرروز قبر کی کھدائی کے آرڈر ملیں گے اور دوسرے کو تجدید نکاح کی فیس ہرروز ملے گی۔

--------------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/growing-sectarian-south-asia-barailvi-school/d/129593

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..