New Age Islam
Wed Feb 18 2026, 02:46 PM

Urdu Section ( 25 Oct 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Emergency Special Session of United Nations General Assembly غزہ کے مسئلے پراقوام۔ متحدہ کا ہنگامی خصوصی اجلاس

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

25 اکتوبر 2023

اسرائیل اور حماس کے بیچ جنگ کے دو ہفتے گزرنے کے بعد بھی دونوں طرف سے جارحیت میں کمی نہیں آئی ہے حالانکہ اس جنگ میں حماس نے فوجی طور پر اسرائیلی فوج پر اپنی برتری ثابت کردی ہے ۔ اسرائیل مسلسل غزہ کے رہائشی علاقوں ، ہسپتالوں ، اسکولوں اور پناہ گزیں کیمپوں پر حملے کررہا ہے اور اب تک اس کے حملوں میں پانچ ہزار سے زیادہ شہری مارے گئے ہیں جن میں عورتیں اور بچے زیادہ ہیں۔جنگ بندی کی اپیل عالمی برادری کی طرف سے کی جارہی ہے لیکن اسرائیل اور حماس کی طرف سے کوئی بھی جنگ بندی پر آمادہ نہیں ہے۔اسرائیل فوجی کارروائی کے ذریعہ ہی اس مسئلے کا حل کرنے میں یقین رکھتا ہے۔ اس کی ترجیح 222 یہودیوں کو حماس کے قبضے سے چھڑانا ہے جنہیں حماس نے 7 اکتوبر کے حملے کے دوران یرغمال بنایا تھا۔ا سرائیل نے غزہ کے الاہلی العربی ہسپتال پر حملہ کرکے ایک رات میں 500 سے زیادہ افراد کو ہلاک کردیا۔ اس کے بعد بھی اس نے کئی ہسپتالوں کو خالی کرنے کا الٹی میٹم دیا ہے۔اس دوران قاہرہ امن اجلاس ہوا جس میں اسلامی اور عرب ممالک کے نمائندوں اور سربراہوں نے شرکت کی لیکن اس اجلاس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا کیونکہ اس میں اسرائیل کی نمائندگی نہیں ہوئی اور امریکہ کا کوئی سینیئر نمائندہ شامل نہیں ہوا۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل جنگ بندی میں یقین نہیں رکھتے۔

 اب 26 اکتوبر کو اقوام متحدہ کا ہنگامی خصوصی اجلاس منعقد ہونے والا ہے۔ اس اجلاس کے لئے اردن کے شاہ کے علاوہ انڈونیشیا، ملایشیا ، موریتانیہ ، بنگلہ دیش ، مصر ، سیریا ، ویتنام و دیگر ممالک نے اقوام متحدہ کو درخواست دی تھی تاکہ جنگ بندی کی راہ ہموار کی جاسکے ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کاہنگامی اجلاس تب منعقد ہوتا ہے جب اس کے مستقل۔ممبران بین الاقوامی تنازع یا جنگ کی صورت حال میں مداخلت نہیں کرتے۔ اس ہنگامی اجلاس میں اسرائیل حماس جنگ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر جنگ روکنے کے لئےاجتماعی طور پر فوجی مداخلت کی بھی گنجائش ہے۔

بہر حال ، موجودہ صورت حال میں جب امریکہ ، فرانس، جرمنی ، اٹلی اور یونان اسرائیل کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں اور اس کے دفاع میں کھڑے ہیں ، اقوام متحدہ کے ہنگامی خصوصی اجلاس کا کوئی مثبت نتیجہ نکلتا نظر نہیں آتا۔ قاہرہ اجلاس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کھل کر اسرائیل کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں ۔ امریکہ نے اسرائیل کی حفاظت کے لئے اپنے فوجی اور چار بحری بیڑے سمندر میں اتار دئیے ہیں۔ ایسا اس نے ایران کی دھمکیوں کے پیش نظر کیا ہے۔ اس کے ردعمل میں چین نے بھی اپنے چھ جنگی بیڑے سمندر میں اتار دئیے ہیں۔ روس کے جنگی جہاز بھی اسرائیل پر نشانہ سادھے ہوئے ہیں لیکن ان تمام۔دھمکیوں اور روس ، ایران اور چین کے جارحانہ تیور کا اسرائیل۔پر کوئی اثر نہیں پڑرہا ہے۔ وہ نہتھے فلسطینیوں پر بم برسا رہا ہے اور ہر روز ڈیڑھ سو سے دو سو فلسطینی مارے جارہے ہیں۔ گزشتہ دو ہفتوں میں اسرائیل پانچ ہزار فلسطینیوں کو ہلاک کر چکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا یہ بمباری کا سلسلہ تین مہینوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ اگر اسرائیل لگاتار تین مہینوں تک غزہ پر بم برساتا رہا تو تین مہینوں میں لاکھوں فلسطینی شہری مارے جائیں گے اور غزہ میں صرف مکانوں کا ملبہ رہ جائےگا۔ اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو نے کہہ بھی دیا تھا کہ یہ جنگ حماس نے شروع کی ہے لیکن اسے ہم ختم کرینگے اور جنگ کے اختتام پر حماس ملبے میں تبدیل ہو جائیگا۔اب حماس ملبے میں تبدیل ہوگا یا نہیں یہ تو وقت بتائے گا لیکن تین ماہ اگر اسی شدت سے غزہ پر بنباری جاری رہی تو غزہ ملبے میں ضرور تبدیل ہو جائے گا۔

اس جنگ میں اسرائیل اور امریکہ کی حکمت عملی اب تک کامیاب رہی ہے ۔اسرائیل کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ ہوائی حملے کرکے غزہ کو ملبے میں بدل دے گا جس کے بعد حماس کے لئے چھپنا دشوار ہو جائے گا اور وہ باہر نکل کر لڑنے پر مجبور ہونگے۔اس حکمت عملی کے تحت وہ مسلسل غزہ کی عمارتوں پر بمباری کرکے انہیں ملبے میں تبدیل کررہا ہے۔ اس نے غزہ کی سرحد پر اپنے ٹینک تعینات کردئیے ہیں اور زمینی حملوں کی دھمکی دے رہا ہے۔ ایران اسرائیل کو دھمکی دے رہا ہے کہ اگر وہ زمینی حملہ کرے گا تو ایران جنگ میں کود  جائے گا ۔ لہذا، ایران کو جنگ میں کودنے سے روکنے کے لئے امریکہ نے اپنے جنگی بیڑے سمندر میں بھیج دئیے۔ اس کے پیچھے حکمت عملی یہ تھی کہ اسرائیل مسلسل غزہ پر بمباری کرتا رہے اور ایران اور دوسرے ممالک امریکہ کے جنگی بیڑوں کے ڈر سے جبگ میں نہ کودیں اور اسرائیل یک طرفہ طور پر غزہ پر بمباری کرتا رہے اور غزہ کو میدان میں تبدیل کردے۔ ایران صرف اس بات پر خوش ہے کہ اسرائیل اس کے ڈر سے زمینی حملہ نہیں کررہا ہے ۔ ایران کی طرف سے فوج کشی نہ ہونے کی وجہ سے حزب اللہ اسرائیل پر حملہ کر کے اسرائیلی فوج کی غزہ پر حملے کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن اس میں وہ ابھی تک ناکام ہے۔ اسلامی ممالک غزہ پر اسرائیلی بمباری پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ امریکہ نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ غزہ پر اسرائیلی قبضے کی اجازت نہیں دے گا لیکن وہ حماس کے خاتمے کی مہم میں اسرائیل کے ساتھ ہیں۔ لہذا، اسرائیل ایک طویل مدتی پروگرام کے تحت غزہ پر بمباری کررہا ہے۔وہ جانتا ہے کہ تین ماہ کے محاصرے سے حماس ٹوٹ جائے گا۔ اس کے پاس ایندھن اور وسائل کی کمی ہوجائے گی ۔ جس کے بعد اس کو ختم کرنا آسان ہو جائے گا۔ لیکن حماس کے ختم ہونے سے پہلے غزہ مکمل طور پر ختم ہو جائے گا اور اس کے لاکھوں معصوم شہری بمباری ، بھوک اور بیماری سے مر جائیں گے۔

اقوام متحدہ کا ہنگامی خصوصی اجلاس کیا اسرائیلی بمباری کو روک پائے گا۔ اور کیا اسرائیلی بمباری نہ رکنے کی صورت میں وہ عراق سے کویت کو آزاد کرانے جیسا اقدام کر سکے گا؟ امریکہ اور برطانیہ کے اسرائیل کی حمایت میں ہونے کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہوگا۔ لہذا، ایسی توقع نہیں ہے کہ اقوام متحدہ کے اس ہنگامی اجلاس میں اسرائیلی بمباری کو روکنے کی سبیل نکلے گی۔ حماس اور حزب اللہ اب تک فوجی محاذ پر تواسرائیل پر بھاری پڑے ہیں لیکن وہ غزہ پر اسرائیلی بمباری کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ چین اور روس سفارتی سطح پر جنگ بندک کی کوشش کررہے ہیں لیکن اپنے امریکی آقا کے بل پر سرائیل کسی کی بات سننے پر آمادہ نہیں۔ ایسے میں صرف حماس اور حزب اللہ اسرائیل کو روکنے اور شکست دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ایران ، ترکی اور روس اپنی اپنی سیاسی مصلحتوں کے قیدی ہیں ۔ایسے میں غزہ پر اسرائیلی بمباری کے رکنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔

------------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/united-nations-general-assembly-session/d/130970

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..