نیو ایج اسلام اسٹاف رائیٹر
22 اگست،2024
مدرسوں کی نصابی کتاب میں
غیر مسلموں کے لئے لفظ کافر کے استعمال پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے ۔ اس سے قبل بھی آرایس
ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے مسلم دانشوروں سے ایک ملاقات کے دوران اس لفظ کے استعمال
پر سوال اٹھایا تھا۔ اب قومی کمیشن برائے تحفظ اطفال نے مدرسوں میں بچوں کو پڑھائی
جانے والی کتابوں میں غیر مسلموں بشمول ہندوؤں کے لئے لفظ کافر کے استعمال پر تنقید
کی ہے۔ انہوں نے تعلیم الاسلام نامی کتاب میں سوال و جواب کی شکل میں ایک سبق میں غیر
مسلموں کو کافر اور مشرک کہے جانے کا حوالہ دیا ہے۔ اس میں لکھا گیا ہے کہ جو لوگ ایک
اللہ میں ایمان نہیں رکھتے یا دو یا تین خداؤں کو پوجتے ہیں یا دوسری چیزوں کی عبادت
کرتے ہیں انہیں کافر یا مشرک کہا جاتا ہے ۔ایسے لوگوں کو کبھی نجات نہیں ملے گی اور
وہ جنت میں نہیں جائیں گے۔
قومی کمیشن برائے تحفظ اطفال
کے صدر پریانک قانون گو نے یہ بھی کہا کہ بہار مدرسہ بورڈ کے سیلبس کی تیاری میں اقوام
متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسیف نے بھی تعاون کیا ہے ایسے میں اقوام متحدہ کو اس کی انکوائری
کرنی چاہئے۔ قانون گو نے کہا کہ مدرسوں کے نصاب کی انکوائری کی جارہی ہے۔ کچھ مدرسوں
میں ہندوبچے بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن حکومت بہار مدرسوں میں ہندو بچوں کی تعداد
کی وضاحت نہیں کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مواد سے مدرسوں میں پڑھنے والے
بچوں کی نفسیات پر برااثر پڑے گا اور وہ احساس کمتری میں مبتلا ہونگے۔
ا س معاملے پر مدرسوں کے اساتذہ
سے جب میڈیا کے نمائندوں نے بات کی تو وہ تشفی بخش جواب نہیں دے سکے۔ ایک مدرسے کے
استاد نے کہا کہ کافر صرف ہندوؤں کے لئے نہیں ہےبلکہ اگر کوئی مسلمان بھی اللہ اور
اس کے رسول کو ماننے سے انکار کردے تو اسے بھی کافر کہا جائے گا۔ ایک دوسرے شخص نے
کہا کہ کافر کا معنی کسان بھی ہوتا ہے۔۔
لفظ کافرپر ہندوؤں کے اعتراض
کا مسلمانوں کے پاس کوئی تشفی بخش جواب نہیں ہے اور اس معاملے پر وہ لاجواب ہوجاتے
ہیں۔موہن بھاگوت نے بھی جب مسلم دانشوروں کے سامنے یہ سوال اٹھایا تھا تو انہوں نے
صرف اتنا کہا تھا کہ وہ مسلمانوں سے اپیل کرینگے کہ وہ ہندوؤں کو کافر نہ کہیں۔ لیکن
جب قرآن میں لفظ کافر موجود ہے تو مسلمان دانشور اس لفظ کے وجو سے انکار کیسے کرسکتے
ہیں یا مسلمانوں کو اس لفظ کے استعمال سے کیسے منع کرسکتے ہیں۔ عملی موضوع پربحث کرتے
وقت اس لفظ کا استعمال اس کے صحیح تناظر میں کرنا پڑ سکتا ہے۔
دراصل، ، عیسائی بھی منکرین
کے لئے انفائیڈل اور اتھئیسٹ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ ہندو بھی ایشور کو نہ ماننے
والوں کوناستک کہتے ہیں۔ بلکہ ان کے یہاں ملیچھ کا لفظ بھی ہے جو مسلمانوں و دیگر مذہبی
طبقوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ملیچھ کا لفظ تحقیر آمیز ہے ۔ ہندوستان میں مسلمانوں
کے لئے کئی دوسرے تحقیر آمیز الفاظ بھی استعمال کئے جاتے ہیں جن الفاظ کا مذہبی اصطلاحوں
میں کہیں ذکر بھی نہیں ہے ۔ مغربی معاشرے میں بھی مسلمانوں کے لئیے مور کا لفظ استعمال
کیا جاتا ہے جو تحقیر آمیز ہے۔
قرآن میں کافر اور کفر کے
الفاظ اصطلاحی معنوں میں آئے ہیں اور سینکڑوں مقامات پر آئے ہیں۔ لیکن قرآن میں کافر
اس شخص کو کہا گیا ہے جو کفر کرے یعنی خدا اور اس کے رسول کونہ مانے یا خدا یا رسول
کی نافرمانی کرے اور دینی تعلیمات پر عمل نہ کرے۔ اس لئے قرآن کی نگاہ میں بنی اسرائیل
کے بعض افراد بھی کافر تھے اور عیسائیوں کا ایک طبقہ بھی کافر ہے۔ بلکہ
مسلمانوں میں سے وہ طبقہ بھی قرآن کے نزدیک کافر ہے جو خدا کو تو مانے لیکن اس کے ساتھ
شرک بھی کرے۔لہذا ، اسلام میں کافر ایک وسیع معنوں میں استعمال ہونے والی اصطلاح ہے۔
قرآن کسی بھی مذہبی فرقے کو اجتماعی طور پر کافر قرار نہیں دیتا بلکہ اس کا مؤقف یہ
ہے کہ ہر مذہب میں ایک طبقہ کفر کی راہ پرچل پڑتا ہے اور دوسرا طبقہ صحیح راستے پر قائم
رہتا ہے۔ ہر مذہب میں جو لوگ علم رکھتے ہیں وہ توحید میں ایمان رکھتے ہیں۔
مسلمانوں کے علماء اور دانشور
اب تک ہندوستان کے ہندوؤں کے لفظ کافر پر اعتراض کا تشفی بخش جواب نہیں دے سکے ہیں
اور کسی نمائندہ تنظیم یا عالم دین کی طرف سے اس اصطلاح کی وضاحت نہیں آئی ہے۔ ہر بار
کچھ نیم حکیم۔قسم کے مدرسے کے مولوی اپنے ناقص علم کی بنا پر میڈیا کے سوالوں کا جواب
دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کوئی علمی جواب نہیں دے پاتے۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ ہم تو
مسلمانوں کے ہی دیگر فرقوں کوبھی کافر کہتے ہیں۔ جبکہ تعلیم الاسلام میں صرف اتنا لکھا
ہے کہ جو لوگ اللہ اور رسول کومانتے ہیں وہ مسلمان ہیں۔ عملی طور پر مسلمان کہلانے
کے لئے اور بھی کئی شرائط جوڑ دی جاتی ہیں اور ان شرائط کی عدم تکمیل کی بنا پر کسی
بھی مسلمان کو کافر قرار دے دیا جاتا ہے۔ بلکہ اسے قتل بھی کردیا جاتا ہے۔ پاکستان
میں تقریباً ہر ماہ کسی مسلمان کو کافر قرار دے کر قتل کردیا جاتا ہے۔ جبکہ تعلیم الاسلام۔کے
سبق کے مطابق وہ مسلمان ہوتا ہے۔
ہندوستان ایک ہندو اکثریتی
ملک ہے اور یہاں سرکاری مدرسوں میں ہندو بچے بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔اس لئے ہندوستانی
مدرسوں کےنصاب میں اور وہ بھی ابتدائی درجات کی کتابوں میں متنازع مواد کی شمولیت سے
احتراز کیا جانا چاہئے۔ بچوں کو توحید ، نماز اور دیگر دینی فرائض کی تعلیم دی جانی
چاہئے اور متنازع باتوں اور اصطلاحات سے گریز کرنا چاہئے۔ مدرسے کے ایک استاذ رپورٹر
سے کہہ رہے تھے کہ اگر مسلمان بھی کفر کرے تو اسے بھی کافر کہا جائے گا۔ لہذا، اگر
یہ بات بھی تعلیم الاسلام میں شامل کردی جاتی تو مسلمانوں کے پاس اپنے دفاع میں دلیل
رہ جاتی جبکہ کتاب میں تو صرف ان کو کافر کہا گیا ہے جو ایک خدا کو نہیں مانتے یا دو
تین خداؤں یا دوسری چیزوں کی عبادت کرتے ہیں۔مسلمانوں کے قول و فعل میں یہی تضاد انہیں
رسوا کرتا ہے۔
-------------------
URL:
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism