New Age Islam
Sun Sep 19 2021, 07:16 PM

Urdu Section ( 2 Sept 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Blasphemy-Centric Barelwi Radicalisation Of Pakistan Is Snowballing To India توہین مذہب پر مبنی پاکستان کی بریلوی قدامت پرستی ہندوستان میں پاؤں پسار رہی ہے

بریلوی علماء جو جنوبی ایشیا میں پرامن اسلامی مبلغ سمجھے جاتے ہیں پاکستان میں تشدد کا فقہی طور پر جواز پیش کرتے ہیں

جھلکیاں:

1.      توہین رسالت مخالف اس پرتشدد فقہی مسئلہ کو بعض روایاتِ حدیث کی بنیاد پر پاکستان کے بریلوی علماء نے تیار کیا ہے

2.      تحریک لبیک پاکستان (TLP) نے صرف اسی کی تکمیل کی ہے جس کا خواب پاکستان میں مرکزی دھارے کے بریلوی علماء نے قیام پاکستان ذریعے بُنا تھا

3.      توہین مذہب پر مبنی اسلامی بنیاد پرستی کچھ بریلوی اداروں کے ذریعے سرحد کے اس پار سے ہندوستان میں فروغ پا رہی ہے

 -----

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

22 اپریل 2021

Late Maulana Khadim Hussain Rizvi

------

عوامی املاک کی توڑ پھوڑ، شاہراہوں کی بندش، شہریوں اور سکیورٹی فورسز کا قتل اور رمضان کے مقدس مہینے میں کئی دنوں تک عام معمولات زندگی کو ٹھپ رکھنا، یہ وہ کارنامے ہیں جو پاکستان کی ایک زمانے میں پسندیدہ مگر اب دم توڑتی ہوئی انتہائی قدامت پرست اسلامی تنظیم تحریک لبیک پاکستان (TLP) نے حضور ﷺ کی عزت و ناموس کی فرانسیسی آزادی اظہار رائے سے حفاظت کے نام انجام دیا ہے۔

ٹی ایل پی نے اسلام آباد، راولپنڈی، کراچی اور پاکستان کے دیگر مقامات پر پرتشدد مظاہروں اور ہڑتالوں کے دوران خوب ہنگامہ آرائی کی۔ یہ احتجاج ان تین مطالبات کے لیے کیا گیا: اول، ٹی ایل پی کے سربراہ اور مولانا خادم حسین رضوی کے بیٹے سعد حسین رضوی کی رہائی جنہیں 10 اپریل کو سیکورٹی فورسز نے حراست میں لیا تھا ، دوم، فرانسیسی سفیر کو پاکستان سے نکالنا اور سوم، فرانس کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات منسوخ کیے جائیں۔

(Image Credit: Instagram/@imrankhan/PTI) Tehreek-e-Labbaik Pakistan Chief Saad Hussain Rizvi Released From Kot Lakhpat Jail

-------

اس کے بعد، عمران خان کی زیرقیادت پی ٹی آئی حکومت نے بنیاد پرست اسلام پسند گروہ کے تقریبا ان تمام مطالبات کو اسے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے اور حکومت پاکستان کی انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت اس کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کئے جانے کے بعد بھی، تسلیم کر لیا ہے۔ ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کو ملک بھر میں ہفتوں سے جاری پرتشدد مظاہروں کے بعد رہا کر دیا گیا ہے جبکہ پاک حکومت نے فرانسیسی سفیر کو ملک سے ہٹانے کے لیے قومی اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس طرح، پاکستان میں ریاستی اتھارٹی ایک بار پھر خود ساختہ تحفظ ناموس رسالت کے تحفظات اور پاکستان کے بدنام زمانہ اور متنازعہ فیہ توہین رسالت قوانین کے محافظوں سے شکست کھا چکی ہے۔ وہ کوئی اور نہیں بلکہ بریلوی علماء ہی ہیں جو جنوبی ایشیا میں پرامن اسلامی مبلغ مانے جاتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں یہی علماء ان دو نظریات کی بنیاد پر تشدد کا مذہبی جواز پیش کرتے ہیں: (1) توہین رسالت کی سزا صرف قتل ہے جو ایک فرد بھی کر سکتا ہے، اگر ریاست اس کی سزا نافذ نہ کرے۔ (2) یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ایک 'سچے' عاشق کا دینی فریضہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو قتل کرے جو اپنے قول یا عمل میں آپ ﷺ کی بے عزتی کرتے ہیں۔

Tehreek-e-Labbaik Pakistan agitators burn a photo of French President Emmanuel Macron in protest against blasphemous caricatures published in France in 2020 | @SabahKashmiri | Twitter

------

یہ پر تشدد انسداد توہین رسالت اسلامی قانون جو کہ بعض روایاتِ احادیث پر مبنی ہے، اس پر مزید خد و خال پاکستانی بریلوی علماء مثلا پیر مہر علی شاہ، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا حنیف قریشی، مولانا اشرف آصف جلالی اور مفتی عرفان شاہ مشہدی وغیرھم نے لگایا ہے۔ مرحوم مولانا خادم حسین رضوی نے TLP تشکیل دے کر صرف وہی کیا جو پاکستان میں مرکزی دھارے کے بریلوی علماء نے اسلامی ریاست پاکستان کے قیام کے ذریعے تصور کیا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ دوقومی نظریہ کی ماقبل تقسیم کے بریلوی علماء نے بڑی تائید کی تھی جن میں اس فرقہ کے بانی مولانا احمد رضا خان بریلوی بھی شامل ہیں جو برصغیر میں اعلی حضرت کے نام سے مشہور ہیں۔

جس طرح بنیاد پرست وہابیوں اور دیوبندوں نے توحید کی خالص تفہیم پر مبنی ایک انتہا پسندانہ بیانیہ تیار کیا ہے، اسی طرح بریلویوں نے بھی رسالت کا ایک پیچیدہ تصور پیش کیا ہے۔ لیکن پرتشدد انتہا پسندی کو بھڑکانے کے معاملے میں بریلوی مذہب دیوبندیوں اور وہابیوں سے مختلف نہیں ہے۔ وہابی سلفی اور دیوبندی حلقوں میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کے بعد، پاکستانی بریلویوں نے ختم نبوت کے بنیادی اسلامی اصولوں اور تحفظ ناموس رسالت کے سیاسی اصولوں اور عسکریت پسندی پر، توہین رسالت کی انتہا پسندی کے ایک مکمل پرتشدد مذہب کے طور پر، زور دینا شروع کر دیا ہے۔

Courtesy/ The Hindu

-----

یہ تحریک سیکولر سماجی تانے بانے کے لیے ایک وجودی خطرہ بن کر ابھری ہے جو صدیوں سے ہندوستانی مسلمانوں میں مضبوط ہے۔

اپنے بریلوی محافظ ممتاز قادری کے ذریعہ سلمان تاثیر کے قتل پر تبصرہ کرتے ہوئے، شیڈو وار: دی انٹولڈ سٹوری آف جہاد ان کشمیر میں مصنف عارف جمال لکھتے ہیں:

"دعوت اسلامی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد—مبینہ طورپر [ممتاز] قادری [ان میں سے] ہی ایک ہے—اس پرتشدد سنی تحریک میں شمولیت اختیار کر رہی ہے۔ قادری اس بریلوی عقیدے کا صرف ایک نمونہ ہے نہ کہ اس کے برعکس۔ اگرچہ بریلوی اب بھی دہشت گردی میں دیوبندیوں اور وہابیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے، یہ قتل واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ وہ کس سمت میں جا رہے ہیں۔

تحفظ ناموس رسالت

بریلوی حضرات حضرت محمد ﷺ سے شدید عقیدت و محبت رکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ان کا مذہبی فریضہ ہے کہ ہر ممکن طریقے سے نبی کی عزت و آبرو کی حفاظت کی جائے۔ لہٰذا، وہ کسی ایسے شخص کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرتے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کسی قسم کی تنقیدی یا توہین آمیز باتیں بولتا یا لکھتا ہے۔ ہر کسی کو کسی ایسے شخص کے قتل کے لئے قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت ہے جس نے نبی ﷺ کے خلاف ایسی گستاخی کی ہو۔ وہ ’’تحفظ ناموس رسالت‘‘ اسی طرح انجام دیتے ہیں۔ توہین رسالت کا سب سے مشہور نعرہ جو پاکستانی بریلویوں میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے وہ یہ ہے: گستاخ رسول کی ایک سزا، سر تن سے جدا۔

آج ہندوستان کے کچھ حصوں میں بریلوی بنیاد پرستی بھی پاکستان سے ہی در آئی ہے۔ اس کا عروج اس وقت ہوا جب کچھ سخت گیر بریلویوں نے پاکستان سے نکلنے والے توہین مذہب مخالف نظریہ کو قبول کر لیا۔ کئی دہائیوں سے پاکستان میں بنیاد پرست اسلام پسندوں کی اکثریت – مثلا ٹی ٹی پی، جیش محمد اور لشکر جھنگوی – کا تعلق دیوبندی یا وہابی گروہوں سے تھا۔ لیکن پاکستان میں بریلوی بنیاد پرستی پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے جنوری 2011 کو اسلام آباد میں ان کے بریلوی محافظ ملک ممتاز قادری کے ہاتھوں قتل کے بعد ابھر کر سامنے آئی، جنہیں ہندوستان اور پاکستان میں 'غازی' یا ایک شہید کے طور پر عزت دی جاتی ہے۔

Saad Hussain Rizvi, the chief of Tehreek-e-Labbaik Pakistan

-----

درحقیقت پاکستانی بریلوی علماء جو کہ فرقہ واریت کے لیے مشہور ہیں، توہین رسالت کے قوانین کے نفاذ کے لیے تمام اسلامی فرقوں کا ایک اتحاد قائم کرناچاہتے ہیں۔ خادم حسین رضوی دیوبندی عالم دین مولوی سمیع الحق کے ساتھ اتحاد کرنا چاہتے تھے جنہیں طالبان کا باپ کہا جاتا ہے۔ آخری خطبہ جو انہوں نے اپنے پیروکاروں کو راولپنڈی میں چاقو کے وار سے جاں بحق ہونے سے پہلے دیا تھا، اس میں انہوں نے آسیہ بی بی اور تمام گستاخوں کے لیے 'دردناک موت' کا مطالبہ کیا تھا۔ خادم رضوی کے ساتھ ساتھ، انہوں نے آسیہ کی برأت کے خلاف اسلام آباد میں مظاہرین کو بھی متحرک کیا تھا۔ خادم رضوی ان کے ساتھ شامل ہونے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن وہ ایسا نہ کر سکے۔

یہاں تک کہ تنظیمات اہلسنت کے رہنما اور رویت ہلال کمیٹی کے سابق سربراہ مفتی منیب الرحمن اور دیگر مشہور و معروف دیوبندی علماء نے ممنوعہ ٹی ایل پی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ مذہبی و سیاسی جماعتیں بشمول جمعیت علمائے اسلام فضل (جے یو آئی_ ایف) اور ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت جماعت اسلامی بھی ٹی ایل پی کی ہڑتال دعوت کی حمایت میں سامنے آئی ہیں۔ ان میں سے کسی نے ٹی ایل پی کے مظاہرین کی مذمت نہیں کی جنہوں نے ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا اور کم از کم 12 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا، جبکہ کم از کم چھ افراد شدید طور پر زخمی ہوئے تھے۔

اس طرح، مرحوم خادم حسین رضوی نے بریلوی اسلام کے نئے چہرے کے طور پر اپنے بنیاد پرست نظریات کو کامیابی کے ساتھ اپنے پرانے اور نسبتا پرامن اسلام سے واضح طور پر ممتاز کر دیا۔ ٹی ایل پی میں ان کے پیشرو اور حامی بنیاد پرست وہابی اور دیوبندی تنظیموں کے ساتھ حکمت عملی سے اتحاد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ خادم رضوی کو ان کے پیروکار امیر المجاہدین کہتے تھے۔ ایک فیس بک پیج پر جس کے 48،000 سے زیادہ فالوورز ہیں ان کا ذکر بطور امیر المجاہدین ہے۔ اس سے قبل اس طرح کا لقب صرف پاکستان میں سلفی/وہابی اور دیوبندی قدامت پرست جماعتوں میں ہی استعمال ہوتا تھا۔ لیکن ٹی ایل پی نے اسے بریلوی مسلک کے پاکستانی مسلمانوں میں بھی کامیابی کے ساتھ رائج کر دیا ہے۔ انتہائی افسوسناک بات یہ ہے کہ توہین رسالت پر مبنی بریلوی بنیاد پرستی سرحد پار سے ہندوستان میں بھی پھیل رہی ہے۔ بریلوی اداروں نے پاکستانی سپریم کورٹ کے ایک تاریخی فیصلے پر سوگ منایا جس میں 'توہین رسالت' کرنے والے کو بری کر دیا گیا تھا۔ 2011 کے اوائل میں ممبئی میں قائم بریلوی تنظیم رضا اکیڈمی نے ممتاز قادری کی حمایت میں زبردست احتجاج کیا تھا۔ اس سے ہندوستان میں پاکستان کے بریلوی نوجوانوں کی تنظیم شباب اسلامی کو حمایت ملی جس نے سب سے پہلے مقتول دہشت گرد ممتاز قادری کی قید کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

Related Article:

Blasphemy-Centric Barelwi Radicalisation Of Pakistan Is Snowballing To India

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/blasphemy-pakistani-barelwi-radicalisation-india/d/125309

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..