New Age Islam
Wed Apr 29 2026, 08:32 AM

Urdu Section ( 28 Apr 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Azan on louspeakers in the United States امریکہ میں لاؤڈاسپیکر پر اذان

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

27 اپریل،2023

اذان اسلام کا ایک لازمی جز ہے اور آغاز اسلام سے ہی مسلمانوں کو پانچ اوقات مسجد میں بلانے کے لئے اذان دی جاتی ہے۔ موجودہ زمانے میں خصوصا بیسویں صدی کے نصف آخر سے مسلم اکثریتی شہروں میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر اذان دینے کے لئے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کا رواج شروع ہوا۔ ابتدا میں مسلمانوں کا ایک طبقہ مذہبی مقاصد کے لئے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو پسند نہیں کرتا تھا لیکن رفتہ رفتہ مسلم معاشرے میں لاؤڈ اسپیکر کی اہمیت کو تسلیم کرلیاگیااور اذان کے لئے بھی لاؤڈاسپیکر کا استعمال بڑھنے لگا ۔

لاؤڈاسپیکر پر اذان کا آغاز 1936 میں سنگاپور کی مسجد سلطان سے ہوا اور اس کے بعد اسلامی ممالک میں لاؤڈاسپیکر پر اذان کی روایت کا فروغ ہوا۔ بیسویں صدی کے نصف آخر تک مسجدوں سے لاؤڈ اسپیکر پر اذان اتنی عام ہوگئی کہ اذان کے ساتھ ساتھ لاؤڈاسپیکر کو بھی اذان کا ایک لازمی جزو سمجھ لیا گیا۔مسجدوں سے لاؤڈاسپیکر پر بلند آواز میں اذان کے خلاف غیر مسلموں کی طرف سے احتجاج ہونے لگا۔ ہندوستان میں اذان ایک سیاسی مسئلہ بھی بن گیااور اذان کا تنازع عدالتوں تک گیا ۔عدالتوں نے یہ تو تسلیم کیا کہ اذان اسلام کا ایک بنیادی جزو ہے لیکن صدائی آلودگی کے قوانین کے تحت شام 10 بجے سے صبح چھ بجے تک لاؤڈاسپیکر کے ہر طرح کے استعمال پر پابندی لگادی گئی۔ کچھ مشہور غیر مسلم شخصیات نے لاؤڈاسپیکر پر اذان کی مخالفت کی حتی کہ مسلمانوں کے بھی ایک طبقے نے یہ کہا کہ لاؤڈاسپیکر پر اذان سے دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کو تکلیف ہوتی ہے اس لئے لاؤڈاسپیکر پر اذان پر پابندی ہونی چاہئے۔ اگرچہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اذان کو وہ اسلام کا لازمی جز مانتے ہیں اور مسلمان بغیر لاؤڈاسپیکر کے اذان دے سکتے ہیں۔ ان شخصیات میں ایک نمایاں نام شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر کا ہے۔

سعودی عرب نے 2021ء میں عوام کی شکایات کے پیش نظر لاؤڈاسپیکر پر اذان کی آواز ایک تہائی کم کرنے کا فرمان تمام مساجد کو جاری کیا اور نماز اور خطبے کے لئے لاؤڈاسپیکر کو مسجد کے اندر تک ہی محدود رکھنے کا قانون لاگو کیا۔

انڈونیشیا میں بھی لاؤڈاسپیکر پر اذان کے خلاف غیر مسلموں خصوصاً بودھ مت کے پیروکاروں نے احتجاج کیا جس کی وجہ سے وہاں فرقہ وارانہ تناؤ پیدا ہوا۔ 2018 میں ایک بدھسٹ خاتون نے اپنے مقامی مسجد کے اذان کی بلند آواز سے پریشانی کی شکایت حکام سے کی تو اسے توہین مذہب کے الزام۔میں 18 ماہ کی قید کی سزا سنائی گئی اور مسلمانوں کے مشتعل ہجوم نے 18 بودھ مندروں کو تباہ کردیا۔ بہرحال انڈونیشیا کی وزارت مذہبی امور نے لاؤڈاسپیکر پر اذان کے لئے آواز کے حجم کی حدمقرر کردی۔

رفتہ رفتہ مسلمانوں کو اس بات کا احساس ہو نے لگا کہ لاؤڈ اسپیکر پر اذان ضروری تو ہے لیکن لاؤڈاسپیکر کی آواز کو ایک حد کے اندر رکھنابھی ضروری ہے۔

ایک طرف تولاؤڈاسپیکر پر اذان کئی ممالک میں تنازع کا سبب بنی ہوئی تھی تو دوسری طرف امریکہ اور برطانیہ میں لاؤڈاسپیکرپر اذان کو مقامی بلدیاتی اداروں کی طرف سے منظوری دی جارہی تھی۔ 2004ء میں امریکہ کی ریاست میچیگن کے شہر ہیمسٹریمک کی مسجد الاصلاح میں لاؤڈاسپیکر سے اذان کی اجازت دی گئی۔ اگرچہ عیسائیوں کے ایک طبقے نے اس کی مخالفت کی لیکن اکثریتی طبقے نے اسے قبول کرلیا۔ اس کے بعد اسی ریاست کے شہر ڈئیر بورن کی مسجد کو بھی لاؤڈاسپیکر سے اذان کی اجازت ملی۔ 2020ء میں امریکی ریاست مینے سوٹا کے شہر مینیا پولس کے مئے جیکب فرے نے مسجد دارالہجرہ کو بھی لاؤڈاپیکر پر اذان کی اجازت دی۔ واضح ہو کہ مینیا پولیس میں 182000 مسلمان رہتے ہیں جو صومالیہ اور مشرقی افریقی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ 2020ء میں نیو جرسی کے شہر پیٹرسن میں بھی لاؤڈاسپیکر سے اذان کی اجازت دی گئی۔

برطانیہ میں بھی کئی شہروں کی مساجد کو لاؤڈاسپیکر پر اذان کی اجازت ملی۔2020 ء میں لندن کے والٹہام فورہسٹ کاؤنسل نے رمضان میں لاؤڈاسپیکر سے اذان کی اجازت دی۔ اس کے بعد نیوہام کاؤنسل نے بھی اس کی تقلید کی اور پانچ اوقات کی اذان کی اجازت دی۔وہاں کے عوام نے اس پر اعتراض جتایا لیکن تشدد کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اسی سال میڈن ہیڈ کی مسجد کو بھی لاؤڈاسپیکر سے اذان کی اجازت ملی۔

امسال 28 مارچ کو امریکہ کی ریاست مینے سوٹا کے شہر مینیا پولیس کے سٹی کاؤنسل نے مسلمانوں کو پانچ اوقات کی اذان لاؤڈاسپیکر پر دینے کی اجازت دی۔ اس کے لئے سٹی کاؤنسل کے ممبر جمال عثمان نے تجویز پیش کی تھی جسے کاؤنسل نے قبول کرلیا۔ بہر حال صبح اور عشاء کی اذان کی آواز دھیمی رکھنے کی ہدایت دیی گئی ہے۔ شہر کے حکام کے اس فیصلے کی ایک طبقے نے مخالفت کی تو یہودیوں اور عیسائیوں کے مذہبی پیشواؤں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہودی اور عیسائیوں میں عابدوں کو گرجا گھروں اور سینا گوگ میں بلانے کی روایت ہے چرچ سے ہر شام کوچرچ بیل کی آواز بلند ہوتی ہے اس لئے مسلمانوں کو بھی اذان کی اجازت ہونی چاہئے۔ سٹی کاؤنسل کے ممبر جمال عثمان نے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو لاؤڈاسپیکر پر اذان کی اجازت دے کر امریکی حکومت نے ملک میں مذہبی مساوات کی مثال قائم۔کی ہے۔۔ انہوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ مینیا پولیس کی طرح پورے امریکہ میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی اجازت مل جائیگی۔

امریکہ اور برطانیہ میں جہاں ایک طرف اسلام اور مسلمانوں سے نفرت میں اضافہ ہورہا ہے وہیں امریکی حکومت کی طرف سے لاؤڈاسپیکر پر اذان کی مرحلہ وار منظوری سے مذہبی مساوات کو بھی فروغ ہورہا ہے۔ اس تباظر میں ہندوستان میں اذان پر تنازع کو نئے زاؤییے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان میں اذان کی مخالفت میں اضافہ ہوا ہی ہے اب تو مسجدوں کوبھی نشانہ بنایا جانے لگا ہے۔مسجدوں میں گھس کر نمازیوں کو زدکوب کرنے اور نجی مکانات میں منعقد ہونے والی تراویح کی۔نماز کے خلاف شکایت اور پولیس کی کارروائی ملک کے آئین کی خلاف ورزی ہے اور ایک طبقے کے مذہبی حقوق کی پامالی ہے۔

----------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/azan-louspeakers-united-states/d/129658

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..