New Age Islam
Thu Apr 30 2026, 01:49 PM

Urdu Section ( 24 Jun 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Attack on Gurudwara in Kabul Is An Act of Terrorism, Not Approved by the Quran or the Prophet کابل میں گرودوارہ پر حملہ ایک دہشت گردانہ عمل ہے، قرآن اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اس کی تعلیم نہیں فرمائی

 داعش کا حملہ اس کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔

 اہم نکات:

1.      اس حملے میں 2 افراد ہلاک ہوئے، جس میں ایک سکھ اور ایک طالبان کا رکن ہے۔

2.      گرودوارہ میں معصوم زائرین پر حملہ کرنا ایک دہشت گردانہ عمل ہے۔

3.      داعش مجرموں کا ایک گروہ ہے۔

 -----

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

 21 جون 2022

 -----

Two people were killed and at least seven others injured in the attack.

-----

 ایک گرودوارہ پر دہشت گردانہ حملہ

 کابل افغانستان کے کارتے پروان میں ایک بار پھر داعش نے اپنی مایوسی کا مظاہرہ کیا ہے۔ 19 جون 2022 کو اس حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوئے، جس میں ایک سکھ اور ایک طالبان کا رکن ہے۔ داعش نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے اور یہ کہہ کر اسے درست ثابت کرنے کی کوشش بھی کی ہے کہ یہ حملے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف توہین آمیز کلمات کے جواب میں کیے گئے ہیں۔

 تاہم، افغانستان میں سکھوں اور ہندوؤں پر داعش یا طالبان کے حملے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مارچ 2020 میں، داعش-حقانی نیٹ ورک سے وابستہ ایک خودکش بمبار نے کابل میں گرودوارہ ہر رائے صاحب پر حملہ کیا تھا۔ جس میں 25 افراد جاں بحق اور 8 افراد زخمی ہوئے تھے۔

 2018 میں، داعش نے جلال آباد میں سکھوں کے اجتماع پر حملہ کیا تھا اور اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ تب اس نے کہا تھا کہ یہ حملے کشمیر میں حکومت ہند کی کارروائی کے جواب میں انجام دیے گئے ہیں۔

 مارچ 2020 میں داعش نے اشرف غنی کی تقریب حلف برداری پر حملہ کیا تھا۔ حملے کے بعد گرفتار کیے گئے عسکریت پسندوں میں سے ایک کا تعلق پاکستان کی آئی ایس آئی سے تھا۔

Sikh Group Marks One Year Of Attack On Gurudwara In Kabul, Pays Tribute To Lost Lives/ Photo: Outlook

-----

لہٰذا حالیہ گرودوارہ حملے میں بھی پاکستان کی آئی ایس آئی کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان میں پاکستان کی اسٹریٹجک گہرائی کی پالیسی کو دھچکا لگا ہے کیونکہ پاکستان اور امریکہ کی مدد سے برسراقتدار آنے کے بعد طالبان نے پاکستان کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا ہے اور بھارت کی طرف رجوع کر لیا ہے۔

 حملے کے حق میں آئی ایس آئی ایس کی دلیل یہ تھی کہ یہ پیغمبر کے خلاف کیے گئے تبصروں کے جواب میں ہے، لیکن ان کی یہ دلیل بے بنیاد معلوم ہوتی ہے کیونکہ 2018 میں اسی داعش نے کہا تھا کہ ہم نے سکھوں پر حملہ اس لیے کیا کیونکہ حکومت ہند نے جموں و کشمیر میں کشمیریوں پر ظلم کیا ہے۔ ان دونوں ہی واقعات میں افغان سکھ اور ہندو ملوث نہیں تھے۔ اسلام دوسروں کی غلطی پر بے گناہوں کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

 پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر توہین آمیز تبصرے ہندوستان کے دو سیاستدانوں نے کیے ہیں اور ان کے خلاف ہندوستان کے بلاسفیمی لاء کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے اس تبصرے کی مذمت کی ہے اور اس کے خلاف پرامن احتجاج کیا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلامی ممالک نے اس معاملے پر سفارتی اقدامات اٹھائے ہیں۔ افغانستان میں گرودوارہ اور سکھ برادری کے ارکان پر اس حملے کو اسلامی قانون کے تحت کسی بھی زاویے سے جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ یہ ایک دہشت گردانہ عمل اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ قرآن نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایک بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف ہے اور ایک بے گناہ کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔ گرودوارے پر حملے میں مارے گئے ایک مسلمان کے قتل کو داعش کس طرح جائز قرار دے سکتی ہے؟

 قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ کوئی بھی دوسرے کے (گناہوں یا جرائم کا) بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ہندوستان میں کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم کی سزا افغانستان یا کسی بھی ملک کے بے گناہ سکھ یا ہندوؤں کو کیسے دی جا سکتی ہے؟ یہ ہندوستان کے کچھ ہندوتوا جماعتوں کی سوچ ہے جو صدیوں پہلے مسلم بادشاہوں کے ہاتھوں ہندوؤں پر مبینہ ظلم و ستم کی 'سزا' ہندوستان کے مسلمانوں کو دیتے ہیں۔ داعش ان سے مختلف ہونے کا دعویٰ کیسے کر سکتی ہے؟

 مسلم اکثریتی ملک میں معصوم اقلیتوں کو قتل کرکے داعش نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے۔ ایک اسلامی ملک میں رہنے والی اقلیتوں کی حفاظت کرنا اور انہیں تحفظ فراہم کرنا اسلامی حکومت کی مذہبی ذمہ داری ہے اور قرآن کے مطابق داعش مفسدین کا ایک گروہ ہے کیونکہ وہ حکومت کا حصہ نہیں ہیں اور فساد فی الارض کا ارتکاب کر کے ملک کے قانون اور قرآن کے اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ قرآن کے بتائے ہوئے قانون کے مطابق انہیں یا تو سرعام پھانسی دی جائے یا ان کے ہاتھ اور ٹانگیں مخالف سمت سے کاٹ دی جائیں۔ کیا شریعت پر عمل کرنے کا دعویٰ کرنے والے طالبان، داعش کے عسکریت پسندوں کو اس طرح سزا دیں گے؟

یہ حملے افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے میں پاکستان کی سیاسی اور سفارتی بے چینی کا نتیجہ معلوم ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال اگست میں افغانستان کے اندر افغان حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی پاکستان کے افغان طالبان کے ساتھ تعلقات خراب ہوتے چلے گئے ہیں۔ ٹی ٹی پی، ایک عسکریت پسند تنظیم جو طالبانی نظریات کی حامل ہے، اس نے گزشتہ دس ماہ کے دوران پاکستان میں اپنی عسکریت پسند کارروائیوں کو تیز کیا ہے۔ ستمبر 2021 سے مئی 2022 تک ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں نے پاکستان میں 170 حملے کیے گئے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے تقریباً 10,000 دہشت گرد پاکستان کی سرحد سے متصل افغانستان کے علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ پاکستان، طالبان سے ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کو اپنی سرزمین سے نکالنے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن طالبان نے ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔ طالبان اپنے اور پاکستان کے درمیان امن قائم کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

 دوسری جانب طالبان نے بھارت کے ساتھ تجارت اور سیکیورٹی کے شعبوں میں کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ 2 جون کو ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ایک وفد نے کابل میں افغان وزیر ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب سے ملاقات کی اور دو طرفہ تجارت سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ہندوستانی وفد نے ملک میں انسانی امداد کی فراہمی کی نگرانی کے لیے افغانستان کا دورہ کیا تھا۔ ایک پریس میٹنگ کے دوران افغانستان کے وزیر سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی حکومت افغان فوجیوں کو فوجی تربیت کے لیے بھارت بھیجنے میں دلچسپی رکھتی ہے، تو اس پر انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت اپنے فوجیوں کو تربیت کے لیے بھارت بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

 واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے سے قبل بھارت نے افغان سیکیورٹی اہلکاروں کو انسداد دہشت گردی، جنگلی جنگ، سگنلز، انٹیلی جنس اکٹھا کرنے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تربیت دی تھی۔

MOI, Afghanistan shared a video in which the Taliban officials can be seen meeting Afghan Sikhs at Gurudwara and holding a discussion (Screenshot)

------

 4 فروری 2022 کو افغان سفارت خانے نے کہا تھا کہ حال ہی میں ہندوستانی ملٹری اکیڈمیوں سے فارغ التحصیل ہونے والے 80 نوجوان افغان فوجی اہلکاروں کو، کاروبار اور اقتصادی تعاون کے پروگرام کے لیے موثر انگریزی مواصلات میں 12 ماہ کا تربیتی کورس میں شامل کیا گیا ہے۔ افغان حکومت نے بھارت کی پیشکش کو سراہا۔

بھارت نے پچھلی حکومت میں کام کرنے والے افغانستان کے ان افسران اور سکیورٹی اہلکاروں کی بحالی کی بھی کوشش کی ہے، جو سابقہ حکومت سے وفاداری کی وجہ سے موجودہ طالبانی حکومت کے ظلم و ستم کے خوف سے افغانستان واپس جانے سے ڈرتے ہیں۔ طالبان حکومت نے انہیں یقین دلایا ہے کہ ہم اپنی نئی حکومت میں ان کا استقبال کریں گے۔

 یہ بات بھی قابل غور ہے کہ طالبان حکومت نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف توہین کے معاملے پر بھارت کے خلاف سخت رویہ اختیار نہیں کیا۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ طالبان ایسے وقت میں ہندوستان کی مخالفت نہیں کرنا چاہتے جب وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعدد مسائل سے گھرا ہوا ہے۔

 یہ پاکستان کے لیے بے چینی کا سبب ہے۔ ہندوستانی وفد کے دورہ افغانستان کے دو ہفتے بعد کابل میں گرودوارہ پر ہونے والے حملے اسی بے چینی کا منھ بولتا ثبوت ہیں۔

داعش جس کو ناعاقبت اندیش اسلامی تنظیموں اور علماء کے ایک طبقے نے خلافت کا علم بردار قرار دیا تھا، وہ اب کرائے کے ٹٹو بن کر رہ گئے ہیں جو کبھی آذربائیجان میں ترکی کے اردگان کے لیے لڑتے ہیں، کبھی یوکرین میں روس کے پوتن کے لیے تو کبھی افغانستان میں پاکستان کے لیے لڑتے ہیں۔ اسلام کے نام پر داعش کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی مسلمان شدید مذمت کرتے ہیں۔

 English Article: Attack on Gurudwara in Kabul Is An Act of Terrorism, Not Approved by the Quran or the Prophet

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/gurudwara-kabul-terrorism-quran-prophet/d/127309

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..